سید وقار عظیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سید وقار عظیم
معلومات شخصیت
پیدائش 15 اگست 1910  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الہ آباد، برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 17 نومبر 1976 (66 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور، پاکستان  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن میانی صاحب قبرستان  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ الٰہ آباد
جامعہ علی گڑھ  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مترجم، پروفیسر، ادبی تنقید نگار  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت جامعہ ملیہ اسلامیہ، جامعہ الٰہ آباد، اورینٹل کالج لاہور  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

سید وقار عظیم (پیدائش: 15 اگست، 1910ء - وفات: 17 نومبر 1976ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ادیب، نقاد، مترجم، محقق اور اورینٹل کالج لاہور میں اردو کی تدریسی خدمات انجام دیں۔ آپ اردو کے پہلے غالب پروفیسر اور اردو افسانوی ادب کے اولین نقاد شمار ہوتے ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

سید وقار عظیم 15 اگست، 1910ء کو الہ آباد، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ الٰہ آباد یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی ٹی کیا۔ جامعہ الہٰ آباد اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے تدریس کا آغاز کیا۔ اسی دوران حکومت ہند کے سرکاری ادبی جریدے آج کل کے مدیر ہو گئے۔ قیام پاکستان کے بعد محکمہ ٔ مطبوعات و فلم ماہِ نو کے بانی مدیر مقرر ہوئے۔ 1949ء میں لاہور چلے آئے اور نقوش کی ادارت سنبھالی۔ 1950ء میں اورینٹل کالج لاہور میں اردو کے لیکچرر مقرر ہوئے۔ اور 1970ء تک اسی کالج سے وابستہ رہے۔ اسی دوران اقبال اکیڈمی، مرکزی اردو بورڈ، مجلس ترقی ادب، مجلس زبان دفتری اور جامعہ پنجاب کے شعبہ و تصنیف و تالیف میں بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ غالب کی صد سالہ تقریبات پر 1969ء میں انہیں پہلا غالب پروفیسر مقرر کیا گیا۔[1]

ادبی خدمات[ترمیم]

سید وقار عظیم اردو کے افسانوی ادب کے اولین نقاد شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے تنقید کے حوالے سے متعدد کتابیں تصنیف کیں

تصانیف[ترمیم]

  1. افسانہ نگار،
  2. داستان سے افسانے تک،
  3. نیا افسانہ،
  4. ہماری داستانیں،
  5. فن اور فن کار،
  6. ہمارے افسانے،
  7. شرح اندر سبھا،
  8. اقبال بطور شاعر فلسفی
  9. اقبالیات کا تنقیدی جائزہ
  10. چند قدیم ڈرامے
  11. آغا حشر اور ان کے ڈرامے
  12. اردو ڈراما:فن اور منزلیں
  13. اردو ڈراما : تنقیدی اور تجزیاتی مطالعے
  14. افسانہ نگاری
  15. اقبال معاصرین کی نظر میں
  16. انشاء کی تعلیم
  17. داستان امیر حمزہ
  18. فورٹ ولیم کالج : تحریک اور تاریخ
  19. منٹو کا فن
  20. ہندوستان پانچ ہزار سال پہلے
  21. وقار غالب
  22. مطالعہ کے بہتر طریقے

کے نام سرفہرست ہیں۔[1]

وفات[ترمیم]

سید وقار عظیم نے 17 نومبر،1976ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پائی اور میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ عقیل عباس جعفری: پاکستان کرونیکل، ص 434، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء