یحییٰ خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یحییٰ خان
تفصیل= جنرل یحییٰ خان

تیسرے صدر پاکستان
مدت منصب
25 مارچ 1969ء – 20 دسمبر 1971ء
وزیر اعظم نورالامین
Fleche-defaut-droite-gris-32.png ایوب خان
ذوالفقار علی بھٹو Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
پانچویں سالارِ خاص (پاک فوج)
مدت منصب
18 ستمبر 1966ء – 20 دسمبر 1971ء
صدر ایوب خان
Fleche-defaut-droite-gris-32.png موسی خان
گل حسن Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 4 فروری 1917[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
چکوال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 10 اگست 1980 (63 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
راولپنڈی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن پشاور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
عملی زندگی
مادر علمی ریاستہائے متحدہ آرمی کمانڈ اینڈ جنرل اسٹاف کالج
جامعہ پنجاب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سفارت کار،  سیاست دان،  فوجی افسر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
وفاداری Flag of Pakistan.svg پاکستان
شاخ پاکستان
یونٹ دسویں بٹالین بلوچ رجمنٹ
عہدہ جرنیل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں عسکری رتبہ (P410) ویکی ڈیٹا پر
کمانڈر ایک سو گیارہویں انڈیپینڈنٹ بریگیڈ
ڈپٹی چیف آف جنرل سٹاف (DCGS)
رئیسِ عملۂ جامع
چودہویں انفنٹری ڈویژن, ڈھاکہ
پندرہویں انفنٹری ڈویژن, سیالکوٹ
ساتویں انفنٹری ڈویژن (پاکستان), پشاور
ڈپٹی کمانڈر انچیف
کمانڈر ان چیف
لڑائیاں اور جنگیں جنگ عظیم دوم
پاک بھارت جنگ 1965ء
پاک بھارت جنگ 1971ء
اعزازات
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر

جنرل آغا محمد یحٰیی خان (4 فروری، 1917ء - 10 اگست، 1980ء) پاکستان کی بری فوج کے پانچویں سربراہ اور تیسرے صدر مملکت تھے۔ صدر ایوب خان نے اپنے دور صدارت میں انھیں 1966ء میں بری فوج کا سربراہ نامزد کیا۔ 1969ء میں ایوب خان کے استعفے کے بعد عہدۂ صدارت بھی سنبھال لیا۔ یحیی خان کے یہ دونوں عہدے سقوط ڈھاکہ کے بعد 20 دسمبر، 1971ء میں ختم ہوئے جس کے بعد انھیں طویل عرصے تک نظر بند بھی کیا گیا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

1917ء میں پنجاب کے شہر چکوال[3] میں پیدا ہوئے۔ سات بہن بھائیوں میں چھٹے نمبر پر تھے۔[3] ان کے علاوہ ان کا ایک بھائی آغا محمد علی اور پانچ بہنیں بنام حسینہ بی بی، حمیدہ بی بی، حمایت بی بی، وفا بی بی اور اختر بی بی تھیں۔[3]

یحٰیی خان کے بیٹے علی یحٰیی کے بقول ان کے آباواجداد 200 سال قبل براستہ افغانستان برصغیر میں آئے اور پشاور کو مسکن بنایا۔ یحٰیی خان کے خاندان کا تعلق قزلباش ذات سے ہے۔[3] والد خان بہادر آغا سعادت علی خان انڈین پولیس میں ایک اعلیٰ عہدیدار تھے۔

یحیٰی خان

ابتدائی تعلیم گجرات سے حاصل کرنے کے بعد جامعہ پنجاب سے گریجویشن کیا۔ اس کے بعد انڈین ملٹری اکیڈمی ڈیرہ دون چلے گئے۔ 1938ء میں فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران متعدد محاذوں پر خدمات انجام دیں۔ 1945ء میں کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ سے کورس مکمل کرکے مختلف سٹاف عہدوں پر متمکن رہے۔ بعد ازاں سٹاف کالج کوئٹہ میں انسٹرکٹر مقرر ہوئے۔

قیام پاکستان کے بعد مختلف ڈویژنل ہیڈ کوارٹروں اور جنرل ہیڈ کوارٹر میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے۔ 1962ء میں مشرقی پاکستان کے گیریژن آفیسر کمانڈنگ مقرر کیے گئے۔ ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں نمایاں خدمات کے صلہ میں ہلال جرات کا اعزاز دیا گیا۔ ستمبر 1966ء میں جنرل محمد موسی خان کے ریٹائر ہونے پر افواج پاکستان کے کمانڈر انچیف مقرر ہوئے۔

دوسرا مارشل لا[ترمیم]

