بنگلہ دیش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش
People's Republic of Bangladesh
  • গণপ্রজাতন্ত্রী বাংলাদেশ (بنگالی)
  • Gaṇaprajātantrī Bāṃlādēśa
قومی ترانہ"امر شونار بنگلہ" (بنگالی)
"My Golden Bengal"


March: "Notuner Gaan"
"The Song of Youth"[1]


  • Seal of the Government of Bangladesh
دارالحکومت
(اور عظیم ترین شہر)
ڈھاکہ
دفتری زبان
اور قومی زبان
بنگلہ[2]
نسلی گروہ 
نام آبادی بنگلہ دیشی
حکومت وحدانی ریاست پارلیمانی نظام جمہوریہ
 -  صدر عبد الحامد
 -  وزیر اعظم حسینہ واجد
 -  ہاؤس اسپیکر شیریں شرمین چوہدری
 -  چیف جسٹس سریندر کمار سنہا
مقننہ Jatiya Sangsad
 -  بنگال کی تقسیم اور برطانوی راج کا خاتمہ 14–15 اگست 1947 
 -  آزادی از پاکستان 26 مارچ 1971 
 -  تسلیم 16 دسمبر 1971 
 -  آئین 4 نومبر 1972 
 -  آخری علاقائی داخلہ 31 جولائی 2015 
رقبہ
 -  کُل 147,610'"`UNIQ--nowiki-000000A9-QINU`"'4'"`UNIQ--nowiki-000000AA-QINU`"' مربع کلومیٹر (92 واں)
56,992.54 مربع میل 
 -  پانی (%) 6.4
آبادی
 -  2017 تخمینہ 163,187,000[5] (8th)
 -  2011 census 149,772,364[6] (8th)
 -  کثافت 1,106 فی مربع کلومیٹر (10th)
2,864.5 فی مربع میل
خام پیداوار (مساوی قوتِ خرید) 2017 تخمینہ
 -  کُل $686.598 billion[7] (33 واں)
 -  فی کس $4,207[7] (139 واں)
خام پیداوار (nominal) 2017 تخمینہ
 -  کُل $248.853 billion[7] (45 واں)
 -  فی کس $1,524[7] (148 واں)
Gini (2010) 32.1 
انسانی ترقیاتی اشاریہ (2016) 0.579 (139ویں)
کرنسی Taka () (BDT)
منطقۂ وقت بنگلا دیش معیاری وقت (UTC+6)
Date formats
گاڑی چلانے کہ سمت بائیں
ملکی بلند ترین اسمِ ساحہ Bd.
.বাংলা
ویب سائٹ
bangladesh.gov.bd
رمز بعید تکلم
 (کالنگ کوڈ)
+880

بنگلہ دیش (باضابطہ نام: عوامی جمہوریہ بنگلا دیش) جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ میانمار کے ساتھ مختصر سی سرحد کے علاوہ یہ تین اطراف سے بھارت سے ملا ہوا ہے اور جنوب میں اس کی سرحدیں خلیج بنگال سے ملتی ہیں۔ بھارت کی ریاست کو ملاکر بنگالی اسے اپنا نسلی وطن کہتے ہیں۔ بنگلا دیش کا مطلب ہے "بنگال کا ملک"۔

بنگلا دیش کی موجودہ سرحدیں 1947ء میں تقسیم ہند کے موقع پر وجود میں آئیں جب یہ پاکستان کے مشرقی حصے کے طور پر برطانیہ سے آزاد ہوا۔ پاکستان کے دونوں مشرقی و مغربی حصوں کے درمیان 1600 کلومیٹر (ایک ہزار میل) کا فاصلہ حائل تھا۔ مشترکہ مذہب ہونے کے باوجود پاکستان کے دونوں بازوؤں میں نسلی و لسانی خلیج بڑھتی گئی، جسے مغربی پاکستان کی عاقبت نا اندیش حکومت نے مزید وسیع کر دیا جو بالآخر 1971ء میں ایک خونی جنگ کے بعد شیخ مجیب الرحمٰن کی قیادت میں بنگلا دیش کا قیام کا سبب بنی۔ اس جنگ میں بنگلا دیش کو بھارت کی مکمل مدد حاصل رہی۔

بنگلا دیش اپنے قیام سے مستقل سیاسی افراتفری کا شکار ہے اور اب تک 13 مختلف حکومتیں برسر اقتدار آ چکی ہیں اور کم از کم چار فوجی تاخت (مارشل لا) ہو چکے ہیں۔

بنگلا دیش آبادی کے لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے اور تقریباًً 144،000 مربع کلومیٹر کے ساتھ یہ رقبے کے لحاظ سے دنیا کا 94 واں ملک ہے،ہ دنیا کا گنجان آباد ترین آبادی کے حامل ممالک میں سے ایک ہے بلکہ اگر چھوٹے موٹے جزائر یا شہری حکومتوں کو فہرست سے نکال دیا جائے تو یہ دنیا کا سب سے زیادہ گنجان آباد ملک بن جاتا ہے جس کے ہر مربع کلومیٹر پر 998.6 (یا ہر مربع میل پر 2،639 افراد) بستے ہیں۔ یہ تیسرا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک ہے لیکن اس کی آبادی ہندوستان میں مقیم اقلیتی مسلمانوں سے کچھ کم ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ دریائے گنگا و برہم پتر کے زرخیز دہانوں (ڈیلٹا) پر واقع ہے۔ مون سون کی سالانہ بارشوں کے باعث یہاں سیلاب اور طوفان معمول ہیں۔ بنگلا دیش جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) اور BIMSTEC کا بانی رکن اور اسلامی کانفرنس کی تنظیم (او آئی سی) اور ترقی پذیر 8 (ڈی -8) کا رکن ہے۔

فہرست متعلقہ مضامین بنگلا دیش[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "NATIONAL SYMBOLS→National march". Bangladesh Tourism Board. Bangladesh: Ministry of Civil Aviation & Tourism. "In 13 January 1972, the ministry of Bangladesh has adopted this song as a national marching song on its first meeting after the country's independence." 
  2. "Article 3. The state language". The Constitution of the People's Republic of Bangladesh. Ministry of Law, The People's Republic of Bangladesh. http://bdlaws.minlaw.gov.bd/sections_detail.php?id=367&sections_id=24550۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 February 2017. 
  3. خطا در حوالہ: حوالہ بنام .E0.A6.AC.E0.A6.BE.E0.A6.82.E0.A6.B2.E0.A6.BE.E0.A6.A6.E0.A7.87.E0.A6.B6.E0.A6.95.E0.A7.87_.E0.A6.9C.E0.A6.BE.E0.A6.A8.E0.A7.81.E0.A6.A8 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  4. http://www.dghs.gov.bd/licts_file/images/Health_Bulletin/HB2012_CH/HB2012_CH1_BD-at-a-glance.pdf
  5. "Bangladesh" IMF Population estimates.
  6. Data Archived 4 September 2011 at the Wayback Machine..Census – Bangladesh Bureau of Statistics.
  7. ^ 7.0 7.1 7.2 7.3 "Bangladesh". World Economic Outlook Database. بین الاقوامی مالیاتی فنڈ.