آئین پاکستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
State emblem of Pakistan.svg
حصہ سلسلہ مضامین بہ
سیاست و حکومت
پاکستان
آئین

آئین پاکستان کو پاکستان کا دستور اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین مجریہ 1973ء بھی کہتے ہیں۔ مارشل لاء کے اٹھنے کے بعد نئی حکومت کے لئے سب سے زیادہ اہم کاموں میں سے ایک ایک نئے آئین کا مسودہ تیار کرنا تھا.1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحگی کے بعد 1972 کو 1970 کے انتخابات کی بنیاد پر اسمبلی بنائی گئی۔ ایک کمیٹی مختلف سیاسی جماعتوں کے کراس سیکشن سے قائم کی گئی. اس کمیٹی کا مقصد ملک ؐیں ایک آئین بنانا تھا جس پر تمام سیاسی پارٹیاں متفق ہونں۔ کمیٹی کے اندر ایک اختلاف یہ تھا کیہ آیا کے ملک میں پارلیمانی اقتدار کا نظام ہونا چاہیے یا صدارتی نظام.اس کے علاوہ صوبائی خود مختاری کے معاملے پر مختلف خیالات تھے.آٹھ ماہ آئینی کمیٹی نے امنی رپورٹ پیش کرنے میں کی بالآخر 10 اپریل 1973 کو اس نے آئین کے متعلق اپنی رپورٹ پیش کی۔ وفاقی اسمبلی میں اکثریت یعنی 135 مثبت ووٹوں کے ساتھ اسے منظور کر لیا گیا اور 14 اگست 1973 کو یہ آئین ملک میں نافذ کر دیا گیا۔

اہم خصوصیات[ترمیم]

1:پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت ہو گا وزیراعظم حکومت کا سربراہ ہوگا اور اسے اکثریتی جماعت منتخب کرے گی۔

2:اسلام پاکستان کا سرکاری مذہب ہے اور صدر اور وزیراعظم کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔

3:پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔

4:آئین میں ترمیم کے لیے ایوان زیریں میں دو تہائی اور ایوان بالا میں بھاری اکثریت ہونا ضروری ہے۔

5:اردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔

6:عوام کومواقع دیئے جائیں گے کہ وہ اپنی زندگیاں قرآن وسنت کے مطابق بسر کریں۔

7:عدلیہ آزاد ہوگی ۔عدلیہ کی آزادی کی ضمانت دی جاتی ہے۔

8: قرآن مجیدکی اغلاط سے پاک طباعت کے لئے خصوصی انتظامات کئے جائیں گے۔

9:عصمت فروشی، جواء، سود اور فحش لٹریچر پر پابندی عائد کی جائے گی۔

10:عربی زبان کو فروغ دیاجائے گا طلباء وطالبات کے آٹھویں جماعت تک عربی کی تعلیم لازمی قرار دی گئی۔

11:آئین کی روسے مسلمان سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ کو ایک مانے،آسمانی کتابوں پر ایمان لائے ،فرشتوں ،یوم آخرت اور انبیائے کرام پر ایمان رکھے اور حضوراکرم ﷺ کو اللہ کا آخری نبی تسلیم کرے۔جو شخص ختم نبوت ﷺ کا منکر ہوگا وہ دائرہ اسلام سے خارج تصور کیاجائے گا۔

نگار خانہ[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]