سائرہ افضل تارڑ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سائرہ افضل تارڑ
تفصیل= سائرہ افضل تارڑ، 2014

وزیر صحت
آغاز منصب
4 اگست 2017
صدر ممنون حسین
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی
وزیر صحت
مدت منصب
7 جون 2013 – 28 جولائی 2017
صدر ممنون حسین
وزیر اعظم نواز شریف
Fleche-defaut-droite-gris-32.png ثانیہ نشتر
پارلیمانی عہدے
Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
رکن قومی اسمبلی پاکستان
آغاز منصب
17 مارچ 2008
معلومات شخصیت
پیدائش 7 جون 1966 (54 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حافظ آباد  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ پنجاب  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سائرہ افضل تارڑ ایک پاکستانی سیاست دان ہے۔

سائرہ افضل تارڑ حافظ آباد ضلع کے قصبہ کولو تارڑ کے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ان کی شادی سابق صدر پاکستان محمد رفیق تارڑ کے بیٹے محمد عرفان تارڑ سے ہوئی جو کہ فارن سروسز میں بیرون ملک خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

پرویز مشرف کے دور حکومت میں انتخابی عمل میں حصہ لینے کے لئے بی اے کی ڈگری کا ہونا لازمی قرار دیا گیا تو تعلیمی قابلیت کم ہونے کی وجہ سے سائرہ کے والد افضل حسین تارڑ خود انتخابات میں حصہ نہ لے سکے۔

اس کے بعد انہوں نے اپنی جگہ تارڑ برادری کے برگیڈئیر محمد عثمان تارڑ کو میدان میں اتارا لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ حافظ آباد میں شخصتی ووٹ کا رجحان پایا جاتا ہے۔

بعد ازاں انہوں نے اپنی بیٹی سائرہ افضل کو الیکشن لڑوانے کا فیصلہ کیا۔

اس طرح حافظ آباد میں پہلی دفعہ بڑے زمیندار گھرانے کی ایک خاتون سیاست میں منظر عام پر آئی۔

2008 اور 2013 کے انتخابات میں وہ ن لیگ کے پلیٹ فارم سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں اور بعد ازاں انہیں وزیرِ صحت جیسا کلیدی عہدے کا قلمدان سونپا گیا۔

سیاسی پسِ منظر

سائرہ افضل تارڑ کا گھرانہ قیام پاکستان کے قبل سے لے کر آج تک سیاست میں ہے۔ ان کے پردادا عطا اللہ خان انگریز حکومت کا حصہ رہے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد ان کے دادا متوفی سیف اللہ تارڑ جنرل ایوب کے دور حکومت میں ایم پی اے جبکہ ان کے ماموں ارشاد اللہ تارڑ ایم این اے رہ چکے ہیں۔

بعد ازاں ان کے ماموں پی پی پی میں شامل ہو گئے اور اسی کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لیتے ہوئے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے لیکن بدقسمتی سے ضیاء الحق نے اس حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

اس کے بعد میاں سیف اللہ تارڑ اور چوہدری ارشاد اللہ تارڑ دونوں ممبر مجلس شوریٰ نامزد ہو گئے۔

خیال رہے کہ اس وقت تک حافظ آباد کو گوجرانوالہ کی تحصیل کا درجہ حاصل تھا۔

اسی دور میں سیف اللہ تارڑ نے اپنے بیٹے افضل تارڑ کو چئیرمین ضلع کونسل گوجرانوالہ بنوایا۔ ان کے مد مقابل حامد ناصر چٹھہ تھے۔ اس کے بعد پہلی دفعہ پی پی پی کے پلیٹ فارم سے وہ رکن قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے۔

بے نظیر حکومت ختم ہونے کے بعد انہوں نے پی پی پی کو خیر آباد کہتے ہوئے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئے۔ بعد میں سابق صدر پاکستان رفیق تارڑ کی معاونت سے وہ ن لیگ میں شامل ہو گئے۔

بعدازاں نواز شریف کی جلا وطنی تک گوشہ نشیں رہے۔ جب نواز شریف وطن واپس لوٹے تو افضل تارڑ نے اپنی بیٹی سائرہ کو ن لیگ کے ٹکٹ سے الیکشن لڑوایا۔

افضل تارڑ آج کل خود چئیرمین ضلع کونسل حافظ اباد کے عہدے پر فائز ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Detail Information". 23 March 2011. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 09 جولا‎ئی 2017.