مندرجات کا رخ کریں

جنگ آزادی بنگلہ دیش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
جنگ آزادی بنگلہ دیش
سلسلہ سرد جنگ   ویکی ڈیٹا پر  (P361) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عمومی معلومات
آغاز 26 مارچ 1971  ویکی ڈیٹا پر  (P580) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اختتام 16 دسمبر 1971  ویکی ڈیٹا پر  (P582) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملک عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش   ویکی ڈیٹا پر  (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اسباب عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش   ویکی ڈیٹا پر  (P828) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مقام مشرقی پاکستان   ویکی ڈیٹا پر  (P276) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
متحارب گروہ
بنگلہ دیش کا پرچم مکتی باہنی
بنگلہ دیش مسلح افواج
بھارت کا پرچم بھارت
بھارتی مسلح افواج
پاکستان کا پرچم پاکستان
پاکستان مسلح افواج

پاکستان کا پرچم رضاکار

قائد
محمد عطاء الغنی عثمانی
جگجیت سنگھ اروڑہ
لیفٹیننٹ جنرل امیر عبد اللہ خان نیازی
میجر جنرل راؤ فرمان علی
قوت
بنگلہ دیشی قوتیں: 175،000
بھارتی افواج: 250،000
50،000 [حوالہ درکار]
نقصانات
غیر مصدقہ غیر مصدقہ

بنگلہ دیش کی جنگ آزادی، جسے بنگالی میں مکتی جدھو (মুক্তিযুদ্ধ) اور پاکستان میں سقوط مشرقی پاکستان یا سقوط ڈھاکہ کہا جاتا ہے، پاکستان کے دو بازوؤں، مشرقی و مغربی پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ تھی جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان آزاد ہو کر بنگلہ دیش کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

شہید حسین سہروردی جیسے بنگالی مسلمانوں نے 1947 میں بنگالی ہندوؤں اور کلکتہ کے ساتھ ایک آزاد بنگالی ملک بنانے کا منصوبہ ناکام ہونے کے بعد پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ تحریک پاکستان کے دوران، شیخ مجیب جیسے بہت سے بنگالیوں کا خیال تھا کہ دو الگ الگ آزاد پاکستان بنائے جائیں - ایک مغربی پاکستان، دوسرا مشرقی پاکستان۔ بنگال کے لوگ تاریخی طور پر بہت غریب تھے۔

پاکستانی حکومت نے، خاص طور پر ایوب خان کے دور میں، وہاں بہت سے ترقیاتی کام کیے اور اپنے فنڈز کا آدھا حصہ مشرقی پاکستان کو دیا حالانکہ مشرقی پاکستانی صرف ایک تہائی ٹیکس ادا کرتے تھے۔ تاہم، عوامی لیگ (جس میں بہت سے کمیونسٹ تھے) نے بنگالیوں کو تبلیغ کی کہ وہ ماضی میں امیر ہوا کرتے تھے اور پاکستانی حکومت انھیں لوٹ رہی تھی۔ عوامی لیگ نے نام نہاد "معاشی استحصال" کے حل کے طور پر چھ نکات تجویز کیے۔ شیخ مجیب اور عوامی لیگ نے چھ نکات کے تحت مشرقی پاکستان کے لیے ایک انتہائی قسم کی خود مختاری کی تجویز پیش کی۔ اگر چھ نکات پر مکمل عمل درآمد کیا جاتا تو پاکستان ایک متحدہ ملک نہ رہتا۔

جب 1970 میں قومی انتخابات لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت ہوئے، جس میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ وفاقی حکومت کو مستقبل کے آئین میں کافی اختیارات حاصل ہوں گے، شیخ مجیب نے انتخابات سے پہلے یحییٰ خان سے وعدہ کیا کہ وہ انتخابات کے بعد چھ نکات میں تبدیلی لائیں گے۔ 1970 کی انتخابی مہم کے دوران عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں دیگر جماعتوں کو صحیح طریقے سے مہم چلانے نہیں دی۔ عوامی لیگ اور شیخ مجیب نے انتخابی مہم کے دوران مارشل لا کے ضابطوں کو توڑا تھا۔ الیکشن جیتنے کے بعد شیخ مجیب اور عوامی لیگ نے چھ نکات پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا۔

بھٹو اور فوجی جرنیلوں نے یحییٰ خان کو مشورہ دیا کہ وہ شیخ مجیب کے چھ نکات کو تسلیم نہ کریں کیونکہ اگر ان چھ نکات پر پوری طرح عمل کیا جاتا تو وہ پاکستان کے ٹوٹنے کا باعث بنتے۔ یحییٰ خان نے قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا جیسے کہ لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت ان کا حق تھا۔ 01 مارچ 1971 کو شیخ مجیب نے بغاوت کی اور غداری کے ایک عمل میں انھوں نے 01 مارچ 1971 سے 25 مارچ 1971 کے درمیان مشرقی پاکستان میں ایک متوازی حکومت قائم کی، حالانکہ وہ اس وقت بھی یحییٰ خان کو صدر تسلیم کرتے تھے۔

اس دوران بنگالی شہریوں نے پاکستانی فوج کے اہلکاروں کے خلاف حملے کیے اور غیر بنگالی مسلمانوں کے خلاف قتل، عصمت دری اور لوٹ مار کا ارتکاب کیا۔ شیخ مجیب کی غداری اور غیر بنگالی مسلمانوں کے خلاف بنگالی تشدد کے باوجود اور اگرچہ فوج نے مشرقی پاکستان کو دوبارہ حکومتی کنٹرول میں لانے کے لیے "آپریشن بلٹز" کا منصوبہ بنایا تھا، صدر یحییٰ خان نے پھر بھی شیخ مجیب سے مذاکرات کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، شیخ مجیب اور عوامی لیگ کا چھ نکات پر اصرار زیادہ شدت اختیار کر گیا اور انھوں نے چھ نکات پر پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا جو لیگل فریم ورک آرڈر کے خلاف تھے۔

یحییٰ خان نے فوج کو آپریشن سرچ لائٹ کرنے کا حکم دیا۔ یہ آپریشن 25 مارچ 1971 کی رات کو شروع ہوا۔ اس آپریشن کا مقصد مشرقی پاکستان پر حکومتی عملداری بحال کرنا تھا، شیخ مجیب کو گرفتار کرنا تھا اور پاکستانی فوج کے بنگالی سپاہیوں کو غیر مسلح کرنا تھا کیونکہ شیخ مجیب نے ان  سپاہیوں کو برین واش کیا ہوا تھا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں بنگالی باغیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس آپریشن کا مقصد معصوم بنگالی شہریوں کے خلاف تشدد نہیں تھا۔ لیکن اس دوران پاکستانی فوج کے کچھ اہلکاروں نے بنگالیوں پر انتقامی حملے کیے ان مظالم کے بدلے میں جو بنگالیوں نے پاکستانی فوجیوں اور غیر بنگالی مسلمانوں کے خلاف کیے تھے۔

پاکستانی فوج کے بہت سے بنگالی سپاہیوں نے بغاوت کی اور مشرقی پاکستان کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ لیکن پاکستانی فوج نے ان علاقوں کا کنٹرول واپس لے لیا اور مئی 1971 تک مشرقی پاکستان سے باغیوں کا صفایا کر دیا گیا تھا۔ پاکستان کے حامی بنگالی مسلمانوں اور بہاری مسلمانوں نے صوبے پر حکومت کرنے میں پاکستانی فوج کی مدد کی۔

باغی بنگالی سپاہی اور دیگر باغی بنگالی ہندوستان گئے اور وہاں ایم اے جی عثمانی (جسے مجیب نے مارچ 1971 میں "انقلابی افواج" کا سربراہ مقرر کیا تھا) کی قیادت میں مکتی باہنی قائم کی۔ مکتی باہنی جون 1971 میں مشرقی پاکستان میں آئی اور انھوں نے مشرقی پاکستان میں گوریلا شورش کی۔ ہندوستان نے فوجیوں کے ساتھ ان کی مدد کی۔ 22 نومبر کو ہندوستان نے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا اور فوجی طاقت کے ذریعے مشرقی پاکستان کے قیام میں بنگالیوں کی مدد کی۔

پاکستانی فوج اپنے دشمنوں کے مطابق بہادری سے لڑی، حالانکہ ان کے لیے جنگ جیتنا ناممکن تھا کیونکہ وہ مغربی پاکستان سے ایک ہزار میل دور تھے اور مشرقی پاکستان چاروں طرف سے ہندوستان سے گھرا ہوا تھا۔ پاکستانی فوج نے مزید فوجیوں اور شہریوں کی فضول موت کو روکنے کے لیے ہتھیار ڈال دیے 16 دسمبر 1971 کو پشتون جنرل نیازی کے ماتحت۔

بنگال پہلے پاکستان میں کیسے شامل ہوا تھا

[ترمیم]

بنگالی مسلمان کبھی باہر کے مسلمانوں کی حکمرانی میں زیادہ دیر تک آرام سے نہیں رہے۔ شمس سیرف عفیف کی کتاب "تاریخ فیروز شاہ" پڑھیں۔ ایک بہت اچھے حکمران تھے، سلطان فیروز شاہ (جن کا تعلق پنجاب سے تھا) جنھوں نے سلطنت دہلی پر حکومت کی تھی۔ یہاں تک کہ انھوں نے عباسی خلیفہ کو بھی بیت دی تھی جو مملوک مصر میں بیٹھے تھے۔

سلطان فیروز شاہ کی اچھی فطرت اور شریعت کے نفاذ کے باوجود، بنگالی مسلمان پھر بھی ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے مسلح لڑائی میں اور اپنی خود مختار بنگال سلطنت بنانے کے لیے دہلی کی سلطنت سے الگ ہو گئے۔ اپنے زمانے میں بادشاہ اورنگزیب نے بھی بنگال کو ایک ہنگامہ خیز باغی خطہ قرار دیا تھا۔ اورنگزیب کے دور حکومت میں بنگال کے ہنگاموں کے بارے میں مزید معلومات کے لیے کتاب "فتوحات عالمگیری" کا مطالعہ کریں۔

1947 میں بھی بنگالی مسلمان تحریک پاکستان کے "سب سے بڑے" حامی نہیں تھے۔ ہندوستان کے ہر خطے کے مسلمانوں نے اپنی اپنی وجوہات کی بنا پر مسلم ریاست کے قیام اور تقسیم کی مہم کی حمایت کی تھں۔

اتر پردیش اور پنجاب کے برعکس جہاں تقسیم کی حمایت کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہاں کے لوگ اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے، بنگال میں پاکستان کے مطالبے کے پیچھے سب سے بڑی وجہ معاشی وجوہات تھیں کیونکہ بنگالی مسلمان ہندو زمیندار طبقے (بھدرلوک) کے تسلط کو ختم کرنا چاہتے تھے۔

بنگالی مسلمان ایک واحد مسلم ریاست کے قیام پر پوری طرح سے پرعزم نہیں تھے۔ مسلم لیگ کی بنگالی صوبائی شاخ میں مختلف مکاتب فکر تھے۔ بنگالی سیاست دان ابوالہاشم، جن کا مسلم لیگ کو بنگال میں مقبول بنانے میں اہم کردار تھا، دو الگ پاکستان کا قیام چاہتے تھے یعنی وہ ایک آزاد "پوربو پاکستان" (مشرقی پاکستان) چاہتے تھے جو مغربی پاکستان سے الگ ہو۔

بنگالی مسلمان ایک واحد مسلم ریاست کے قیام پر پوری طرح سے پرعزم نہیں تھے۔ مسلم لیگ کی بنگالی صوبائی شاخ میں مختلف مکاتب فکر تھے۔ بنگالی سیاست دان ابوالہاشم، جن کا مسلم لیگ کو بنگال میں مقبول بنانے میں اہم کردار تھا، دو الگ پاکستان کا قیام چاہتے تھے یعنی وہ ایک آزاد "پوربو پاکستان" (مشرقی پاکستان) چاہتے تھے جو مغربی پاکستان سے الگ ہو۔

شیخ مجیب نے بھی اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے (جو انھوں نے 1971 سے پہلے 1960 کی دہائی کے آخر میں لکھا تھا) کہ جب وہ پاکستان تحریک کے کارکن تھے تو وہ دو الگ الگ خود مختار پاکستان چاہتے تھے۔[1]

متحدہ پاکستان کا قیام 1947 میں اتفاق سے ہوا کیونکہ بنگالی ہندوؤں نے بنگال کو تقسیم کیا اور کلکتہ کو ہندوستان میں لے لیا۔ ورنہ بنگالی مسلم رہنما سہروردی تو ایک آزاد بنگال چاہتے تھے جس میں مغربی بنگال بھی شامل ہو۔[2]

سہروردی نے کہا کہ وہ ہمیشہ بنگال کو ایک خود مختار آزاد ریاست کے طور پر چاہتے تھے نہ کہ کسی یونین کا حصہ بن کر۔ سہروردی نے کہا کہ بنگال کی تقسیم (بنگالی) مسلمانوں کو کلکتہ کے "امیر انعام" سے محروم کر دے گی اور اس لیے مسلمانوں کو تجارت سے محروم کر دے گی۔ 26 اپریل کو سہروردی نے ماؤنٹ بیٹن سے کہا کہ اگر بنگال متحد رہ سکتا ہے تو اسے پاکستان میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔[2]

کچھ بنگالی رہنما یعنی نورالامین اور حامد الحق چودھری تقسیم کے حق میں تھے۔[2] یہ دونوں بنگالی رہنما 1971 میں بھی پاکستان کے وفادار رہے تھے۔

کلکتہ کے بغیر مشرقی بنگال محض ایک دیہی پسماندہ علاقہ تھا جس میں کوئی صنعت نہیں تھی لہٰذا یہ ان حالات سے عیاں ہے کہ بنگالی لیڈروں معاشی مدد کے لیے پاکستان کے ساتھ جڑ گئے تھے بنگال کی تقسیم کی وجہ سے۔

1950 کی دہائی کے واقعات

[ترمیم]

1954 میں آدم جی اور کانرافولی ملوں میں بنگالی مسلمانوں اور بہاری مسلمانوں کے درمیان نسلی فسادات ہوئے۔ بنگالیوں کے ہاتھوں سینکڑوں بہاری مسلمان مارے گئے۔

سب انسپکٹر آف پولیس محمد نورالاسلام نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو ایک رپورٹ لکھی جس میں انھوں نے کہا:

"بنگالی مسلمانوں نے، اپنے غیر بنگالی بھائیوں کو، جو اسی ریاست کے شہری تھے، بے دردی سے قتل کرنے کے بعد، فتح کے نعرے 'نارے تکبیر-فتح' لگائے۔ فتح کے اس احمقانہ خیال میں صرف بنگالی مسلمانوں کے ذہنوں میں غیر بنگالی مسلمانوں کے لیے نفرت کی گہرائی کا واضح اظہار ہوتا ہے۔ مزید برآں، بنگالی مسلمانوں نے غیر بنگالی مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کرنے کے بعد ان کی لاشوں کو مبینہ طور پر بے عزت کیا اور انھیں زخمی کرکے ان کے خلاف اپنی گہری نفرت کا اظہار کیا۔ اس نفرت نے بنگالی مسلمانوں کو اس عظیم اصول کو نظر انداز کرنے پر مجبور کیا کہ کوئی مردہ سے جنگ نہیں کرتا۔"[3]

پاکستان کے دونوں بازوؤں کے درمیان جذباتی دوری بنگالی زبان کی تحریک کی وجہ سے اور اس حقیقت کی وجہ سے بھی پیدا ہوئی تھیں کہ 1954 میں پاکستان کی مسلم لیگ حکومت نے مشرقی بنگال کی یونائٹیڈ فرنٹ کی زیر قیادت صوبائی حکومت کو برطرف کر دیا تھا جو خود مختاری اور "استحصال" کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔

1956-1957 میں، جو واحد وقت تھا جب عوامی لیگ نے پاکستان پر حکومت کی تھیں، حسین سہروردی کی قیادت میں بنگالی غلبہ والی عوامی لیگ نے ریپبلکن پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت بنائی تھیں جو پنجابی جاگیرداروں کی جماعت تھیں۔ 1956-1957 کے دوران پاکستان کے بنگالی وزیر اعظم شہید حسین سہروردی نے کہا تھا کہ صرف تین چیزوں نے پاکستان کے دونوں حصوں کو جوڑا رکھا ہے۔ اور وہ تین چیزیں تھیں پی آئی اے، انگریزی زبان اور وہ خود (سہروردی صاحب)۔ یعنی پاکستان وجود میں آنے سے پہلے ہی ایک نازک ملک تھا۔

جنرل اسکندر مرزا، جو ایک نسلی بنگالی تھے اور جو بنگالی زبان بھی بول سکتے تھے، پاکستان میں پہلے صدر تھے اور مؤثر طریقے سے پاکستان میں فوج سے تعلق رکھنے والے پہلے آمر بھی تھے۔

انھوں نے پاکستان میں سب سے پہلے مارشل لا لگایا تھا۔ انھوں نے پاکستان کے پہلے آئین (1956) کو منسوخ کر دیا تھا اور وزیر اعظم سر فیروز خان نون (جو ایک پنجابی تھے) کو برطرف کر دیا تھا۔

انھوں نے پہلے چوہدری محمد علی اور ابراہیم اسماعیل چندریگر (یہ دونوں وزرائے اعظم مغربی پاکستانی تھے) کے ساتھ ساتھ حسین شہید سہروردی (جو خواجہ ناظم الدین اور محمد علی بوگرہ کے بعد تیسرے بنگالی وزیر اعظم تھے) کو بھی برطرف کر دیا تھا۔ اسکندر مرزا نے پہلے بنگالی وزیر اعظم محمد علی بوگرا کو بھی برطرف کر دیا تھا۔

اسکندر مرزا کی آمرانہ حکمرانی سے قبل جب وہ مشرقی پاکستان میں گورنر تھے، انھوں نے بنگالیوں کو وفاقی حکومت سے ناراض کروانے میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا حالانکہ وہ خود ایک بنگالی اشرافیہ خاندان سے تھے۔ انھیں 27 اکتوبر 1958 کو جنرل ایوب خان نے معزول کر دیا تھا۔

07 اکتوبر 1958 کو، شیخ مجیب نے صحافی انتھونی ماسکرینہاس سے، گفتگو کے دوران، کہا تھا کہ وہ مشرقی پاکستان کو "آزاد" بنانا چاہتے ہیں اپنی فوج، فضائیہ اور بحریہ کے ساتھ۔[4]

بنگال میں پاکستان کے ترقیاتی کام اور مشرقی پاکستانی شہریوں کا رویہ

[ترمیم]

1947 سے پہلے برصغیر کے غریب ترین خطوں میں سے ایک ہونے کے بعد، مشرقی پاکستان کو 1960 کی دہائی میں فی کس جی ڈی پی ملی جو ہندوستان کی فی کس جی ڈی پی سے زیادہ تھیں۔ ایوب خان نے بنگالی سرمایہ داروں کا ایک طبقہ بنایا۔

مارکس فرانڈا نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ 1960 کی دہائی کے وسط تک مشرقی پاکستان سیکرٹریٹ کے زیادہ تر سیکرٹری اور صوبے کے تقریباً تمام اکسٹھ ڈسٹرکٹ کمشنرز اور ان کے نائب بنگالی تھے۔ اس طرح، مشرقی پاکستان کے برعکس، بنگلہ دیش آزاد ہونے کے بعد ایک فعال مقامی بیوروکریسی کا وارث بنا تھا۔

ملک کی نصف سے زیادہ آبادی ہونے کے باوجود بنگالی ٹیکس ریونیو کا صرف ایک چوتھائی حصہ دیتے تھے لیکن مرکزی حکومت کے نصف سے زیادہ وسائل حاصل کرتے تھے۔ پاکستانی وفاقی حکومت نے مشرقی پاکستان کو اپنے طرف سے دی جانے والی اخراجات اور امداد میں سے 50 فیصد سے زیادہ حصہ دیا تھا۔

"وزارت خزانہ کی ایک مطالعہ کے مطابق، وفاقی حکومت کی مشرقی پاکستان کو دی جانے والی ریونیو اسائنمنٹس کی شکل میں امداد، جو 1961/1960 میں 38 فیصد تھیں، پھر بڑھ کر 1969/1968 تک 50 فیصد ہو گئی تھیں۔ اسی عرصے کے دوران وفاقی حکومت کی طرف سے دی جانے والی ترقیاتی امداد 38 فیصد سے بڑھ کر کل عوامی اخراجات کی 55 فیصد بن گئی تھیں۔ دوسری طرف، وفاقی ٹیکسوں کی مجموعی وصولی میں مشرقی پاکستان کا ڈالا گیا حصہ، جو 1960/1961 میں 26.1 فیصد تھا، پھر 1968/1969 تک صرف برائے نام طور پر بڑھا تھا 26.3 فیصد تک۔" - اسٹیٹ بینک آف پاکستان، بلیٹن[5]

ورلڈ بینک کے سابق نائب صدر اور پاکستان کے سابق وزیر خزانہ شاہد جاوید برکی نے لکھا ہے کہ:

"پاکستانی حکومت انکم اور کارپوریشن ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی وصول کرتی ہے۔ دسمبر 1971 سے پہلے جو نظام رائج تھا اس میں کل ریونیو کا 80 فیصد صوبوں کے درمیان تقسیم کیا جاتا تھا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان تقسیم کا تناسب آبادی کے تناسب کی بنیاد پر تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ مشرقی پاکستان کو حکومتی محصولات کا 54 فیصد حاصل ہوتا تھا۔ 1969-1970 میں پاکستانی حکومت کو ان ٹیکسوں کے تحت 590 کروڑ روپے ملے تھے۔ اگرچہ مشرقی پاکستان نے حکومت کی آمدنی میں ایک تہائی سے بھی کم حصہ ڈالا تھا، لیکن پھر بھی اسے حکومت سے آدھے سے زیادہ واپس مل گیا تھا۔"[6]

مشرقی پاکستان میں 1959 سے 1965 کے درمیان سالانہ مرکب شرح نمو 5.4 فیصد تھی۔ لیکن مغربی پاکستان میں یہ شرح 5 فیصد تھی۔ مشرقی پاکستان میں مشینری اور اسپیئر پارٹس پر درآمدی ڈیوٹی 7.5 فیصد تھی لیکن مغربی پاکستان میں 12.5 فیصد تھی۔ تقریباً تمام مشرقی پاکستان نے 6-4 سال تک ٹیکس کی چھٹیاں حاصل کیں جب کہ مغربی پاکستان کو صرف 4-2 سال ملیں۔[2]

بنگلہ دیشی مصنفین مطیع الرحمان اور نعیم حسن کہتے ہیں کہ 1971 کے بعد عوامی لیگ کے پہلے چار سالوں کی حکومت نے ظاہر کیا تھا کہ عوامی لیگ کا پروپیگنڈا کتنا غلط اور خطرناک تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے ایک سال کے اندر، مغربی پاکستان کی برآمدات دونوں ممالک کی زیادہ سے زیادہ مشترکہ برآمدات (جب وہ ایک ساتھ تھے) سے زیادہ تھیں۔ (1972-73 میں 10 ارب روپے کی برآمدات جبکہ 1969-1970 میں 3.2 ارب روپے کی برآمدات تھے جب دونوں بازو ساتھ تھے)۔ دوسری طرف وہ بنگلہ دیش کی برآمدات، صنعتی پیداوار اور افراط زر کے اعدادوشمار دکھاتے ہیں جو 1971 کے بعد کے سالوں میں بگڑ گئے تھے اور اس کا موازنہ وہ ان بہتر حالات سے کرتے ہیں جو مشرقی بنگال میں تھے جب مشرقی بنگال پاکستان کا حصہ تھا (فوجی حکمرانی کے تحت)۔[7]

1947 میں مشرقی بنگال میں صرف 4 ٹیکسٹائل ملیں تھیں۔ 1947 اور 1971 کے درمیان 43 نئی ٹیکسٹائل ملیں بنائی گئیں تھیں۔ ان میں سے 33 مشرقی پاکستان کے مقامی لوگوں کی ملکیت تھیں۔ پاکستان کے حامی بنگالی سیاست دان، محمود علی کا خیال تھا کہ یہ مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان ایک تکمیلی اقتصادی تعلقات کی وجہ سے ممکن ہوا تھا کیونکہ دونوں ایک دوسرے کی کمیوں کو پورا کرتے تھے۔[7]

مطیع الرحمان اور نعیم حسن نے تقسیم ہند سے پہلے مشرقی بنگال میں ہونے والی ترقی کا موازنہ پاکستان کے دور میں ہونے والی ترقی سے کیا۔ انھوں نے لکھا کہ پاکستان سے پہلے مشرقی بنگال کے پاس "ایک درجن سے زیادہ بڑے پیمانے پر صنعتیں نہیں تھیں، کوئی جوٹ مل نہیں تھی، صرف چھ یا سات اسپننگ فیکٹریاں، 250 میل لمبی دھاتی سڑک، 10,700 کلو واٹ بجلی، ایک یونیورسٹی، ایک میڈیکل کالج، ایک انجینئرنگ اسکول اور تقریباً ایک درجن ڈگری کالج تھی۔[7]

مطیع الرحمان اور نعیم حسن مزید لکھتے ہیں کہ 1971 تک، پاکستانی حکومت کے تحت، مشرقی بنگال میں "600 بڑی صنعتیں تھیں جن میں 76 جوٹ ملز، 42 کاٹن ملز، ایک پیپر مل، ایک نیوز پرنٹ مل، ایک آئل ریفائنری، ایک اسٹیل مل، دو فرٹیلائزر فیکٹریاں، ایک سیمنٹ پلانٹ، پانچ یونیورسٹیاں، انجینئرنگ کے تین کالج اور چھ اسکول آٹھ پولی ٹیکنک، پانچ کالج، میڈیسن کے کئی اسکول اور درجنوں ہسپتال تھی- مشرقی پاکستان میں 1971 میں تقریباً 2000 میل لمبی میٹلڈ سڑک تھیں اور اس کی بجلی کی صلاحیت 100,000 کلو واٹ سے زیادہ تھیں۔[7]

یہ مصنفین پاکستان کے دور کو مشرقی بنگال کے "صدیوں میں سب سے خوش حال وقت" کے طور پر بیان کرتے ہیں اگرچہ انھوں نے یہ بھی کہا کہ مشرقی پاکستان کو اس کے مقررہ حصے سے کم زر مبادلہ، امداد اور قرضے ملے اور "کچھ" حد تک مشرقی پاکستان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا تھا۔[7]

لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ "بنگلہ دیش اکانومی" جیسے کاموں کے مصنفین نے استحصال کی نوعیت اور مقدار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے - شاید مشرقی پاکستانی رہنماؤں، بیوروکریٹس اور ماہرین اقتصادیات کی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے۔[7]

وہ مزید کہتے ہیں کہ: "عوامی لیگ نے رائے عامہ کو متحرک کرنے کے لیے جان بوجھ کر مشرقی پاکستان کے مغربی پاکستان کے ساتھ وابستگی سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد کا ذکر نہیں کیا۔"[7]

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ درست ہے کہ مشرقی پاکستان کی زر مبادلہ کی کمائی سے مغربی پاکستان نے ابتدائی طور پر فائدہ اٹھایا لیکن بدلے میں مغربی پاکستان نے بھی مشرقی پاکستان کو "واپس بدلے میں مشرقی پاکستان کو سستے چاول، گندم، خوردنی تیل، تمباکو، کپاس اور بہت سی دوسری صنعتی اشیا بھیجیں" دیا تھا۔[7]

ایوب خان بنگالیوں سے حیران اور مایوس تھے کیونکہ وہ بنگال میں ہونے والی معاشی ترقی کے لیے بنگالی پاکستان کے شکر گزار نہیں تھے۔[8] شاید اسی لیے ایوب خان اور دیگر مغربی پاکستانی سیاست دان بنگال کو بوجھ سمجھتے تھے اور اسی وجہ سے ایوب خان نے ایک بار بنگالیوں کو مشرقی پاکستان کو پاکستان سے الگ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

عوام اس ترقی کی قدر نہیں کرتے جو ان کی حکومت نے انھیں دی ہوتی ہے کیونکہ وہ یہ سوچتے ہیں کہ وہ اپنے ماضی میں اور بھی زیادہ خوش حال تھے۔ پاکستان سے محبت کرنے والے بنگالی پروفیسر سید سجاد حسین نے لکھا ہے کہ عوامی لیگ نے لوگوں کو بتایا کہ بنگال ایک خوش حال خطہ ہوا کرتا تھا جو باہر کے لوگوں کے استحصال کی وجہ سے لوٹ گیا تھا۔ پروفیسر سید سجاد حسین کا کہنا ہے کہ دونوں عوامی لیگ اور حتیٰ کہ بنگال کے جماعت اسلامی کے اسلام پسند لوگ بھی اس غلط بیانیے کو فروغ دیتے تھے (جیسے کہ جماعت اسلامی کا کارکن عبد الحئی جس نے اکتوبر 1970 میں راجشاہی میں ایسی تقریر کی تھیں)۔ سید سجاد حسین نے لکھا ہے کہ سچ یہ ہے کہ قرون وسطیٰ کے بنگالی ادب سے پتہ چلتا ہے کہ بنگالی زیادہ تر غریب تھے قرون وسطی کے زمانے میں۔[9] اکبر کے زمانے میں مغل مورخ ابوالفضل نے "آئین اکبری" میں لکھا کہ بنگالی مرد اور عورتیں دونوں زیادہ تر سرعام برہنہ ہو کر گھومتے تھے اور صرف لنگڑی پہنتے تھے۔

ثقافتی اختلافات

[ترمیم]

سماجی سائنس دان نسیم احمد جاوید نے جنوری اور جولائی 1969 کے درمیان سروے کیا مغربی اور مشرقی پاکستان دونوں کے پڑھے لکھے پیشہ ور افراد (وکلا، پروفیسرز اور صحافیوں) اور علما کا۔

68 فیصد مغربی پاکستانی پیشہ ور افراد نے کہا کہ اسلامی ریاست مطلوب ہے۔ تاہم، 83.3 فیصد مشرقی پاکستانی پیشہ ور افراد نے کہا کہ اسلامی ریاست ناپسندیدہ ہے۔ پاکستان کے دونوں بازو کے تمام علما نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایک اسلامی ریاست مطلوب ہے۔[10]

جاوید نے پایا کہ پاکستان کے دونوں بازو کے 100 فیصد علما اسلام پسند تھے۔ اور جب اس نے پایا کہ مغربی پاکستانی پیشہ ور افراد میں سے 63 فیصد اسلام پسند تھے، 53.3 فیصد مشرقی پاکستانی پیشہ ور سیکولر تھے۔[10]

مغربی اور مشرقی پاکستان دونوں کے 9 فیصد علما نے اسلامی شناخت کا انتخاب کیا اور 4 فیصد نے "علاقائی اسلامی" شناخت کا انتخاب کیا۔ اور جب کہ 59.1 فیصد مغربی پاکستانی پیشہ ور افراد نے اسلامی شناخت کا انتخاب کیا، صرف 16 فیصد مشرقی پاکستانی پیشہ ور افراد نے ایسا کیا۔ جب "پاک-اسلامی" اور "علاقائی اسلامی" شناخت کے اعداد و شمار کو شامل کیا جائے تو "اسلامی-کم-محب الوطنی" کے زمرے میں مغربی پاکستانی پیشہ ور افراد کی تعداد 83.4 فیصد تھی۔[10]

تاہم، 60 فیصد مشرقی پاکستانی پیشہ ور افراد نے سیکولر شناخت کا انتخاب کیا (28 فیصد نے "سیکولر پاکستانی" کا انتخاب کیا، 16فیصد نے "سیکولر علاقائی" کا انتخاب کیا، 4 فیصد نے ہیومنسٹ اور 12 فیصد نے معاشی طبقے کی بنیاد پر شناخت کا انتخاب کیا)۔ اس کے مقابلے میں 4.5 فیصد مغربی پاکستانی پیشہ ور افراد نے "سیکولر پاکستانی" شناخت کا انتخاب کیا اور 1.5 فیصد نے علاقائی سیکولر شناخت کا انتخاب کیا۔[10]

اور جب کہ 68.1 فیصد مغربی پاکستانی پیشہ ور افراد نے کہا کہ اسلامی قانون مطلوب ہے، صرف 16.7 فیصد مشرقی پاکستانی پیشہ ور افراد نے ایسا ہی کہا۔ 33.3 فیصد مشرقی پاکستانی پیشہ ور افراد نے کہا کہ اسلامی قانون "ناپسندیدہ" ہے۔[10]

معیشت کی نوعیت کے سوال پر، علما اور تعلیم یافتہ مغربی پاکستانی پیشہ ور افراد آزاد معیشت کی طرف جھک گئے۔ تاہم، مشرقی پاکستانی پیشہ ور افراد سوشلزم کی طرف جھک گئے۔ مشرقی پاکستان کے 55.9 فیصد پیشہ ور افراد نے سوشلزم کو اپنی مطلوبہ معاشی ترتیب کے طور پر منتخب کیا۔[10]

صحافی پیگی ڈردین نے 1971 میں مشرقی پاکستان کا دورہ کیا تھا اور اس نے لکھا تھا کہ خواتین کا پردہ مشرقی پاکستان کی نسبت مغربی پاکستان میں زیادہ عام ہے۔[11] جیسیکا لی رحمان نے 1971 کی جنگ میں حصہ لینے والے پاکستانی فوج کے سابق فوجیوں کا انٹرویو کیا تھا۔ ان پاکستانی تجربہ کار فوجیوں میں سے ایک فوجی نے اسے بنگالی خواتین میں موجود عادات کے بارے میں بتایا تھا جیسے کہ وہ مردوں کے سامنے سرعام نہاتے تھیں، مہمانوں کے سامنے ناچتی تھیں، ساڑھیوں کا استعمال کرتی تھیں اور جسم فروشی کرتی تھیں۔ فیصل نامی سابق فوجی، جو مشرقی پاکستان گئے تھے، نے جیسیکا لی رحمان کو بتایا تھا کہ اس کی بیوی اور بیٹی ڈانس نہیں کرتیں کیونکہ "یہ غیر اسلامی ہے اور ہماری عورتیں بنگالی عورتوں کی طرح طوائف نہیں ہیں۔"[12]

غیر مسلموں کے بارے میں ان کے خیالات کے حوالے سے میجر افتخار بھٹی نے لکھا ہے کہ مغربی پاکستان کے لوگ غیر مسلموں سے نفرت کرتے تھے جب کہ مشرقی پاکستان کے لوگ بے لگام آزادانہ طرز زندگی کے حامل تھے۔[13]

مغربی پاکستانی معاشرے اور فوج میں لبرل عناصر تھے جو بنگالیوں کے ساتھ سب سے زیادہ ہمدردی رکھتے تھے۔ مثال کے طور پر، بنگالی لبرل جنرل اعظم خان کو پسند کرتے تھے جس نے 1953 میں لاہور کی قادیانی مخالف فسادات/ تحریک کے خلاف کارروائی کی تھیں۔ بریگیڈیئر عبد الرحمٰن صدیقی نے لکھا ہے کہ جب جنرل اعظم خان کو مشرقی پاکستان کے گورنر کے عہدے سے ہٹایا گیا تو: ’’بنگالی روتے رہے اور مرکزی حکومت کے فیصلے کے خلاف انھوں نے ریلیاں نکالیں‘‘۔[14]

جنرل راؤ فرمان علی نے کہا ہے کہ جب وہ ہندوستان میں جنگی قیدی تھے تو پاکستانی فوجیوں اور جرنیلوں کا عبادت، نماز پڑھنے اور قرآن پڑھنے کا معمول تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ اگرچہ جنرل نیازی اس سلسلے میں دوسرے فوجیوں کے مقابلے میں سست تھے، پھر بھی جنرل نیازی نماز پڑھتے تھے۔ جنرل راؤ فرمان علی خود بھی سیکولرازم کے مخالف تھے۔[15] ایک اور سپاہی میجر افتخار بھٹی نے یہی حقائق بیان کیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب وہ ہندوستان میں جنگی قیدی تھے تو پاکستانی فوجی اپنا دن عبادت، قرآن پاک پڑھنے اور مذہب اور تاریخ کی کتابیں پڑھنے میں گزارتے تھے۔[13]

نسلی تعصبات

[ترمیم]

بنگلیوں میں ایک ظالمانہ حد تک بہت زیادہ نسلی قوم پرستی تھی۔ جنرل خادم حسین راجا بیان کرتے ہیں کہ شیخ مجیب اپنی ١٩٧0 کے انتخابی مہم میں غیر بنگالیوں (پنجابیوں اور بہاریوں) کو "شالا" کہتے تھے (یعنی وہ گالی دیتے تھے)۔ یہ ان کا نسلی تعصب تھا۔ جنرل خادم حسین راجا نے بیان کیا ہے کہ 1960 کی دہائی میں بھی عام بنگالی پنجابیوں اور بہاریوں کے لیے ’’شالا‘‘ کی گالی استعمال کیا کرتے تھے۔[16]

جنرل خادم حسین راجا نے یہ بھی کہا ہے کہ جب وہ 1960 کی دہائی میں مشرقی پاکستان میں تھے تو بنگالی دکان دار مغربی پاکستانی صارفین پر توجہ نہیں دیتے تھے اور نہ انھیں مغربی پاکستانی صارفین سے پیسے کمانے میں کوئی دلچسپی تھی۔ بنگالی معاشرے میں مغربی پاکستانیوں کے خلاف اتنا نسلی تعصب تھا۔[16]

یہ اکثر الزام لگایا جاتا ہے کہ مغربی پاکستانی فوج اور مغربی پاکستانی معاشرہ (خاص طور پر پنجابی معاشرہ) بنگالیوں کے خلاف نسلی تعصب رکھتے تھے کیونکہ بنگالی سیاہ رنگ کے تھے، جسمانی طور پر کمزور تھے اور قد میں چھوٹے تھے۔

صدیق سالک نے مارچ 1971 سے پہلے پاکستانی جونیئر فوجی افسران کے درمیان ہونے والی گفتگو کو بیان کیا ہے۔ انتخابات کے نتائج انے کے بعد (اور آپریشن سرچ لائٹ سے پہلے) پاک فوج کے جونیئر افسران میں دو طرح کے خیالات تھے۔ ایک گروہ پورے ملک پر ایک صوبے کی حکمرانی کے خیال سے پریشان تھا۔ تاہم، فوجی افسران کے اندر ایک اور گروپ کا خیال تھا کہ بنگالیوں کو مغربی پاکستانیوں پرغلبہ حاصل کرنا چاہیے۔ اس لیے تمام پاکستانی فوجی نسلی تعصب نہیں رکھتے تھے بنگالیوں کے خلاف۔ بنگالیوں کے خلاف نفرت اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ بنگالیوں نے پاکستانی فوج کے ساتھ برا سلوک کیا تھا، خاص طور پر یکم مارچ 1971 کے بعد۔[17]

امبر عباس کے ساتھ ایک انٹرویو میں پاکستانی جنرل سید وجاہت حسین نے کہا کہ بنگالی فوجی مغربی پاکستانی فوجیوں کے مقابلے میں جسمانی طور پر کمزور تھے لیکن پھر بھی انھوں نے بنگالیوں کی تعریف کی کہ وہ پنجابی اور پٹھان فوجیوں سے زیادہ پڑھے لکھے اور ذہین تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی پاکستانی اشرافیہ نے، بنگالیوں کو جسمانی طور پر کمزور سمجھنے کے باوجود، ان کی خوبیوں کو پہچانا تھا اور ان خوبیوں کی وجہ سے مغربی پاکستانی اشرافیہ نے بنگالیوں کی تعریف بھی کی تھیں۔ [18]

جہاں تک بنگالیوں کے ساتھ ان کے رنگ کی وجہ سے امتیازی سلوک ہونے کا سوال ہے، پنجابی سپاہی کیپٹن فرخ نے اپنی بنگالی گرل فرینڈ کی کزن (جس کا نام مشکورہ تھا) کے ساتھ اپنی گفتگو کے بارے میں لکھا ہے۔ مشکورا نے دعویٰ کیا کہ پنجابی بنگالیوں کو کم درجے کی شہری سمجھتے ہیں اور انھیں "کالا بنگالی" کہتے ہیں۔ اس پر کیپٹن فرخ نے جواب دیا "دیکھو! اس کمرے میں موجود ہم تینوں میں سے میں سب سے کالا ہوں اور میں پنجابی ہوں۔"[19]

پنجابی اور پاکستانی معاشرے کا اصل تعصب نسل پر نہیں بلکہ طبقاتی بنیادوں پر ہے۔ بنگالی مغربی پاکستانیوں کے مقابلے میں نسبتاً غریب تھے، قیام پاکستان سے پہلے بھی۔ میجر افتخار بھٹی جو 1970-1971 میں مشرقی پاکستان میں تعینات تھے، نے لکھا ہے کہ مغربی پاکستانی سرکاری ملازمین صرف امیر بنگالیوں کے ساتھ گھل مل جاتے تھے اور دوسرے بنگالیوں کو اپنے قریب نہیں آنے دیتے تھے۔ یہ واضح طور پر طبقاتی تعصب تھا۔ اگر مسئلہ نسل کا ہوتا تو مغربی پاکستانی سرکاری ملازمین امیر بنگالیوں کے ساتھ بھی نہ ملتے۔[13]

بنگلہ دیشی مؤرخ، منتسیر مامون، جنھوں نے یہ ثابت کرنے کے لیے ایک کتاب لکھی ہے کہ مغربی پاکستانی بنگالیوں کے خلاف "تعصب" رکھتے تھے، نے نادانستہ طور پر اس حقیقت کی تصدیق کی ہے جب وہ اس گفتگو کا حوالہ دیتے ہیں۔ منتصر مامون لکھتے ہیں کہ ایک سینئر بیوروکریٹ نے انھیں ایک بار بتایا کہ پنجاب کے سابق گورنر گرومانی نے ایک مرتبہ ایک سینئر بنگالی بیوروکریٹ سے پوچھا تھا کہ مشرقی پاکستان کو چلانے والے سیاست دان اور بیوروکریٹ کس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں؟ بیوروکریٹ نے جواب دیا "مڈل یا لوئر مڈل کلاس سے۔" گرومانی نے پھر جواب دیا کہ "اگر ہمیں مشرقی پاکستان کے خاک آلود لوگوں کے ساتھ رہنا ہے تو ایسا نہیں ہوگا۔"[20]

اگر پنجابی گورنر نسل کے بارے میں سوچ رہے ہوتے تو وہ پہلے بنگالی بیوروکریٹ کے ساتھ گھل مل جانے یا بنگالی سیاست دانوں کے ساتھ گھل مل جانے میں دلچسپی کا اظہار نہ کرتے یہ سوال پوچھ کر۔ بنگالی سیاست دانوں سے ان کی نفرت اس لیے تھیں کہ وہ متوسط طبقے کے پس منظر سے تھے۔ یہ ذہنیت آج بھی اعلیٰ طبقے کے پنجابی اور پاکستانی معاشرے میں موجود ہے دوسرے پاکستانیوں کے خلاف۔

کیپٹن فرخ نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ 1971 میں ایک بنگالی باغی کو ان کے پاس لایا گیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ باغی نے رونا شروع کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ وہ ایک محب وطن پاکستانی تھا لیکن پنجابیوں نے بنگالیوں سے "نفرت" کی، ان پر "اپنی زبان" اردو مسلط کر دی اور 1970 کی انتخابی فتح سے "انکار" کر دیا۔ جب کیپٹن فرخ نے یہ سنا تو اس نے بجا طور پر باغی سے کہا:

"دنیا کے کسی بھی کونے سے کوئی بھی جا کر آرام سے پنجاب میں رہ سکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ تم کبھی پنجاب نہیں گئے ہو"۔[19]

جہاں تک یحییٰ خان کا تعلق ہے، یحییٰ خان مجیب کی گرفتاری کے بعد پاکستان کے لیے آئین لکھ رہے تھے۔ وہ آئین کبھی شائع نہیں ہوا تھا کیونکہ ڈھاکہ کا سقوط ہو گیا تھا اور یحییٰ خان نے اس کے شائع ہونے سے پہلے ہی استعفیٰ دے دیا تھا۔ لیکن اس مسودہ آئین میں یحییٰ خان نے واضح کیا تھا کہ ان کی حکومت میں دوسرا سب سے طاقتورعہدہ صرف مشرقی پاکستانی ہی حاصل کر سکتے تھے۔ اس مسودہ آئین کا متعلقہ حصہ حمود الرحمان کمیشن کی مرکزی رپورٹ میں دکھایا گیا تھا۔[21] یحییٰ خان کے دور میں پاکستان سے محبت کرنے والے بنگالی سیاست دان نورالامین وزیر اعظم بنے تھے۔

مجیب کے چھ نکات

[ترمیم]

شیخ مجیب اور عوامی لیگ کے چھ نکات کے تحت وفاقی حکومت کو صرف دفاع اور خارجہ امور پر اختیار حاصل ہونا تھا لیکن ٹیکسوں کی وصولی اور تقسیم پر کوئی اختیار نہیں ہونا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہونا تھا کہ دفاع اور خارجہ امور کے لیے بھی - جو واحد محکمے تھے جہاں وفاقی حکومت کے پاس کوئی کام ہونا تھا چھ نکات کے تحت- وفاقی حکومت مکمل طور پر صوبائی حکومتوں کی محتاج ہوتی رقم کے لیے۔ اس صورت میں اگر صوبائی حکومت وفاقی حکومت کو رقم نہ دینے کا فیصلہ کرتی تو پھر وفاقی حکومت کام نہیں کر پاتی۔ حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر چھ نکات نافذ کیے جاتے پھر پاکستان کا اتحاد ناممکن بن جاتا۔[21]

یحییٰ خان کے بنگالی مشیر غلام وحید چودھری نے لکھا ہے کہ یحییٰ کیان نے انھیں انتخابات سے پہلے بتایا تھا کہ شیخ مجیب نے انھیں خود یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ چھ نکات میں ترمیم کریں گے۔[22]

لیگل فریم ورک آرڈر (ایل ایف او)

[ترمیم]

بریگیڈیئر عبد الرحمٰن صدیقی نے لکھا کہ جب کسی نے یحییٰ خان سے شکایت کی کہ جنرل شیر علی اسلامی نظریات کا پرچار کر رہے ہیں تو یحییٰ خان نے جنرل شیر علی کو روکنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ یقیناً غیر جانبدار نہیں ہیں جہاں اسلام کی شان کی بات آتی ہے۔[23]

جنرل یحییٰ خان نے مستقبل کے آئین میں پاکستان کے اسلامی نظریہ کے تحفظ کی ضرورت کو لیگل فریم ورک آرڈر (ایل ایف او) کی شرط بنا کر عائد کیا تھا ایل ایف او کے آرٹیکل 2 میں۔ یحییٰ خان کے لیگل فریم ورک آرڈر 1970 کے آرٹیکل 22 میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان کے مستقبل کے آئین کے مطابق کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا اگر وہ قرآن و سنت کے خلاف ہو گا اور آرٹیکل 20(2)(b) میں یہ کہا گیا تھا کہ صدر ریاست مسلمان ہوگا۔ حسن ظہیر لکھتے ہیں کہ یحییٰ خان نے ایک بار یہ شکایت بھی کی تھی کہ شیخ مجیب نے ایل ایف او میں اس شرط پر اعتراض کیا تھا جس میں لکھا تھا کہ سربراہ مملکت صرف ایک مسلمان ہو سکتا ہے۔[2]

ایل ایف او کے تحت یہ صدر (یحییٰ خان) کی مرضی تھی کہ قومی اسمبلی کا اجلاس کب بلایا جائے۔ ایل ایف او کے آرٹیکل 14 میں کہا گیا تھا کہ صدر قومی اسمبلی کا اجلاس کسی بھی دن بلا سکتے ہیں جب وہ مناسب سمجھیں۔

ایل ایف او نے یہ بھی شرط رکھی کہ مستقبل کے آئین میں لکھا جائے گا کہ پاکستان ایک متحد وفاق ہوگا، جس کے تحت صوبوں کو خود مختاری حاصل ہوگی، لیکن وفاقی حکومت کو پھر بھی کافی اختیارات حاصل ہوں گے۔ شیخ مجیب کے چھ نکات ایل ایف او سے متصادم تھے لیکن شیخ مجیب نے یحییٰ خان کو یقین دلایا تھا کہ وہ انتخابات کے بعد چھ نکات میں تبدیلی لائیں گے۔[22]

قدرتی آفات، قومی انتخابات، عوامی لیگ کا پروپیگڈا اور پاکستانی فوج اور غیر بنگالیوں کے ساتھ بنگالیوں کا رویہ

[ترمیم]

عوامی لیگ، جس کے بہت سے ارکان کمیونسٹ تھے، برسوں سے یہ پروپیگنڈہ کر رہے تھے کہ بنگالی عوام کا بے رحمی سے استحصال کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے مبالغہ آمیز اور غلط اعدادوشمار کا حوالہ دیا بنگالی عوام کو۔ انھوں نے اس معاشی ترقی کی تعریف نہیں کی جو پاکستانی حکومت نے وہاں کی تھیں۔[9][7][24] پاکستان سے محبت کرنے والے بنگالی پروفیسر سید سجاد حسین نے لکھا ہے کہ عوامی لیگ نے لوگوں کو بتایا کہ بنگال ایک خوش حال خطہ ہوا کرتا تھا جو باہر کے لوگوں کے استحصال کی وجہ سے لوٹ گیا تھا۔ پروفیسر سید سجاد حسین کا کہنا ہے کہ دونوں عوامی لیگ اور حتیٰ کہ بنگال کے جماعت اسلامی کے اسلام پسند لوگ بھی اس غلط بیانیے کو فروغ دیتے تھے۔[9]

غلام وحید چودھری نے ذکر کیا ہے کہ 1970 کے انتخابات (جو خود مارشل لا کے تحت منعقد ہوئے تھے) کے لیے مہم چلانے والی سیاسی جماعتوں کے طرز عمل کو منظم کرنے کے لیے مارشل لا کے ضوابط جاری کیے گئے تھے۔ مارشل لا ریگولیشن 60، جو 21 دسمبر 1969 کو نافذ کیا گیا تھا، میں کہا گیا تھا کہ کسی بھی سیاسی جماعت یا گروہ یا کسی بھی فرد کو تشدد کرنے کی یا علاقائی منافرت کی تبلیغ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔[22]

عوامی لیگ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ان ضابطوں کو توڑا جب اس نے علاقائی منافرت اور بنگالی قوم پرستی کو ہوا دی اور سیاسی مخالفین پر بھی حملے کیے اور ان کی انتخابی مہم کو روکا۔[22] مجیب اپنی انتخابی تقریروں میں غیر بنگالیوں کو "شالا" کہتے تھے (یعنی وہ غیر بنگالیوں کو گالیاں دیتے تھے)۔[16]

یحییٰ خان کے بنگالی مشیر غلام وحید چودھری نے لکھا ہے کہ عوامی لیگ مارشل لا کے ضوابط کی صریح خلاف ورزی کی مرتکب تھی جس میں علاقائی نفرت کو ہوا دینے پر پابندی تھیں۔ شیخ مجیب نے اپنی انتخابی تقریروں میں ایل ایف او کی مذمت کی، حالانکہ وہ ایل ایف او کے تحت ہونے والے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔[22] دائیں بازو کے بنگالی سیاست دانوں نے بھی شکایت کی تھیں کہ عوامی لیگ ان کی انتخابی مہم پر حملہ کر رہی تھیں۔ ان دائیں بازو کے بنگالی سیاست دانوں کی شکایات حکومت پاکستان کے مشرقی پاکستان پر "وائٹ پیپر" میں درج ہیں۔[25]

عوامی لیگ کے پروپیگنڈے کا اثر اتنا ہوا کہ پاک فوج کے بنگالی سپاہی بھی اس سے متاثر ہوئے تھے۔ جنرل خادم حسین راجا نے لکھا ہے کہ بنگالی سپاہی عوامی لیگ کے جلسوں میں شرکت کرتے تھے جس کے نتیجے میں وہ فوج میں اپنے مغربی پاکستانی فوجی اہلکار ساتھیوں سے جذباتی طور پر دور ہو جاتے تھے اور ان کے دوستانہ اقدامات کو مسترد کرتے تھے۔[16]

بنگالی عینی شاہدین جیسے کہ پروفیسر سید سجاد حسین بتاتے ہیں کہ 1970 کے انتخابات ایک فراڈ تھے، عوامی لیگ نے انتخابی مہم میں واک اوور حاصل کرنے کے لیے حریفوں کے خلاف تشدد اور دھمکیوں کا استعمال کیا تھا۔[9]

بنگالی ماہر سیاسیات غلام وحید چودھری بھی کہتے ہیں کہ عوامی لیگ کی وجہ سے دوسری جماعتیں انتخابی مہم کے جلسے بھی نہیں کر پاتی تھیں۔ عوامی لیگ کے حامی ان کے جلسوں پر حملے کیا کرتے تھے۔ عوامی لیگ دائیں بازو کی جماعتیں، جیسے کہ جماعت اسلامی اور مسلم لیگ، پر حملہ کرتی تھیں، کیونکہ وہ جماعتیں ایک مضبوط مرکزی حکومت کی حمایت کرتی تھیں اور عوامی لیگ کی چھ نکات کی اسکیم کی مخالفت بھی کرتی تھیں۔[22]

ایڈمرل احسن (پاکستان نیوی کے سربراہ) 1969 سے مارچ 1971 تک مشرقی پاکستان کے گورنر تھے۔ جنرل صاحبزادہ یعقوب خان مشرقی پاکستان میں چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے انتخابی مدت کے دوران۔ یحییٰ خان کے بنگالی مشیر غلام وحید چودھری نے کہا ہے کہ 14 اگست 1970 کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ نے وائس چانسلر کی موجودگی میں بنگلہ دیشی پرچم بلند کیا تھا۔ جب یعقوب خان نے وائس چانسلر کو اس کی وضاحت کے لیے طلب کیا تو ایڈمرل احسن نے فوری مداخلت کرتے ہوئے وائس چانسلر کو بچایا۔[22]

جنرل خادم حسین راجا نے لکھا ہے کہ صاحبزادہ یعقوب خان نے بھی مجیب کو "مقدس گائے" سمجھا اور انھوں نے شیخ مجیب اور عوامی لیگ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جب شیخ مجیب اور عوامی لیگ مارشل لا کے ضوابط کو توڑ رہے تھے 1970 کی انتخابی مہم کے دوران۔[16]

ان دونوں آدمیوں (ایڈمرل احسن اور صاحبزادہ یعقوب خان) نے بعد میں آپریشن بلٹز کی مخالفت کی تھیں جو مجیب کے چھ نکات پر سمجھوتہ نہ کرنے کی صورت میں مشرقی پاکستان میں مارشل لا کو دوبارہ کلاسیکی شکل میں نافذ کرنے کا فوجی منصوبہ تھا۔ اگرچہ صاحبزادہ یعقوب خان نے خود آپریشن بلٹز بنایا تھا، لیکن مارچ میں انھوں نے اپنا ارادہ بدل لیا اور استعفیٰ دے دیا۔ وہ صرف ’’سیاسی حل‘‘ چاہتے تھے۔

بنگالی پروفیسر ڈاکٹر ایم عبد المومن چودھری کہتے ہیں کہ مجیب اور عوامی لیگ مشرقی پاکستان کے ہر مسئلے کے لیے مغربی پاکستان کو ذمہ دار ٹھہراتے تھے۔[24] بھٹو نے اپنی اشاعت میں لکھا کہ مجیب نے اپنی انتخابی مہم میں فاشسٹ کی زبان استعمال کی تھیں۔[26] جنرل خادم حسین راجا نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ شیخ مجیب اپنی انتخابی مہم کے دوران غیر بنگالیوں (دونوں پنجابیوں اور بہاریوں) کو گالی دیتے تھے۔[16]

لیفٹیننٹ جنرل غلام مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے 1970 کی انتخابی مہم کے دوران بھولا طوفان کے بنگالی متاثرین کے لیے امدادی سرگرمیاں کیں تو بنگالی اور بنگالی لیڈر صرف بیٹھ کر دیکھتے رہے اور پھر بھی شکایت کرتے رہے کہ فوج مدد کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔[27]

میجر افتخار بھٹی نے اپنے تجربے کے بارے میں یہی لکھا ہے کہ جب وہ بھولا طوفان کے متاثرین کے لیے امدادی فرائض سر انجام دے رہے تھے تو خوش حال بنگالی وہ امدادی پیکج چوری کرتے تھے جو پاکستانی فوج بھولا طوفان کے متاثرین میں تقسیم کر رہی تھیں اور پھر وہ خوش حال بنگالی طوفان کے متاثرین بنگالیوں کے سامنے پنجابیوں کو مورد الزام ٹھہرا دیتے تھے۔ میجر افتخار بھٹی اپنے تجربے سے یہ بیان کرتے ہیں کہ ان خوش حال بنگالیوں نے طوفان کے متاثرین کی لاشوں کو دفنانے میں بھی پاکستانی فوجیوں کی مدد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔[13]

بنگالی ہندو اقلیت کا کردار

[ترمیم]

"سیکنڈ تھاٹس آن بنگلہ دیش" کتاب کے بنگالی مسلم مصنف عوامی لیگ کے سابق رکن تھے جنھوں نے 1971 میں پاکستان کے خلاف جنگ لڑی تھی۔ انھوں نے لکھا کہ مشرقی پاکستانی ہندو پاکستانی حکومت کے دوران تعلیمی اداروں (یعنی اسکولوں اور یونیورسٹیوں) میں ملازم تھے۔ درحقیقت بنگالی مسلم طلبہ اس قدر علیحدگی پسند تھے کہ مارچ 1971 میں وہ شیخ مجیب سے بنگلہ دیش کی پاکستان سے آزادی کا اعلان کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے، حالانکہ اس دوران شیخ مجیب خود بھی پاکستان سے آزادی کا اعلان کرنے سے ہچکچا رہے تھے (اگرچہ ان کی چھ نکاتی اسکیم نے بنیادی طور پر پاکستان کے اتحاد کو ختم کر دیا تھا - جیسا کہ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں بتایا گیا ہے - اور انھوں نے اپنے یحییٰ خان سے وعدوں کے برعکس چھ نکاتی اسکیم پر کبھی سمجھوتہ بھی نہیں کیا)۔[28]

کتاب ’’سیکنڈ تھاٹس آن بنگلہ دیش‘‘ کے بنگالی مسلم مصنف کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھیں ایک بنگالی ہندو سیاست دان برین سرکار نے بتایا تھا کہ وہ مشرقی پاکستان کے ہندو رہنماؤں کے ایک خفیہ اجتماع میں گئے تھے۔ اس خفیہ اجتماع میں مشرقی پاکستان کے ہندو رہنماؤں نے 1970 کے انتخابات میں غیر عوامی لیگ ٹکٹ پر انتخابات لڑنے پر برین سرکار کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ مشرقی پاکستانی ہندو رہنماؤں نے برین سرکار کو بتایا تھا کہ پاکستان کو ختم کرنے کا ان کا ارادہ ہے اور ہندوستان کی طرف سے مشرقی پاکستانی ہندوؤں کو یہ ہدایت تھی کہ وہ پاکستان کو ختم کرنے کے مقصد کے لیے عوامی لیگ کو ووٹ دیں۔[28]

پاکستانی سپاہی میجر افتخار بھٹی نے لکھا ہے کہ 1970 کے انتخابات کے دوران مشرقی پاکستان میں غیر مسلم لوگ ووٹوں کے ساتھ دھاندلی کر رہے تھے عوامی لیگ کے حق میں، جب میجر افتخار بھٹی 1970 میں مشرقی پاکستان میں تعینات تھے۔[13]

انتخابات کے بعد مذاکرات (جنوری - مارچ 1971)

[ترمیم]

حسن ظہیر کہتے ہیں کہ یحییٰ خان انتخابی نتائج سے مایوس ہو گئے تھے اور معلق پارلیمنٹ کی توقع رکھتے تھے لیکن مجیب اور عوامی کے ساتھ بات چیت کے بعد جلد ہی یحییٰ خان نے اپنا اعتماد بحال کر لیا جنوری 1971 میں۔[2]

انھوں نے شیخ مجیب کو پاکستان کا مستقبل کا وزیر اعظم کہا اور اور خود انھیں چھ نکات سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ تاہم، بعد میں جب وہ فوجی جنتا کے تمام جرنیلوں کے ساتھ بھٹو سے ملنے گئے تو انھیں فوجی جنتا اور بھٹو دونوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جو چھ نکات کے مخالف تھے۔ جنرل پیرزادہ پہلے ہی جنوری 1971 میں جنرل راؤ فرمان علی کے ساتھ نجی گفتگو میں چھ نکات کی وجہ سے مجیب کے خلاف اپنی مخالفت کا اظہار کر چکے تھے۔[23]

جنرل پیرزادہ کا کہنا ہے کہ لاڑکانہ میں، یحییٰ خان کی بھٹو اور جرنیلوں سے ملاقات کے دوران، یحییٰ خان نے بھٹو سے کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی مسئلہ نہیں ہو گا اگر پاکستان کا ائین چھ نکات کے بنیاد پر بننے۔[2][21][23]

لیکن بھٹو نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اگر مجیب چھ نکات کے غیر ملکی تجارت اور بیرونی امداد کے اجزاء پر سمجھوتہ کرے تو وہ چھ نکات قبول کر سکتے ہیں لیکن بھٹو کا نظریہ تھا کہ تمام چھ پوائنٹس کو ساتھ لے کر چلنا بالآخر مشرقی پاکستان کے علیحدگی کا باعث بنے گا۔[2][21][23]

بھٹو نے یہ بھی کہا کہ وہ اپوزیشن لیڈر بننے کے لیے تیار ہیں لیکن مجیب کو وزیر اعظم اور صدر دونوں عہدوں پر فائز نہیں ہونے دیں گے کیونکہ کنونشن یہ تھا کہ دونوں ونگز کی اکثریتی جماعتیں ان دونوں عہدوں کے لیے امیدواروں کو نامزد کرتی ہیں۔ بھٹو نے دونوں بازوؤں کے ایک عظیم اتحاد کا متبادل بھی تجویز کیا۔[2][21][23][26]

یحییٰ خان کے علاوہ فوجی جنتا اور بھٹو دونوں چھ نکات کے خلاف تھے۔[2][21][23] انتخابات سے پہلے شیخ مجیب نے یحییٰ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ چھ نکات پر سمجھوتہ کریں گے۔ لیکن الیکشن جیتنے کے بعد شیخ مجیب کا چھ نکات کو لے کر رویہ غیر مصالحانہ بن گیا تھا۔[22][2]

3 جنوری کو ڈھاکہ میں ایک عوامی خطاب میں شیخ مجیب نے اعلان کیا کہ اب ان کی پارٹی کو چھ نکات پر مبنی آئین بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ حسن ظہیر نے بریگیڈیئر کریم کا حوالہ دیا ہے جنھوں نے یحییٰ خان کے ساتھ اپنی گفتگو بیان کی تھیں۔ اس وقت یحییٰ خان شیخ مجیب کے اس اعلان سے ناراض تھے۔[2]

یحییٰ خان نے بریگیڈیئر کریم سے پوچھا کہ چھ نکات کیا ہیں اور جب بریگیڈیئر کریم نے ان کی وضاحت کی تو یحییٰ خان غصے میں آگئے اور بولے ’’یہ شخص (مجیب) غداری کی بات کر رہا ہے۔‘‘ جب بریگیڈیئر کریم نے یحییٰ خان کو یاد دلایا کہ مجیب پہلے بھی انتخابی مہم کے دوران اس طرح کی باتیں کرتے رہے تھے اور یحییٰ نے تب کچھ نہیں کہا تھا، تو پھر یحییٰ نے جواب دیا کہ مجیب نے انھیں بتایا تھا کہ ان کی چھ نکات کی تبلیغ صرف "سیاسی" تھی یعنی وہ سنجیدہ نہیں تھے اور صرف الیکشن میں ووٹ جیتنے کے لیے یہ باتیں کرتے تھے۔[2]

اسی طرح کی باتیں جنرل خادم حسین راجا نے اپنی کتاب ’’سٹرینجر ان مائی اون کنٹری‘‘ میں کہی ہیں[16] اور یحییٰ خان کے بنگالی مشیر غلام وحید چودھری نے بھی اپنی کتاب ’’لاسٹ ڈیز آف یونائیٹڈ پاکستان‘‘ میں لکھا ہے کہ یحییٰ خان نے انھیں انتخابات سے قبل بتایا تھا کہ شیخ مجیب نے انھیں یقین دلایا تھا کہ وہ چھ نکات میں ترمیم کریں گے۔[22]

شیخ مجیب کے 3 جنوری کے بیان کے بعد، جب جنوری 1971 میں یحییٰ خان مجیب سے ملے تو مجیب نے یحییٰ کو چھ نکات کی وضاحت کی اور پھر ان سے پوچھا کہ "کیا آپ کو کوئی اعتراض ہے؟" اس پر یحییٰ نے جواب دیا کہ انھیں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن شیخ مجیب کو اس کے لیے مغربی پاکستانی جماعتوں سے معاہدہ کرنا پڑے گا۔ اس گپ شپ کے بعد یحییٰ خان نے شیخ مجیب کو پاکستان کا مستقبل کا وزیر اعظم کہا۔[21][2]

اس کے بعد یحییٰ خان نے لاڑکانہ میں بھٹو اور دیگر جرنیلوں سے ملاقات کی تھیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یحییٰ خان پھر وہیں پر چھ نکات کے دوبارہ خلاف ہو گئے تھے،[21][2] جو ان کا حق تھا کیونکہ چھ نکات "لیگل فریم ورک آرڈر" (ایل ایف او) کی شرائط کے خلاف تھے۔ انتخابات ایل ایف او کے تحت ہوئے تھے اور ایل ایف او کی شرط یہ تھی کہ پاکستان ایک متحدہ وفاقی ملک ہوگا۔ حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ میں بھی تسلیم کیا گیا تھا کہ اگر چھ نکات نافذ کیے جاتے پھر پاکستان کا اتحاد ناممکن بن جاتا۔[21]

عوامی لیگ کے چھ نکات کے تحت وفاقی حکومت کو صرف دفاع اور خارجہ امور پر اختیار حاصل ہونا تھا لیکن ٹیکسوں کی وصولی اور تقسیم پر کوئی اختیار نہیں ہونا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہونا تھا کہ دفاع اور خارجہ امور کے لیے بھی - جو واحد محکمے تھے جہاں وفاقی حکومت کے پاس کوئی کام ہونا تھا چھ نکات کے تحت- وفاقی حکومت مکمل طور پر صوبائی حکومتوں کی محتاج ہوتی رقم کے لیے۔ اس صورت میں اگر صوبائی حکومت وفاقی حکومت کو رقم نہ دینے کا فیصلہ کرتی تو پھر وفاقی حکومت کام نہیں کر پاتی۔[22]

کوئی کہہ سکتا ہے کہ چھ نکات کا معاملہ قومی اسمبلی میں زیر بحث لایا جا سکتا تھا اس لیے یحییٰ خان کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانا چاہیے تھا اور سیاست دانوں کو قومی اسمبلی میں چھ نکات پر بحث کرنے دینی تھی۔ لیکن جو چھ نکات کا مسئلہ 25 مارچ سے پہلے ہونے والے سیاسی مذاکرات میں حل نہیں ہوا تھا، وہ قومی اسمبلی میں کیسے حل ہو سکتا تھا؟ تو پھر قومی اسمبلی کو بلانے کا کیا فائدہ اگر انھوں نے آئین سازی میں ناکام ہی ہونا تھا؟

انتخابات کے بعد مجیب اور عوامی لیگ کے چھ نکات پر مطالبات مزید سخت اور غير مصالحانہ ہوتے چلے گئے۔ مارچ کے مذاکرات کے دوران ان کے مطالبات اور رویہ مزید سخت ہو گئے۔ وہ بالکل بھی سمجھوتہ نہیں کر رہے تھے۔[2][22] 23 مارچ کو عوامی لیگ نے اپنی تجاویز پیش کیں جو بنیادی طور پر پاکستان کو علاحدہ آزاد ریاستوں کی کنفیڈریشن میں تبدیل کر دیتیں۔ 24 مارچ کو وہ چھ نکات سے بھی آگے نکل گئے اور کھل کر لفظ "کنفیڈریشن" کا استعمال شروع کر دیا۔ انھوں نے پاکستان کو کنفیڈریشن میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔[2][22]

جب جسٹس کارنیلیس اور یحییٰ خان کے مشیروں کی باقی ٹیم نے احتجاج کیا کہ پاکستان ایک وفاقی نظام ہے (جیسا کہ ایل ایف او کے مطابق تھا جس پر مجیب نے پہلے ہی دستخط کیے تھے)، عوامی لیگ والوں نے جھکنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ مجیب کا حکم ہے۔ مجیب کے دائیں ہاتھ کے مشیر تاج الدین احمد نے کنفیڈریشن کے اس مطالبے کو "غیر گفت و شنید مطالبہ" قرار دیا۔ یعنی وہ کوئی سمجھوتہ نہیں کرنے والے تھے۔[2][22]

تاہم جسٹس کارنیلیس نے کہا کہ شیخ مجیب کے قانونی مشیر کمال حسین ان کے ساتھ آئین کے چھوٹے پہلوؤں پر بات چیت جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے تھے۔[21] لیکن چھ نکات اور کنفیڈریشن کے مطالبات پر عوامی لیگ مذاکرات کے لیے تیار نہیں تھی۔[2][22] اور کنفیڈریشن کا مطالبہ ایل ایف او کی مکمل خلاف ورزی تھا جس میں وفاقی نظام کے لیے شرط رکھی گئی تھی۔

لہٰذا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی لیگ کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا اور ان کے ساتھ بات چیت روکنے کا فوجی فیصلہ اس بنیاد پر درست ہے کہ مجیب اور ان کی پارٹی نے واضح کر دیا تھا کہ ان کا ایل ایف او پر عمل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا جس کے تحت انھوں نے الیکشن لڑا تھا۔

اگر عوامی لیگ ایل ایف او دستاویز کی شرائط کا احترام نہیں کرتی تھی جو ان انتخابات کی قانونی بنیاد تھی جو انھوں نے "جیتے" تھے تو پھر انھیں مذاکرات کی میز پر آنے کا کیا حق تھا؟ اسے ان کی طرف سے ایل ایف او معاہدے کی خلاف ورزی سمجھنا چاہیے اور اس لیے ان کی انتخابی جیت کالعدم سمجھنا چاہیے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی اور مجیب کی بغاوت (یکم مارچ 1971 سے 25 مارچ 1971)

[ترمیم]

اس وقت تک جنرل یعقوب آپریشن بلٹز کے ماسٹر مائنڈ ہونے کے باوجود اپنا ارادہ بدل چکے تھے۔ وہ عوامی لیگ کو قومی اسمبلی میں جانے کی اجازت دے کر سیاسی حل چاہتے تھے اور منصوبہ بند آپریشن کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ بھی دے دیا۔[23]

بریگیڈیئر صدیقی نے لکھا کہ 22 فروری کو یحییٰ خان اور فوجی جنتا کے اجلاس کے بعد انھوں نے اصرار کیا کہ فوج مکمل مارشل لا بحال نہ کرے اور نہ قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ جب تک شیخ مجیب چھ نکات پر رعایت نہیں کرتے یحییٰ اپنا ارادہ تبدیل نہیں کرنا چاہتے تھے۔[23]

بریگیڈیئر صدیقی نے قومی اسمبلی کے اجلاس کو ملتوی کرنے کے فوج کے ہونے والے فیصلے کے سلسلے میں اپنی اور جنرل پیرزادہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیا ہے۔ جنرل پیرزادہ نے بریگیڈیئر صدیقی سے پوچھا کہ کیا قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہونے سے کوئی ہنگامہ ہو گا؟ بریگیڈیئر صدیقی نے جواب دیا کہ اتنا ہنگامہ ہو گا کہ پاک فوج اسے کنٹرول نہیں کر سکے گی۔ جنرل پیرزادہ نے پھر پوچھا "پھر کیا کیا جا سکتا ہے؟ کیا آپ کو احساس ہے کہ ایک بار جب قومی اسمبلی بیٹھ جائے گی تو مجیب اپنا آئین نافذ کر دے گا" (یعنی عوامی لیگ کے چھ نکاتی نظریے پر مبنی آئین)[23]

بریگیڈیئر صدیقی نے پھر کہا کہ "یہ سچ ہو سکتا ہے لیکن اگر آپ قومی اسمبلی کو بیٹھنے نہیں دیں گے تو مجیب کو پلٹن میدان جانے اور وہاں سے اپنے آئین کا اعلان کرنے سے کیا روکے گا، درحقیقت یہ خطرہ ہے کہ مجیب آزادی کا اعلان کر دے گا۔ (بنگلہ دیش کا)۔"[23]

بریگیڈیئر صدیقی نے لکھا ہے کہ انھوں نے جنرل پیرزادہ سے یہ بھی کہا کہ آئین کے مسودے کو ایل ایف او کی تعمیل کرنا ہوگی اور صدر کی منظوری کے بغیر آئین کا مسودہ قانون کی کتاب پر نہیں رکھا جا سکتا۔ تاہم بریگیڈیئر صدیقی کا کہنا ہے کہ جنرل پیرزادہ کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔[23]

ایک اور موقع پر جنرل پیرزادہ نے مغربی پاکستان کے سرکاری ملازم حسن ظہیر سے کہا کہ اگر قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی نہ کیا جاتا تو انھیں کوئی شک نہیں کہ عوامی لیگ آزادی کا اعلان کر دیتی۔[23]

اور ویسے بھی ایل ایف او کے مطابق یہ صدر (یعنی یحییٰ خان) کا حق تھا کہ وہ تاریخ طے کریں کہ قومی اسمبلی کب بلائی جائے گی۔ اس لیے قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنے پر ان پر تنقید نہیں کی جا سکتی۔

یکم مارچ 1971 کو قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد شیخ مجیب نے اپنی متوازی حکومت قائم کی۔ صوبے پر عوامی لیگ کا کنٹرول تھا اور انتہا پسند عناصر کھل کر علیحدگی کی باتیں کر رہے تھے۔ اس سے عوامی لیگ کے بارے میں فوج کے خدشات اور شکوک میں اضافہ ہوا۔ مجیب کا ایک متوازی حکومت قائم کرنے کا عمل جس میں وہ مشرقی پاکستان پر حکمرانی کی ہدایات جاری کر رہے تھے، بشمول وفاقی حکومت کو ٹیکس نہ دینے کے احکامات، غداری کا عمل تھا۔[22][29]

یکم مارچ 1971 سے 25 مارچ 1971 کے درمیان مجیب کے ارادے کیا تھے اس بارے میں متضاد بیانات ہیں۔ شیخ مجیب کے انتہا پسند کمیونسٹ ساتھی تاج الدین احمد کی بیٹی کا کہنا ہے کہ شیخ مجیب صرف پاکستان کے اندر ایک کنفیڈریشن چاہتے تھے۔ لیکن شیخ مجیب کے مشیر کمال حسین کا کہنا ہے کہ شیخ مجیب فوج سے خوفزدہ تھے اسی لیے وہ متحدہ پاکستان کے اندر ہی اس مسئلے کا حل تلاش کرتے رہے اور ساتھ ہی ساتھ پاکستان سے بنگلہ دیش کی آزادی کی امید بھی رکھتے رہے۔[30]

شیخ مجیب کے حتمی ارادے جو بھی تھے، شیخ مجیب کے اقدامات اور ان کی پارٹی کے جھکاؤ نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو اس خوف کی معقول بنیاد فراہم کی کہ شیخ مجیب کا اصل ارادہ مشرقی پاکستان کو پاکستان سے الگ کرنا تھا۔ لیکن بہر حال، مجیب کا ایک متوازی حکومت قائم کرنے کا عمل جس میں وہ مشرقی پاکستان پر حکمرانی کی ہدایات جاری کر رہے تھے، بشمول وفاقی حکومت کو ٹیکس نہ دینے کے احکامات، غداری کا عمل تھا۔

انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ نے مشرقی پاکستان پر اپنی 1972 کی رپورٹ میں دعوی کیا کہ 1958 کے 'ڈوسو کیس' میں "کامیاب انقلاب" کے اصول کے تحت، مشرقی پاکستان میں مجیب کی متوازی حکومت جو اس نے 01 مارچ 1971 کو قائم کی تھیں بھی جائز حکومت بن گئی کیونکہ اس نے 01 مارچ کو مشرقی پاکستان پر پاکستانی حکومت کے کنٹرول کو مؤثر طریقے سے ختم کر دیا تھا۔

لیکن یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ اگرچہ شیخ مجیب نے 01 مارچ کو مشرقی پاکستان میں اپنی متوازی حکومت قائم کرکے غداری کا ارتکاب کیا تھا، پھر بھی یہ کوئی کامیاب انقلاب نہیں تھا جس طرح ایوب خان نے اسکندر مرزا سے اقتدار چھین لیا تھا یا جس طرح یحییٰ خان نے مبینہ طور پر ایوب خان سے اقتدار چھین لیا تھا کیونکہ شیخ مجیب اس وقت بھی یحییٰ خان کی اتھارٹی کو مشرقی پاکستان کے صدر کے طور پر تسلیم کرتے تھے۔ فون کالز میں شیخ مجیب اس وقت بھی یحییٰ خان کو ’’صدر‘‘ کہتے تھے۔ شیخ مجیب نے یحییٰ خان کے ساتھ (اقتدار کے لیے) مذاکرات بھی جاری رکھے اور ان سے مارشل لا اٹھانے کے لیے بھی کہا۔[22]

یہ حقائق بتاتے ہیں کہ شیخ مجیب کے ذہن میں یحییٰ کی پاکستانی حکومت اب بھی مشرقی پاکستان کی حکومت تھی۔ اگر وہ ایسا نہیں مانتے تو وہ یحییٰ سے اقتدار کی منتقلی یا مارشل لا اٹھانے کی بھیک نہیں مانگ رہے ہوتے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجیب کی بغاوت ایسی بغاوت تھیں جو صرف ایک جاری عمل تھیں۔

اگر شیخ مجیب اپنے مارچ کی بغاوت کے وقت مشرقی پاکستان میں پاکستانی حکومت کو حقیقی اتھارٹی نہیں مانتے تھے تو پھر 7 مارچ کو شیخ مجیب نے یحییٰ خان سے مارشل لا اٹھانے کا کیوں کہا؟ یہ حقیقت کہ وہ مانتے تھے کہ پاکستانی حکومت مشرقی پاکستان کی اصل اتھارٹی تھی اس وقت جب انھوں نے ایک متوازی حکومت قائم کرکے بغاوت کا عمل کیا ہوا تھا، ان کی بغاوت کو مزید سنگین بات بنا دیتی ہے۔ اس وقت کی پاکستانی حکومت کو مجیب کی اس حرکت پر ناراض ہونے کا اور اس کے خلاف کارروائی کرنے کا پورا حق حاصل تھا۔

جنرل پیرزادہ نے کہا کہ 15 سے 25 مارچ کے درمیان فوجی افسروں سے ہر ملاقات کے بعد (جو انھیں کہتے تھے کہ سیاست دانوں کے ساتھ زیادہ سمجھوتہ نہ کریں) یحییٰ خان ذہنی طور پر زیادہ جارحانہ ہو جاتے تھے۔ لیکن جنرل پیرزادہ نے یہ بھی ذکر کیا تھا کہ یحییٰ خان نے صرف 23 مارچ کو آپریشن سرچ لائٹ کے لیے حتمی منظوری دی تھیں۔[23]

