پاک بھارت جنگ 1971ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پاک بھارت جنگ 1971ء
Indo-Pakistani War of 1971
حصہ جنگ آزادی بنگلہ دیش اور پاک بھارت جنگیں
تاریخ3–16 دسمبر 1971
مقاممشرقی پاکستان, بھارتمغربی پاکستان سرحد،لائن آف کنٹرول، بحیرہ عرب اور خلیج بنگال
نتیجہ فیصلہ کن بھارتی فتح.[1][2][3]
مشرقی محاذ:
پاکستانی افواج نے ہتھیار ڈال دیے.
مغربی محاذ:
یکطرفہ جنگ بندی[4]
Territorial
changes
  • مشرقی پاکستان کی آزادی بطور بنگلہ دیش
  • Indian forces captured around 795 مربع میل (2,060 کلومیٹر2) land in the West but gifted back to Pakistan in the Simla Agreement as a gesture of goodwill.[5][6][7]
محارب

Flag of India.svg بھارت

Flag of بنگلادیش بنگلہ دیش عبوری حکومت
Flag of Pakistan.svg پاکستان
کمانڈر اور رہنما
Flag of بھارت صدر بھارت وی وی گیری
Flag of بھارت وزیراعظم بھارت اندرا گاندھی
Flag of Indian Army.svg FM فیلڈ مارشل مانک شاء
Flag of Indian Army.svg لیفٹیننٹ جنرل جنرل ارورا
Flag of Indian Army.svg لیفٹیننٹ جنرل G.G. Bewoor
Flag of Indian Army.svg لیفٹیننٹ جنرل K. P. Candeth
Flag of Indian Army.svg لیفٹیننٹ جنرل Sagat Singh
Flag of Indian Army.svg MajGen J. F. R. Jacob
Flag of Indian Army.svg MajGen OP Malhotra
Naval Ensign of India.svg امیر البحر S. M. Nanda
Air Force Ensign of India.svg ACM Pratap Lal
Flag of بنگلادیش Prem تاج الدین احمد
Flag of بنگلادیش منصبِ جامع M. A. G. Osmani
Flag of بنگلادیش اکبر (عہدہ) K M Shafiullah
Flag of بنگلادیش اکبر (عہدہ) ضیاء الرحمن
Flag of بنگلادیش اکبر (عہدہ) Khaled Mosharraf
Flag of پاکستان صدر پاکستان یحییٰ خان
Flag of پاکستان وزیر اعظم پاکستان نور الامین
Flag of the Pakistani Army.svg منصبِ جامع Abdul Hamid Khan
Flag of the Pakistani Army.svg لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی Surrendered
Flag of the Pakistani Army.svg لیفٹیننٹ جنرل گل حسن خان
Flag of the Pakistani Army.svg لیفٹیننٹ جنرل ٹکا خان
Flag of the Pakistani Army.svg لیفٹیننٹ جنرل Abdul Ali Malik
RAdm Mohammad Shariff  Surrendered
Air Force Ensign of Pakistan.svg AVM Patrick D. Callaghan  Surrendered
میجر جنرل راؤ فرمان علی  Surrendered
MajGen Mohd Jamshed  Surrendered
Flag of the Pakistani Army.svg MajGen Iftikhar Janjua لڑائی میں مقتول
Naval Jack of Pakistan.svg امیرالبحرمقابل Muzaffar Hassan
Air Force Ensign of Pakistan.svg AM Abdul Rahim Khan
طاقت
بھارتی مسلح افواج: 500,000
مکتی باہنی: 175,000
Total: 675,000
عسکریہ پاکستان: 365,000
اموات اور نقصانات

7843 killed.[8]

Pakistani claims

Indian claims

Neutral claims

8,000 killed[17]
25,000 wounded[18] <br/44,368 captured
2 Destroyers[19]
1 Minesweeper[19]
1 آبدوز[20]
3 Patrol vessels
7 Gunboats

  • Pakistani main port Karachi facilities damaged/fuel tanks destroyed[19][21]
  • Pakistani airfields damaged and cratered[22]

Pakistani claims

Indian claims

Neutral claims

حکومت پاکستان کے متنازع اقدامات کے باعث بنگالی علیحدگی پسندوں نے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے مشرقی حصے میں علیحدگی کی تحریک مکتی باہنی شروع کی جو بعد میں ایک تشّدد پسند گوریلہ فورس میں تبدیل ہو گئی۔ بھارت نے اس سنہری موقع کو ضائع نہیں ہونے دیا پاکستان کی اندرونی خانہ جنگی کا فائدہ اٹھایا اور مکتی باہنی کی کھل کر سیاسی و فوجی حمایت شروع کی اور اِسی دوران بھارتی                   نے مشرقی پاکستان کے دفاعی نظام کا بغور معائنہ کیا اِس وقت بھارتی فوج کو پاکستانی فوج کے مقابلے میں کئی آسانیاں دستیاب تھیں جن میں زیادہ تعداد، زیادہ اصحلہ، مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کے مغربی پاکستان بُرے تعلقات (جو مشرقی پاکستان میں بھارت کی بلا وجہ مداخلت کے باعث تھے) شامل تھے۔ اِس کے علاوہ پاکستانی فوج کو مٖغربی پاکستان (جو اب پاکستان ہے ) سے مغربی پاکستان( بنگلہ دیش) تک جانے کے لیے بہت لمبا سفر طے کرنا پڑتا تھا اور پاکستان کے پاس ڈھاکہ کے قریب موجود صرف ایک ائیر فیلڈ موجود تھا جس کے ذریعے پاکستان کے 14 سیبر جہاز لڑے جبکہ بھارت کے پاس 5 ائیر فیلڈ موجود تھے جن کے ذریعے بھارت نے اپنے 11 لڑاکا طیارے جنگ میں اُتارے جن میں 4 ہنٹر ایک SU-7اور 3 عدد Gnatاور 3 عدد MIG-21 طیارے شاامل تھے۔ لیکن سب سے زیادہ نقصان مشرقی پاکستان سے بد دل ہو جانے کی وجہ سے ہوا۔ مشرقی پاکستان کی افواج بھارت کے ساتھ اتحاد کرنا چاہ رہے تھے اِس لیے انہوں نے ہتھیار ڈال دیے اِں کے ہتھتار ڈال دینے کی وجہ سے بھارت نے 90،000 پاکستانی فوجیوں کو قیدی بنا لیا

نتیجہ یہ نکلا کہ جنگ کے اختتام پر نوّے ہزار پاکستانی فوجی ھتیار ڈال کر بھارتی قید میں جاچکے تھے اور  اِن کی زندگی کے لیے پاکستان کو امریکا نے اور چین نے جنگ بندی کے لیے کہا جب پاکستان نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی تو پاکستان کے فوجی آفسر سے ایک امریکی ساختہ دستاویز پر دستخط کروائے گئے جس کو بنیاد بنا کر بھارت نے یہ ظاہر کیا کہ پاکستان نے بھارت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور دستخط کر کے اپنی ہار تسلیم کر لی۔ حالانکہ پاکستان کے جنگ بندی پر عمل کرنے کی وجہ سے پاکستانی علاقوں کو واپس کر دیا گیا تھا لیکن مشرقی پاکستان نے واپسی کی بجائے ایک نئے ملک کے طور پر آزاد ہونے کی ٹھان لی ۔  اور اس طرح مشرقی پاکستان دنیا کے نقشے پربنگلہ دیش کے نام سے ایک آزاد ملک کی حیثیت سے نمودار ہوچکا تھا۔ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت دو حصوّں میں تقسیم ہوگٰی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Peter Lyon (2008)۔ Conflict between India and Pakistan: An Encyclopedia۔ ABC-CLIO۔ صفحہ 166۔ آئی ایس بی این 978-1-57607-712-2۔ "India's decisive victory over Pakistan in the 1971 war and emergence of independent Bangladesh dramatically transformed the power balance of South Asia" 
  2. Geoffrey Kemp (2010)۔ The East Moves West India, China, and Asia's Growing Presence in the Middle East۔ Brookings Institution Press۔ صفحہ 52۔ آئی ایس بی این 978-0-8157-0388-4۔ "However, India's decisive victory over Pakistan in 1971 led the Shah to pursue closer relations with India" 
  3. Daniel Byman (2005)۔ Deadly connections: States that Sponsor Terrorism۔ Cambridge University Press۔ صفحہ 159۔ آئی ایس بی این 978-0-521-83973-0۔ "India's decisive victory in 1971 led to the signing of the Simla Agreement in 1972" 
  4. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ glo نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  5. Shuja Nawaz (2008)۔ Crossed Swords: Pakistan, Its Army, and the Wars Within۔ Oxford University Press۔ صفحہ 329۔ آئی ایس بی این 978-0-19-547697-2۔ 
  6. M. G Chitkara (1996)۔ Benazir, a Profile – M. G. Chitkara۔ آئی ایس بی این 9788170247524۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 July 2012۔ 
  7. Victoria Schofield (18 January 2003)۔ Kashmir in Conflict: India, Pakistan and the Unending War – Victoria Schofield۔ آئی ایس بی این 9781860648984۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 July 2012۔ 
  8. Vulnerable India: A Geographical Study of Disaster By Anu Kapur
  9. "Chapter 10: Naval Operations In The Western Naval Command"۔ Indian Navy۔ اصل سے جمع شدہ 23 February 2012 کو۔ 
  10. "DAMAGE ASSESMENT – 1971 INDO-PAK NAVAL WAR"۔ Orbat.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 July 2012۔ 
  11. My Days with the IAF۔ Lancer۔ 1986۔ صفحہ 286۔ آئی ایس بی این 978-81-7062-008-2۔ 
  12. "The Battle of Longewala---The Truth"۔ India Defence Update۔ اصل سے جمع شدہ 8 June 2011 کو۔ 
  13. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ globalsecurity.org نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  14. "PAKISTAN AIR FORCE – Official website"۔ Paf.gov.pk۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 July 2012۔ 
  15. ^ ا ب "IAF Combat Kills – 1971 Indo-Pak Air War"۔ orbat.com۔ اصل سے جمع شدہ 13 January 2014 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 December 2011۔ 
  16. ^ ا ب پ Thomas M. Leonard (2006)۔ Encyclopedia of the Developing World۔ Taylor & Francis۔ صفحہ 806۔ آئی ایس بی این 978-0415976640۔ اخذ کردہ بتاریخ 2015-07-13۔ 
  17. Thomas Leonard۔ Encyclopedia of the developing world, Volume 1۔ Taylor & Francis, 2006۔ آئی ایس بی این 9780415976626۔ 
  18. The Encyclopedia of 20th Century Air Warfare, edited by Chris Bishop (Amber publishing 1997, republished 2004 pages 384–387 ISBN 1-904687-26-1)
  19. ^ ا ب پ نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ GlobalSecurity نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  20. "The Sinking of the Ghazi"۔ Bharat Rakshak Monitor, 4(2)۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 October 2009۔ 
  21. "How west was won...on the waterfront"۔ The Tribune۔ اخذ کردہ بتاریخ 24 December 2011۔ 
  22. "India – Pakistan War, 1971; Western Front, Part I"۔ acig.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 December 2011۔ 
  23. http://www.bharat-rakshak.com/IAF/History/1971War/Appendix3.html