اقبال کا تصور عقل و عشق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

عشق عربی زبان کا لفظ ہے محبت کا بلند تر درجہ عشق کہلاتا ہے اور یہی محبت کسی درجے پر جا کر جنوں کہلاتی ہے۔ عشق کا محرک مجازی یا حقیقی ہو سکتا ہے۔ یہ عشق نا ممکن کو ممکن بنا ڈالتا ہے ۔ کہیں فرہاد سے نہر کھد واتا ہے تو کہیں سوہنی کو کچے گھڑے پر تیرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ عشق ہی کی بدولت کوئی صدیق اکبر کہلاتا ہے تو کوئی سیدنا بلال بنتا ہے۔ غرض ہر عشق کے مدارج مختلف ہیں۔ کوئی عشق مجازی میں ہی گھر کر رہ جاتا ہے۔ تو کوئی عشق ِ مجازی سے حقیقی تک رسائی حاصل کرکے حقیقی اعزازو شرف حاصل کرتا ہے۔

اقبال کے یہاں عشق اور ان کے مترادفات و لوازمات یعنی وجدان ، خود آگہی، باطنی شعور ، جذب ، جنون ، دل ، محبت ، شوق ، آرزو مندی ، درد ، سوز ، جستجو، مستی اور سرمستی کا ذکر جس تکرار، تواتر، انہماک سے ملتا ہے ۔اُس سے ثابت ہوتا ہے کہ اقبال کے تصورات میں عشق کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اقبال کے نزدیک عشق ایک عطیہ الہٰی اور نعمت ازلی ہے۔ انسانوں میں پیغمبروں کا مرتبہ دوسروں سے اس لیے بلند تر ہے کہ ان کا سینہ محبت کی روشنی سے یکسر معمور اور ان کا دل بادہ عشق سے یکسر سرشار ہے۔محبت جسے بعض نے فطرت ِ انسانی کے لطیف ترین حسی پہلو کا نام دیا ہے۔ اور بعض نے روح ِ انسانی پر الہام و وجدان کی بارش یا نورِ معرفت سے تعبیر کیا ہے۔اس کے متعلق اقبال کیا کہتے ہیں اقبال ہی کی زبان سے سنتے چلیے ، یہ ان کی نظم ”محبت “ سے ماخوذ ہے۔

تڑپ بجلی سے پائی ، حور سے پاکیزگی پائی
حرارت لی نفس ہائے مسیح ِ ابن مریم سے
ذرا سی پھر ربو بیت سے شانِ بے نیازی لی
ملک سے عاجزی ، افتادگی تقدیر ِ شبنم سے
پھر ان اجزاءکو گھولا چشمہ حیوان کے پانی میں
مرکب نے محبت نام پایا عرشِ اعظم سے

یہ ہے وہ محبت کا جذبہ عشق جو اقبال کے دائرہ فکر و فن کا مرکزی نقطہ ہے۔ یہی تخلیق کا ئنات سے لے کر ارتقائے کائنات تک رموزِ فطرت کا آشنا اور کارزارِ حیات میں انسان کا رہنما و کار کُشا ہے۔ بقول اقبال کائنات کی ساری رونق اسی کے دم سے ہے۔ ورنہ اس سے پہلے ، اس کی فضا بے جان اور بے کیف تھی۔

عشق از فریادِ ما ہنگامہ ہا تعمیر کرد!
ورنہ ایں بزمِ خموشاں ہیچ غوغائے نداشت

عقل اور عشق[ترمیم]

ڈاکٹر عابد حسین اپنے مضمون ”عقل و عشق۔۔۔اقبال کی شاعری میں“ میں لکھتے ہیں کہ،

” عقل اور عشق کی کشمکش اردو اور فارسی شاعری کا پرانا مضمون ہے عشقیہ شاعری میں عقل ،مصلحت اندیشی اور احتیاط کے معانی میں آتا ہے۔ اور عشق اس والہانہ محبت کے معانی میں جو آدابِ مصلحت سے ناآشنا اور وضع احتیاط سے بیگانہ ہے ظاہر ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔“

متصوفانہ شاعری میں عقل سے مراد منطقی استدلال ہے جس کے ذریعے ظن ظاہر کا دھندلا تصور قائم ہوتا ہے۔ جبکہ عشق سے مراد جذبِ باطن جس کی بدولت طالب ِ تعینات کے پردوں کو ہٹا کر حقیقت کی بلاواسطہ معرفت حاصل کرنا ہے۔ اقبال نے عقل اور عشق کے تصورات صوفی شاعروں سے لے کر ان پر جدید فلسفہ وجدانیت کا رنگ چڑھایا۔ صوفی شعراء”ہمہ اوست“ کے قائل ہیں ان کے نزدیک کائنات کا وجود ہمارے حواس ظاہری کا فریب ہے۔ جبکہ جدید فلسفہ وجدانیت کے سب سے ممتاز فلسفی برگساں کے خیال میں انسان کے ذہن کاکام یہ ہے کہ حسی وظیفہ کو حرکتی وظیفہ میں منتقل کر دے اقبال بھی برگساں سے متاثر تھے۔