چاہے وجہ یہ تھیں کہ عوامی لیگ چھ نکات پر سمجھوتہ نہیں کر رہی تھیں یا یہ کہ عوامی لیگ متوازی حکومت چلا کر غداری کی مرتکب ہو رہی تھیں یا یہ کہ عوامی لیگ صدر، فوجیوں اور غیر بنگالی مسلمانوں کو تنگ کر رہی تھیں اور ان کے ساتھ بدتمیزی کر رہی تھیں - بطور صدر یحییٰ خان کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ (اپنی مرضی کے کسی بھی دن پر) فوج کو حکم دیتا کہ وہ صوبے میں حکومتی رٹ بحال کرے، مجیب کو اقتدار سونپنے کی بجائے جو چھ نکات پر سمجھوتہ نہیں کر رہا تھا۔

خونریزی کا آغاز- بنگالی مسلمانوں نے غیر بنگالی مسلمانوں کا قتل عام کیا اور ان کی عصمت دری کی

[ترمیم]

کیپٹن فرخ نے اپنی یادداشتوں"لوسٹ فار ایور" میں لکھا ہے کہ ١ مارچ ١٩٧١ کو بنگالی ہجوم نے مغربی پاکستانی فوجیوں پر حملہ کیا تھا۔ مارچ کے ابتدائی دنوں میں بنگالی بغاوت شروع ہوئی تھیں (قومی اسمبلی کے اجلاس ملتوی ہونے کے اعلان کے بعد)۔ تو اس مارچ کے مہینے کے پہلے دو دنوں میں فوج نے ان مظاہرین کے خلاف فائرنگ کی تھیں جو فسادات کر رہے تھے یا ان کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈال رہے تھے یا ان پر حملے کر رہے تھے۔ دوسرے لفظوں میں فوج کے دستے اپنے دفاع میں گولی چلاتے تھے۔ پھر شیخ مجیب یہ دعویٰ کرتے تھے کہ یہ ہلاکتیں "بلا اشتعال" فائرنگ کا نتیجہ ہیں اور وہ ہلاکتوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش بھی کیا کرتے تھے۔[19]

25 مارچ سے پہلے ایک اور بڑا واقعہ جس کو شیخ مجیب نے توڑ مروڑ کر پیش کیا وہ 19 مارچ کا جوئے دیو پور کا واقعہ تھا۔ مسلح اور پرتشدد بنگالی ہجوم کے اشتعال کے رد عمل پر، فوج نے دو بنگالیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ شیخ مجیب نے غلط بیانیہ دیا کہ فائرنگ غیر مسلح لوگوں کے خلاف تھیں اور شیخ مجیب نے ہلاکتوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ بریگیڈیئر عبد الرحمن صدیقی (جو بنگالیوں سے ہمدردی رکھتے تھے) بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں (کہ شیخ مجیب غلط تھے)۔[23] اور سرمیلا بوس بھی اسی نتیجے پر پہنچی جب انھوں نے اس واقعے کے چار عینی شاہدین کی شہادتوں کا موازنہ کیا۔ جن میں سے دو بنگالی افسر تھے جنھوں نے بعد میں پاکستانی فوج سے بغاوت کی اور دو مغربی پاکستانی افسر تھے۔ سرمیلا بوس نے ان شہادتوں میں مشاہدہ کیا تھا کہ دونوں فریقین (باغی بنگالی افسران اور مغربی پاکستانی افسران) اس بات پر متفق تھے کہ مسلح بنگالی ہجوم نے مغربی پاکستانی فوجیوں کو اکسایا تھا اس واقعہ میں۔[27]

پاکستانی فوج کو 25 مارچ سے پہلے سخت احکامات جاری تھے کہ وہ اس اشتعال انگیز رویے پر رد عمل ظاہر نہ کرے۔ کیپٹن سرور نے بیان کیا ہے کہ 25 مارچ سے پہلے بنگالی غیر بنگالی مسلم لڑکیوں کو مغربی پاکستانی فوجیوں کے سامنے سڑکوں پر ذلیل کیا کرتے تھے۔ لڑکیاں مغربی پاکستانی فوجیوں کی طرف دیکھتی تھیں لیکن فوجی شرم کی وجہ سے زمین سے آنکھیں نہیں اٹھا پاتے تھے کیونکہ وہ ان عورتوں کی عزت کی حفاظت نہیں کر سکتے تھے۔[27]

مارچ ١٩٧١ میں جس وقت شیخ مجیب نے اپنی متوازی حکومت چلائی، پاکستان آرمی بشمول اس کے عام سپاہیوں کو انتہائی ذلت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بہت سے پاکستانی فوجیوں کو بنگالی شہریوں نے قتل کر دیا اور ان کی کھانے کی اشیاء کاٹ دیے گئے۔

میجر جنرل حکیم ارشد قریشی نے یکم مارچ سے 25 مارچ کے درمیان بنگالیوں کے ہاتھوں مغربی پاکستانی فوجیوں کے قتل کے بارے میں لکھی ہیں کہ:

"ہر روز 1 یا 2 فوجی پکڑے جاتے تھے اور انھیں قتل کیا جاتا تھا۔ ہمارے علاقے میں ہم نے 29 کیولری کے لیفٹیننٹ عباس کو کھو دیا۔ بنگالی سپاہیوں کے ایک ایسکارٹ کے ساتھ وہ فوجیوں کے لیے تازہ سبزیاں خریدنے کے لیے یونٹ لائنوں سے باہر نکلا تھا۔ اسکارٹ پر انتہا پسندوں نے حملہ کیا اور انھوں نے لیفٹیننٹ عباس کو قتل کر دیا۔ ان کے ہتھیار "ضبط" کر لیے گئے لیکن بنگالی فوجیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔"[31]

وائٹ پیپر میں، جسے پاکستانی حکومت نے اگست ١٩٧١ میں شائع کیا تھا، کچھ مثالوں کا ذکر ہے جب بنگالی شہریوں نے مارچ ١٩٧١ میں (آپریشن سرچ لائٹ سے پہلے) مغربی پاکستانی فوجیوں پر حملے کیے تھے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی تھیں۔ مثال کے طور پر 12 مارچ ١٩٧١ کو مسلح بنگالی ہجوم نے فوج کے پانچ ٹرکوں کا راستہ روک دیا تھا۔ 15 مارچ ١٩٧١ کو مسلح ہجوم نے کومیلا میں فینی میں آرمی فیلڈ یونٹ پر حملہ کیا تھا۔ 18 مارچ ١٩٧١ کو آرمی اہلکاروں پر تیزاب کی دو بوتلیں پھینکی گئیں تھیں۔[25]

یہ صرف فوج کے دعوے نہیں ہیں۔ صحافی قطب الدین عزیز کی کتاب میں سویلین عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ 14 مارچ ١٩٧١ کو بنگالی غنڈوں نے فوج کے ایک پنجابی لیفٹیننٹ کو اس وقت قتل کر دیا جب وہ ایک بیمار دوست کی عیادت کے لیے جا رہے تھے۔[32]

یہاں تک کہ انتھونی ماسکرینہاس اور بریگیڈیئر عبد الرحمن صدیقی (جو فوج کے ناقد تھے) نے اپنی کتابوں میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ کس طرح بنگالیوں نے پاک فوج کی تذلیل کی تھیں اور انھوں نے مخصوص مثالیں دی ہیں کہ کس طرح اس تذلیل کی وجہ سے پاکستانی فوج بنگالیوں سے نفرت کرنے لگی۔

مثال کے طور پر، انتھونی ماسکرینہاس نے ذکر کیا ہے کہ ایک پٹھان فوجی کو بنگالیوں نے اپنی پتلون اتارنے پر مجبور کر کے ذلیل کیا۔ اس پٹھان سپاہی نے پھر بدلے میں بنگالیوں کے ساتھ "ذہن اڑا دینے والی" چیزیں کی۔[4]

03 مارچ 1971 کو چٹاگانگ میں فسادات ہوئے جس میں بنگالیوں نے بہت سے بہاریوں کو قتل کیا اور بنگالیوں نے بہاری لڑکیوں کو اغوا کرکے ان کی عصمت دری کی۔[32] آپریشن سرچ لائٹ شروع ہونے سے پہلے بنگالیوں کے ہاتھوں مارچ میں بہاری لڑکیوں کے ساتھ ایسے کئی واقعات پیش آئے۔ 1974 میں صحافی قطب الدین عزیز نے کچھ لڑکیوں کا انٹرویو کروایا تھا جو بنگالیوں کے ہاتھوں اغوا اور زیادتی کا نشانہ بنی تھیں مارچ میں اور جنھیں پاکستانی فوج نے بازیاب کرایا تھا اور قطب الدین عزیز نے ان لڑکیوں کی شہادتیں جمع کیں اور انھوں نے اپنی کتاب ’’بلڈ اینڈ ٹیرز‘‘ میں ان لڑکیوں کی شہادتیں درج کی تھیں۔[32]

سكینہ بی بی ایک 20 سال کی غیر بنگالی لڑکی تھیں۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد وہ مغربی پاکستان ہجرت کر گئیں تھیں۔ وہ دیناج پور میں اپنے ساتھ 22 مارچ 1971 کو ہونے والے سانحہ كے بارے میں یہ گواہی دیتی ہے:[32]

"بنگالی باغیوں کے ایک ہجوم نے رات کو ہمارے محلے پر حملہ کیا۔ انھوں نے ہمارے محلے کے تمام غیر بنگالی بالغ مردوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

انھوں نے میرے شوہر کو کیچ سے زخمی کیا اور پھر گولی مار دی۔ تمام غیر بنگالی مردوں کو قتل کرنے کے بعد انھوں نے تقریباً چار سو غم زدہ غیر بنگالی عورتوں کو قطار میں کھڑا کیا...مارے بنگالی اغوا کاروں نے ہمیں چھ جھونپڑیوں میں بند کر دیا تھا...

...ہماری اسیری کے پورے عرصے میں، بے سہارا اسیر خواتین کو کئی بار زیادتی کا نشانہ بنایا گیا...10 اپریل کو جب پاکستانی فوج نے باغیوں کو شکست دی، بھاگنے والے بنگالیوں نے ہم سب کو ذبح کرنے کی کوشش کی لیکن وقت پر ہمیں بچا لیا گیا۔"

24 سالہ نور جہاں نے 25 مارچ 1971 کو اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں یہ گواہی دی:[32]

"تقریباً 9 بجے بنگالیوں کے ایک بہت بڑے ہجوم نے ہمارے محلے پر حملہ کر دیا اور انھوں نے سینکڑوں مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کر دیا۔ انھوں نے میرے شوہر اور میرے بھائی کو قتل کیا۔ بندوق کی نوک پر وہ غم زدہ غیر بنگالی خواتین کو بارول نامی گاؤں میں لے گئے جو دیناج پور سے 8 میل دور ہے۔ میں بھی ان بدقسمت عورتوں میں شامل تھی۔ ہمارے بنگالی اغوا کاروں نے ہمیں اس گاؤں میں جھونپڑیوں میں پھینک دیا۔ رات کو بنگالی ہمارے اوپر آ گئے۔ مزاحمت کرنے والی لڑکیوں کو گولی مار دی گئی۔ 10 اپریل کو پاکستانی فوج نے گاؤں پر قبضہ کر کے ہمیں چھڑا لیا۔"

نور جہاں سقوط ڈھاکہ کے بعد مغربی پاکستان ہجرت کر گئیں تھیں۔ 21 سالہ نسیم جہان نے 22 مارچ کو ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں یہ گواہی دی:[32]

"22 مارچ کو ایک بڑے بنگالی ہجوم نے ہمارے محلے پر حملہ کیا۔ انھوں نے ہمارے گھر پر حملہ کیا اور ہمارا دروازہ توڑ دیا اور انھوں نے میرے شوہر کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ ایک بنگالی مجھے گھسیٹتا ہوا گھر سے باہر ایک سنسان عمارت میں لے گیا جہاں بہت سی دوسری غیر بنگالی لڑکیوں کو رکھا گیا تھا قیدیوں کے طور پر۔ رات کو بنگالی گینگ آیا اور انھوں نے ہماری عصمت دری کی۔ اگلی صبح ایک بنگالی مجھے اپنے گھر لے گیا جہاں میں 14 دن رہی۔ میں اس کے لیے کھانا پکاتی تھی اور وہ میرے ساتھ جنسی زیادتی کرتا تھا۔"

نسیم جہان سقوط ڈھاکہ کے بعد مغربی پاکستان ہجرت کر گئیں تھیں۔ 23 سالہ اختر رشید نے 22 مارچ کو اپنی بہن کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بارے میں یہ گواہی دی:[32]

"22 مارچ کو کومیلا میں عوامی لیگ کے حامیوں کے ایک ہجوم اور ایسٹ پاکستان رائفلز کے سپاہیوں نے غروب آفتاب کے بعد بہت سے لوگوں کو ہلاک کر دیا۔ میری نوعمر بہن شیریں ہمارے گھر سے غائب ہو گئی اور ہمارا گھر لوٹ لیا گیا۔ مجھے بتایا گیا کہ باغی بنگالی غیر بنگالی لڑکیوں کو ضلع کومیلا سے اغوا کرکے ہندوستان لے گئے تھے جہاں انھوں نے انھیں کوٹھوں میں فروخت کر دیا۔ یہ سوچ کر کہ شیرین کے ساتھ ایسا ہوا ہے میرے دل کو تکلیف دیتا ہے۔"

19 سالہ سید حسن جاوید نے بتایا کہ 17 مارچ 1971 کو عوامی لیگ کے حامیوں نے ان کے پنجابی پڑوسی کے گھر پر چھاپہ مار کر انھیں قتل کر دیا اور ان کی دو نوجوان بیٹیوں کو اغوا کر لیا۔ تین دن بعد سید حسن جاوید نے پانی کے ٹینک میں ان لڑکیوں کی لاشیں دیکھیں۔[32] 27 سالہ بیوہ قمر النساء نے 25 مارچ کو ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بارے میں یہ گواہی دی:[32]

"25 مارچ کو باغی بنگالیوں کے ایک بڑے گروپ نے ہمارے محلے پر حملہ کیا۔ انھوں نے میرے شوہر اور اس کے والد اور تین بھائیوں اور بھتیجے کو بے دردی سے قتل کیا۔ وہ مجھے میرے بالوں سے گھسیٹ کر گھر سے باہر لے گئے۔ بندوق کی نوک پر وہ مجھے بہت سی دوسری روتی ہوئی بہاری اور پنجابی خواتین کے ساتھ ریلوے اسٹیشن لے گئے۔ انھوں نے ہمیں اپنے زیورات دینے پر مجبور کیا۔ انھوں نے بہت سی لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ ہماری دعائیں اپریل کے آخری ہفتے میں اس وقت قبول ہوئیں جب پاکستانی فوج سانطہر میں داخل ہوئی اور انھوں نے ہمیں بازیاب کرایا۔"

آپریشن سرچ لائٹ اور بنگالی فوجوں کی بغاوت

[ترمیم]

بریگیڈیئر صدیقی نے لکھا ہے کہ جنرل راؤ فرمان علی نے انھیں آپریشن بلٹز کا منصوبہ دکھایا تھا۔ اس پلان میں یہ بات قابل غور ہے کہ آپریشن بلٹز میں اس وقت پاکستانی فوج میں بنگالی فوجیوں کی وفاداری پر شک نہیں کیا جا رہا تھا اور جنرل راؤ فرمان علی کے آپریشن بلٹز کے پلان میں بنگالی فوجیوں کی شرکت کو شامل کیا گیا تھا۔[23]

(آپریشن سرچ لائٹ کے بعد کے منصوبے تک یہ تسلیم نہیں کیا گیا تھا کہ بنگالی فوجی عوامی لیگ کے وفادار تھے۔ جب اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا تو آپریشن سرچ لائٹ کا ایک مقصد پاکستانی فوج کے بنگالی سپاہیوں کو غیر مسلح کرنا تھا۔)[2]

تاہم، مجیب کے مشرقی پاکستان کی حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد آپریشن سرچ لائٹ کے نام سے ایک نئے آپریشن کی منصوبہ بندی کی گئی۔ اس آپریشن میں بنگالی فوجی شامل نہیں تھے کیونکہ یہ تسلیم کیا گیا تھا کہ بنگالی سپاہی شیخ مجیب کے وفادار تھے۔ جنرل خامم حسین راجا نے اپنی یادداشتیں میں لکھا ہے کہ شیخ مجیب کی انتخابی مہم کے دوران کیسے بنگالی سپاہی عوامی لیگ کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے تھے اور یہ بنگالی سپاہی پھر فوج میں اپنے دوستانہ رویہ رکھنے والے مغربی پاکستانی ساتھیوں سے دور ہو گئے تھے۔

پھر واقعات کا خلاصہ یہ ہے کہ آپریشن سرچ لائٹ کا مقصد مشرقی پاکستان میں حکومتی رٹ کو بحال کرنا تھا اور یہ ایک اچھا مقصد تھا۔ تاہم، کچھ مغربی پاکستانی فوجیوں نے بنگالیوں کے یکم مارچ سے شرو ہونے والے جرائم کی وجہ سے انتقام کے طور پر تشدد کیا تھا بنگالیوں پر۔ آپریشن سرچ لائٹ جلدی مکمل ہو سکتا تھا اگر بنگالی فوجی بغاوت نہ کرتے اور ان سب کو غیر مسلح کر دیا جاتا منصوبے کے مطابق۔

بغاوت کرنے والے ان بنگالی فوجیوں نے بھی جرائم کیے تھے غیر بنگالی شہریوں کے خلاف جب انھوں نے بغاوت کی تھی اور جب ان باغیوں نے مشرقی پاکستان کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا تھا ایک مختصر وقت کے لیے۔[25] پھر پاکستانی فوج نے اپریل - مئی تک ان باغیوں کا صفایا کر دیا تھا صوبے سے (اس دوران کچھ فوجیوں نے بنگالیوں سے انتقام لیا اور یوں انتقام اور جرائم کا سلسلہ چلتا رہا)۔[33] باغی ہندوستان بھاگ گئے جہاں سے باغی مکتی باہنی بن کر واپس آئے۔

بہرحال مشرقی پاکستان میں حکومتی رٹ (جسے شیخ مجیب نے چھین لیا تھا) بحال کرنے کے لیے آپریشن سرچ لائٹ ضروری تھا۔

حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ آپریشن سرچ لائٹ کی منصوبہ بندی کرنے والوں نے کسی قسم کا ظلم کرنے کا ارادہ کیا تھا۔[21]

جنرل خادم حسین راجا آپریشن سرچ لائٹ کے منصوبہ سازوں میں سے ایک تھے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ آپریشن سرچ لائٹ کے اصل مقاصد کیا تھے۔[16]

ان مقاصد میں مشرقی پاکستان میں حکومتی رٹ کو بحال کرنا تھا، بنگالی پولیس اور پاکستانی فوج کے بنگالی سپاہیوں کو غیر مسلح کرنا تھا، شیخ مجیب سمیت عوامی لیگ کے رہنماؤں کو گرفتار کرنا بھی تھا اور باغیوں پر شکنجہ کسنا تھا۔[16]

بنگالی ماہر تعلیم سرمیلا بوس نے اپنی کتاب "ڈیڈ ریکوننگ" میں اس وقت کے بنگالی زندہ بچ جانے والوں کی شہادتیں فراہم کی ہیں جب آپریشن سرچ لائٹ شروع ہوا تھا۔ ان بنگالیوں نے سرمیلا بوس کو بتایا کہ کچھ مغربی پاکستانی فوجیوں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی لیکن اسی رات دوسرے مغربی پاکستانی فوجیوں نے ان کے ساتھ حسن سلوک کیا اور وہ مغربی پاکستانی فوجی حیران ہوئے تھے کہ ان بنگالیوں کے ساتھ کس نے برا سلوک کیا تھا۔[27]

یہ حقیقت کہ جب آپریشن سرچ لائٹ شروع ہوا تو مغربی پاکستانی فوجی ایک دوسرے سے مختلف سلوک کر رہے تھے بنگالیوں کے ساتھ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجیوں کو تشدد کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا سینئر افسران سے۔

اگر آپریشن سرچ لائٹ عام شہریوں پر تشدد کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہوتا تو آپریشن سرچ لائٹ کے دوران فوجی فرائض کی انجام دہی کے دوران تمام فوجی پھر شہریوں کے ساتھ برا سلوک کرتے۔ لیکن بنگالیوں کی شہادتوں کے مطابق بھی ایسا نہیں ہوا تھا۔

آپریشن سرچ لائٹ کے دوران پاکستانی فوج کے کچھ عناصر نے شہریوں پر تشدد اس لیے کیا کیونکہ عام بنگالیوں نے پاک فوج کو بہت بری طرح اکسایا تھا۔ اتنا کہ ان کا نظم و ضبط ٹوٹ گیا۔[21]

عوامی لیگ ١٩٧0 کے انتخابات سے پہلے ہی بنگالیوں کو فوج کے خلاف اکساتی رہی تھیں۔ اس کی وجہ سے پاکستانی فوجیوں کو ١٩٧0 کے انتخابات سے قبل بنگالی شہری ہجوم کے بلا اشتعال حملوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ انتہائی اشتعال انگیزی کے باوجود فوجیوں نے جوابی کارروائی نہیں کی اس وقت۔ اس کی چند مثالیں جنرل خادم حسین راجا کی کتاب میں دی گئی ہیں۔[16]

جنرل خادم حسین راجا نے یہ بھی بتایا ہے کہ مغربی پاکستانی فوجیوں کے قاتل ڈھاکہ یونیورسٹی میں چھپے ہوئے تھے۔[16] سویلین گواہ کے مطابق ، ڈھاکہ یونیورسٹی وہ جگہ تھی جہاں بنگالیوں نے مغربی پاکستانی تاجروں کو اغوا کر کے قتل کر دیا تھا (آپریشن سرچ لائٹ سے پہلے)۔[32] مارچ میں شیخ مجیب کی بغاوت کے دوران اور اس کے بعد فوج بنگالیوں کے مظالم سے مزید مشتعل ہو گئی۔[21]

پاکستانی فوجیوں کی ذہنیت پر بنگالی مظالم کے نفسیاتی اثرات کے بارے میں میجر افتخار بھٹی نے لکھا ہے۔ میجر افتخار بھٹی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ 25 مارچ کے بعد وہ بمشکل ایک پاکستانی فوجی کو بنگالی شہریوں کے خلاف انتقام لینے سے روکنے میں کامیاب ہوئے۔ وہ مغربی پاکستانی فوجی پریشان اور رو رہا تھا کیونکہ اس نے دیکھا تھا کہ بنگالی باغیوں نے معصوم غیر بنگالی مسلمانوں کی لاشوں کو کس بری طرح مسخ کیا ہوا تھا۔[13]

میجر افتخار بھٹی نے بیان کیا ہے کہ ان کے لیے خود پر قابو پانا بھی بہت مشکل تھا کیونکہ وہ بہاریوں کے خلاف بنگالیوں کے مظالم کا مشاہدہ کرنے کے بعد بھیراب بازار کو جلانا چاہتے تھے۔ ہر آدمی اتنا مضبوط نہیں ہوتا کہ وہ خوفناک مظالم دیکھنے کے بعد خود پر قابو رکھ سکے۔[13]

بنگالی غیر بنگالی مسلمان عورتوں کے پردے کا بھی احترام نہیں کرتے تھے۔ سرکاری ملازم مسعود مفتی نے اپنی ڈائری "لمہے" میں بریگیڈیئر قادر کے مشاہدات کو نقل کیے ہیں، جنھوں نے غیر بنگالی مسلمان خواتین کے برقعوں کو پھٹے ہوئے دیکھا تھا ایک ایسی جگہ پر جہاں بنگالیوں نے غیر بنگالی مسلمان عورتوں اور بچوں کو قتل کیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنگالی غیر بنگالی مسلمان خواتین کے برقعوں اور پردے کا بھی احترام نہیں کرتے تھے۔[34]

بریگیڈیئر کرار علی آغا نے کہا ہے کہ بنگالیوں کے ہاتھوں غیر بنگالی خواتین کی عصمت دری نے پاکستانی فوجیوں اور افسران کو صدمہ پہنچایا تھا۔ اور بریگیڈیئر کرار علی آغا کہتے ہیں کہ یہ چیزیں دیکھ کر پاکستانی فوجیوں اور افسروں کا ڈسپلن ٹوٹ گیا تھا اور بہت سے پاکستانی فوجیوں اور افسروں بنگالیوں سے بدلہ لینا چاہتے تھے۔[35]

بریگیڈیئر کرار علی آغا نے ایک واقعہ کے بارے میں لکھا ہے جس کے بارے میں انھیں جولائی ١٩٧١ میں ایک پاکستانی فوجی (جس نے ان غیر بنگالی لڑکیوں کو بچایا تھا) نے بتایا تھا۔ بریگیڈیئر کرار علی آغا نے لکھا ہے کہ 25 مارچ کی رات جب آپریشن سرچ لائٹ شروع ہوا تو پاکستانی فوجیوں نے 20 بہاری اور مغربی پاکستانی لڑکیوں کو بازیاب کرایا جنھیں بنگالیوں نے اغوا کیا اور زیادتی کا نشانہ بنایا۔[35]

ان لڑکیوں کو بنگالیوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں قید کر رکھا تھا۔ بہاری لڑکیوں میں سے ایک کو بنگالیوں نے 23 مارچ کو اغوا کیا تھا اور وہ اسیر لڑکیوں کے اس گروپ میں "تازہ ترین اضافہ" تھیں جس کا مطلب ہے کہ دوسری قیدی غیر بنگالی لڑکیوں کو 23 مارچ ١٩٧١ سے پہلے بنگالیوں نے اغوا کیا تھا۔ کچھ لڑکیوں کو 25 مارچ ١٩٧١ سے 15 دن پہلے بنگالیوں نے اغوا کر لیا تھا (یعنی 10 مارچ سے)۔[35]

بنگالی باغیوں نے بعد میں مغربی پاکستانی فوجیوں کے اہل خانہ پر بھی تشدد کیا تھا۔ بنگالیوں نے مغربی پاکستانی فوجیوں کی بیویوں اور بیٹیوں کی عصمت دری بھی کی تھی۔ کرنل (اس وقت کے کپتان) ہارون رشید نے ایک مغربی پاکستانی فوجی کے بارے میں لکھا ہے جس کی بیوی اور بیٹی کو بنگالی باغیوں نے زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔[36] صحافی انتھونی ماسکرینہاس (جو بنگالیوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے تھے) نے چٹاگانگ میں ایک مغربی پاکستانی کرنل کے بارے میں بھی لکھا ہے جس کی حاملہ بیوی کو بنگالیوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔[32]

بریگیڈیئر عبد الرحمٰن صدیقی ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جب 18 مارچ کو ایک بنگالی اخبار نے اشتعال انگیز کارٹون شائع کیا۔ اس وقت شیخ مجیب نے فوج کو کھانے پینے کا سامان منقطع کر دیا تھا۔ کارٹون میں بھوکے پاکستانی فوجیوں کا مذاق اڑایا گیا۔ کارٹون میں بھوک سے مرتے فوجیوں کی تصویر دکھائی گئی تھی جو مغربی پاکستان سے پی آئی اے کے طیارے کا استقبال کر رہے تھے۔ پی آئی اے کے مسافروں کو مرغیوں کے روپ میں دکھایا گیا تھا۔ یہ پاکستانی فوجیوں اور افسروں پر ایک طرح کا نفسیاتی تشدد تھا۔[23]

جب ایک لیفٹیننٹ کرنل نے یہ کارٹون دیکھا تو وہ بہت غصے میں آگئے اور انھوں نے بریگیڈیئر عبد الرحمٰن صدیقی سے کہا کہ تمام بنگالی خواہ وہ عام شہری ہوں یا فوجی، غدار ہیں اور مجیب اور عوامی لیگ کے ساتھ ملے ہیں۔ اس افسر کو اس دن پہلے بھی ایک واقعہ پیش آیا تھا جہاں ایک بنگالی ہجوم نے اسے گھیر لیا تھا اور اسے توہین آمیز ناموں سے پکارا تھا۔[23]

افسر نے بریگیڈیئر عبد الرحمٰن صدیقی کو بتایا کہ ان کی خیال میں بنگالی سپاہیوں کو غیر مسلح کر کے انھیں راستے سے دور رکھنا چاہیے اور یہ کہ شہر پر قابو پانے کے لیے اور مجیب کو اپنے سینئر کے قدموں پر پھینکنے کے لیے انھیں صرف 12 گھنٹے چاہیے۔ بریگیڈیئر عبد الرحمٰن صدیقی نے اس افسر کا حوالہ بھی دیا جس نے کہا کہ "کمینے! کیا یہ قومی فوج کے ساتھ سلوک کرنے کا طریقہ ہے!"[23]

بریگیڈیئر عبد الرحمٰن صدیقی نے مارچ کے آخر/اپریل کے اوائل میں ہونے والی بریگیڈیئر جیلانی کے ساتھ اپنی گفتگو کا ذکر بھی کیا۔ بریگیڈیئر جیلانی کو بھی بنگالیوں نے روکا اور بنگالیوں کے ہجوم نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بریگیڈیئر جیلانی بنگالیوں کو "خدا سے ڈرنے والے" لوگ کہتے تھے، لیکن ان کے مطابق مجیب نے انھیں گمراہ کیا تھا تاکہ وہ فوج کی توہین کریں۔[23]

بریگیڈیئر جیلانی نے کہا کہ فوج کے صبر کی ایک حد تھیں۔ بریگیڈیئر جیلانی نے یہ بھی کہا کہ جس طرح بنگالیوں نے فوج کے ساتھ بدسلوکی کی اس کی مثال نہیں ملتی اور کہ ہندوستانیوں نے بھی برطانوی فوج کی اس طرح تذلیل نہیں کی تھیں۔[23]

بریگیڈیئر عبد الرحمٰن صدیقی نے پھر آپریشن سرچ لائٹ شروع ہونے کے بعد افسروں اور جوانوں کے رویے کے بارے میں ذکر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجیوں نے اپنا نظم و ضبط کھو دیا تھا، اپنی ذلت کا بدلہ لینا چاہتے تھے اور انھوں نے بنگالیوں کو حقارت سے دیکھنا شروع کر دیا تھا۔ وہ بنگالیوں کو سڑکوں پر خوف زدہ ہوتے ہوئے دیکھ کر خوشی محسوس کرتے تھے۔[23]

بریگیڈیئر عبد الرحمن صدیقی نے ایک کرنل کا ذکر کیا جس نے فخر سے اپنے دوستوں کو بتایا کہ وہ اپنی قتل کرنے سے ہچکچاہٹ کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ بریگیڈیئر عبد الرحمن صدیقی صدیقی کا کہنا ہے کہ وہ جانتے تھے کہ کرنل صرف شیخی مار رہے تھے لیکن انھیں اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ جوانوں (فوجی) نے بنگالیوں کی جانوں اور عزتوں کا احترام کرنا چھوڑ دیا تھا۔[23]

لیفٹیننٹ کرنل منصور الحق نے حمود الرحمن کمیشن کو بتایا: "جنرل سمیت سپاہیوں اور افسروں میں بنگالیوں کے خلاف عام طور پر نفرت کی جذبات تھے۔"[21]

مکتی باہنی کی شورش اور بھارت کا کردار

[ترمیم]

شیخ مجیب (وہ غدار جو مشرقی پاکستان میں متوازی حکومت چلا رہا تھا) کو 26/25 مارچ کی رات کو گرفتار کیا گیا تھا، لیکن تاج الدین احمد جیسے اس کے ساتھی گرفتاری سے بچنے کے لیے فوراً ہندوستان بھاگ گئے جہاں انھوں نے بنگلہ دیش کے لیے ایک "عارضی حکومت" تشکیل دی۔

بنگالی باغی فوجیوں نے صوبے کے بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا جہاں انھوں نے غیر بنگالیوں پر مزید مظالم ڈھائے تھے۔ اپریل اور مئی کے دوران پاکستانی فوج نے آہستہ آہستہ ان باغیوں کو اپنے زیر قبضہ علاقوں سے نکال دیا تھا۔ آپریشن سرچ لائٹ کے وقت سے لے کر اس دوران اور اس کے بعد بھی ایسے کئی واقعات ہوئے تھے جن میں فوج کے کچھ عناصر نے بدلہ لیا تھا مارچ اور اپریل کے دوران ہونے والے مظالم کے جو بنگالیوں نے غیر بنگالیوں کے خلاف کیے تھے۔

انہی مہینوں میں باغی بنگالی سپاہی ہندوستان بھاگ گئے تھے۔ جو باغی بھارت میں سب سے پہلے داخل ہوئے تھے، انھوں نے اپریل کے شروع میں ایم جی عثمانی (پاکستانی فوج کے ایک بنگالی تجربہ کار، جنھیں شیخ مجیب نے مارچ میں "انقلابی افواج" کا "کمانڈر" مقرر کیا تھا) کی سربراہی میں مکتی باہنی تشکیل دی تھیں۔ ہندو آبادی کے ایک بڑے حصے کو پاک فوج نے بھگا دیا تھا اور وہ عوامی لیگیوں اور علیحدگی پسند طلبہ کے ساتھ ہندوستان بھاگ گئے۔

وفادار دائیں بازو کے بنگالی مسلمانوں اور بہاریوں کی مدد سے، پاکستانی فوج نے صوبے میں امن و امان بحال کیا۔ وہ وفادار بنگالی مسلمانوں اور بہاریوں کی مدد سے مشرقی پاکستان کی سول انتظامیہ چلاتے تھے۔ انھوں نے بے گھر لوگوں کو واپس آنے کی دعوت دی، یہاں تک کہ ان کے لیے بحالی کیمپ بھی کھولے۔ مئی تک امن بحال ہو چکا تھا اور وفادار بنگالی مسلمانوں اور بہاریوں پر مشتمل ایک نئی پولیس فورس تشکیل دی گئی تھیں۔

مشرقی پاکستان کی کئی سیاسی جماعتیں (مسلم لیگ، جماعت اسلامی، کونسل مسلم لیگ، نظام اسلام اور پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی) پاکستان کی وفادار تھیں۔ اس بغاوت کو عوامی لیگ، نیشنل عوامی پارٹی (ماسکو نواز) اور مشرقی پاکستان کمیونسٹ پارٹی کی حمایت حاصل تھیں۔

مکتی باہنی جون میں ہندوستانی امداد کے ساتھ واپس آئی اور انھوں نے پورے صوبے میں ہلکی شدت کی شورش کی۔ وہ پاکستانی فوج پر گھات لگا کر حملہ کرتے تھے، پلوں اور مواصلات کو تباہ کرتے تھے اور آبادی کو دہشت زدہ کرتے تھے۔ بڑی کارروائیاں ہندوستانی کرتے تھے۔ بھارت نے مشرقی پاکستان کی سرحد پر بھی گولہ باری شروع کر دی تھی۔[13]

میجر (ریٹائرڈ) ممتاز حسین شاہ نے چار غیر بنگالی مسلمان لڑکیوں کی حالت زار بیان کی جنھیں اگست 1971 کے کچھ عرصے بعد، سلہٹ ڈویژن میں مکتی باہنی کی قید سے پاک فوج نے بازیاب کرایا تھا۔ ان کے اغوا کاروں نے ان کے ساتھ بدفعلی کی ہوئی تھی اور اس کے نتیجے میں ان میں سے ایک حاملہ ہو گئی ہوئی تھیں۔[37]

وفادار بنگالی مسلمانوں نے شورش کا مقابلہ کرنے میں پاکستانی فوج کی مدد کی جبکہ پاکستانی فوج نے بیک وقت مشرقی پاکستان کی سول انتظامیہ کو چلایا، مشرقی پاکستان کے لوگوں کو کھانا کھلایا اور مواصلات کو کھلا رکھنے کی کوشش کی۔

پاک فوج نے عوامی لیگ کے منتخب اراکین کی اسکریننگ کی اور درجنوں کو اپنی نشستیں رکھنے کی اجازت دی۔ باقی کو نااہل قرار دے کر ان کی نشستیں انتخابات کے لیے لگائی گئیں۔ بنگلہ دیش کی عارضی حکومت میں عوامی لیگ کے ایک رکن، خندکر مشتاق احمد، ملک کو متحد رکھنے کے لیے خفیہ طور پر پاک فوج کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے۔

انتہا پسند کمیونسٹ تاج الدین احمد جو ہندوستان میں اس عارضی حکومت کے وزیر اعظم تھے، پاکستان کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ جنرل راؤ فرمان علی کے مطابق تاج الدین مجیب سے بدتر تھا۔

پھر بھی عوامی لیگ کے کم از کم 25 ارکان پارلیمنٹ اور بہت سے باغی بنگالی پولیس والے واپس آئے اور انھوں نے پاکستان آرمی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ انھیں (ریاست کے وفادار) بنگالی گورنر ڈاکٹر عبد المطلب ملک کے ماتحت صوبے کی شہری انتظامیہ میں شامل کیا گیا تھا۔[33]

بنگالی باغی بھارتی مداخلت کے بغیر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے تھے۔ اس جھوٹے دعوے کے برعکس کہ بھارت نے دسمبر 1971 میں مشرقی پاکستان پر حملہ کیا تھا، بھارت نے 22 نومبر 1971 کے قریب مشرقی پاکستان پر کھلے عام حملہ کیا تھا۔ اس سے پہلے بھی ہندوستانی مشرقی پاکستان میں گھس چکے تھے اور ستمبر 1971 میں "بڑے آپریشن" کر رہے تھے ایک فرنٹ لائن عینی شاہد صحافی کی رپورٹ کے مطابق جو ستمبر 1971 میں گارڈین اخبار میں شائع ہوئی تھی۔

بنگالی ہندوؤں کا قتل عام

[ترمیم]

فوج کی کمان نے مشرقی پاکستان کی ہندو آبادی کو بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور یہ بات انھوں نے اپریل 1971 میں مغربی پاکستانی عیسائی صحافی اینتھونی مسکارنہاس کو بتائی تھیں۔[38] تاہم، یہ ذکر کیا جانا چاہیے کہ سرمیلا بوس نے اینتھونی ماسکرینہاس پر تنقید کی ہے کیونکہ انھوں نے ان ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں کی تصدیق نہیں کی تھیں اور صرف بنگالی پروپیگنڈے کو دہرایا تھا۔ سرمیلا بوس نے اپنی زمینی سطح کے مطالعے میں پایا کہ انتھونی مسکرینہاس غلط معلومات دہرا رہے تھے۔[27]

لیکن حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ میں بھی بتایا گیا ہے کہ بنگالی ہندوؤں کو ختم کرنے کے لیے فوج کو زبانی اور تحریری ہدایات دی گئی تھیں۔[21] لیفٹیننٹ کرنل منصور الحق نے حمود الرحمن کمیشن کو بتایا: "ہندوؤں کو ختم کرنے کے لیے زبانی ہدایات دی گئی تھیں۔"[21] لیفٹیننٹ کرنل عزیز احمد خان نے بھی حمود الرحمن کمیشن کو ایسی ہی معلومات کے ساتھ گواہی دیتے ہوئے کہا: "مئی میں ہندوؤں کو مارنے کا تحریری حکم نامہ آیا تھا۔ یہ حکم 23 بریگیڈ کے بریگیڈیئر عبد اللہ ملک کا تھا۔"[21]

ایک اور مثال فوجی افسر کرنل نادر علی کی گواہی ہے جس نے فوج سے اختلاف کیا تھا۔ کرنل کہتے ہیں:"ہندوؤں کو مارنے کا حکم دیا گیا تھا۔ مجھے کئی بار یہی حکم ملا اور مجھے یہ حکم یاد دلایا گیا تھا۔ مغربی پاکستانی فوجیوں نے اسے کوشر (جائز) سمجھا۔ حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ میں اس حکم کا ذکر ہے۔"[39]

غیر جانبدار سرمیلا بوس بھی اس حقیقت کو مانتی ہیں۔ اپنے کیس اسٹڈیز سے اس نے ایک نمونہ دیکھا کہ فوج نے ہندو مردوں کو نشانہ بنایا لیکن عام طور پر ان کی عورتوں اور بچوں کو چھوڑ دیتے تھے۔[27]

میجر افتخار بھٹی نے لکھا ہے کہ وہ غیر مسلمانوں سے نفرت کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ جو غیر مسلمان تھے وہ مشرقی پاکستان کے بحران کے ذمہ دار تھے۔ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس وجہ سے انھوں نے ہندو بتوں کو توڑا تھا مشرقی پاکستان میں۔ میجر افتخار بھٹی نے مزید لکھا ہے کہ انھوں نے ہندوؤں کی جائیدادیں ضبط کر لی تھیں اور پھر وہ جائیدادیں انھوں نے مسلمانوں میں بانٹ دی تھیں۔ میجر افتخار بھٹی نے اپنی لکھی ہوئی یادداشت میں یہ بھی کہا ہے کہ وہ غداری کے جرم میں غیر مسلموں کو سزائے موت دینے کا حکم دیا کرتے تھے۔[13]

جنگ کے خاتمے تک پاک فوج کی بہادری

[ترمیم]

پاکستانی فوج پر اپنی تمام تر تنقیدوں کے باوجود، حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستانی فوج کی اکثریت 1971 کی جنگ میں پاکستان کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار تھی۔ رپورٹ میں اس حقیقت کی نشان دہی کی گئی کہ دشمن (بھارت) نے بھی بعض لڑائیوں میں پاک فوج کی بہادری کا اعتراف کیا تھا۔[21]

رپورٹ میں اس بیان کی بی بی سی آرکائیوز سے تصدیق کی جا سکتی ہے۔ بی بی سی پر بھارتی صحافی کرن تھاپر نے جنرل سیم مانیک شا کا انٹرویو کیا جو 1971 کی جنگ میں بھارتی فوج کے سربراہ تھے۔ سیم مانیکشا نے کہا کہ پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں بہت بہادری سے جنگ لڑی۔

جنرل سیم مانیکشا نے خاص طور پر پاکستانی فوج کے ایک کیپٹن احسان ملک کی بہادری کی تعریف کی۔ بی بی سی کی فوٹیج بھی ہے جس میں ایک مغربی صحافی نے 1971 میں ڈھاکہ میں ’’پنو‘‘ نامی بھارتی فوجی افسر سے پاکستانی فوج کی کارکردگی کے بارے میں پوچھا۔ بھارتی فوجی افسر کا کہنا تھا کہ ہر جگہ پاکستانی فوجیوں نے شاندار مقابلہ کیا۔

یہ پاکستانی فوج کے ورژن کی تصدیق کرتا ہے۔ میجر افتخار بھٹی نے لکھا ہے کہ جب بھارت نے مشرقی پاکستان پر کھلے عام حملہ کیا تو پاکستانی فوجیوں نے جذبہ جہاد کے ساتھ بہادری سے مقابلہ کیا، حالانکہ ان میں سے بہت سے زخمی ہو چکے تھے اور اس وقت تک کئی مہینوں سے لڑ رہے تھے۔[13]

بنگالیوں کی ہلاکتوں کے بارے میں پروپیگنڈا اور ظلم کی حقیقت

[ترمیم]

پاکستانی فوج نے 25 مارچ کو ڈھاکہ یونیورسٹی پر حملہ کیا تھا۔ لیکن آرمی نے یونیورسٹی میں سوئے ہوئے "معصوم" طلبہ پر بلا وجہ حملہ نہیں کیا تھا۔ اس وقت کی بہت سی میڈیا رپورٹس کے ساتھ ساتھ بنگالی قوم پرست یادداشتیں اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ آپریشن سرچ لائٹ سے پہلے ڈھاکہ یونیورسٹی اور مشرقی پاکستان میں رضاکاروں کے ذریعے ہتھیاروں کے ذخیرے اور فوجی تربیت دی جا رہی تھیں۔

مثال کے طور پر، صحافی پال مارٹن نے 25 مارچ 1971 کو اخبار لندن ٹائمز میں ایک رپورٹ لکھی جس میں انھوں نے کہا: "ڈھکا یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں، انتہا پسند گروہوں نے طلبہ کو آتشیں اسلحہ کے استعمال کی تربیت دینا شروع کر دی ہے۔"[25]

ایک کمیونسٹ کارکن کلیرنجن شیل، جو یونیورسٹی پر فوجی آپریشن میں بچ گئے تھے، نے لکھا کہ طلبہ یونین یکم مارچ سے جب قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا تھا، ڈھاکہ یونیورسٹی کے جمنازیم کے اندر طلبہ کو ڈمی رائفلوں سے مسلح تربیت دے رہی تھیں۔ کلیرنجن شیل نے پورے پیمانے پر بغاوت کے منصوبے کو بھی بیان کیا ہے۔[27]

ڈاکٹر عبد المومن چودھری، جو 1971 میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں ایک بنگالی پروفیسر تھے اور 25 مارچ کی رات کو ڈھاکہ یونیورسٹی میں موجود بھی تھے، نے لکھا ہے کہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں طلبہ کے ہاسٹل تبدیل ہو کر اسلحہ خانے بن چکے تھے اور بہت سے طلبہ پاکستانی فوج کی کارروائی سے کئی برس قبل بیرون ملک سے مسلح تربیت لے رہے تھے۔[24]

ڈھاکہ یونیورسٹی یقیناً کوئی معصوم جگہ نہیں تھیں۔ یہ وہ جگہ تھیں جہاں مغربی پاکستانی فوجیوں کے قاتل چھپے ہوئے تھے[16] اور یہ وہ جگہ بھی تھیں جہاں مغربی پاکستانی تاجروں کو قتل کیا گیا تھا۔ قطب الدین عزیز کی کتاب میں ایک شہری عینی شاہد کی گواہی درج کی گئی ہے جس نے وہاں ایک مغوی مغربی پاکستانی تاجر کو بنگالیوں کے ہاتھوں قتل ہوتے ہوئے دیکھا تھا 25 مارچ سے پہلے ڈھاکہ یونیورسٹی میں۔[32]

حمود الرحمن کمیشن کے سامنے "گواہوں" نے الزام لگایا تھا کہ آپریشن سرچ لائٹ شروع ہونے کے بعد مغربی پاکستانی افسران نے کومیلا چھاؤنی میں بنگالی افسران کا قتل عام کیا تھا۔ لیکن حمود الرحمن کمیشن اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکا کہ آیا کومیلا میں غیر مسلح بنگالی فوجیوں کا قتل عام ہوا تھا یا نہیں۔[21]

سرمیلا بوس نے کومیلا چھاؤنی میں دو بنگالی سپاہیوں کی شہادتوں کا مطالعہ کیا ہے۔ کومیلا چھاؤنی کے بنگالی سپاہیوں میں سے ایک بریگیڈیئر ابواللیس احمد الزمان تھے جو پاک فوج کے وفادار رہے۔ ان کے کزن امام الزمان، جو پاکستانی فوج میں بھی تھے، نے 1971 میں پاک فوج سے بغاوت کی تھیں۔[27]

امام نے دعویٰ کیا کہ آپریشن سرچ لائٹ سے پہلے مغربی پاکستانی افسران کانفرنسیں کر رہے تھے جس میں بنگالی افسران کو شرکت کی اجازت نہیں تھیں۔ لیکن ان کے کزن احمد کا کہنا ہے کہ انھیں کبھی کسی فوجی کانفرنس سے باہر نہیں رکھا گیا حالانکہ وہ خود بنگالی تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ امام کو غالباً زیادہ سینئر افسران کے اجلاسوں میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھیں کیونکہ ان کا رینک اتنا سینئر نہیں تھا۔[27]

کومیلا قصبے میں فوجی کارروائی کا منصوبہ بنایا گیا تھا اور بنگالی فوجیوں کو پیشکش کی گئی تھیں کہ اگر وہ فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لینا چاہتے تھی تو وہ دفتری کام کر سکتے تھے۔ امام کا دعویٰ ہے کہ احمد زمان کو مغربی پاکستانی افسران نے ان کے اور ایک اور بنگالی افسر کے ساتھ بند کر دیا تھا۔ لیکن احمد اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ ان کو کبھی بند کیا گیا تھا اور انھوں نے یہ بھی کہا کہ دوسرے بنگالی فوجی افسران نے ان کو اپنی علیحدگی پسندانہ گفتگو میں کبھی شامل نہیں کیا تھا کیونکہ وہ پاکستان سے محبت کرتے تھے اور وہ پاکستان کے وفادار تھے۔[27]

امام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مغربی پاکستانی افسروں اور سپاہیوں نے کومیلا چھاؤنی میں بنگالی فوجیوں اور افسروں کو غیر مسلح کرنے کے بعد قتل کیا تھا۔ ایک افسر نے حمود الرحمن کمیشن کو وضاحت کی کہ کچھ بنگالی یونٹوں کو صرف اس وقت مارا گیا جب انھوں نے مسلح مزاحمت کی جب انھیں غیر مسلح کیا جا رہا تھا۔ افسر نے یہ بھی مزید کہا کہ جب اپریل تک حالات مستحکم ہوئے تھے تو متعدد غیر مسلح بنگالی فوجیوں کی اطلاع ہیڈ کوارٹر 9 ڈویژن کو دی گئی تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارچ میں جب بنگالی فوجیوں کو غیر مسلح کیا گیا تو غیر مسلح افراد کا ایسا کوئی قتل عام نہیں ہوا تھا۔[27]

امام نے دعویٰ کیا کہ انھیں اور ایک اور بنگالی افسر کو اس وقت گولی مار دی گئی تھیں جب وہ ایک بند کمرے میں تھے۔ لیکن ان کے کزن ابواللیس احمد الزمان کا کہنا ہے کہ امام کو حقیقت میں صرف اس وقت گولی مار دی گئی تھیں جب وہ چھاؤنی سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔[27]

کتابوں، بلاگز اور اخبارات میں 1971 کے بارے میں زیادہ تر معلومات غیر مصدقہ مفروضوں پر مبنی ہیں۔ اگر جھوٹ کو بار بار دہرایا جائے تو وہ سچ بن جاتا ہے۔ ان الزامات اور مفروضوں کے دہرائے جانے نے انھیں حقیقت کا اتنا مضبوط ظہور دیا ہے کہ اب ان جھوٹوں کو توڑنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اس افسانے کی خود ساختہ تاریخ کو تلاش کیا جائے کہ یہ افسانہ کیسے بنا تھا؟

آئیے اس طرح کے غیر مصدقہ دعوے کی ایک مثال دیکھتے ہیں۔ بہت سی کتابیں اور دیگر secondary sources اور یہاں تک کہ نسل کشی کے ماہرین جیسے کہ ایڈم جونز کا دعویٰ ہے کہ 22 فروری کو یحییٰ خان نے ایک فوجی کانفرنس میں کہا تھا کہ "ان میں سے 30 لاکھ کو مار ڈالو اور باقی ہمارے ہاتھ سے کھائیں گے۔"

ان الفاظ کو یحییٰ خان سے منسوب کرنے والا کوئی بھی شخص اس دعوے کے لیے کسی primary source کا حوالہ نہیں دیتا۔ اس بیان کو یحییٰ خان سے منسوب کرنے والی سب سے پہلی کتاب رابرٹ پینے کی 1972 کی کتاب تھیں۔ لیکن پینے نے ان الفاظ کو یحییٰ خان سے منسوب کرتے وقت کسی تقریر یا اخبار یا انٹرویو یا کسی بھی قسم کے source کا حوالہ نہیں دیا۔

رابرٹ پینے نے اپنی کتاب کے تعارف میں کہا ہے کہ ان کی کتاب اعلیٰ سطح کے ہندوستانی افسران، ہندوستانی وزیر اعظم اندرا گاندھی اور بنگلہ دیشی سیاست دانوں اور ماہرین تعلیم کے انٹرویوز پر مبنی ہے۔ پاکستانی فوجی کانفرنس میں کہے گئے بیان کا ان لوگوں کو کیسے علم ہو گا؟ اگر یہ ایک public کانفرنس ہوتی تو اس نے پوری دنیا میں صدمے کی لہریں بھیجی ہوتی اور کم از کم 1971 میں ہی کچھ دستاویزات ہوتیں۔ تو یہ من گھڑت بات ہے۔[40]

بنگلہ دیشی ماہر تعلیم رونق جہاں نے اپنی 1972 کی کتاب میں دعویٰ کیا تھا کہ 1971 میں 3 کروڑ لوگ شہروں سے بے گھر ہو کر دیہاتوں میں چلے گئے تھے مشرقی پاکستان میں۔ لیکن اس وقت مشرقی پاکستان کی کل شہری آبادی صرف 50-60 لاکھ تھیں۔ اس اعداد و شمار کی تصدیق مشرقی پاکستان/بنگلہ دیش کی 1961 اور 1974 کی مردم شماریوں سے کی جا سکتی ہے۔

تو صاف ظاہر ہے کہ "scholars" صریح جھوٹ بول رہے ہیں۔ لیکن رونق جہاں کا دعویٰ دوسری scholarly کتابوں میں دہرایا گیا ہے اور اس حقیقت پر کوئی غور نہیں کیا گیا کہ یہ ایک غیر مصدقہ دعویٰ ہے۔ 1971 کا لٹریچر ایسے بے بنیاد دعووں اور مفروضوں سے بھرا ہوا ہے۔

اس کی تازہ ترین مثال بی بی سی کا کچھ سال پہلے کا مضمون ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جب کہ بنگلہ دیشی حکومت کا کہنا ہے کہ 1971 میں مرنے والوں کی تعداد 30 لاکھ تھیں (یہ ایک ایسا اعداد و شمار ہے جسے بنگلہ دیشی حکومت کے لوگ بھی غلط تسلیم کر چکے ہیں) "آزاد محققین" مرنے والوں کی تعداد 300,000-500,000 کے درمیان بتاتے ہیں۔

