سلسلہ قادریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مضامین بسلسلہ

تصوف

Maghribi Kufic.jpg

قادری لفظ، شيخ عبدالقادر جيلانی کے اسم گرامی عبدالقادر سے لیا گیا ہے۔ تمام سلاسل میں قادری سلسلہ سب سے افضل مانا جاتا ہے  [حوالہ درکار]کیونکہ یہ شیخ جیلانی سے منسوب ہے ۔

سلسلہ قادریہ[ترمیم]

یہ درویشوں کا ایک سلسلہ ہے جو عبدالقادر جیلانی (المتوفی561ھ / 1166ء) کے نام سے منسوب ہے۔ عبدالقادر جیلانی حنبلی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ بغداد میں ایک رباط (خانقاہ) اور مدرسہ کے ناظم تھے اور ان دونوں مقامات پر وعظ فرمایا کرتے تھے۔ بعد میں آپ کے وعظوں کا مجموعہ ”الفتح الربانی“ کے نام سے شائع ہوا۔ 1258ء میں بغداد کی تباہی کے بعد رباط اور مدرسہ بھی ختم ہوگئے۔ شیخ کے بعد ان کے بیٹے عبدالوہاب (المتوفی593ھ / 1196ء) اور عبدالرزاق (المتوفی 603ھ / 1206ء) ان کے جانشین ہوئے۔ کچھ عرصہ کے بعد اس گروہ نے بہت ترقی کی اور پیری مریدی کا سلسلہ مستقل طور پر پھیل گیا۔ پیر اپنے جس مرید کو کامل سمجھتا تھا اس کو خرقہ دے کر دوسرے مقامات یا ممالک میں مذہب کی اشاعت کے لیے روانہ کردیتا تھا۔ شیخ کی زندگی ہی میں مختلف مریدوں نے مختلف ممالک میں شیخ کی تعلیمات کی تلقین شروع کردی۔ پاک وہند میں بھی طریقت کے دوسرے سلسلوں سے سلسلہ قادریہ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ برصغیر پاک وہند میں یہ سلسلہ حضرت شیخ محمد الحسنی جیلانی، شیخ عبدالقادر ثانی، حضرت شاہ کمال کیتھلی اور حضرت شاہ سکندر محبوب الٰہی کے ذریعے پہنچا۔ برصغیر پاک وہند میں کئی معروف علماءاور صوفی بزرگ اس سلسلہ سے متعلق رہے ہیں۔[1]

سلاسلِ تصوف میں سلسلۂ قادریہ سب سے قدیم اور سب سے زیادہ مشہور و مستند سلسلۂ روحانیت مانا جاتاہے  [حوالہ درکار]اور اس سلسلے میں پیروکار پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، ترکی، بلقان کے علاوہ مشرقی اور مغربی افریقا میں بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

شيخ عبدالقادر جيلانی آئمہ اسلام میں سے ہیں جواپنے دور کے مسلم علماء و فضلاء کے سردار تھے اوراسی طرح ان کی بہت سی دینی خدمات ہیں۔ شيخ عبدالقادر جيلانی اپنے دور میں سب سے زیادہ شریعت اسلامیہ کا التزام کرنے والوں اورامر بالمعروف اورنہی عن المنکر کرنے والوں میں شامل ہوتے ہیں۔ وہ شریعت اسلامیہ کوہر چيز پر مقدم رکھتے اور زہد و علم میں ید طولی رکھتے تھے اور عظیم واعظ اور خطیب تھے۔ ان کی مجلس میں بہت سے لوگ اپنے گناہوں سے توبہ کرتے تھے۔ اللہ تعالٰی نے انہیں ذکر کرنے میں ایک جمال عطا کیا تھا اورلوگوں کے درمیان ان کا فضل پھیلایا۔ اللہ تعالٰی ان پر اپنی رحمت برساۓ۔

شيخ عبدالقادر جيلانی متبع دین تھے نہ کہ مبتدع۔ وہ دین میں بدعات کی ایجاد کے مخالف تھے اور وہ سلف صالحین کے منہج اورطریقے پر چلتے اور اپنی تصانیف میں سلف کی اتباع کرنے پر ابھارتے اوران کی اتباع کا حکم دیتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ دین میں بدعات کی ایجاد سے منع کرتے تھے۔ شيخ عبدالقادر جيلانیاہل حق کی موافقت کرتے، ان کا عقیدہ اورمسائل توحید اورایمان اور نبوت اور یوم آخرت کے بارہ میں مکمل منہج، اہل حق کا منہج تھا ۔

تصانیف[ترمیم]

شيخ عبدالقادر جيلانیکی مشہور تصانیف میں

ہیں[2]۔

سلسلہ قادریہ[ترمیم]

  • حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم
  • خلیفہ حضرت علی ابن ابی طالب
  • امام حسن
  • امام حسین
  • امام زین العابدین
  • امام محمد باقر
  • امام جعفر صادق
  • امام موسٰی كاظم
  • امام علی موسٰی رضا
  • معروف كرخی
  • سری سقطی
  • جنید البغدادی
  • شیخ ابو بكر شبلی
  • شیخ عبد العزیز بنو تمیم
  • ابو الفضل ابو الواحد بنو تمیم
  • ابو الفرح طرطوسی
  • ابو الحسن فرشی
  • ابو سعید المبارك مكرمی
  • شيخ عبدالقادر جيلانی

ملاحظہ كیجیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.checkreligion.com/qadria/
  2. فیوض یزدانی ترجمہ الفتح الربانی صفحہ 7 طبع مدینہ پبلشنگ کراچی
Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