بہاؤالدین زکریا ملتانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بہاؤالدین زکریا ملتانی
مذہب اسلام، سلسلہ سہروردیہ
ذاتی تفصیل
پیدائش اندازاً 1170
کوٹ کہرور (کروڑ لعل عیسن)، لیہ،
انتقال 1267ء
ملتان
مزید معلومات
شہر ملتان
خطاب حضرت، شیخ (غوث العالمین)
دور بارہویں/تیرہویں صدی
پیشرو شہاب الدین سہروردی
جانشین مختلف، بشمول لعل شہباز قلندر، فخر الدین عراقی، جلال الدین محمد رومی، اور جلال الدین سرخ پوش بخاری

( 578ھ ۔ 7 صفر 661ھ / 1183ء ۔ 21 دسمبر 1262ء )

شیخ الاسلام بہاؤ الحق و الدین زکریا ملتانی سُہروردی علیہ الرحمۃ سلسلہ سہروردیہ کے بڑے بزرگ اور عارف کامل گزرے ہیں۔سلسلہ سہروردیہ کے صاحبِ کمال بزرگ جن کا پورا نام الشیخ الکبیر شیخ الاسلام بہاؤالدین ابو محمد زکریا القریشی الاسدی الہاشمی ہے۔ حافظ‘ قاری‘ محدث‘ مفسر‘ عالم‘ فاضل‘ عارف‘ ولی سب کچھ تھے‘ ۔ شیخ الشیوخ حضرت شہاب الدین سہروردی رحمة اللہ علیہ کے خلیفہ تھے۔ ساتویں صدی ہجری کے مجددتسلیم کئے جاتے ہیں۔ ظاہری و باطنی علوم میں یکتائے روزگار تھے ، اسلام کے عظیم مبلغ تھے. آپ کے جد امجد مکہ معظمہ سے پہلے خوارزم آئے ، پھر ملتان میں مستقل سکونت اختیار کی۔ آپ یہیں 578ھ میں پیدا ہوئے،نسباً قریشی ہیں۔


ولادت[ترمیم]

ملتان کے ضلع لیہ کے ایک قصبہ کوٹ کہرور ضلع لیّہ میں 27رمضان المبارک شب جمعہ آپ کی ولادت ہوئی۔ آپ کے جد امجد شاہ کمال الدین علی مکہ مکرمہ سے خوارزم ہوتے ہوئے ملتان میں مقیم ہوئے۔یہ عہد خسرو ملک غزنوی کا عہد تھا۔

حسب و نسب[ترمیم]

حضرت بہاؤالدین زکریا بن محمد غوث المعروف وجہی الدین بن شاہ کمال الدین علی بن سلطان علی قدسی المعروف سلطان جلال الدین بن سلطان محمد شاہ بن سلطان حسین شاہ سلطان عبداللہ شاہ المعروف شمس الدین بن سلطان حسن شاہ بن سلطان متعارفہ شاہ بن سلطان حزیم شاہ بن سلطان خادم شاہ بن امیر محمد تاج الدین شاہ بن امیر عبد الرحیم بن امیر عبد الرحمان بن امیر ایاز بن اسد ابن ہاشم بن ہاشم ابن عبد مناف بن قصی(جو حضرت عبدالمطلب کے بھی باپ ہیں)۔

تحصیل علم[ترمیم]

آپ چھوٹی ہی عمر میں یتیم ہو گئے۔ بارہ سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا پھر بخارا میں تحصیلِ علم کی۔ بعد ازاں حرمین شریفین پہنچے، حج و زیارت سے فارغ ہو کر بیت المقدس میں بھی علم حاصل کیا اور علم حدیث کی خاطر یمن بھی گئے۔ والد گرامی کے انتقال کے بعد آپ نے محض حصول علم و فن کیلئے پیادہ پا خراسان کا سفر کیا۔ اس کے بعد بلخ، بخارا ،بغداد اور مدینہ منورہ کے شہرہ آفاق مدارس میں رہ کر تعلیم حاصل کی۔ پانچ سال تک مدینہ منورہ میں رہے جہاں حدیث پڑھی بھی اور پڑھائی بھی۔ غرض پندرہ سال اسلام کے مشہور مدارس و جامعات میں رہ کر معقولات و منقولات کی تکمیل کی۔ مدینہ منورہ ہی میں حضرت کمال الدین محمد یمنی محدث رحمة اللہ علیہ سے احادیث کی تصحیح کرتے رہے۔ جب پورا تجربہ حاصل ہو گیا تو آپ مکہ معظمہ حاضر ہوئے اور یہاںسے بیت المقدس پہنچ کر انبیاءکرام علیہم السلام کے مزارات کی زیارات کیں۔ اس عرصہ میں آپ نہ صرف علوم ظاہر کی تکمیل میں مصروف رہے بلکہ بڑے بڑے بزرگان دین اور کاملین علوم باطنی کی صحبتوں سے بھی فیض یاب ہوئے۔ بڑے بڑے مشائخ سے ملے۔ 15سال کی عمر میں حفظِ قرآن ، حسنِ قرأت، علومِ عقلیہ و نقلیہ اور ظاہری و باطنی علوم سے مرصع ہوگئے تھے ۔ آپ کی یہ خصوصیت تھی کہ آپ قرآن مجید کی ساتوں قرأت (سبعہ قرأت) پر مکمل عبور رکھتے تھے۔ آپ نے حصول علم کیلئے خراسان ، بخارا ، یمن، مدینة المنورة ، مکة المکرمة ، حلب، دمشق، بغداد، بصرہ، فلسطین اور موصل کے سفر کر کے مختلف ماہرین علومِ شرعیہ سے اکتساب کیا۔ شیخ طریقت کی تلاش میں آپ ، اپنے معاصرین حضرت ِ خواجہ فرید الدین مسعود گنجِ شکر، حضرت سید جلال الدین شاہ بخاری (مخدوم جہانیاں جہاں گشت) اور حضرت سید عثمان لعل شاہباز قلندر رحمہم اللہ کے ساتھ سفر کرتے رہے۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