یہ نام نہاد "آزاد محققین" کون ہیں یا وہ ان نمبروں پر کیسے پہنچے اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے بی بی سی کے اس مضمون میں۔ مصنفین لاپروائی سے ایسے غیر مصدقہ بیانات کو مضامین یا کتابوں میں ڈالتے ہیں۔ اور چونکہ یہ دعوے ایسی معتبر کتابوں اور اشاعتوں میں شامل کیے گئے ہیں، اس لیے ایسے دعوے اپنی آپ میں جان اختیار کر لیتے ہیں حالانکہ ان کے پیچھے کوئی بنیاد یا ثبوت نہیں ہے۔

مجیب نے بغیر کسی حساب کتاب کے دعویٰ کیا کہ 1971 کی جنگ میں 30 لاکھ لوگ مارے گئے اور اس کے بعد سے یہ دعویٰ دہرائی جا رہی ہے۔ 10 لاکھ یا 5 لاکھ یا 3 لاکھ ہلاکتیں کے نچلے تخمینے بھی ایسے دعوے تھے جن کو لوگوں نے سوچے سمجھے یا حساب کتاب کیے بغیر کر دیے تھے۔ یہ تمام نمبروں قیاس آرائی پر مبنی اعداد و شمار ہیں جو ایک دوسرے سے متصادم بھی ہیں۔ ان نمبروں میں سے کسی کے پاس حمایت کے لیے کوئی اکاؤنٹنگ بنیاد یا سروے نہیں ہے۔ انھیں بعد میں میڈیا اور علمی ادب کے تمام سطحوں پر دہرایا گیا - جس نے ان نمبروں کو اپنی زندگی بخشی۔[27]

سرمیلا بوس نے 3 لاکھ یا 30 لاکھ جیسے قیاس آرائیوں نمبروں کے پیچھے اکاؤنٹنگ کی بنیاد کی کمی کی نشان دہی کی ہے۔[27] 1971 میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں کام کرنے والے بنگلہ دیشی پروفیسر ڈاکٹر عبد المومن چودھری نے اس تاریخ کا سراغ لگایا ہے کہ اس طرح کے نمبر کیسے ایجاد کیے گئے تھے اور مقبول کیسے ہوئے تھے۔[24]

اس افسانہ سازی کی تاریخ مزاحیہ ہے جس میں دور دراز نمبروں کے درمیان بہت سی چھلانگیں لگائی گئیں تھیں۔[24]

ڈھاکہ کے روزنامہ پربدیش کے ایڈیٹر احتشام حیدر چودھری نے اپنے 22 دسمبر 1971 کے شمارے میں دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوج نے 30 لاکھ افراد اور 200 سے زیادہ دانشوروں کو "وحشیانہ طریقے سے" قتل کیا تھا۔ لیکن جنگ ختم ہونے کے صرف چھ دنوں میں یہ گنتی کس نے کی؟[24]

پربدیش میں احتشام حیدر کا مضمون شائع ہونے کے چند دنوں کے اندر، ایک سوویت اخبار "پراودا" نے 30 لاکھ ہلاکتوں کا یہی نمبر چھاپا۔ اس کے بعد اس نمبر کو اٹھا کر تمام اخبارات میں پھیلا دیا گیا تھا۔[24]

بنگالی بغاوت کے بالکل شروع میں اسد چوہدری نام کا ایک شاعر یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ اس وقت تک پاکستانی فوج 10 لاکھ لوگوں کو قتل کر چکی تھیں اور 40,000 عورتوں کی عصمت دری کر چکی تھیں۔ اس شاعر نے اتنے کم وقت میں گنتی کیسے کی؟ صاف ظاہر ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا تھا۔[24]

دسمبر 1971 تک، مجیب کے عوامی لیگ کے ساتھی جو مارچ 1971 کے بعد انڈیا میں بیٹھے ہوئے تھے، 3 لاکھ ہلاکتوں کی نمبر کو گردش دے رہے تھے وہ بھی بغیر گنتی کے ہوئے۔[24]

ایک یا دو ماہ بعد 7 جنوری 1972 کو، پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے دعوی کیا کہ ہلاکتوں کی تعداد 10 لاکھ تھیں اور کہا کہ جب تک بنگلہ دیشی حکومت اعداد و شمار جمع کرنا شروع نہیں کرتی تب تک یہ "عارضی اعداد و شمار" ہے۔[24]

انٹرویوز میں بھارتی جرنیلوں ارورہ اور سیم مانکیشا نے 30 لاکھ ہلاکتوں کی تعداد سے اتفاق نہیں کیا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ صرف دس لاکھ لوگ مرے تھے۔ انھوں نے 10 لاکھ ہلاکتیں کے تخمینہ کے لیے بھی کوئی معاون ثبوت پیش نہیں کیا۔ ثبوت کے لیے انھوں نے صرف دعوی کیا کہ یہ ایک "معروف حقیقت" ہے۔[24]

ہندوستانیوں نے اس نچلے تخمینہ کو چھپے انداز میں آگے بڑھایا تھا تاکہ اگر کسی کو 30 لاکھ ہلاکتوں کے مضحکہ خیز دعوے پر شک ہو تو وہ کم تخمینہ کے طور پر اس ہندوستانی نمبر (10 لاکھ) تک واپس آجائیں گے۔[24]

بنگالی پروفیسر ڈاکٹر عبد المومن چودھری کہتے ہیں: "اس دھوکا دہی نے کس طرح کامیابی سے کام کیا اس کی ایک مثال اس وقت دیکھی جا سکتی ہے جب (صحافی) اوریانا فلاسی نے اسے مؤثر طریقے سے قبول کیا تھا اسی وقت جب اس نے مجیب کے دعویٰ کردہ تیس لاکھ ہلاکتوں کی تعداد کو مسترد کر دیا تھا۔ پھر بھی، حتمی نتیجہ وہی رہا۔ پاک فوج پر نسل کشی کا الزام لگا رہا۔"[24]

لیو روز اور رچرڈ سیسن نے بھی ایسا ہی تجربہ کیا جب انھوں نے 1971 میں ملوث دو ہندوستانی اہلکاروں کا انٹرویو کیا تھا۔ ایک بھارتی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ 1971 میں 300,000 ہلاکتیں ہوئیں تھیں۔ اس کے ساتھی نے پھر اسے ناپسندیدگی سے دیکھا، تو پھر اس بھارتی اہلکار نے اپنے دعوے کو 5 لاکھ ہلاکتوں میں تبدیل کر دیا۔ لیکن انھوں نے بغیر سوچے سمجھے یہ دونوں اندازے دیے تھے ہلاکتوں کی کوئی گنتی کیے بغیر۔[24]

اگر 1971 میں 10 لاکھ ہلاکتیں ہوتیں تو ہر 1000 افراد میں سے 14.385 ہلاکتیں ہوتیں۔ اس وقت مشرقی پاکستان میں 68,385 گاؤں تھے۔ اگر ہم کہتے ہیں کہ 10 لاکھ لوگ مرے تھے تو ہر بنگالی گاؤں میں 15 ہلاکتیں ہوتیں۔ لیکن بنگالی پروفیسر ڈاکٹر ایم عبد المومن چودھری کا کہنا ہے کہ "بنگلہ دیش میں بہت کم لوگ اپنے مقامی علاقوں میں ہونے ولی ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں اپنے علم کو اتنی اعداد و شمار سے ملا سکتے ہیں"۔[24]

مثال کے طور پر، ڈاکٹر عبد المومن چودھری نے ایک مولانا کا حوالہ دیا جنھوں نے کہا کہ اپنے گاؤں کے علاوہ، وہ بہت سے گاؤں (اپنے آبائی ضلع میں) کے نام بتا سکتے ہیں جہاں ایک بھی شخص ہلاک نہیں ہوا تھا۔[24]

ڈاکٹر عبد المومن چودھری نے اس کے بعد بنگلہ دیشی وزیر کی مثال بھی پیش کی جس نے جھوٹ بولا کہ اس کے گاؤں میں 137 لوگ مارے گئے ہیں۔ اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ بڑے پیمانے پر قتل کے بارے میں جھوٹے اور مبالغہ آمیز دعوے بھی کیے گئے تھے۔[24]

صحافی ولیم ڈرمنڈ نے 1972 میں کہا کہ بنگلہ دیش کے دیہات میں کسی ایسے شخص کو تلاش کرنا بہت مشکل تھا جس نے قتل کا مشاہدہ کیا ہو یا جس کا رشتہ دار مارا گیا تھا۔[41]

اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی قتل نہیں ہوا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اتنی زیادہ نہیں تھیں جتنی بنگلہ دیشیوں نے دعویٰ کیا تھا ورنہ بنگلہ دیش میں ایسے لوگوں کی تعداد زیادہ ہوتی جن کے رشتہ دار مارے گئے تھے۔

1972 میں مارکس فرانڈا نے دیکھا کہ ہر ایک علاقے میں عوامی لیگ نے 3 سے 10 گنا ہلاکتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔[42]

1973 میں ایک اور مغربی صحافی، پیٹر گل، نے اخبار Daily Telegraph میں کہا تھا کہ: "شیخ مجیب کا یہ دعویٰ کہ ان 10 مہینوں میں تیس لاکھ بنگالی ہلاک ہوئے، اگر 50 گنا یا 60 گنا نہیں تو کم از کم 20 گنا بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی ہے۔"[24]

بنگالیوں پر یہ بوجھ ہے کہ وہ شروع سے ہی مرنے والوں کی گنتی کریں اور 1971 میں ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد و شمار کو ثابت کریں جن کا وہ قیاس آرائیوں کی بنیاد پر دعویٰ کرتے ہیں۔

6 جون 1972 کو صحافی ولیم ڈرمنڈ نے اخبار گارڈین ("دی مسنگ ملینز") میں اپنے مضمون میں بتایا کہ جب سے مارچ 1972 میں بنگلہ دیشی وزارت داخلہ نے اپنا فیلڈ تحقیقات کا کام شروع کیا ہے تب سے پاکستانی فوج کے ہاتھوں ہونے ولی ہلاکتوں کے بارے میں شہریوں کی طرف سے صرف 2000 کے قریب شکایات موصول ہوئی ہیں۔[24]

مجیب نے دو حقائق تلاش کرنے والی ٹیمیں بھی تشکیل دی تھیں جن سے اسے امید تھیں کہ وہ ان کے بیان کردہ 30 لاکھ ہلاکتوں کے دعوے کی تصدیق کریں گی۔ انھوں نے اپنی پارٹی کے کارکنوں اور اپنی آئین ساز اسمبلی (MCAs) کے اراکین سے کہا کہ وہ ہر ضلع، سب ڈویژن اور تھانہ میں زمینی سطح سے ہلاکتوں کے اعداد و شمار جمع کریں۔[24]

جب MCA کی رپورٹ کا نتیجہ مجیب کو پیش کیا گیا تو کہا جاتا ہے کہ وہ مایوس ہو گیا تھا کہ یہ اعداد و شمار بہت کم تھے اور اس کے لیے یہ شرمناک بھی تھا کیونکہ اس نے اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا دعویٰ کیا تھا۔[24]

ان کی دوسری فیکٹ فائنڈنگ باڈی، انکوائری کمیٹی بھی انھیں مطمئن کرنے میں ناکام رہی۔ بنگلہ دیشی sources کے مطابق اس کی مسودہ رپورٹ میں مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 56,743 بتائی گئی ہے۔ جب مجیب کو رپورٹ دکھائی گئی تو غصے میں آگئے کیونکہ ہلاکتوں کی یہ تعداد اس کے لیے بہت کم تھیں اور اس نے رپورٹ چھپوانے کا حکم دیا۔[24]

ڈاکٹر عبد المومن چودھری نے مجیب کے ایک قریبی دوست کا حوالہ دیا جس نے صرف اپنے ضلع نواکھلی میں ہلاکتوں کی تعداد گننے کے لیے مختلف تھانوں اور یونینوں سے رابطہ کیا تھا۔ اس نے 7,500 ہلاکتیں پائی۔ مرنے والوں میں سے کم از کم 500 رزاقار تھے۔ (بنگالی علیحدگی پسندوں کے خلاف پاکستان کے لیے لڑنے والے مقامی لوگوں کے لیے "رزاقار" کا لقب استعمال کیا جاتا تھا)۔[24]

اس وقت مشرقی پاکستان/بنگلہ دیش میں 19 اضلاع تھے اور سبھی تشدد سے یکساں طور پر متاثر نہیں ہوئے تھے۔ نواکھلی ان علاقوں میں سے ایک تھا جہاں شدید لڑائی ہوئی تھیں۔ لیکن اگر ہم نواکھلی کو ہر ضلع کے اوسط کے طور پر لیں تو مشرقی پاکستان میں ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 125,000 سے زیادہ نہیں ہوگی۔[24]

ایسا کوئی حقیقی سروے نہیں ہے جو کل 1 لاکھ ہلاکتوں سے زیادہ کی تعداد کی تائید کرتا ہو۔

1976 میں ایک ڈائریا ریسرچ سینٹر نے بنگلہ دیش میں متلب بازار کے علاقے میں آبادی کا سروے کیا تھا۔ اس نے وہاں 868 اضافی اموات پائی اور اس نمبر کو پورے ملک کے علاقوں کے اوسط کے طور پر استعمال کیا۔ اسی بنیاد پر اس مطالعہ نے 1971 کی جنگ میں تقریباً 5 لاکھ اموات کا تخمینہ لگایا تھا۔ اس تحقیق کی بنیاد پر برٹش میڈیکل جرنل نے 1971 میں ہلاکتوں کی تعداد 125,000-505,000 رکھی تھیں۔[42]

تاہم، جب ہم متلب میں آبادی کے اس سروے کو زیادہ قریب سے دیکھتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ان اضافی اموات کا بڑا حصہ قحط، بھوک اور بیماری کی وجہ سے تھا۔ اس سروے سے فوراً پہلے کے سالوں میں قحط ہوا تھا، سیلاب آیا تھا اور ایک بڑا طوفان آیا تھا۔ ان 868 "اضافی" اموات میں سے 571 بچوں کی تھیں اور 230 اموات 45 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کی تھیں۔ ان اضافی اموات میں سے صرف 5 فیصد مردوں کی تھیں جن کی عمریں 15-44 کے درمیان تھیں۔ اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ فوج نے یہاں (متلب میں) بہت کم لوگوں کو مارا ہو گا کیونکہ ان کے زیادہ تر ہدف جسمانی طور پر قابل مرد تھے۔[42]

سرمیلا بوس نے زمینی سطح کے مطالعے کے ساتھ ساتھ عینی شاہدین کے بیانات سے بھی مشاہدہ کیا ہے کہ پاک فوج کا سب سے بڑا ہدف جسمانی طور پر قابل مرد تھے۔ اپنے فیلڈ اسٹڈی میں سرمیلا بوس کو بنگالی عینی شاہدین نے بتایا کہ پاکستانی فوجی خواتین اور بچوں کو نہیں مارتے تھے بلکہ صرف مردوں کو نشانہ بناتے تھے۔[27]

سرمیلا بوس نے اپنی کتاب "ڈیڈ ریکوننگ" میں لکھا ہے کہ وہ جہاں بھی گئی تھیں، قتل عام میں بچ جانے والوں سے تفتیش کرنے کے لیے، وہاں کے عینی شاہدین نے انھیں بتایا تھا کہ پاکستانی فوج نے صرف بالغ مردوں کو مارا تھا اور عورتوں یا بچوں کو نہیں مارا تھا۔[27]

اس لیے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ متلب کے علاقے میں فوج کے ہاتھوں بہت کم ہلاکتیں ہوئیں۔ یہ اضافی اموات ظاہر ہے کہ زیادہ تر بھوک اور بیماری سے ہوئیں تھیں۔ اس لیے British Medical Journal کا 5 لاکھ کا تخمینہ درست نہیں ہے۔

لیکن یہ صرف سرمیلا بوس کی تحقیق نہیں ہے کہ پاکستانی فوج بنیادی طور پر مردوں کو نشانہ بنا رہی تھیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بنگلہ دیشی محقق ڈاکٹر چودھری شاہد قادر جو جگناتھ یونیورسٹی سے ہیں، نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں صرف ایک چھوٹی اقلیت خواتین کی تعداد تھیں۔[43]

اس کے علاوہ، ڈاکٹر چودھری شاہد قادر کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں جینوسائیڈ میوزیم نے 1971 میں قتل عام کے ہر اس واقعے پر کتابیں شائع کیں جن پر انھوں نے تحقیق کی تھیں، (پروفیسر منتصر مامون کی ادارت میں)۔ اس اشاعت کا عنوان "Genocide Index Series" ہے۔ ڈاکٹر چوہدری شاہد قادر نے کہا ہے کہ انڈیکس میں قتل عام (جسے وہ "نسل کشی" کہتے ہیں) پر 100 کتابیں شائع کی گئی ہیں۔ ہر کتاب قتل عام کے ایک مخصوص واقعے کے بارے میں ہے۔[43]

ڈاکٹر چودھری شاہد قادر کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق عینی شاہدین، متاثرین اور مقتولین کے رشتہ داروں کے انٹرویوز پر مبنی ہے۔ ڈاکٹر چوہدری شاہد قادر "Genocide Index Series" کے ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں اپنے مضمون میں۔[43]

ڈاکٹر چوہدری شاہد قادر نے دعویٰ کیا کہ انڈیکس سیریز سے پتہ چلتا ہے کہ ان 100 واقعات میں تقریباً 50,000 شہری مارے گئے تھے۔ لیکن پھر ان کا دعویٰ ہے کہ صرف 5,013 افراد کی شناخت ہوئی ہے اور ان کی موت کی تصدیق ہوئی ہے۔ (میری نظر میں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محققین اور مصنفین ان 5,013 افراد کے علاوہ لوگوں کی موت کو ثابت نہیں کر سکتے)۔[43]

بہرحال، ان معلومات کی بنیاد پر ڈاکٹر چودھری شاہد قادر نے اعتراف کیا کہ قتل ہونے والے 5,013 افراد میں سے صرف 178 خواتین تھیں۔ یعنی ہلاک ہونے والوں میں سے صرف 3-4 فیصد خواتین تھیں۔ ڈاکٹر چودھری شاہد قادر نے غیر ارادی طور پر یہاں سرمیلا بوس کی تحقیق کی تصدیق کی۔[43]

ایک بنگلہ دیشی کرنل نے بنگلہ دیشی پارلیمنٹ میں دعویٰ کیا کہ 3 لاکھ جنگ زدگان نے معاوضے کا دعویٰ کیا تھا۔ لیکن ڈاکٹر عبد المومن چودھری نے عوامی لیگ کے رہنما عبدالمحیمین کا حوالہ دیا جنھیں بنگلہ دیشی وزارت خزانہ نے بتایا تھا کہ جنگ کے متاثرین کے لیے صرف 72,000 معاوضے کے دعوے کیے گئے تھے۔ اور ان میں سے بہت سے معاوضے کے دعوے جھوٹے دعوے تھے۔[24]

ان میں سے 50,000 دعویداروں کو اعلان کردہ رقم سے نوازا گیا تھا۔ لیکن ڈاکٹر عبد المومن چودھری نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ تمام لوگ فوج کے ہاتھوں نہ مارے گئے ہوں۔ ڈاکٹر عبد المومن چودھری نے نشان دہی کی کہ بہت سے بنگالی ہندوستانی مہاجر کیمپوں میں بھی مر گئے تھے۔[24]

یاد رہے کہ یہ 50,000 لوگ شاید زیادہ تر معصوم شہری بھی نہیں تھے۔ حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ میں ہلاکتوں کی زیادہ قابل اعتماد تعداد کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فوج کی کارروائی کے دوران زیادہ سے زیادہ 26,000 لوگ مارے گئے تھے۔

حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ میں ہلاکتوں کی تعداد کا تخمینہ سب سے زیادہ قابل اعتماد ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ پاکستانی فوج پر تنقید کرتی ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑی وجہ یہ ہے کہ حمود الرحمٰن کمیشن نے اپنے تخمینے کی بنیاد پاک فوج کی فیلڈ رپورٹس پر رکھی تھیں جو 1971 میں سقوط ڈھاکہ سے پہلے لکھی گئی تھیں - یہ وہ وقت تھا جب پاک فوج کو معلوم نہیں تھا کہ ان کا احتساب کیا جائے گا۔

پاکستانی فوج کا ڈیٹا (اس وقت سے جب اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کا احتساب ہوگا) درست اعداد و شمار ہوں گے کیونکہ فوج ہی اصل میں زمین پر تھیں اور وہ آپریشن کر رہی تھیں جس کے دوران ہلاکتیں ہوئیں تھیں۔

اس اندازے کے مطابق 26,000 ہلاکتوں میں باغی بھی شامل تھے اور ممکنہ طور پر عام شہری بھی شامل تھے جنھیں غلطی سے باغی تصور کیا گیا تھا۔

صدیق سالک نے لکھا ہے کہ ایک پاکستان سے محبت کرنے والا بنگالی سیاست دان پاک فوج کے پاس آیا تھا بنگالی باغیوں کے خلاف شکایت کرنے جن کے بارے میں اس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ کرانی گنج نامی جگہ پر مرکوز ہیں۔ اس کے بعد فوج نے اس علاقے پر بمباری کی، یہ سوچ کر کہ وہ باغیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ جب پاکستانی فوجی افسر کو پتہ چلا کہ یہ لوگ بے گناہ شہری ہیں تو انھوں نے بریگیڈیئر صدیق سالک سے نجی گفتگو میں شدید پچھتاوا اور افسوس کا اظہار کیا۔[17]

اس وقت بین الاقوامی میڈیا بہت بھونڈے تھے اور بنگالیوں کی طرف سے کہی جانے والی کسی بھی کہانی کو تسلیم کر لیتے تھے۔[44] (لوگ فطری طور پر اس پارٹی سے ہمدردی رکھتے ہیں جو کمزور نظر آتی ہے۔ اور بنگالی مغربی پاکستانیوں کے مقابلے میں جسمانی طور پر کمزور تھے۔ اور دنیا کی نظر میں بنگالی جمہوریت کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔)

مثال کے طور پر صحافی سڈنی شینبرگ نے لکھا کہ اجتماعی قبروں میں لاکھوں لاشیں تھیں۔ وہ صحافی وہی کچھ دہرا رہا تھا جو اس نے بنگالیوں سے سنا تھا، اس معلومات کی تصدیق کیے بغیر۔ بنگالی وہی لوگ تھے جو بہاری اجتماعی قبروں کی تصویریں پاکستان آرمی کے ہاتھوں مارے جانے والے بنگالیوں کی تصویروں کے طور پر پیش کر رہے تھے۔

سرمیلا بوس، جو خود بنگالی ہیں، کہتی ہیں کہ بنگالیوں میں افواہیں پھیلانے کی عادت ہے۔ وہ اپنی کتاب "ڈیڈ ریکوننگ" میں کہتی ہیں کہ "بنگالی حیرت انگیز ریکونٹیرز ہیں اور افواہیں ان میں تیزی سے اڑتی ہیں۔"[27]

جب بنگالیوں نے جیسور شہر میں پنجابی تاجروں کو قتل کیا تو "New York Times" اور "Washington Post" جیسے معتبر اخبارات نے ان کی لاشوں کی تصویر اس دعوے کے ساتھ شائع کی کہ وہ بنگالی شہری ہیں جنھیں پاک فوج نے قتل کیا تھا۔ انھوں نے اپنی معلومات کے لیے مشرقی پاکستانی "sources" کا حوالہ دیا۔ یہ سچ کہ بنگالیوں کے ہاتھوں یہ پنجابیوں کا قتل عام تھا عینی شاہدین نے رپورٹ کیا اور یہ بات Times اور Sunday Times جیسے اخبارات میں شائع ہوئی تھیں۔ یہ ایک مثال ہے کہ بنگالیوں نے اپنے پروپیگنڈے کے لیے غیر بنگالیوں کی لاشوں کا غلط استعمال کیا تھا۔[45]

1972 میں مغربی صحافی ولیم ڈرمنڈ نے "پورے بنگلہ دیش میں اجتماعی قبروں" کے دعوے کے بارے میں لکھا کہ پاکستان سے نفرت کرنے والے سب سے زیادہ "پاگل" نے بھی ابھی تک یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ان سب میں مجموعی طور پر 1000 لاشیں ہیں۔ اور اس نے مزید نشان دہی کی کہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ یہ تمام لاشیں بنگالیوں کی تھیں۔ولیم ڈرمنڈ نے کہا کہ وہ بہاری لاشیں بھی ہو سکتی ہیں۔[24]

بنگالی کے حامی صحافی انتھونی مسکارنہاس نے ہلاکتوں کے تخمینے بتائے تھے جن کے بارے میں سرمیلا بوس نے دریافت کیا کہ وہ جھوٹے تھے یا انتہائی مبالغہ آرائی پر مبنی تھے۔ سرمیلا بوس نے یہ معلومات اپنے زمینی معائنہ اور زندہ بچ جانے والوں کے ساتھ سائٹ کے دورے میں دریافت کیں۔[27]

1971 میں اس وقت تنازع کی کوریج کرنے والے صحافیوں میں یہ ایک عام مسئلہ تھا۔ وہ بنگالیوں سے سنی ناقابل تصدیق افواہیں پھیلا رہے تھے اور انھیں حقیقت کے طور پر اپنے مہر لگا رہے تھے، حالانکہ صحافیوں نے خود اکثر کچھ بھی نہیں دیکھا ہوتا تھا۔ مارٹن وولاکوٹ جنھوں نے 1971 کی جنگ کا کوریج کیا تھا نے بھی اعتراف کیا تھا کہ "زیادہ تر صحافیوں کو دوسروں کے اکاؤنٹس پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔"[44]

1971 میں ہونے والے مظالم کے بارے میں جو بھی معلومات دستیاب ہیں اسے انتہائی شکوک و شبہات کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔

کتاب "Second Thoughts on Bangladesh" (جس کی تدوین بنگالی مصنف مطیع الرحمان نے کی تھیں) کے گمنام بنگالی مصنف نے 1971 میں پاکستانی فوج کے خلاف جنگ لڑی تھیں۔ بعد میں، انھوں نے یہ کتاب لکھی جس میں انھوں نے پاکستان سے علیحدگی کے بعد بنگلہ دیشی مسلمانوں کے خراب معاشی اور سماجی حالات کے بارے میں لکھا۔ اس کتاب میں مصنف نے ذکر کیا ہے کہ ہندوستانی میڈیا نے انتہائی مبالغہ آمیز پروپیگنڈا پھیلایا تھا۔[28]

مصنف نے کہا کہ اس ہندوستانی پروپیگنڈے کے اثر سے بہت سے بنگالی ہندوستان میں پناہ گزین بن کر چلے گئے۔ مصنف نے ذکر کیا ہے کہ کئی ہندوستانی خبریں تھیں جو مکمل من گھڑت تھیں۔ مثال کے طور پر "آنندا بازار جگنتر" جیسے اخبارات نے جیسور کے ڈپٹی کمشنر (ابوالفضل چودھری) اور دیگر اعلیٰ سطحی بنگالی اہلکاروں کے بارے میں ایک خبر شائع کی کہ وہ پاکستانی فوج کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ لیکن ابوالفضل چودھری سمیت وہ اہلکار 1971 کی جنگ کے بعد بھی زندہ تھے۔[28]

ایک اور مثال میں، ہندوستانی اخبارات نے دعویٰ کیا کہ تسلیم الدین احمد (ضلع دیناج پور کے ٹھکرگاؤں کے ایس ڈی او) کو پاکستانی فوج نے ہلاک کیا تھا۔ لیکن تسلیم الدین 1971 کی جنگ کے بعد بھی زندہ تھے۔[28]

ایک اور مثال یہ ہے کہ ہندوستانی اخبارات نے دعویٰ کیا کہ جیسور کے سینٹ جوزف اسکول کے نوعمر بچوں کو پاکستانی فوج نے اس لیے مارا کہ انھوں نے "جوئے بنگلہ" کا نعرہ لگایا تھا۔ لیکن "Second Thoughts on Bangladesh" کے مصنف کا کہنا ہے کہ اس اسکول میں کبھی ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔[28]

اور جیسے کہ بنگالی ماہر تعلیم ڈاکٹر عبدالموہیمین چودھری نے دیکھا ہے، بنگالی بھی اپنے ہی گاؤں میں ہلاکتوں کے بارے میں جھوٹ بول رہے تھے۔[24]

عصمت دری کے بارے میں پروپیگنڈا اور بنگالی خواتین کی جسم فروشی

[ترمیم]

ایسے الزامات بھی لگائے گئے ہیں کہ پاکستانی فوج نے منظم طریقے سے بنگالی خواتین کی عصمت دری کی تھیں۔

فوج کی طرف سے ایسے جرائم کرنے کی کوئی پالیسی نہیں تھیں۔ بنگالیوں کے ہاتھوں ہونے والی زیادتیوں کے بعد پاکستانی فوج کا نظم و ضبط ٹوٹ چکا تھا۔[21] بنگالیوں کے ہاتھوں بے پناہ ذلت کا سامنا کرنے کے بعد، وہ بنگالیوں کی جان اور عزت کا احترام کرنے سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔[23] بریگیڈیئر کرار نے اپنی کتاب میں بتایا ہے کہ کس طرح آپریشن سرچ لائٹ سے پہلے بنگالی مردوں کے ہاتھوں مسلمان غیر بنگالی عورتوں کی عصمت دری نے مغربی پاکستانی فوجیوں کو صدمہ پہنچایا تھا۔[35]

یہی وہ چیز تھیں جس نے انھیں بنگالیوں سے بدلہ لینے پر مجبور کیا جب مغربی پاکستانی فوجیوں نے آپریشن سرچ لائٹ کے آغاز پر زندہ بچ جانے والی غیر بنگالی لڑکیوں کو ان کے بنگالی عصمت دری کرنے والوں اور اغوا کاروں سے بچایا تھا۔ بنگالیوں نے یہ جرائم اس لیے کیے تھے کیونکہ وہ غیر بنگالیوں کے خلاف نسلی تعصب رکھتے تھے۔

اس تعصب کی ایک اور مثال یہ ہے کہ جنرل خادم حسین راجا نے ذکر کیا ہے کہ 1960 کی دہائی میں بنگالی دکان دار بنگالی گاہکوں کو ترجیح دیا کرتے تھے پنجابی یا بہاری گاہکوں کے اوپر۔ اور وہ اردو میں سائن بورڈ برداشت نہیں کرتے تھے۔ یعنی 1970 اور 1971 سے پہلے بھی بنگالیوں میں غیر بنگالیوں کے خلاف اتنا نسلی تعصب تھا۔[16]

بہرحال، فوجیوں اور افسروں کی ایک چھوٹی سی تعداد نے اس بڑے سے علاقے میں گشت کرنے کے لیے اور مارشل لا کے فرائض انجام دینے کے لیے اور انسداد بغاوت کی کارروائیوں کرنے کے لیے کوشش کی تھیں۔ نتیجتاً یونٹس ایک دوسرے سے الگ تھلگ ہو گئے تھے اور پاکستان آرمی کی بہت سی کمان ٹوٹ چکی تھیں۔

اس بات کا مزید ثبوت کہ عصمت دری کرنے کے لیے اعلیٰ افسران کی طرف سے کوئی پالیسی یا حکم نہیں تھا، بریگیڈیئر عبد الرحمٰن صدیقی کی کتاب میں پایا جا سکتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ان کے ایک بنگالی دوست نے دراصل پاک فوج کے سینئر افسران کی تعریف کی، جب کہ وہ بنگالی دوست فوج کے جونیئرز سے ناخوش تھے۔[23] یہ نظم و ضبط اور فوج کی کمان میں ٹوٹ پھوٹ کو ظاہر کرتا ہے۔

حتیٰ کہ حمود الرحمن کمیشن جس نے فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا وہ بھی اپنی مین رپورٹ میں کہتا ہے کہ ان جرائم کے ارتکاب کے لیے کوئی یکساں پالیسی یا ہدایات نہیں تھیں اور ایسے مقدمات بھی اس کے علم میں لائے گئے جہاں ایسے جرائم کرنے والوں کو سزائیں دی گئیں تھیں۔ اپنی ضمنی رپورٹ میں، حمود الرحمن کمیشن نے نوٹ کیا کہ اگرچہ اس بات کے شواہد موجود تھے کہ جنرل نیازی کے الفاظ اس انداز میں کہے گئے تھے تاکہ قتل اور عصمت دری کرنے کے لیے حوصلہ افزائی ہو، لیکن اس بات کے بھی شواہد موجود تھے کہ جنرل ٹکا خان (ظلم کے بارے میں) شکایات کا ازالہ کرتے تھے اور وہ تادیبی کارروائی بھی کرتے تھے۔[21]

حمود الرحمن کمیشن نے نوٹ کیا کہ ایسے وقت بھی آئے جب جنرل نیازی نے تشدد یا غیر اخلاقی حرکت کے خلاف وارننگ دی تھیں۔ جنرل راؤ فرمان علی بھی مشرقی پاکستان میں ایک جرنیل تھے جنھوں نے ایسے جرائم کی مخالفت کی تھیں۔ جنرل راؤ فرمان علی نے حمود الرحمان کمیشن کو بتایا کہ انھوں نے جنرل ٹکا خان کے دستخط کے تحت مقامی لوگوں کے دل جیتنے کے لیے ان کے ساتھ اچھے برتاؤ کے لیے تحریری ہدایات دیں تھیں۔[21]

اس کے علاوہ، جنرل خادم حسین راجا جو آپریشن سرچ لائٹ کے منصوبہ سازوں میں سے ایک تھے کہتے ہیں کہ ایک بار جب جنرل نیازی نے غصے میں بنگالی خواتین کے بارے میں بری زبان استعمال کی تو پاک فوج کے دیگر افسران ان کے نازیبا باتوں پر ناخوش ہو گئے تھے۔[16]

تاہم، کچھ لوگ جنرل خادم حسین راجا کی کتاب کا حوالہ صرف اس لیے دیں گے تاکہ وہ بنگالی خواتین کے بارے میں جنرل نیازی کے ریمارکس دکھا سکے۔ لیکن وہ یہ نہیں بتائیں گے کہ جنرل خادم حسین راجا نے ذکر کیا کہ اس واقعے میں دیگر پاکستانی فوجی افسران نے جنرل نیازی کے ریمارکس کی مخالفت کی تھیں۔

کیونکہ ان شرپسندوں نے اگر ایسا کیا تو ان کا یہ مفروضہ غلط ثابت ہو گا کہ 1971 میں ہونے والی عصمت دری منظم طریقے سے کی گئی تھیں۔ کہ پاکستانی فوج میں بنگالی خواتین کے لیے کافی ہمدردی تھی اس کا اندازہ بریگیڈیئر صدیق سالک کے اکاؤنٹ میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ بریگیڈیئر صدیق سالک نے لکھا ہے کہ انھوں نے ایک بنگالی خاتون سے ملاقات کی اور انھوں نے اس خاتون سے معافی مانگی کیونکہ "بروٹس" پچھلی رات اس کی بہن سے ملنے گئے تھے۔[17]

اس حقیقت کہ پاکستانی فوجیوں اور افسروں کی عصمت دری کے بارے میں مختلف خیالات اور رد عمل تھے، سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1971 میں بنگالی خواتین کی عصمت دری منظم نہیں تھی۔ تاہم، ہم بریگیڈیئر کرار علی آغا سے جانتے ہیں کہ بنگالیوں کے ہاتھوں مسلمان غیر بنگالی لڑکیوں کی عصمت دری دیکھ کر بہت سے پاکستانی فوجی اور افسر اپنے جذبات پر قابو کھو بیٹھے تھے اور وہ بدلہ لینا چاہتے تھے۔[35]

حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ میں پاکستانی فوجیوں کو 1971 میں جنسی بے حیائی کے مرتکب ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ لیکن حمود الرحمن کمیشن کی سربراہی کرنے والے بنگالی جج جسٹس حمود الرحمن نے بنگالی خواتین کے بے حیا اور برے کردار کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں کہا اگرچہ حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ نے تسلیم کیا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یحییٰ خان کے خواتین کے ساتھ تعلقات کا کوئی اثر پڑا تھا ان کے مشرقی پاکستان کے ساتھ کام پر۔[21]

یاسمین سائقیہ کہتی ہیں کہ پاکستانی فوج کے افسران نے انھیں بتایا کہ ان کی بنگالی گرل فرینڈز اور بنگالی خواتین کے ساتھ رضامندی کے تعلقات تھے۔[46][47] ایک فوج کہ افسر نے یاسمین سائقیہ کو بتایا کہ اس کے ایک شادی شدہ بنگالی عورت (جو اس کی گرل فرینڈ تھیں) کے ساتھ تعلقات تھے۔ اس افسر نے شکایت کی کہ اس طرح کی خواتین اب دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی تھیں۔[46][47] لیکن یاسمین سائقیہ نے مردوں کی ان شہادتوں کو مسترد کرنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ وہ مردوں کے خلاف (اپنے حقوق نسواں کا تعصب) رکھتی تھیں۔ لیکن یاسمین سائقیہ عورتوں کی طرف سے سنائی گئی عصمت دری کی کہانیوں پر یقین رکھتی تھیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس نے ایک متوسط ​​طبقہ بنگالی خاتون کی گواہی ریکارڈ کی جو کہتی ہے کہ اسے پاکستانی فوجیوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا لیکن اسی خاتون نے اس سے گزرتے ہوئے ذکر کیا کہ اس کی بہن اپنی مرضی سے پاکستانی فوجی افسران کے ساتھ سوتی تھیں۔[46][47]

درحقیقت وہی عورت جو دعویٰ کر رہی تھیں کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے, اس نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اس کے پاکستانی فوج کے کیپٹن اور دوسرے مردوں کے ساتھ رومانوی تعلقات تھے۔[46][47] اس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ پاکستانی مردوں نے یاسمین کو بنگالی خواتین کے ساتھ اپنے متفقہ تعلقات کے بارے میں جو کچھ بتایا وہ سچ تھا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ یاسمین سائقیہ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا ہے اور اس طرف توجہ نہیں دی کیونکہ وہ صرف خواتین کا رونا دھونا سننا چاہتی تھیں۔ سرمیلا بوس جو ایک زیادہ غیر جانبدار بنگالی محقق ہیں، نے ان شہادتوں کو مسترد نہیں کیا لیکن پاکستانی فوجی افسران کی شہادتوں کو نوٹ کیا جنھوں نے انھیں جسم فروشی کے بارے میں بتایا تھا۔[48]

پاکستانی فوج کے مخالف طارق رحمان نے لکھا ہے کہ پاکستانی فوج کے افسران نے انھیں بتایا کہ متوسط ​​طبقہ کی بنگالی خواتین نے بھی اپنے جسم پیسوں کے عوض دستیاب کرائے تھے۔[49] یاد رہے کہ متوسط ​​طبقہ کی عموماً مسلم معاشروں کا سب سے قدامت پسند طبقہ ہوتا ہے۔ متوسط ​​طبقہ کی خواتین عام طور پر زیادہ شریف ہوتی ہیں اور سب سے زیادہ پردہ کرتی ہیں۔ میجر افتخار بھٹی نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ ایک بار ایک برقع پوش بنگالی خاتون نے انھیں جنسی تعلقات کے لیے مائل کرنے کی کوشش کی تھیں۔[13] درحقیقت میجر افتخار بھٹی نے بنگالی معاشرے میں برائیوں کے بارے میں اپنے مشاہدات کی کئی مثالیں لکھی ہیں (خاص طور پر وہاں کی عورتوں کے بے شرم کردار کے بارے میں)۔[13]

طارق رحمٰن نے کرنل نادر علی کے ساتھ اپنے انٹرویو کا حوالہ بھی دیا ہے جو پاک فوج کے ایک اور مخالف تھے۔ کرنل نادر علی نے مشرقی پاکستان میں بنگالی خواتین کی جسم فروشی کا اعتراف کیا لیکن اس کا الزام جنگ سے پیدا ہونے والی غربت پر ڈال دیا،[49] تاہم بنگلہ دیش آج بھی جسم فروشی کے لیے مشہور ہے اور بنگلہ دیش میں جسم فروشی کی اب بھی قانونی اجازت ہے۔ بنگلہ دیشی پروفیسرز نے 1996 میں سروے کیا تھا۔ اس سروے کے مطابق، تقریباً 50 فیصد (47 فیصد) شہری غیر شادی شدہ بیگالی لڑکیوں، جن کی عمر 19 سال سے اوپر تھیں، نے زنا کرنے کا اعتراف کیا تھا۔[50]

پاکستانی فوج کے خلاف اس طرح کا تعصب کی وجہ سے حمود الرحمان کمیشن میں خامیاں ہیں۔ پاکستانی معاشرہ پہلے سے ہی عصمت دری کے جرم کے حوالے سے انتہا پسندانہ ذہنیت رکھتا ہے اور حمود الرحمن کمیشن کی جنسی اخلاقیات پر یک طرفہ تبصرہ اس مسئلے کو مزید گھمبیر بنا دیتا ہے۔ مثال کے طور پر میجر جنرل حکیم ارشد قریشی نے کہا ہے کہ جب مشرقی پاکستان میں ایک داڑھی والے سپاہی نے ایک عورت سے جنسی زیادتی کی تو اس نے اس کی داڑھی مونڈ کر سزا دی کیونکہ داڑھی تقویٰ کی علامت ہے۔[31] یہ ایک عام پاکستانی ذہنیت ہے۔ پاکستانی سمجھتے ہیں کہ عصمت دری قتل سے بھی بدتر ہے اور اسلام سے ارتداد کے مترادف ہے۔ ان کے خیال میں عصمت دری کا مرتکب شخص اچھے مذہبی اعمال انجام دینے کے قابل نہیں ہے۔ پاکستانی سمجھتے ہیں کہ عصمت دری ناقابل معافی جرم ہے، گویا یہ اسلام سے ارتداد ہے (اور موت سے پہلے تو اسلام میں ارتداد بھی معاف ہو جاتا ہے)۔ لیکن یہ اسلام کا طریقہ نہیں ہے۔

اگرچہ صحابہ کرام اس امت کے بہترین آدمی ہیں لیکن ایسے صحابہ بھی تھے جنھوں نے زنا بالجبر کا ارتکاب کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کر دیا۔ بیہقی کی سنن الکبریٰ میں ایک روایت ہے کہ بہادر صحابی ضرار بن الأزور رضی اللہ عنہ نے جنگ کے بعد ایک خوبصورت دلہن کی عصمت دری کی تھیں۔

حضرت خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ضرار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو رجم کی سزا سے بچانے کی کوشش کی حالانکہ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دھرار رضی اللہ عنہ کو سنگسار کرنے کا حکم دیا تھا۔ جب رجم سے پہلے ہی حضرت دھیرار رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ دھرار کو رسوا نہیں کرنا چاہتے تھے۔

1971 میں 2 لاکھ ریپ کے دعوے کی تردید

[ترمیم]

غیرت بنگالی مردوں کی فطرت میں نہیں ہے۔ سرمیلا بوس نے لکھا ہے کہ ایک مشاہدہ ہے کہ بنگلہ دیش دوسرے معاشروں سے الگ ہے جہاں جنگی عصمت دری ہوئی ہے کیونکہ بنگالی مرد اپنی خواتین کی عصمت دری کے بارے میں بہت زیادہ آواز اٹھاتے ہیں جب کہ دوسرے معاشروں میں، جیسے کہ مغربی پاکستان کے معاشرے میں، مرد خاموش رہتے ہیں اپنی عورتوں کے بارے میں۔[48]

اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ 1971 میں خواتین کے ساتھ ریپ ہوا تھا، لیکن ہمیں ان خواتین کی تعداد نہیں معلوم۔ بنگالی خواتین کے ساتھ عصمت دری کے بارے میں زیادہ تر لٹریچر میں ثبوت بہت کمزور ہیں، خاص طور پر مقبول نمبروں کے بارے میں۔

یہ تصور کہ جن خواتین کی عصمت دری کی گئی ان کی تعداد 200,000-400,000 تھیں آسٹریلیائی سرجن ڈاکٹر جیفری ڈیوس کے دعوے سے شروع ہوا تھا جو 1972 میں اسقاط حمل کرانے کے لیے چھ ماہ کے لیے بنگلہ دیش گئی تھے۔ انھوں نے اندازہ لگایا کہ 470,000 خواتین کی عصمت دری کی گئی اور 200,000 حاملہ ہوئیں۔ یہ دعویٰ کہ حمل کی شرح تقریباً 50 فیصد تھیں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈاکٹر جیفری جھوٹ بول رہے تھے۔ بنگلہ دیشی ماہر تعلیم ڈاکٹر ایم عبد المومن چودھری نے کہا ہے کہ خواتین کی فزیوگنومی میں کم از کم تربیت رکھنے والے کو معلوم ہوگا کہ حاملہ ہونے کی شرح 20-25 فیصد ہوتی ہے۔ ڈاکٹر عبد المومن چودھری بھی حیران تھے کہ یہ سب خواتین کہاں ہیں؟ بنگلہ دیشی ہونے کے باوجود وہ کسی ایسی عورت کو نہیں جانتا تھا جس کی عصمت دری کی گئی ہو 1971 میں۔[24]

اپنی ڈائری The Changing Face of Genocide -Bangladesh" میں جیفری ڈیوس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ جب تک وہ وہاں پہنچا تو 200,000 خواتین میں سے 150,000-170,000 کا اسقاط حمل ہو چکا تھا۔ لیکن یہ دعویٰ 1972 کے نیویارک ٹائمز کے ایک مضمون میں ان کے اپنے پچھلے دعوے سے متصادم ہے کہ 5000 حمل پہلے ہی "خامے" طریقوں سے اسقاط حمل ہو چکے تھے۔[51]

جیفری ڈیوس نے دوسرے جھوٹے دعوے بھی کیے، مثال کے طور پر اس نے کہا کہ بنگلہ دیشی آبادی 9 کروڑ تھیں (لیکن یہ اصل میں 7 کروڑ تھیں)۔ اس نے بینا ڈی کوسٹا کے ساتھ اپنے 2002 کے انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایک دن میں 100 اسقاط حمل کر رہے تھے جب کہ دوسرے قصبوں میں "متغیر تعداد" میں اسقاط حمل ہو رہی تھیں۔ لیکن 1972 کے نیویارک ٹائمز کے ایک مضمون میں جیفری ڈیوس نے کہا کہ اس نے اپنے پہلے مہینے میں ڈھاکہ میں 100 اسقاط حمل کیے جب کہ دوسرے شہروں میں "متغیر تعداد" میں اسقاط حمل ہو رہی تھیں۔

نہ صرف اس کے دعوے ایک دوسرے سے متصادم تھے بلکہ جیفری ڈیوس نے کئی مضحکہ خیز دعوے کیے تھے۔ وہ غلط طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے ایک مضحکہ خیز بڑی تعداد سے اگلے بڑے نمبر پر چھلانگ لگاتا رہا تھا۔ ایک موقع پر، اس نے دعویٰ کیا کہ چونکہ 1.1 ملین خواتین بچے پیدا کرنے کی عمر کی تھیں، یہ سمجھنا مناسب ہے کہ ان میں سے ایک تہائی کی عصمت دری کی گئی تھیں (یہ ایک مفروضہ تھا جس کا کوئی ثبوت نہیں تھا)۔ یعنی یہ قیاس آرائی تھیں اور کوئی حقیقی گنتی نہیں کی گئی تھیں۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہر تھانے میں 1500 حاملہ خواتین تھیں۔[51]

1972 میں بنگلہ دیشی حکام نے یہ غیر مصدقہ دعویٰ کیا کہ مشرقی پاکستان کے 480 تھانوں (پولیس اسٹیشنوں کے دائرہ اختیار) میں سے ہر ایک سے 9 ماہ کے طویل تنازعے میں ہر روز 2 لڑکیاں لاپتہ ہو رہی تھیں۔ تو انھوں نے 2 x 480 x 270 کو ضرب دیا۔ اس طرح انھیں 268,000 کا نمبر ملا۔ اس نمبر سے انھوں نے ان لڑکیوں کے لیے 68,000 (بغیر ثبوت کے) منہا کیے جو "دوسری" وجوہات کی بنا پر لاپتہ ہو سکتی تھیں۔ پھر وہ 200,000 کی تعداد پر پہنچے۔ یہ ایک بے بنیاد طریقہ کار تھا۔ یہ ایک ظاہر بات ہے کہ پاکستانی فوج کے دور میں تھانے اس طرح کا ریکارڈ نہیں رکھتے تھے۔ یہ ایک من گھڑت دعوی تھا۔

ڈاکٹر جیفری ڈیوس کا بے بنیاد دعویٰ اور بنگلہ دیشی حکام کا دعویٰ بنگالی تھانوں کے بارے میں دونوں ہی بنگلہ دیشی صحافی جوہوری (جس کا حوالہ ڈاکٹر عبد المومن چودھری کی کتاب میں ہے)[24] سے متصادم ہے۔ جوہری نے بنگلہ دیش کے مختلف اضلاع میں کم از کم 500 لوگوں سے پوچھا تھا کہ کیا وہ کسی کو جانتے ہیں جس کے ساتھ عصمت دری کی گئی تھیں۔ سب نے "نہیں" میں جواب دیا۔

اس کے خود تضادات، طبی طور پر ناممکن دعووں اور غلط اعدادوشمار سے یہ بات واضح ہے کہ جیفری ڈیوس قابل اعتبار گواہ نہیں ہے۔

"انٹرنیشنل پلانڈ پیرنٹ ہڈ فیڈریشن (آئی پی ایف ایف)" نامی تنظیم کے زیراہتمام امریکی، برطانوی، ہندوستانی، بنگلہ دیشی اور آسٹریلوی سرجنوں (بشمول ڈاکٹر جیفری ڈیوس) کی ایک ٹیم نے بنگلہ دیش میں اسقاط حمل کیے تھے۔

سرجنوں میں سے ایک میلکم پوٹس تھا۔ انھوں نے اپنی کتاب کے پہلے باب میں لکھا ہے کہ یہ "دنیا کی تاریخ میں شاید خواتین کی سب سے بڑے پیمانے پر منظم عصمت دری تھیں"۔ جملہ "شاید"(انگریزی میں "may well") میلکم پوٹس کی اپنی بے یقینی کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن اس کے ذہن میں یہ تاثر کہاں سے آیا کہ یہ تاریخ میں خواتین کی سب سے بڑے پیمانے پر منظم عصمت دری تھیں؟ یہ ان کے آسٹریلوی ساتھی ڈاکٹر جیفری ڈیوس کی طرف سے آیا جو بنگلہ دیش میں سب سے زیادہ عرصے تک رہے تھے۔[52]

میلکم پوٹس کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھی جیفری ڈیوس نے "تخمینہ" لگایا کہ 100,000 خواتین کی عصمت دری کی گئی تھیں۔ دراصل، میلکم پوٹس غلط تھا۔ اس کے دوست جیفری ڈیوس نے حقیقت میں کم از کم 470,000 عصمت دری کا تخمینہ لگایا تھا۔ لیکن نوٹ کریں کہ "100,000" اور "200,000" اور "400,000" کے یہ اعداد و شمار ایک دوسرے سے کتنے مختلف ہیں۔ یہ بے بنیاد تخمینہ اور سنجیدہ حساب کتاب کی کمی کو ظاہر کرتے ہے۔ یہ تمام اندازے تعصب کا نتیجہ ہیں۔

یہ فطری بات ہے کہ ان چند لڑکیوں، جن کی حقیقت میں اسقاط حمل ہوئے تھے، کی "تکلیف" کو دیکھ کر ، یہ ڈاکٹر ان کے لیے حد سے زیادہ جذباتی اور ہمدردی کا شکار ہو گئے اور اس کی وجہ سے انھوں نے بنگالی مصائب کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا شروع کر دیا تھا۔

میلکم پوٹس صرف اس علم کے لیے ایک قابل اعتماد گواہ ہے جو اس نے خود دیکھا، نہ کہ اس معلومات کے لیے جو اس نے دوسروں سے حاصل کی اور/یا جو سنی سنائی باتوں پر مبنی تھیں۔ اپنی کتاب میں وہ کہتے ہیں کہ "ہم نے انھیں اسقاط حمل کی پیشکش کی اور کئی مہینوں میں سینکڑوں آپریشن کیے۔" لفظ "سینکڑوں" کو نوٹ کریں۔ اس نے "ہزاروں" نہیں کہا۔ لیکن صرف "سینکڑوں"۔ اور وہ بھی ’’کئی مہینوں میں"۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ ان میں سے کتنے حمل پاکستانی فوجیوں کی وجہ سے ہوئے اور کتنی حاملہ لڑکیاں رضاکاروں کی وجہ سے حاملہ ہوئیں تھیں۔ مثال کے طور پر، میلکم پوٹس نے خود اپنی کتاب میں ایک بنگالی لڑکی کے کیس کا ذکر کیا ہے جسے ایک بہاری نے حاملہ کیا تھا۔

