مظفر حسین برنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مظفر حسین برنی
معلومات شخصیت
پیدائش 14 اگست 1923  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلند شہر، اتر پردیش، برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 7 فروری 2014 (91 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نئی دہلی  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان، مصنف، غیر فکشن مصنف، سرکاری ملازم، محقق، سربراہ ریاست، وائس چانسلر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت حکومت اوڑیسہ، حکومت ناگالینڈ، حکومت تریپورہ، حکومت منی پور، حکومت ہماچل پردیش، حکومت ہماچل پردیش، قومی اقلیتی کمیشن، جامعہ ملیہ اسلامیہ  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

سید مظفر حسین برنی المعروف ایس ایم ایچ برنی (پیدائش: 14 اگست، 1923ء - وفات: 7 فروری، 2014ء) بھارت کے معروف سول سرونٹ، اردو زبان کے نامور محقق، اقبال شناس اور دانشور تھے۔ ان کی مرتب کردہ کتاب کلیاتِ مکاتیبِ اقبال ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ وہ بھارت کی ریاست اوڑیسہ کے چیف سیکریٹری، ناگالینڈ، تریپورہ، منی پور، ہریانہ اور ہماچل پردیش کے گورنر اور بھارت کی مرکزی یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے چانسلر کے عہدوں پر خدمات انجام دیں۔مظفر حسین برنی قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین بھی رہے۔

حالات زندگی[ترمیم]

مظفر حسین برنی 14 اگست 1923ء کو بلند شہر، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ اترپردیش کے بریلی کالج سے تعلیم حاصل کی[1] اور انڈین ایڈمنسڑیشن سروس میں شمولیت اختیار کی اور ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اوڑیسہ کے چیف سیکریٹری[2] کے عہدے تک پہنچے۔ دورانِ ملازمت 1981ء سے 1984ء تک ناگالینڈ، تریپورہ اور منی پور کے گورنر اور 1987ء سے 1988ء تک ہریانہ اور ہماچل پردیش کے گورنر رہے۔ مظفر حسین برنی 1988ء سے 1992ء تک چوتھے اور پانچویں قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین بھی رہے۔ مظفر برنی کو 1990ء سے 1995ء تک جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے چانسلر[3] کے عہدے پر فائز رہنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ انہیں علامہ اقبال کی شخصیت سے گہرا لگاؤ تھا۔ اقبالیات کے موضوع پر ان کی تین کتابیں شائع ہوچکی ہیں خصوصاً چار جلدوں میں کلیاتِ مکاتیبِ اقبال ان کا بہت کارنامہ مانا جاتا ہے جس میں انہوں نے پہلے سے مختلف مجموعوں میں مرتبہ مکاتیب اقبال کو زمانی ترتیب سے یکجا کرنے کے علاوہ متعدد ایسے خطوط بھی شامل کیے ہیں جو کسی اور مجموعے میں شامل نہیں تھے اور بعض نئے خطوط بھی دریافت کیے۔ ان کی دیگر کتابوں میں محب وطن اقبال (1984ء)، اقبال اور قومی یکجہتی (1986ء) شامل ہیں۔ ان کی وفات 7 فروری 2014ء میں ہوئی۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "بریلی کالج کے فارغ التحصیل"۔ مورخہ 19 اکتوبر 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  2. "1936ء سے اوڑیسہ کے چیف سیکریٹریز" (PDF)۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  3. "جامعہ ملیہ اسلامیہ - تاریخ"۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  4. ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ،ادبی مشاہیر کے خطوط، قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل لاہور، 2019ء، ص 255