یمن سے آپ بغداد تشریف لائے اور حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی خانقاہ پہنچے۔ آپ نے صرف 17 دنوں میں بیعت و خلافت عطا فرما دی۔ بیت المقدس سے مختلف بلاد مشائخ اور مزارات کی زیارت کرتے ہوئے مدینۃ العلم بغداد میں آئے تو اس وقت حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کا طوطی بول رہا تھا۔ ان کی ذات گرامی مرجع خلائق بنی ہوئی تھی۔ بڑا دربار تھا ‘ بڑا تقدس ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھتے ہی فرمایا باز سفید آگیا۔ جو میرے سلسلہ کا آفتاب ہو گا اور جس سے میرا سلسلہ بیعت وسعت پذیر ہوگا۔ آپ نے ادب سے گردن جھکائی۔ شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے اسی روز حلقہ ارادت میں لے لیا اور تمام توجہات آپ کی طرف مرکوز تھیں۔

ملتان آمد[ترمیم]

15 سال تک مختلف علاقوں میں تبلیغ اسلام کرتے آخر کار 1222ء میں واپس ملتان تشریف لائے۔ آپ کی مساعی جمیلہ سے سہروردی سلسلہ پاک و ہند میں خوب جاری ہوا۔

وفات و مزار[ترمیم]

مزار حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی

ملتان میں ہی آپ کا وصال ہوا اور اسی شہر میں آپ کا مزار پُر انوار زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔ مزار بہاؤالدین زکریا ملتانی فنِ تعمیر کا بہترین نمونہ ہے۔آپ کی وفات ِحسرت آیات 7 صفر 661 ھ/21دسمبر 1261ء کو ہوئی۔ آپ کا مزار شریف قلعہ محمد بن قاسم کے آخر میں مرجع خلائق ہے، مزار کی عمارت پرنقاشی کا کام قابل دید ہے اور سینکڑوں اشعار یاد رکھنے کے لائق ہیں، مزار کا احاطہ ہر قسم کی خرافات سے پاک ہے ۔ عرس کے موقع پر علماء کرام کی تقاریر خلق خدا کی ہدایت کاسامان بنتی ہیں، اندرون سندھ سے مریدین و معتقدین کے قافلے پا پیادہ حاضر ہوتے ہیں۔

اولاد و خلفاء[ترمیم]

بہاؤالدین زکریا ملتانی کے سات بیٹے تھے جنہوں نے بطور صوفیاء شہرت حاصل کی۔

  • شیخ صدرالدین عارف
  • شیخ برہان الدین
  • شیخ ضیاؤالدین
  • شیخ علاؤالدین
  • شیخ قدرت الدین
  • شیخ شہاب الدین
  • شیخ شمس الدین

شیخ صدرالدین عارف کے بیٹے شیخ عبد الفتح رکن الدین المعروف شاہ رکن عالم مشہور بزرگ ہوئے ہیں۔

مخدوم شاہ محمود قریشی دربار بہاؤالدین زکریا ملتانی کے موجودہ سجادہ نشین ہیں۔[1]

بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی[ترمیم]

آپ ہی کی نسبت سے ملتان یونیورسٹی کا نام بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی رکھا گیا۔

مزید دیکھئے[ترمیم]

فہرست مزارات و مقابر، پاکستان

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Mausoleum of Shah Bahauddin Zakaria "Multan City Online".

دائرہ معارف اسلامیہ ، جلد 5، صفحہ 94 ، 95 نزہۃ الخواطر ، جلد1 ، صفحہ 120، 121 تذکرہ اولیائے سندھ ، صفحہ 109تا 111