سید وقار عظیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سید وقار عظیم
پیدائش 15 اگست 1910(1910-08-15)ء

الہ آباد، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان
وفات نومبر 17، 1976(1976-11-17) (عمر  66 سال)
لاہور، پاکستان
قلمی نام سید وقار عظیم
پیشہ مصنف، نقاد، مترجم، محقق، معلم
زبان اردو
نسل مہاجر
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
تعلیم ایم اے (اردو)
مادر علمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، الٰہ آباد یونیورسٹی
صنف تنقید، تحقیق، ترجمہ
نمایاں کام داستان سے افسانے تک
نیا افسانہ
ہماری داستانیں
اقبالیات کا تنقیدی جائزہ
فن اور فن کار

سید وقار عظیم (پیدائش: 15 اگست، 1910ء - وفات: 17 نومبر 1976ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ادیب، نقاد، مترجم، محقق اور اورینٹل کالج لاہور میں اردو کی تدریسی خدمات انجام دیں۔ آپ اردو کے پہلے غالب پروفیسر اور اردو افسانوی ادب کے اولین نقاد شمار ہوتے ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

سید وقار عظیم 15 اگست، 1910ء کو الہ آباد ، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ الٰہ آباد یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی ٹی کیا۔ الٰہ آباد یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ دہلی سے تدریس کا آغاز کیا۔ اسی دوران حکومت ہند کے سرکاری ادبی جریدے آج کل کے مدیر ہوگئے۔ قیام پاکستان کے بعد محکمہ ٔ مطبوعات و فلم ماہِ نو کے بانی مدیر مقرر ہوئے۔ 1949ء میں لاہور چلے آئے اور نقوش کی ادارت سنبھالی۔ 1950ء میں اورینٹل کالج لاہور میں اردو کے لیکچرر مقرر ہوئے۔ اور 1970ء تک اسی کالج سے وابستہ رہے۔ اسی دوران اقبال اکیڈمی، مرکزی اردو بورڈ مجلس ترقی ادب، مجلس زبان دفتری اور جامعہ پنجاب کے شعبہ و تصنیف و تالیف میں بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ غالب کی صد سالہ تقریبات پر 1969ء میں انہیں پہلا غالب پروفیسر مقرر کیا گیا۔[1]

ادبی خدمات[ترمیم]

سید وقار عظیم اردو کے افسانوی ادب کے اولین نقاد شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اٹھارہ کتابیں تصنیف کیں جن میں افسانہ نگار، داستان سے افسانے تک، نیا افسانہ، ہماری داستانیں، فن اور فن کار، ہمارے افسانے، شرح اندر سبھا، اقبال بطور شاعر فلسفی اور اقبالیات کا تنقیدی جائزہ کے نام سرفہرست ہیں۔[1]

وفات[ترمیم]

سید وقار عظیم نے 17 نومبر،1976ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پائی اور میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 1.2 عقیل عباس جعفری: پاکستان کرونیکل، ص 434، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء