شاہ عقیق بابا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شاہ عقیق بابا
Shah Aqeeq Bukhari.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1432  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اچ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1451 (18–19 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سندھ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن چوہڑ جمالی، ضلع سجاول  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سید اصغر علی شاہ بخاری المعروف شاہ عقیق/یقیق بابا یا روحانی سرجن، سہروردیہ سلسلے کے ولی بزرگ گزرے ہیں۔ انہیں ایک ہندو شخص نے جس کا تعلق ایک ڈاکو ٹولی سے تھا، سنہ 1451ء میں شہید کیا تھا۔

شجرۂ نسب[ترمیم]

شاہ عقیق بخاری کا شجرہ نسب علی المرتضی سے جا ملتا ہے۔[1] اصغر علی (شاہ عقیق) بن شریف بن عبد اللہ بن عبد الحمید بن عبد المجید بن علی اصغر بن محمود بن جلال الدین بن الموئد بن جعفر بن محمد بن محمود بن احمد بن علی بن جعفر بن محمد تقی بن علی رضا بن موسی کاظم بن جعفر صادق بن زین العابدین بن حسین بن علی بن ابی طالب۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

شاہ عقیق بابا کا عرصہ حیات 1432ء سے 1451ء تک ہے۔ شاہ عقیق کا تعلق سہروردی سلسلے سے تھا۔[2] جب آپ کے والد محمد شریف الدین بخاری کا انتقال ہوا تو اپ نے 7 سال کی عمر میں اپنے بھائی عبد اللہ شاہ بخاری کے ہمراہ اوچ شریف سے سندھ ہجرت کی۔

عبداللہ شاہ بخاری المعروف جلالی، سید کستوری شاہ بخاری، کبیرالدین بخاری المعروف مسکین شاہ اور شاہ موسیٰ سہروردیہ سلسلہ کے اولیا اور شاہ عقیق بابا کے بھائی تھے۔

وجہ وفات[ترمیم]

1451ء/855ھ کا زمانہ تھا۔ غالباً ماہِ جمادی الاول کی نوچندی سنیچر (چاند کے پہلے ہفتہ) کی شب بعد نمازِ عشاء شاہ عقیق بابا کی رسمِ نکاح میاں عثمان کی بیٹی سے ہو رہی تھی۔ اتنے میں پڑوس سے ایک خاتون جو بیوہ تھی، روتے ہوئے آئی اور بابا سے فریاد کی کہ ”اس کے اکلوتے بیٹے کو ڈاکوؤں نے یرغمال کر لیا ہے اور مقررہ رقم ادا کرنے کو کہا ہے۔ اگر مہلت کے اندر رقم ادا نہیں کی گئی تو میرے بیٹے کو مار دیا جائیگا“۔

آپ بیوہ عورت کے ہمراہ ڈاکوؤں کے پاس تشریف لے گئے۔ ڈاکوؤں کو اس بات کا علم تھا کہ آپ کو اللہ نے اتنی طاقت دی ہے کہ اگر بدعا دیتے تو پورا کاپورا گاؤں ہی تباہ ہوجاتا۔ لیکن انہوں نے آپ کو دیکھتے ہی آپ کا سر تن سے جدا کر دیا۔ ان کے منہ سے کلمہ شہادت کی صدائیں گونج رہی تھیں۔[1]

عرس[ترمیم]

ان کا عرس ہر سال جمادی الاول کی نوچندی (چاند کے پہلے) ہفتہ کو منایا جاتا ہے۔ ان کا عرس مبارک ہر سال ان کے بھائی جلالی کے عرس کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ ان کا عرس "شاہ عقیق ٹاؤن"، چوہڑ جمالی، ضلع سجاول میں روایتی جوش و جذبہ کے ساتھ منایا جاتا ہے جس میں ملک بھر سے لاکھوں زائرین آتے ہیں۔ مزار پر مریضوں کو شفا ملتی ہے۔[3][4]

روحانی سرجن[ترمیم]

مزار پر بہت سے زائرین کا ماننا ہے کے وہ وہاں اپنے امراض سے شفایاب ہوتے ہیں۔[3] خواہ مرض کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ پس خواب میں دی گئی بشارت پر عمل کرنا عام طور سے ایک ضروری شرط تسلیم کی گئی ہے۔ اسی لیے اصغر علی کو روحانی سرجن کہا جاتا ہے۔[4][5]

نگار خانہ[ترمیم]

مزید پڑھیے[ترمیم]

  • حبیبو سندھی۔ سوانح حیات شاہ یقیق شہید بخاری (سندھی زبان میں)۔ چوہڑ جمالی: سوشل ویلفیئر انجمن غلامان مصطفی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Waheed Siddiqui (21 اگست، 2014)۔ "Auliya Allah: History of Hazrat Shah Aqeeq Shah Bukhari Shaheed."۔ Check date values in: |date= (معاونت)
  2. Sarah FD. Ansari۔ "Sind and its pirs up to 1843"۔ Sufi saints and state power: the pirs of Sind, 1843–1947۔ Cambridge University Press۔ صفحہ 18۔
  3. ^ ا ب "Healing powers: Shrines in Thatta beckon those who 'believe' - The Express Tribune"۔ The Express Tribune۔ 22 ستمبر 2013۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2017۔
  4. ^ ا ب "سرجن بابا: روحانی آپریشن سے علاج"۔ بی بی سی اردو۔ 3 جون 2009۔
  5. E.G. Smith۔ Accessions List, South Asia۔ New Delhi: Library of Congress Office۔ صفحہ 117۔