اقبال اکادمی پاکستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اقبال اکادمی پاکستان
اقبال اکادمی پاکستان
ایجنسی کا جائزہ
قیام 1951ء (1951ء)
صدر دفتر لاہور، پاکستان
31°33′38″N 74°19′41″E / 31.5606214°N 74.3281451°E / 31.5606214; 74.3281451
ویب سائٹ www.iap.gov.pk

تاریخ[ترمیم]

قیام پاکستان کے بعد 1951ء میں اقبال اکادمی کا قیام عمل میں آیا جبکہ حکومت پاکستان کے تحت جاری کردہ حکومتی آرڈی نینس مجریہ سال 1962ء کے تحت باقاعدہ طور پر تشکیل دیا گیا۔ 1951ء سے 1960ء تک اِس کا صدر دفتر کراچی میں وفاقی وزارت تعلیم کی زیر نگرانی تھا۔11 اگست 1960ء کو دار الحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا تو اِس منتقلی میں اقبال اکادمی کا دفتر لاہور منتقل کر دیا گیا کیونکہ علامہ اقبال کی رہائش گاہ لاہور میں واقع ہے۔ 1976ء میں اقبال اکادمی کا دفتر 116 میکلوڈ روڈ منتقل ہوا جہاں جاوید منزل واقع ہے۔ 1977ء میں ایوان اقبال کی تعمیر میں اقبال اکادمی کا دفتر تشکیل دینے کا مشورہ کیا گیا۔ 1996ء میں اُس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ایوان اقبال کی چھٹی منزل پر اقبال اکادمی کے دفتر کا افتتاح کیا۔

قیام[ترمیم]

اقبال اکادمی کا باقاعدہ قیام 1962ء میں حکومت پاکستان کے مجریہ آرڈی نینس کے تحت وجود میں آیا۔ اِس کا جامع مقصد اقبال شناسی تھا۔

مقاصد[ترمیم]

اقبال اکادمی پاکستان کے مقاصد یہ ہیں جن کے تحت اکادمی کام کرتی ہیں:

  • اقبال شناسی کے لیے مختلف محققین و مؤلفین کی کتب کی اشاعت۔
  • اقبال شناسی کے لیے پروگرام۔
  • اقبال ایوارڈ برائے ماہرین اقبالیات۔
  • اقبال شناسی کے لیے تحقیق و تدوین کے مواقع فراہم کرنا۔
  • اقبالیات کے مواد کو محفوظ کرنا تاکہ ذخیرہ کی شکل بن سکے۔
  • اقبال کے کلام کا صوتی ریکارڈ مرتب کرنا۔
  • اقبالیات کے موضوعات پر سیمنار اور کانفرنسیں منعقد کرنا۔
  • بیرون ممالک میں علامہ اقبال کے پیغام کو عام کرنا۔
  • اقبالیات کی تحقیق میں راہنمائی کرنا۔
  • تحقیق و تدوین میں علمی معاونت کرنا۔
  • نشر و اشاعت کے لیے مالی مدد فراہم کرنا۔
  • اقبال کتب خانہ (اقبال لائبریری) کی خدمات عوام الناس کی رسائی تک ممکن بنانا۔[1]

اقبال کتب خانہ[ترمیم]

اقبال کتب خانہ 1989ء میں قائم ہوئی جس کا مقصد علامہ اقبال ی تصانیف اور کثیر اللسانی تصانیف کو کتابی شکل میں جمع کرنا تھا۔2003ء میں آن لائن کتب خانہ یعنی علامہ اقبال آفاقی کتب خانہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔اب تک اِس کتب خانہ کے تحت 20 زبانوں میں 1453 کتب آن لائن پیش کی جاچکی ہیں۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]