1965ء کی جنگ کے بعد طلبہ نے معاہدۂ تاشقند کے خلاف تحریک کا آغاز کیا جو کافی شدت اختیار کر گئی رفتہ رفتہ ایوب خان خلاف ایک قوت کی شکل اختیار کر گئی لیکن اس بعد ازاں بزور قوت دبا دیا گیا۔ وزارت خارجہ کا قلمدان چھننے کے بعد بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور عوام میں موجود ایوب مخالف جذبات کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ 1966ء میں مشرقی پاکستان کی سیاسی جماعت عوامی لیگ سے تعلق رکھنے والے شیخ مجیب الرحمن نے 6 نکات پر مشتمل مطالبات پیش کر دیے۔ ان نکات کو مغربی پاکستان میں سیاسی اور عوامی دونوں سطحوں پر، شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور علیحدگی پسندی کا مترادف قرار دیا گیا۔ اس کے بعد شیخ مجیب الرحمن کو گرفتار کر لیا گیا۔ جبکہ مغربی پاکستان میں ایوب خان کے خلاف تحریک زور پکڑتی گئی اور امن عامہ کی صورت حال خراب سے خراب تر ہوتی چلی گئی۔

نومبر 1968ء میں مخالف جماعتوں کے متحدہ محاذ نے ملک میں بحالی جمہوریت کی تحریک چلائی جس نے خوں ریز ہنگاموں کی شکل اختیار کر لی۔ مارچ 1969ء تک حکومت پر ایوب خان کی گرفت بہت کمزور ہو چکی تھی۔ 23 مارچ 1969ء کو یحیٰی خان نے ایوب خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی تیاریوں کو حتمی شکل دی اور کور کمانڈروں کو ضروری ہدایات دیں۔ 25 مارچ 1969ء کو ایوب خان نے قوم سے خطاب میں اقتدار سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا جس کے بعد یحیٰی خان باقاعدہ مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کر دیا اور اگلے سال عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ 30 جون 1970ء کو سرحد اور بلوچستان کی صوبائی حیثیت بحال کر دی۔ سابق ریاست بہاول پور کو پنجاب میں اور کراچی کو سندھ میں شامل کر دیا گیا۔ اور سابق سرحدی ریاستوں سوات، دیر اور چترال کو ملا کر مالاکنڈ ایجینسی قائم کی گئی ۔

7 ستمبر، 1970ء کو قومی اسمبلی اور 17 دسمبر کو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔ جنھیں ملکی و غیر ملکی مبصرین نے پاکستان کی تاریخ میں پہلے آزادانہ و منصفانہ انتخابات قرار دیا۔ 16 دسمبر، 1971ء کو مشرقی پاکستان پر بھارتی افواج کے قبضے اور مغربی پاکستان کے محاذ پر پاکستانی افواج کی غیر تسلی بخش کارکردگی کی بنا پر ملک میں فوجی حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے۔ 20 دسمبر، 1971ء کو جنرل یحیٰی نے اقتدار پیپلز پارٹی کے چیرمین ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کر دیا۔ 8 جنوری، 1972ء کو انھیں، عوامی غیظ و غضب سے بچانے کے لیے، نظر بند کر دیا گیا۔ جولائی 1977ء میں ملک میں مارشل لا کے نفاذ کے بعد خرابی صحت کی بنا پرانھیں رہا کر دیا گیا۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

یحییٰ خان کو بھاری شرابی کے طور پر جانا جاتا تھا شراب میں انکی ترجیح وہسکی تھی۔ دور حکومت میں یحییٰ خان کی قریبی دوست اور گھریلو ساتھی اکلیم اختر تھیں جنہیں جنرل رانی کے نام سے جانا جاتا تھا۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Agha-Mohammad-Yahya-Khan — بنام: Yahya Khan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  2. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w66471bm — بنام: Yahya Khan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. ^ ا ب پ ت احمد، منیر [2001ء]۔ “یحٰیی خان کی کہانی ان کے بیٹے علی یحٰیی کی زبانی”، جنرل محمد یحٰیی خان: شخصیت و سیاسی کردار۔ لاہور، پاکستان: آصف جاوید برائے نگارشات پبلشرز، 240حاصل کیا گیا: 2008-01-21۔
  4. "Fakhar-e-Alam: Actor, VJ and Singer"۔ Pakistan Herald۔ Gibralter Information Technologies۔ 
فوجی دفاتر
ماقبل 
حبیب اللہ خان خٹک
رئیسِ عملۂ جامع
1957–1962
مابعد 
شیر بہادر
ماقبل 
موسیٰ خان
رئیس عملۂ پاک فوج
1966–1971
مابعد 
گل حسن خان
سیاسی عہدے
ماقبل 
ایوب خان
صدر پاکستان
1969–1971
مابعد 
ذوالفقار علی بھٹو
ماقبل 
میاں ارشد حسین
وزیر خارجہ
1969–1971
ماقبل 
افضل رحمان خان
وزیر دفاع
1969–1971