محمد بن سلیمان الجزولی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد بن سلیمان الجزولی
نسخہ دلائل الخیرات کتب خانہ چیسٹر بیٹی
نسخہ دلائل الخیرات کتب خانہ چیسٹر بیٹی

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1404[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سوس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1465 (60–61 سال)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
صفی، موروکو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ متصوف[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

ابو عبد اللہ محمد بن سلیمان الجزولی سملالی جو درود و سلام کے مشہور مجموعہ دلائل الخیرات کے مؤلف ہیں۔

نسب[ترمیم]

دلائل الخیرات کے مصنف کا نام ونسب یہ ہے:ابو عبد اﷲ محمد بن سلیمان الجزولی بن عبد الرحمان بن ابی بکر بن سلیمان بن یعلی ابن یخلف بن موسیٰ بن علی بن یوسف بن عیسیٰ بن بن عبد اﷲ بن جندر بن عبد الرحمن بن محمد بن احمد بن حسان بن اسماعیل بن جعفر بن عبد ا ﷲبن حسن بن حسین بن علی بن ابی طالب کرم اﷲ وجہہ۔[4]

نام[ترمیم]

اصل نام محمد والد کا نام عبد الرحمن جبکہ دادا کا نام ابوبکر بن سلیمان تھا۔[5]

ولادت[ترمیم]

ابو عبد اللہ سید محمد بن سلیمان جزولی سملالی (807ھ 1404ء) بمقام سوس اقصیٰ مراکش میں پیدا ہوئے۔ آپ حسنی سادات ہیں اور بربر قوم کے قبیلہ جزولہ کی شاخ سہلالہ سے تعلق تھا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد فاس چلے گئے اور مدرسہ الصفارین میں داخل ہوئے یہ کتاب بھی انہوں نے فاس میں ہی لکھی انکا رہائشی حجرہ آج بھی محفوظ ہے[6]

  • کتاب دلائل الخیرات کی تدوین میں جامع قزوین (فاس )کے کتب خانہ سے استفادہ کیا ۔
  • یکتائے زمانہ شیخ ابو عبد اللہ بن عبد اللہ امغار الصغیر کے مرید ہوئے چودہ سال تک خلوت نشینی میں گزار ے مریدین کی تعداد بارہ ہزار سے زائد تھی[7]

وفات[ترمیم]

آپ کی وفات870ھ بمطابق 1465ء مراکش میں ہوئی [8]

تصنیفات[ترمیم]

آپ کی تصانیف کا اکثر حصہ تصوف میں ہے۔

  • (1) دلائل الخیرات وشوارق الأنوار فی ذکر الصلاۃ علی النبی المختار
  • (2) حزب الفلاح یہ ایک بابرکت دعا ہے۔
  • ( 3) حزب الجزولی یہ حزب سبحان الدائم لا یزول کہلاتی ہے اور طریقہ شاذلیہ میں متداول ہے۔

آپ کے شاگرد بیس ہزار سے زیادہ تھے جنہوں نے آپ سے حدیث کی نقل وروایت کی ہے اور علم فقہ و تفسیر کی تحصیل کی ہے۔ آپ کے والد قبیلہ جزولہ سہلالہ کے امیر لوگوں میں شمار کیے جاتے تھے، جن کی سکونت ضلع سوس اقصیٰ بربر واقع افریقہ میں تھی۔ شہر فاس (واقع مراکش) میں آپ نے علم تحصیل کیا اور ایک عرصہ تک وہاں تفسیر و احادیث پڑھاتے رہے۔ پھر فاس سے ساحل (ریف) کی طرف چلے آئے اور یہاں ان کی ملاقات شیخ محمد بن عبد اﷲ سے ہوئی جن سے انہوں نے علم باطن کے بہت سے نکات حاصل کیے، تب عبادت کے لیے خلوت خانہ میں داخل ہوئے جہا ں وہ چودہ برس تک مراقبہ اور ریاضت کرتے رہے۔ پھر خلوت سے ہدایت خلق کے لیے نکلے، بارہ ہزار چھ سو پینسٹھ آدمیوں نے آپ کے ہاتھ پر گناہوں سے توبہ کی اور نیک کاموں پر قائم رہنے کی بیعت کی، جو خالص عابد بنے اور ہر ایک نے آپ سے فیض عظیم و معرفت فخیم حاصل کی اور آپ سے بڑی بڑی کرامات اور خوارقِ عجیبہ ظاہر ہوئے، کتاب اﷲ و سنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بڑے پابند اور عامل تھے اور کثرت کے ساتھ اوراد و وظائف پڑھا کرتے تھے۔ آسفی کے حاکم نے زہر دلوا دیا آپ کی وفات 16 ربیع الاول 870ھ 1465ء میں بمقام آفرغال واقع ملک بربرنماز صبح کی پہلی رکعت کے دوسرے سجدے میں ہوئی اور اسی روز ظہر کے وقت مسجد کے قریب مدفون ہوئے۔ آپ کی قبر مبارک پر ہر وقت زائرین کا ازدحام رہتا ہے جو کثرت سے وہاں قرآن شریف اور دلائل الخیرات پڑھتے ہیں۔ اولاد آپ کی نہ تھی[9]۔

ستر سال بعد وفات عظیم کرامت[ترمیم]

سیدنا محمد بن سلیمان الجز ولی کے وصال کے 77 سال بعد سلطان مراکش ابو العباس سلطان احمد المعروف بہ الاعرج کے حکم سے جب آپ کے جسد اطہر کو قبر مبارکہ سے نکالا گیا تو اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود درودسلام کی برکت سے اسی حالت میں تھا جیسے وقت وصال اور مرور زمانہ کے قطعا کوئی آثار نمایاں نہ تھے۔ حتی کہ آپ کے سر اور داڑھی مبارکہ کے خط بھی بالکل تروتازہ تھے۔ حاکم وقت یا اس کے کہنے پر کسی شخص نے جب آپ کے چہرہ انور کو دبایا تو فورا اس مقام سے خون ہٹ گیا اور جب اس نے انگلی اٹھائی تو خون پھر اپنی جگہ واپس آیا جیسا کہ زندہ آدمی کے ساتھ ہوتا ہے۔ آپ کے جسد مبارکہ کو مراکش کے قدیم حصہ میں دفن کیا گیا اور اس پر ایک عمارت (روضہ) بھی تعمیر کی گئی۔

علامہ یفرنی فرماتے ہیں کہ سال 1133ھ میں خلیفہ مراکش نے آپ کے روضہ کو دوبارہ تعمیر کروایا اور سنگ بنیاد کے موقع پر ایک محفل کا انعقاد بھی ہوا۔ اسی طرح سلاطین مولوی اسماعیل اور محمد بن عبد اﷲ کے دور حکومت میں مزار مبارک کی توسیع کے علاوہ بعض حصوں کو دوبارہ تعمیر کیا گیا۔[9]۔

دلائل الخیرات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب اجازت نامہ: CC0
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb16108413j — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb16108413j — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  4. المستطاب المحتوی علی الاسناد الصحیحہ
  5. ممتع الاسماع صفحہ 45 دارالبیضاء مراکش
  6. الاعلام الزرکلی از علامہ خیر الدین
  7. یوسف النبہانی-جامع کرامات الاولیاء
  8. یوسف النبہانی-جامع کرامات الاولیاء - ج1 ص 165-166
  9. ^ ا ب مطالع المسرات محمد مہدی الفاسی