بنگلہ دیش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں


গণ প্রজাতন্ত্রী বাংলাদেশ
گن پرجاتنتری بانگلادیش
عوامی جمہوریہ بنگلا دیش
بنگلا دیش کا پرچم بنگلا دیش کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: ندارد
ترانہ: আমার সোনার বাংলা
"My Golden Bengal"

بنگلا دیش کا محل وقوع
دارالحکومت ڈھاکہ
عظیم ترین شہر ڈھاکہ
دفتری زبان(یں) بنگلہ
نظامِ حکومت
صدر
وزیرِ اعظم
پارلیمانی جمہوریہ
عیاض الدین احمد
حسینہ واجد
آزادی
- اعلانِ آزادی
تاریخِ آزادی
پاکستان سے
26 مارچ 1971ء
16 دسمبر 1971ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
143998  مربع کلومیٹر (94)
55598 مربع میل
7
آبادی
 - تخمینہ:2007ء
 - کثافتِ آبادی
 
158,665,000 (7)
1045 فی مربع کلومیٹر(11)
2707 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

209.2 ارب بین الاقوامی ڈالر (48 واں)
1400 بین الاقوامی ڈالر (160 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.547
(140) – متوسط
سکہ رائج الوقت ٹاکا (BDT)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)
بنگلا دیش کا معیاری وقت
(یو۔ٹی۔سی۔ 6)
غیر مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 6)
انٹرنیٹ ڈومین .bd
کالنگ کوڈ +880

بنگلہ دیش (باضابطہ نام: عوامی جمہوریہ بنگلا دیش) جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ میانمار کے ساتھ مختصر سی سرحد کے علاوہ یہ تین اطراف سے بھارت سے ملا ہوا ہے اور جنوب میں اس کی سرحدیں خلیج بنگال سے ملتی ہیں۔ بھارت کی ریاست کو ملاکر بنگالی اسے اپنا نسلی وطن کہتے ہیں۔ بنگلا دیش کا مطلب ہے "بنگال کا ملک"۔

بنگلا دیش کی موجودہ سرحدیں 1947ء میں تقسیم ہند کے موقع پر وجود میں آئیں جب یہ پاکستان کے مشرقی حصے کے طور پر برطانیہ سے آزاد ہوا۔ پاکستان کے دونوں مشرقی و مغربی حصوں کے درمیان 1600 کلومیٹر (ایک ہزار میل) کا فاصلہ حائل تھا۔ مشترکہ مذہب ہونے کے باوجود پاکستان کے دونوں بازوؤں میں نسلی و لسانی خلیج بڑھتی گئی، جسے مغربی پاکستان کی عاقبت نا اندیش حکومت نے مزید وسیع کر دیا جو بالآخر 1971ء میں ایک خونی جنگ کے بعد شیخ مجیب الرحمٰن کی قیادت میں بنگلا دیش کا قیام کا سبب بنی۔ اس جنگ میں بنگلا دیش کو بھارت کی مکمل مدد حاصل رہی۔

بنگلا دیش اپنے قیام سے مستقل سیاسی افراتفری کا شکار ہے اور اب تک 13 مختلف حکومتیں برسر اقتدار آ چکی ہیں اور کم از کم چار فوجی تاخت (مارشل لا) ہو چکے ہیں۔

بنگلا دیش آبادی کے لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے اور تقریباًً 144،000 مربع کلومیٹر کے ساتھ یہ رقبے کے لحاظ سے دنیا کا 94 واں ملک ہے،ہ دنیا کا گنجان آباد ترین آبادی کے حامل ممالک میں سے ایک ہے بلکہ اگر چھوٹے موٹے جزائر یا شہری حکومتوں کو فہرست سے نکال دیا جائے تو یہ دنیا کا سب سے زیادہ گنجان آباد ملک بن جاتا ہے جس کے ہر مربع کلومیٹر پر 998.6 (یا ہر مربع میل پر 2،639 افراد) بستے ہیں۔ یہ تیسرا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک ہے لیکن اس کی آبادی ہندوستان میں مقیم اقلیتی مسلمانوں سے کچھ کم ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ دریائے گنگا و برہم پتر کے زرخیز دہانوں (ڈیلٹا) پر واقع ہے۔ مون سون کی سالانہ بارشوں کے باعث یہاں سیلاب اور طوفان معمول ہیں۔ بنگلا دیش جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) اور BIMSTEC کا بانی رکن اور اسلامی کانفرنس کی تنظیم (او آئی سی) اور ترقی پذیر 8 (ڈی -8) کا رکن ہے۔

فہرست متعلقہ مضامین بنگلا دیش[ترمیم]