رفیق تارڑ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رفیق تارڑ
تفصیل=

نویں صدر پاکستان
مدت منصب
1 جنوری 1998ء – 20 جون 2001ء
وزیر اعظم نواز شریف
پرویز مشرف (نگران)
Fleche-defaut-droite-gris-32.png وسیم سجاد (نگران)
پرویز مشرف Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 2 نومبر 1929  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
گوجرانوالہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 7 مارچ 2022 (93 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (1929–1947)
Flag of Pakistan.svg پاکستان (1947–2022)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
جماعت پاکستان مسلم لیگ
پاکستان مسلم لیگ (ن)  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ پنجاب  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ منصف،  سیاست دان،  وکیل  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو،  پنجابی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سابقہ صدر پاکستان

پیدائش[ترمیم]

2 نومبر 1929ء کو پیر کوٹ نزد گکھڑ منڈی (تحصیل وزیر آباد ، ضلع گوجرانوالا) میں پیدا ہوئے،[2]، ان کا تعلق جٹوں کے تارڑ قبیلہ سے تھا،

تعلیم[ترمیم]

اسلامیہ کالج گوجرانوالہ سے گریجویشن کرنے کے بعد 1951ء میں یونیورسٹی لاء کالج لاہور سے ایل ایل بی کی سند حاصل کی۔

عملی زندگی[ترمیم]

1955ء میں لاہور ہائیکورٹ میں بطور ایڈووکیٹ پریکٹس شروع کی اور 1966ء میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن جج بنائے گئے۔ 1971ء میں پنجاب لیبر کورٹ، لاہور کے چیئرمین بنے۔ 1974ء میں لاہور ہائی کورٹ بنچ میں شامل ہوئے اور 1980ء میں الیکشن کمیشن کے رکن بنے۔[3]

نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین کے طور پر بھی کام کیا،۔ سینیٹر بننے کے بعد انہوں نے ایک مقامی اردو اخبار میں کالم نگاری بھی کی۔

بطور چیف جسٹس[ترمیم]

6 مارچ 1989ء سے 1991ء تک لاہور ہائیکورٹ کے 28 ویں چیف جسٹس رہے، بعد ازاں 17 جنوری 1991 سے یکم نومبر 1994ء تک سپریم کورٹ کے جج رہے۔[4][5]

رکن سینیٹ[ترمیم]

محمد رفیق تارڑ 1997ء میں سپریم کورٹ کے جج کے طور پر ریٹائر ہونے، ریٹائرمنٹ کے بعد 65 سال کی عمر میں انہوں نے نواز شریف کے قانونی مشیر کی حیثیت سے کام شروع کیا اور یوں ان کی سیاست میں آمد ہوئی۔اس بعد پاکستان مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔

صدر پاکستان[ترمیم]

محمد رفیق تارڑ 1997ء سپریم کورٹ کے جج کے طور پر ریٹائر ہونے کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے اور پھر اسی سال ملک کے صدر بنے۔ سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس سجاد علی شاہ کے بارے میں ایک متنازع انٹرویو دینے کی وجہ سے رفیق تارڑ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے تھے۔

تاہم انہوں نے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کیا اور یوں وہ صدر پاکستان کا انتخاب لڑنے کے اہل ہونے والے واحد صدر بنے۔

صدارتی انتخاب میں رفیق تارڑ نے اپنے مدمقابل سابق وزیر دفاع اور پیپلز پارٹی کے رہنما آفتاب شعبان میرانی کو شکست دی اور صدر مملکت بن گئے۔

صدارت کا حلف[ترمیم]

رفیق تارڑ نے یکم جنوری 1998ء کو پاکستان کے نویں صدر کا حلف اٹھایا، 12 اکتوبر 1999ء میں جنرل پرویز مشرف کی طرف سے میاں نواز شریف کی حکومت کی برطرفی کے بعد انہیں عہدے سے نہیں ہٹایا گیا تاہم جنرل مشرف جب بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سے ملاقات کے لیے بھارت جانے لگے تو انہوں نے رفیق تارڑ کو عہدے سے ہٹا کر خود صدر مملکت کا عہدہ سنبھال لیا،

اور اس طرح وہ 20 جون 2001ء تک صدر مملکت کے منصب پر فائز رہے وہ پاکستان کے 9 ویں صدر تھے،[6] ان کے دور میں صدر کے اختیارات کو بتدریج کم کیا گیا اور بالآخر تیرھویں ترمیم کے ذریعے صدر کے اختیارات میں آئین کی روح کے مطابق مکمل طور پر کمی کر دی گئی۔[7]

وفات[ترمیم]

طویل علالت کے بعد 92 سال کی عمر میں 7 مارچ 2022ء کو لاہور میں وفات پا گئے ،[8] رہے۔ رفیق تارڑ کے پوتے عطا اللہ تارڑ اور بہو سائرہ افضل تارڑ ن لیگ کے اہم رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

سیاسی عہدے
ماقبل  صدر پاکستان
1998–2001
مابعد