کابینہ پاکستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
State emblem of Pakistan.svg
مضامین بسلسلہ
سیاست و حکومت
پاکستان
آئین

پاکستان کی کابینہ وزیر اعظم کی زیر قیادت وزراء کی وہ جماعت ہے جو حکومت چلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

وزرا کی مجلس کی صدارت وزیر اعظم کرتا ہے۔ تکنیکی طور پر یہ حکومت پاکستان کی کلی خود مختار مجلس ہے۔

موجودہ کابینہ[ترمیم]

وفاقی وزرا[ترمیم]

عہدہ برسر منصب جماعت قلمدان سنبھالا

وزیر اعظم
باقی تمام عہدے وزیر اعظم نے خود رکھ لیے
Konferenz Pakistan und der Westen - Imran Khan (cropped).jpg
عمران خان
پاکستان تحریک انصاف 18 اگست 2018

وزیر دفاع

پرویز خٹک [1]
پاکستان تحریک انصاف 20 اگست 2018

وزیر دفاعی پیداوار

زبیدہ جلال خان
بلوچستان عوامی پارٹی 20 اگست 2018

وزیر تعلیم

شفقت محمود [1]
پاکستان تحریک انصاف 20 اگست 2018

وزیر پیٹرولیم

غلام سرور خان
پاکستان تحریک انصاف 20 اگست 2018

وزیر خزانہ

اسد عمر [2]
پاکستان تحریک انصاف 20 اگست 2018

وزیر خارجہ

شاہ محمود قریشی [3]
پاکستان تحریک انصاف 20 اگست 2018

وزیر صحت

عامر محمود کیانی[1]
پاکستان تحریک انصاف 20 اگست 2018

وزیر انسانی حقوق

شیریں مزاری
پاکستان تحریک انصاف 20 اگست 2018

وزیر اطلاعات و نشریات

فواد چودھری
پاکستان تحریک انصاف 20 اگست 2018

وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات

خالد مقبول صدیقی
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان 20 اگست 2018

وزیر بین الصوبائی رابطہ‬

فہمیدہ مرزا
گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس 20 اگست 2018

وزیر قانون و انصاف

فروغ نسیم
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان 20 اگست 2018

وزیر مذہبی امور

نور الحق قادری
پاکستان تحریک انصاف 20 اگست 2018


وزیرِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس


طارق بشیر چیمہ
پاکستان مسلم لیگ (ق) 6 ستمبر 2018

وزیر ریلوے

شیخ رشید احمد
عوامی مسلم لیگ (پاکستان) 20 اگست 2018

وزیر آبی وسائل

خسرو بختیار
پاکستان تحریک انصاف 20 اگست 2018ء

وزیر مملکت برائے داخلہ

شہریار خان آفریدی
پاکستان تحریک انصاف 31 اگست 2018ء

وزیر اعظم کے مشیر[ترمیم]

کابینہ
عہدہ برسر منصب قلمدان سنبھالا، قلمدان چھوڑا

مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ
Muhammad Shehzad Arbab.jpg
محمد شہزاد ارباب [4]
20 اگست 2018

مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل، صنعتی پیداوار

عبد الرزاق داؤد
20 اگست 2018

مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی

ملک امین اسلم
20 اگست 2018

مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات و کفایت شعاری

عشرت حسین
20 اگست 2018

مشیر برائے پارلیمانی امور

بابر اعوان
20 اگست 2018، 4 ستمبر 2018

2009ء کابینہ[ترمیم]

