اسکندر مرزا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اسکندر مرزا
Iskander Mirza.jpg
پہلے صدر پاکستان
عہدہ سنبھالا
23 مارچ 1956ء – 27 اکتوبر 1958ء
وزیر اعظم چوہدری محمد علی
حسین شہید سہروردی
ابراہیم اسماعیل چندریگر
فیروز خان نون
ایوب خان
پیشرو نیا عہدہ متعارف ہوا
جانشین ایوب خان
چوتھے گورنر جنرل پاکستان
عہدہ سنبھالا
6 اکتوبر 1955ء – 23 مارچ 1956ء
شاہی حکمران ایلزبتھ دوم
وزیر اعظم چوہدری محمد علی
پیشرو ملک غلام محمد
جانشین عہدہ ختم کر دیا گیا
ذاتی تفصیلات
پیدائش 13 نومبر 1899 (1899-11-13)
مرشد آباد, برطانوی راج (موجودہ بھارت)
وفات 12 نومبر 1969 (عمر 69 سال)
لندن, برطانیہ
سیاسی جماعت ریپبلکن پارٹی
مادر علمی الفنسٹن کالج
رائل ملٹری اکیڈمی سندھرسٹ
مذہب شیعہ مسلمان

اسکند مرزا میر جعفر کے پڑپوتے تھے۔ ان کے پر دادا میر جعفر نے نواب سراج الدولہ سے غداری کر کے انگزیزوں کی جیت کا راستہ ہموار کیا تھا (اس لئے جب ایوب خان کے ہاتھوں اقتدار لٹا کر برطانیه میں جلا وطن ہوے تو برطانیه میں جس ہوٹل میں قیام کیا اس ہوٹل کا کرایه ملکه برطانیه نے ادا کیا)۔ پاکستانی فوجی افسر اور سیاست دان تھے۔ الفنسٹن کالج بمبئی میں تعلیم پائی ۔ کالج کی تعلیمی زندگی میں ہی رائل ملٹری کالج سینڈہرسٹ میں داخلہ مل گیا ۔ وہاں سے کامیاب ہو کر 1919ء میں واپس ہندوستان آئے۔ 1921ء میں کوہاٹ کے مقام پر دوسری سکاٹش رائفل رجمنٹ میں شریک ہوئے اور خداداد خیل میں لڑائی میں حصہ لیا۔ 1924ء میں وزیرستان کی لڑائی میں شریک ہوئے۔ 1922ء سے 1924ء تک پونا ہارس رجمنٹ میں رہے جس کا صدر مقام جھانسی تھا۔ 1926ء میں انڈین پولیٹکل سروس کے لیے منتخب ہوئے اور ایبٹ آباد ، بنوں ، نوشہرہ اور ٹانک میں بطور اسسٹنٹ کمشنر کام کیا۔ 1931ء سے 1936ء تک ہزارہ اور مردان میں ڈپٹی کمشنر رہے۔ 1938ء میں خیبر میں پولیٹکل ایجنٹ مامور ہوئے۔ انتظامی قابلیت اور قبائلی امور میں تجربے کے باعٹ 1940ء میں پشاور کے ڈپٹی کمشنر مقرر ہوئے۔ یہاں 1945ء تک رہے۔ پھر ان کا تبادلہ اڑیسہ کر دیا گیا۔ 1942ء میں حکومت ہند کی وزارت دفاع میں جائنٹ سیکرٹری مقرر ہوئے۔

قیام پاکستان کے بعد حکومت پاکستان کی وزارت دفاع کے پہلے سیکرٹری نامزد ہوئے مئی 1954ء میں مشرقی پاکستان کے گورنر بنائے گئے ۔ پھر وزیر داخلہ بنے۔ ریاستوں اور قبائلی علاقوں کے محکمے بھی ان کے سپرد کیے گئے۔ ملک غلام محمد نے اپنی صحت کی خرابی کی بنا پر انھیں 6 اگست 1955 کو قائم مقام گورنر نامزد کیا۔ 5 مارچ، 1956ء کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ اور مارچ، 1956ء کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1958ء کو سیاسی بحران کے سبب ملک میں مارشل لاء نافذ کیا۔ 27 اکتوبر کو مارشل لا کے چیف ایڈمنسٹریڑ فیلڈ مارشل ایوب خان نے انھیں برطرف کر دیا ۔ اور وہ ملک چھوڑ کر اپنی بیگم کے ہمراہ لندن چلے گئے۔ وہیں وفات پائی اور وصیت کے مطابق ایران میں دفن ہوئے۔

اسکندر مرزا افسر شاہی اور فوج کی پروردہ شخصیت تھے اس لیے ملک کو جمہوریت سے آمریت کی طرف دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ان کی کوشش تھی کہ وہ صدر کے عہدہ پر ہمیشہ فائز رہیں اس لئے انہوں نے سیاست دانوں کا ایسا گروہ تیار کیا جس نے سازشوں کے تانے بانے تیار کئے سکندر مرزا کے اشاروں پر حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں۔ لیکن ان کے اقتدار کوبھی آگ لگی گھر کے چراغ سے اپنے یار غار فیلڈ مارشل ایوب خان کے ہاتھوں ملک سے جلا وطن کر دیئے گئے۔

لندن میں قیام اور وفات:

پاکستان سے جلا وطنی کے بعد انہوں نے اپنی بقیہ زندگی لندن میں گزاری انہیں 3000 پاؤنڈ پنشن ملتی تھی جس میں ان کا گذر بسر ممکن نہ تھا تاہم ان کے ایرانی اور برطانوی رفقاء نے ان کی مالی اور معاشی مدد جاری رکھی جس کے باعث انہوں نے بہترزندگی گذاری۔اپنی بیماری کے ایام میں انہوں نے اپنی بیوی ناہید مرزاکو مخاظب ہو کر کہا" ہم بیماری کے علاج کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے اس لئے مجھے مر نے دو" 3نومبر،1969ء کو انہوں نے دل کے عارضہ میں مبتلا ہو کر وفات پائی ۔صدر پاکستان محمد یحیٰ خان نے ان کی میت پاکستان لانے اور یہاں دفن کرنے سے صاف انکار کردیاان کے رشتہ داروں کو بھی جنازہ میں شرکت سے سختی سے روک دیا گیا ایرانی بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی نے خصوصی طیارے کے ذریعے سکندر مرزاکی میت تہران لانے کا حکم دیا یہاں سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ ان کے جنازہ میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔1979ء کے انقلاب ایران کے بعد یہ افواہ گردش کرنے لگی کہ کچھ شرپسندوں نے سابق صدر پاکستان سکندر مرزا کی قبر کو مسمار کردیا۔


سیاسی دفاتر
پیشتر
چوہدری خلیق الزماں
گورنر مشرقی بنگال
1954 – 1955
اگلا
محمد شہاب الدین
قائم مقام
پیشتر
مشتاق احمد گورمانی
وزیر داخلہ پاکستان
1954 – 1955
اگلا
مولوی فضل الحق
پیشتر
غلام محمد
گورنر جنرل پاکستان
1955 – 1956
اگلا
عہدہ ختم کردیا گیا
پیشتر
نیا عہدہ تخلیق ہوا
صدر پاکستان
1956 – 1958
اگلا
ایوب خان