امریکی سینیٹ میں اپنے خطاب میں، لیونارڈ لوف، جو بنگلہ دیش میں اسقاط حمل کرنے والی آئی پی پی ایف ٹیم کا حصہ تھے، نے کہا کہ 200,000 خواتین کی عصمت دری کی گئی تھیں۔ پھر انھوں نے مزید کہا کہ یہ بنگلہ دیشی حکومت کے اعداد و شمار تھے۔ پھر وہ کہتا ہے "ان میں سے 20,000 خواتین حاملہ تھیں۔[53] "یقیناً، اس نے خود حاملہ خواتین کو شمار نہیں کیا تھا۔ وہ محض ایک مشہور اندازے کے اعدادوشمار کو دہرا رہا تھا۔ اور یہ سب اعدادوشمار ایک دوسرے سے بے حد مختلف تھے۔ کیونکہ وہاں کوئی سنجیدہ گنتی نہیں ہوئی تھیں۔

یہ اس حقیقت کی ایک اور مثال ہے کہ متضاد اعداد کو بغیر سنجیدہ گنتی کی بنیاد پر پھیلائے جا رہے تھے۔ انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ نے مشرقی پاکستان پر اپنی 1972 کی رپورٹ میں کہا ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ 70,000 خواتین حاملہ ہوئیں تھیں۔ لیکن بینا ڈی کوسٹا نے اپنی کتاب میں کہا کہ "سرکاری دستاویزات" بتاتی (انگریزی میں "suggest") ہیں کہ کم از کم "25,000" حاملہ خواتین تھیں۔ نوٹ کریں کہ بنگلہ دیشی حکومت کے دعوؤں کے بارے میں یہ دونوں اعداد و شمار ایک دوسرے سے کیسے متصادم ہیں۔ بلاشبہ نہ تو انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ اور نہ بینا ڈی کوسٹا اور نہ بنگلہ دیشی حکومت نے حاملہ خواتین کی تعداد کی کوئی گنتی کی تھیں۔ حاملہ خواتین کے سروے یا ہیڈ کاؤنٹ کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔

لیونارڈ لاؤف کی گواہی کو پڑھتے وقت ان حقائق کو الگ کرنا ضروری ہے جن کا اس نے خود مشاہدہ کیا تھا، ان معلومات سے جن کے بارے میں اسے دوسروں نے بتایا تھا۔ مثال کے طور پر، وہ کہتے ہیں کہ ان کی ٹیم کے پہنچنے سے ایک ہفتہ قبل "دریائے گنگا میں 300 نئے پیدا ہونے والے بچے پائے گئے تھے"۔ اگلے پیراگراف میں وہ کہتا ہے کہ وہ اپنے آنے سے پہلے 2 ہفتوں میں کم از کم 250 خودکشیوں کے بارے میں جانتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر لیونارڈ لاؤف کو ان معاملات کا کیسے علم ہے؟ ظاہر ہے کہ وہ خود کشی کے ان واقعات کو ذاتی طور پر نہیں جانتا تھا کیونکہ وہ خود تسلیم کرتا ہے کہ یہ ان کے آنے سے پہلے ہوئے تھے اور نہ اس نے خود ان بچوں کو دریا میں دیکھا یا شمار کیا۔ تو اسے اس کے بارے میں کس نے بتایا؟ اور ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ جس نے بھی اسے بتایا وہ مبالغہ آمیز اعداد و شمار اور من گھڑت کہانیاں نہیں بتا رہا تھا جیسا کہ بہت سے دوسرے لوگوں نے 1971 کے تنازع میں مبالغہ آمیز اور من گھڑت کہانیاں پھیلائیں تھیں؟

اسی طرح، ڈاکٹر لیونارڈ لاؤف کا کہنا ہے کہ "ہم ہزاروں مجرمانہ اسقاط حمل سے واقف ہیں جو دیہاتوں میں دائیوں کے ذریعے کیے گئے تھے... ہم نے بہت سی خواتین کو دیکھا جو کلینک آئیں جن کے پیٹ کی دیوار سے لاٹھیاں نکلی ہوئی تھیں۔" ڈاکٹر لاؤف دیہی علاقوں میں ان "ہزاروں" مجرمانہ اسقاط حمل کو دیکھنے نہیں گئے جن کے بارے میں وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ اس کی گواہی سے ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ بہت سی خواتین اس کی ٹیم کے کلینک میں آئیں جن کے پیٹ سے لاٹھیاں نکل رہی تھیں۔

اور اس نے یہ نہیں بتایا کہ جب وہ "کئی خواتین" کہتا ہے تو وہ کتنی خواتین تھیں۔

ہاروی کرمن ایک اور ڈاکٹر تھے جو آئی پی ایف ایف ٹیم کا حصہ تھے۔ ہاروی کرمن کے بارے میں ایلین وو کے لاس اینجلس ٹائمز میں ایک مضمون میں، لکھا گیا ہے کہ ہاروی کرمن "پاکستانی فوجیوں کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بننے والی 1500 بنگلہ دیشی خواتین اور لڑکیوں کے حمل کو ختم کرنے کے مشن کا حصہ تھا۔" یہ مختلف تخمینہ دوبارہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ کوئی حقیقی گنتی نہیں کی گئی ہے۔

اس کے بعد عصمت دری سے پیدا ہونے والے بچوں کا معاملہ آتا ہے۔ 1972 کے اوائل میں مغربی نامہ نگاروں نے اندازہ لگایا تھا کہ 5000 بچے پیدا ہوں گے۔ تاہم، بچوں کو گود لینے کے لیے بنگلہ دیش آنے والے غیر ملکی جوڑوں نے پایا کہ پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد بہت کم تھیں۔

مثال کے طور پر، مدر ٹریسا کی پناہ گاہ میں صرف 21 بچے تھے جن میں سے 15 کو کینیڈا کے جوڑوں نے جولائی 1972 میں گود لیا تھا۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ دیوا سدن اور شیشو بھون جیسی پناہ گاہوں میں پیدا ہونے والے بچے جنگی عصمت دری کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے۔ ان میں یتیم اور ناجائز بچے بھی شامل تھے اور یہ ضروری نہیں کہ پاکستانی فوجی ان کے باپ تھے۔[51]

دسمبر 1973 میں ایک اخباری مضمون میں دعویٰ کیا گیا کہ تقریباً 200 بچوں کو پہلے ہی بیرون ملک گود لیا جا چکا ہے اور تقریباً 50 اب بھی گود لینے کے منتظر ہیں۔ اس اخباری مضمون میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ کلینکس میں 2000 سے زیادہ حمل ختم کیے گئے تھے۔ لیکن اس بارے میں کوئی معلومات نہیں کہ اخبار کو کیسے معلوم ہوا کہ ان تمام بچوں کے باپ اور ان خواتین کے حمل کے ذمہ دار مرد پاکستانی فوجی تھے۔ آخرکار، نیلیما ابراہیم جیسی بنگالی مصنفین کے مطابق، رضاکاروں نے بھی بنگالی خواتین کی عصمت دری کی تھیں۔[51]

1972 میں کینیڈا کے جوڑوں نے جن 15 بچوں کو گود لیا تھا وہ ظاہر ہے کہ مذکورہ 200 "جنگی بچوں" میں سے تھے۔ لیکن جب کوئی بنگالی مصنف مصطفیٰ چودھری کی کتاب میں درج معلومات کو پڑھتا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ 15 بچے مدر ٹریسا کی پناہ گاہ میں کیسے پیدا ہوئے تھے۔[51] ان کی مائیں جنھوں نے انھیں جنم دیا وہ گمنام عورتیں تھیں جو جنم دینے کے لیے پناہ گاہ میں آئیں اور پھر چلی گئیں۔ ہو سکتا ہے وہ سب ریپ کا شکار نہیں تھیں۔ وہ شاید غریب مائیں تھیں جو بچوں یا یتیموں سے چھٹکارا پانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ کوئی بھی ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔ ہم نہیں جانتے۔ تو پھر ہم بغیر کسی ثبوت کے یہ کیوں مان لیں کہ وہ صرف وہ خواتین تھیں جن کی پاکستانی فوجیوں نے عصمت دری کی؟ بنگلہ دیش میں ریکارڈنگ کا شفاف اور درست نظام نہیں تھا۔

ہندوستانی ماہر تعلیم سرمیلا بوس نے بنگلہ دیش کی ریکارڈنگ اور شفافیت کے مسئلے کی ایک مثال دی ہے جس میں اس نے چمپا کے نام سے ایک ذہنی طور پر بیمار لڑکی کے کیس کا ذکر کیا جسے اپنے بارے میں کوئی یادداشت یاد نہیں تھیں۔ سرمیلا بوس نے کہا کہ ہم چمپا کی زندگی کی کہانی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہیں لیکن پھر بھی بغیر کسی ثبوت کے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسے "پاک فوج نے زیادتی کا نشانہ بنایا" تھا۔[48]

مدر ٹریسا کے بارے میں بیان کردہ ایک اور واقعہ میں کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان آرمی کے ایک مبینہ "ریپ کیمپ" میں گئی تھیں لیکن انھیں کوئی لڑکی نہیں ملی وہاں پر۔ اسے وہاں صرف بال اور کوٹ ملے تھے۔ لیکن ہم صرف بالوں اور کوٹوں کو کسی بھی چیز کے ثبوت کے طور پر نہیں لے سکتے۔ اس جنگ میں بہت ساری جعلسازی کی گئی تھیں۔

مثال کے طور پر، ایک بہاری مصنفہ اکیلا اسماعیل نے ایک بار ایکسپریس ٹریبیون اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں اور ان کی ماں اور بہن کو پاکستان ہجرت کرنے سے پہلے ایک مہاجر کیمپ میں رکھا گیا تھا جہاں کیمپ کے منتظمین نے مغربی صحافیوں کو جھوٹا بتایا کہ وہ بنگالی خواتین ہیں جن کے ساتھ پاکستانی فوجیوں نے زیادتی کی۔[54]

بینا ڈی کوسٹا نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ ان کے لیے 1971 میں ریپ کا شکار ہونے والے یا ریپ سے پیدا ہونے والے بچے کو تلاش کرنا انتہائی مشکل تھا۔ اسی موضوع کی ایک اور محقق، یاسمین سائکیہ کو "ریپ کا شکار" اور "جنگی بچوں" کو تلاش کرنے میں بھی یہی مسئلہ درپیش تھا۔ دونوں نے فرض کیا کہ ایسا اس لیے ہوا کہ عصمت دری کا شکار ہونے والی خواتین خود کو بے نقاب نہیں کرنا چاہتیں۔ تاہم، یہ امکان بھی موجود ہے (جسے انھوں نے نظر انداز کر دیا) کہ اتنی زیادہ خواتین نہیں تھیں جن کی عصمت دری کی گئی تھیں۔

اسی طرح کی وضاحت اس بات کے لیے بھی دی جا سکتی ہے کہ جب دس ہزار بنگالی "آزادی کے جنگجو" زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین سے شادی کرنے کے لیے آگے آئے، تب بھی صرف چند شادیاں ہوئیں تھیں۔ بنگلہ دیشی حکومت نے، رابرٹ ٹرمبل کی 1972 کی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، اس کا الزام دولہا کی طرف سے مانگے گئے زیادہ جہیز پر لگایا تھا۔ لیکن اصل وجہ شاید یہ ہے کہ کم از کم اتنے بڑے تعداد میں ایسی خواتین کا وجود ہی نہیں تھا۔

ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ سطح کے قارئین ہیں۔ وہ سنی سنائی باتوں اور غیر مصدقہ دعووں کا گواہوں کے شہادتیں سے فرق نہیں کر سکتے اور وہ موضوعی تخمینوں کا حقیقی سروے سے فرق نہیں کر سکتے۔ اگر وہ فرق کر سکتے تو وہ 1971 کے ادب اور رپورٹوں میں اس طرح کے مسائل پہچان سکتے۔

نیو یارک ٹائمز کے ایک مضمون میں بھارتی صحافی خوشونت سنگھ نے دعویٰ کیا کہ "زیادہ تر" سماجی کارکنوں نے ایک قدامت پسندانہ اندازے کے مطابق عصمت دری کی تعداد 50,000 بتائی۔ لیکن انھوں نے اس بارے میں کوئی معلومات نہیں دیں کہ یہ سماجی کارکن کون تھے اور وہ ان تخمینوں پر کیسے پہنچے۔

اس نے جس واحد ایجنسی کا نام لیا وہ رومن کیتھولک ریلیف ایجنسی تھیں جس نے صرف 4,000 عصمت دری کا تخمینہ لگایا تھا (حالانکہ وہ اس نمبر تک کیسے پہنچی ہیں اس کے بارے میں بھی کچھ نہیں بتایا گیا)۔ 1971 کے بارے میں صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ بڑی تعداد میں خواتین کی عصمت دری کی گئی تھیں۔ تاہم، عصمت دری یا حاملہ خواتین کی تعداد کے بارے میں کسی بھی مشہور اعدادوشمار کے پیچھے کوئی ثبوت نہیں ہے۔

1971 کی عصمت دری کے بارے میں لٹریچر میں کمزوریوں کی ایک اور مثال اکتوبر 1971 کا ٹائمز کا ایک مضمون ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 563 حاملہ لڑکیوں کو پاک فوج نے قید کر رکھا ہے۔ ایسی دو رپورٹیں ہیں جو یہی دعویٰ کرتی ہیں۔ ایک "نیویارک ٹائمز" کا مضمون (14 اکتوبر) اور دوسرا مضمون "ٹائمز" (25 اکتوبر) کا ہے۔ "نیویارک ٹائمز" کے مضمون میں کہا گیا ہے کہ ایک "بڑے پیمانے پر مانی جانے والی (widely believed)" کہانی ہے کہ 563 لڑکیوں کو فوجی چھاؤنی میں رکھا گیا تھا اور وہ حاملہ تھیں۔

یعنی صحافی بنیادی طور پر ایک مشہور افواہ پھیلا رہا تھا۔ دوسرے "ٹائمز" کے مضمون میں کہا گیا ہے کہ لڑائی کے پہلے ہی دنوں میں 563 لڑکیوں کو پاکستانی فوج نے پکڑ لیا تھا۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ لڑکیوں کا تعلق ڈھاکہ یونیورسٹی سے تھا۔

یہ دعویٰ اس جھوٹ کو بے نقاب کرتا ہے۔ کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں لڑکیاں نہیں تھیں جب لڑائی شروع ہوئی تھیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں خاتون ہال کی پرووسٹ بیگم اختر امام نے گواہی دی ہے کہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں سات لڑکیاں کے علاوہ کوئی لڑکیاں نہیں تھیں اور وہ لڑکیاں بھی ریپ یا اغوا نہیں ہوئیں۔ تو پھر لڑائی کے ابتدائی دنوں میں ڈھاکہ یونیورسٹی سے 563 لڑکیوں کو کیسے اٹھایا گیا؟ یہ من گھڑت بات ہے۔

جنرل راؤ فرمان علی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں غلط کاموں کے الزامات سے بری کر دیا گیا تھا۔ وہی جنرل راؤ فرمان علی نے یہی 563 لڑکیوں کی کہانی کے بارے میں لکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس صحافی (جس نے یہ کہانی لکھی تھیں) اور میجر صدیق سالک کو مدعو کیا تھا اور اس صحافی کو انھوں نے بتایا تھا کہ وہ فوجی چھاؤنی میں جا سکتے ہیں اور جس گھر میں چاہے داخل ہو سکتے ہے تاکہ وہ اس کہانی کی تصدیق کر سکے۔[15]

اس صحافی نے کئی گھروں کا دورہ کیا لیکن اسے کوئی حاملہ عورت نہیں ملی۔ جب اس صحافی نے جنرل راؤ فرمان علی کے سامنے اعتراف کیا کہ کوئی حاملہ عورت نہیں تھیں، تب بھی اس نے کہا کہ وہ یہ کہانی شائع کرنا چاہتا ہے۔ صحافی نے کہا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ "میری کہانی وہی بیان کرتی ہے جو بنگالی کہہ رہے ہیں۔ اور ہمیں اپنے اخبار بیچنے ہیں۔ ہمارے قارئین اور سامعین یہی پڑھنا چاہتے ہیں۔"[15]

میجر افتخار بھٹی نے کہا ہے کہ ان کی ملاقات ان بنگالی پناہ گزینوں سے ہوئی جو ہندوستان سے مشرقی پاکستان واپس آئے تھے۔ ان پناہ گزینوں نے انھیں بتایا کہ ہندوستان کے پناہ گزین کیمپوں میں ہندوستانیوں نے بنگالی خواتین کی عصمت دری کی تھیں۔[13] میجر افتخار بھٹی کی بھارتی کیمپوں میں بنگالی لڑکیوں کے حاملہ ہونے کی رپورٹ کی بنگالیوں سے بھی بالواسطہ تصدیق ہوتی نظر آتی ہے، حالانکہ ان واقعات میں بھی وہ پاک فوج پر الزام لگاتے رہتے ہیں۔

مثال کے طور پر، یاسمین سائقیہ کی کتاب میں ڈاکٹر سید احمد نورجہاں کا ذکر ہے جنھوں نے کہا کہ انھوں نے بنگالی خواتین کے لیے بہت سے اسقاط حمل کیے تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ اس نے ایک دن میں 200 اسقاط حمل بھی کرائے تھے۔[47]

لیکن جب کوئی اس کی گواہی پڑھتا ہے تو چند نکات کو نوٹ کرنا چاہیے۔[47]

1. وہ کہتی ہیں کہ اس نے خواتین سے یہ نہیں پوچھا کہ ان کی عصمت دری کس نے کی۔ لہذا ان خواتین کی اکثریت کے معاملات میں ہم نہیں جانتے کہ اصل ریپ کرنے والے کون تھے۔[47]

2. وہ کہتی ہیں کہ ان میں سے زیادہ تر خواتین 16 دسمبر سے چند ہفتے پہلے اور چند ہفتے بعد حاملہ ہوئیں تھیں۔ ہم جانتے ہیں کہ 16 دسمبر سے پہلے کے ہفتوں میں پاک فوج کو بھارتی جارحیت کا سامنا تھا اور انھیں بہت زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس بات کا زیادہ امکان نہیں ہے کہ وہ اس وقت زیادہ عصمت دری کر رہے تھے۔ عین ممکن ہے کہ یہ زیادتیاں دوسروں یعنی رزاقوں نے کی ہوں۔[47]

3. وہ مزید کہتی ہیں کہ ان میں سے زیادہ تر خواتین مہاجر کیمپوں سے آئی تھیں۔ اگر وہ زیادہ تر 16 دسمبر سے چند ہفتے پہلے اور بعد میں حاملہ تھیں اور وہ پناہ گزین کیمپوں سے آئی تھیں، تو اس بات کا امکان ہے کہ وہ ان مہاجر کیمپوں میں زیادتی کا نشانہ بن گئیں تھیں اور حاملہ ہوئی تھیں، نہ کہ پاکستانی فوجیوں یا رزاقروں سے زیادتی کا شکار ہوئیں۔[47]

4. یہ حقیقت کہ ڈاکٹر سید احمد نورجہاں کہتی ہیں کہ وہ سمجھتی ہیں کہ "زیادہ تر خواتین 16 دسمبر سے چند ہفتے پہلے اور بعد میں حاملہ ہوئیں" سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر پاکستانی مجرم بھی ہوں گے (کیونکہ پاکستانی فوجی 16 دسمبر کے بعد ممکنہ طور پر زیادتی نہیں کر سکتے تھے کیونکہ انھوں نے بھارت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے اس وقت تک)۔[47]

5. اور اگر 16 دسمبر کے بعد غیر پاکستانی مجرم تھے تو اس کا بھی امکان ہے کہ 16 دسمبر سے پہلے بھی غیر پاکستانی مجرم تھے۔ اس کا امکان اس لیے ہے کیونکہ اس وقت مشرقی پاکستان میں ہندوستانی بڑے پیمانے پر دراندازی کر چکے تھے۔ اور ساتھ ہی پاکستانی فوج کی ایک چھوٹی سی تعداد ایک بڑے علاقے پر پھیلی ہوئی تھیں۔[47]

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Sheikh Mujib۔ The Unfinished Memoirs of Sheikh Mujibur Rahman
  2. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 Hasan Zaheer (1994)۔ The Separation of East Pakistan: The Rise And Realization Of Bengali Muslim Nationalism
  3. Azizul Rasel (10 جون 2024)۔ "Bengali and Non-Bengali Riots at Karnaphuli Paper Mills"۔ The Daily Star
  4. 1 2 Anthony Mascarenhas۔ The Rape of Bangladesh
  5. - Bulletin, State Bank of Pakistan
  6. "Fall of East Pakistan: Some Economic Consequences," Pakistan Economic and Social Review, Vol. 10, No. 1 (JUNE 1972), pp. 9-16
  7. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 Matiur Rehman؛ Naeem Hasan (1980)۔ Iron Bars of Freedom
  8. Muhammad Ayub Khan۔ Craig Baxter (مرتب)۔ Diaries of Field Marshall Mohammad Ayub Khan, 1966-1972۔ Oxford University Pr
  9. 1 2 3 4 Syed Sajjad Hussain۔ The Wastes of Time: Reflections on the Decline and Fall of East Pakistan۔ 1995
  10. 1 2 3 4 5 6 NASIM AHMAD JAWED, "Islam's Political Culture: Religion and Politics in Predivided Pakistan" (Austin: University of Texas Press, 1999)
  11. Peggy Durdin (02 مئی 1971)۔ "The Political Tidal Wave That Struck East Pakistan"۔ New York Times
  12. Rehman, Jessica Lee (2012) "Rape as Religious Terrorism and Genocide the 1971 War between East and West Pakistan" California State University
  13. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 Major Iftikhar-Ud-Din Ahmad۔ Memories of a Lacerated Heart (1971): A War Memoir (From East Pakistan to Bangladesh)
  14. Siddiqi, ʻAbdurraḥmān. The Military in Pakistan: Image and Reality. Vanguard, 1996
  15. 1 2 3 Rao Farman Ali Khan, "How Pakistan Got Divided" (2017) Oxford University Press
  16. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 Raja, Khadim Hussain (2022) "A stranger in my own country: East Pakistan, 1969–1971" Oxford University Press
  17. 1 2 3 Salik, Siddiq. Witness to Surrender. Karachi: Oxford University Press, 1978
  18. Amber Heather Abbas (2012)۔ Narratives of belonging: Aligarh Muslim University and the partitioning of South Asia
  19. 1 2 3 Col. Z.I. Farrukh۔ Lost Forever: An Analytical Autobiography on East Pakistan Debacle
  20. Muntassir Mamoon۔ The Vanquished Generals and the Liberation War of Bangladesh
  21. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 The report of the Hamoodur Rehman Commission of inquiry into the 1971 war: as declassified by the Government of Pakistan۔ Vanguard
  22. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 Gholam Wahed Chowdhury (1993)۔ Last Days of United Pakistan۔ Oxford University Press
  23. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 Siddiqi, A.R. (2004). East Pakistan: The Endgame: An Onlooker's Journal 1969-1971. New York: Oxford University Press
  24. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 Dr. M. Abdul Mu'min Chowdhury (1996)۔ Behind the Myth of Three Million۔ Sani H. Panhwar
  25. 1 2 3 4 White Paper On The Crisis In East Pakistan۔ 05 اگست 1971
  26. 1 2 Zulfiqar Ali Bhutto۔ The Great Tragedy
  27. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 Bose, Sarmila. (2012). Dead reckoning: Memories of the 1971 Bangladesh War. Karachi: Oxford University Press
  28. 1 2 3 4 5 6 Matiur Rehman (1979)۔ Second Thoughts On Bangladesh
  29. Yahya Khan's Address to the Nation, Broadcast on 26 March 1971
  30. Kamal Hossain۔ Bangladesh: Quest for Freedom and Justice
  31. 1 2 Qureshi, Hakeem Arshad. (2002/2003). *The 1971 Indo-Pak War: A Soldier's Narrative*. Karachi: Oxford University Press
  32. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 Aziz (1974)۔ Blood and Tears۔ Karachi : Publications Division, United Press of Pakistan
  33. 1 2 M. Rafique Afzal - Pakistan, History and Politics 1947-1971-Oxford University Press (2001)
  34. Masud Mufti (1978)۔ Lamhay۔ Nuqoosh Press, Lahore
  35. 1 2 3 4 5 Brigadier (Retd.) Karrar Ali Agha, "Witness to Carnage 1971" (2011) Salman Art Press
  36. Haroon Rasheed, "Dacca Diary: Sweat, Blood & Tears" (2019) Adabistan Publishers.
  37. Maj. Mumtaz Hussain Shah, “The Battle of Sylhet Fortress,” Defence Journal, January 1999
  38. Anthony Mascarenhas, “Genocide,” reprinted from The Times (London), June 13 1971
  39. Colonel Nadir Ali "A Khaki dissident on 1971"
  40. Robert Payne , "Massacre", (1972) Macmillan
  41. Los Angeles Times (1972) "New Doubts about Genocide in Bangladesh"
  42. 1 2 3 ‘The question of genocide and the quest for justice in the 1971 war’, Journal of Genocide Research, 13(4), 2011
  43. 1 2 3 4 5 Dr Chowdhury Shahid Kader, "Age, Gender and Religion of the Victims of the Bangladesh Genocide: A Case Study" (Jagannath University)
  44. 1 2 Martin Woollacott, Dead Reckoning by Sarmila Bose - review (Guardian) 01 July 2011
  45. Sarmila Bose, "The truth about the Jessore massacre" (19 March 2006) Telegraph India
  46. 1 2 3 4 Yasmin Saikia (2011)۔ "War as History, Humanity in Violence: Women, Men, and Memories of 1971, East Pakistan/Bangladesh"۔ در Elizabeth D Heineman (مرتب)۔ Sexual violence in conflict zones : from the ancient world to the era of human rights
  47. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 Yasmin Saikia "Women, War, and the Making of Bangladesh"
  48. 1 2 3 Sarmila Bose, ‘Losing the Victims: Problems of Using Women as Weapons in Recounting the Bangladesh War’, Economic and Political Weekly, 42 (38), 2007
  49. 1 2 Tariq Rahman (2022). Pakistan's Wars: An Alternative History (1st ed.). Routledge
  50. Haider, Syed Jahangeer, Shamsun Nehar Saleh, Nahid Kamal, and Alan Gray. 1997. "Study of adolescents: Dynamics of perception, attitude, knowledge and use of reproductive health care." Dhaka: Population Council.
  51. 1 2 3 4 5 Mustafa Chowdhury (2012) Picking Up The Pieces: 1971 War Babies’ Odyssey From Bangladesh To Canada
  52. Malcolm Potts and Thomas Hayden, Sex and War How Biology Explains Warfare and Terrorism and Offers a Path to a Safer World (2010) BenBella Books
  53. Statement of Leonard E Laufe in Abortion Hearings Before the Subcommittee on Constitutional Amendments of the Committee on the Judiciary, United States Senate, Ninety-third Congress, Second Session [-Ninety-fourth Congress, First Session] .... By United States. Congress. Senate. Committee on the Judiciary. Subcommittee on Constitutional Amendments (1976) page 582
  54. Batool Zehra (26 February 2012) "The Other Side of History" The Express Tribune