26 جنوری 2009ء کو چار نئے وفاقی وزراء کی جانب سے عہدے سنبھالنے کے بعد وفاقی وزراء کی کل تعداد 41 ہو گئی تاہم 16 دسمبر 2009ء کو نئے اعلان کے بعد یہ تعداد 39 رہ گئی۔ ان چار وزراء میں سے دو کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ اور دو کا جمعیت علمائے اسلام ف سے تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ مرکز میں اتحادی حکومت کا حصہ بنی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے لیے حکومت نے وزارت محنت، افرادی قوت اور سمندر پار پاکستانی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور اس طرح محنت و افرادی قوت کی وزارت الگ اور سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت الگ کر دی گئی۔ موخر الذکر وزارت کے علاوہ بندرگاہوں اور جہاز رانی کی وزارت بھی متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے وزراء کو ملی۔ ان وفاقی وزراء کے علاوہ وزرائے مملکت کی تعداد 17 ہے۔ اس تازہ ترین تبدیلی کے بعد کابینہ کے اراکین میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 42، جمعیت علمائے اسلام ف اور عوامی نیشنل پارٹی کے 3،3، متحدہ قومی موومنٹ، پاکستان مسلم لیگ ف اور قبائلی علاقہ جات کے 2،2 اور بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے ایک، ایک رکن کابینہ کا حصہ ہیں جبکہ ایک رکن آزادامیدوار ہیں۔ اس طرح وزراء کی کل تعداد 58 ہے۔

فروری 2009ء میں خواجہ محمد خان ہوتی نے اپنی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت سے اختلافات کے باعث انسداد منشیات کی وزارت سے استعفی دے دیا۔

2009ء میں ہی رحمٰن ملک کو مشیر داخلہ سے وزیر داخلہ قرار دے دیا گیا کیونکہ ایوان بالا سینیٹ کے رکن بن گئے۔ علاوہ ازیں فاروق نائیک کے چیئرمین سینیٹ بننے کے بعد سید مسعود کوثر کو مشیر قانون و انصاف قرار دے دیا گیا۔ اسی سال رضا ربانی اور شیری رحمٰن نے بھی مبینہ طور پر جماعت کی قیادت سے اختلاف کے باعث کابینہ سے استعفا دے دیے ۔[5][6] شیری رحمٰن کی جگہ قمر زمان کائرہ کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات بنایا گیا۔

ڈاکٹر عاصم حسین کے استعفے کے بعد حکومت نے اگست 2009ء میں وزیر برائے تیل و قدرتی وسائل سید نوید قمر کو وزارت نجکاری کا اضافی عہدہ عطا کیا ۔[7] تاہم دسمبر 2009ء میں وفاقی کابینہ میں ایک مرتبہ پھر رد و بدل کرتے ہوئے حکومت نے ان سے یہ عہدہ وقار احمد خان کو منتقل کر دیا گیا جو پہلے وزیر سرمایہ کاری کے فرائض انجام دے رہے تھے[8] علاوہ ازیں دسمبر 2009ء میں دیگر تبدیلیوں میں میر ہزار خان بجارانی سے وزارت تعلیم کا قلمدان واپس لے کر انہيں وزیر صنعت و پیداوار بنا دیا گیا جبکہ وزیر صنعت و پیداوار منظور وٹو کو وزارت امور کشمیر و شمالی علاقہ جات کا قلمدان سونپ دیا گیا۔ حکومت نے ساتھ ہی وزارت سرمایہ کاری اور وزارت ترقیات و منصوبہ بندی کے خاتمے کا بھی اعلان کیا اور ان محکموں کو وزیر اعظم کے ماتحت کر دیا[8]۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ Pakistan۔ "PM Imran Khan approves 20-member federal cabinet | Pakistan"۔ thenews.com.pk۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-08-20۔
  2. "Finance Minister to be, Asad Umar hints at a bad news for country"۔ Timesofislamabad.com۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-08-20۔
  3.  ۔ "Expected federal ministers in new government of PTI – Pakistan – Dunya News"۔ Dunyanews.tv۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-08-20۔
  4. عباس شبیر۔ "PM finalises names for 20-member federal cabinet"۔ Samaa.tv۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-08-20۔
  5. رضا ربانی نے استعفیٰ دے دیا روزنامہ نوائے وقت، 14 مارچ 2009ء
  6. شیری رحمٰن کا استعفا منظور، کائرہ کو اضافی چارج دے دیا گیا - اے آر وائی ون ورلڈ، 14 مارچ 2009ء
  7. سید نوید قمر کا تعارفی صفحہ
  8. ^ ا ب 2 وزارتیں ختم، 4 وزراء کے محکمے تبدیل - روزنامہ جنگ کراچی، 16 دسمبر 2009ء