بقول اقبال

عقل نے ایک دن یہ دل سے کہا
بھولے بھٹکے کی رہنما ہوں میں
ہوں مفسر کتا ب ِ ہستی کی
مظہر شان کبریا ہوں میں

جواب میں دل کہتا ہے کہ،

علم تجھ سے تو معرفت مجھ سے
تو خدا جو خدا نما ہوں میں

عقل راز کو سمجھ کر اس کا ادراک کرتی ہے۔ جبکہ عشق اسے آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ یعنی حقیقت ہستی کا بلاِ واسطہ مشاہدہ کرتا ہے۔

عقل زمان و مکان کی پابند جبکہ عشق زمان و مکاں کی حدود سے نکل کر اُ س عالم نا محدود میں پہنچ جاتا ہے۔ جہاں حقیقت بے حجاب ہوتی ہے۔ اور یہ معرفت کا مقام ہے۔عقل کی منزل مقصود ہستی مطلق کی معرفت وہ خدا جو ہے لیکن اس کی جستجو ناتمام ہے عشق خدانما ہے جو راہ طلب میں عقل کی رہبری کرتا ہے۔گویا اقبال کے نزدیک عقل اور عشق میں بنیادی تضاد اتنا زیادہ نہیں بلکہ ابتدائی مراحل پر تو عقل کی ہی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

فطرت کو خر د کے روبر کر
تسخیر مقامِ رنگ و بو کر؟

عقل میں بہت سی صفات موجود ہیں البتہ اس میں وہ جوش و خروش ، تڑپ ، حرکت اور وہ جرات نہیں جو عشق کا شیوہ ہے۔ عقل اگرچہ آستانِ حقیقت سے دور نہیں لیکن اکیلی اس تک پہنچ نہیں سکتی ۔

عقل گو آستا ںسے دور نہیں
اس کی تقدیر میں حضور نہیں
علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں
دل بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں

اقبال کے ہاں عشق سے مراد[ترمیم]

اقبال کے ہاں عشق سے مراد ایمان ہے ایمان کا پہلا جُز حق تعالٰیٰ کی الوہیت کا اقرار ہے اور اس پر شدت سے یقین ، اس شدت کو صوفیاءکرام نے عشق سے تعبیر کیا ہے۔ عقل ہمیں زندگی کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا حل سمجھاتی ہے لیکن جو شے عمل پر آمادہ کرتی ہے وہ ہے عشق ۔ عشق و ایمان سے زیادہ قوی کوئی جذبہ نہیں، اس کی نگاہوں سے تقدیریں بد ل جاتی ہیں۔

کوئی اندازا کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کا
نگاہ ِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

بقول مولانا روم،

” عقل جُزئی قبر سے آگے نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔۔ قبر سے آگے عشق کا قدم اُٹھتا ہے اور عشق ایک جست میں زمان و مکان والی کائنات سے آگے نکل جاتا ہے۔

عشق کی ایک جست نے طے کر دیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں

اقبال کے نزدیک عقل و علم کی سب سے بڑی کوتاہی یہ ہے کہ اس کی بنیاد شک پر قائم ہے۔ اس وجہ سے عقل و علم میں وہ خواص موجود نہیں جو تربیت خودی کے لیے ضروری ہیں۔ اس کے مقابلے میں عشق بے خوفی ، جرات اور یقین و ایمان پیدا کرتی ہے۔ اس لیے وہ خدا سے صاحبِ جنوں ہونے کی آرزو کرتے ہیں۔

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لبِ بام ابھی

خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میں
مرے مولا مجھے صاحب جنوں کر

خرد نے کہہ بھی دیا لا الہٰ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

عقل پر اقبال کا اعتراض[ترمیم]

ڈاکٹر سید عبداللہ ”عقل و خودی“ کے عنوان سے ”طیف اقبال“ میں اس امر پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں،

” اقبال کے خیال میں عقل ایک ناتمام چیز ہے یعنی عقل حقیقت کی کلیت کا ادراک نہیں کر سکتی۔۔۔۔ عقل جو حواس پر مبنی ہے حقیقت تک پہنچنے کے لئے یقینی راستہ نہیں ہے۔“

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے منزل نہیں ہے

عقل کے خلاف اقبال کا اعتراض ہے کہ عقل میں گرمی، جذب ، سرور و جنوں نہیں ۔ خودی کی تقویت کے لیے جس سرگرمی جذب و سرور کی ضرورت ہوتی ہے۔ عقل اس سے محروم ہے۔ خودی کی تسخیر کے لیے آگے بڑھنے کی جدوجہد کے لیے یقین کی ضرورت ہے مگر وہ یقین عقل کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتا ۔ عقل کی باتیں یقینی نہیں ہوتیں۔ عقل کی ایک بڑی کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ شک میں گرفتار رہتی ہے اس لیے خودی میں و ہ حرکت اس سے پیدا نہیں ہوتی جو عشق یعنی یقین سے پیدا ہوتی ہے۔ بحرکیف عقل ایسی چیز نہیں جس سے نفرت ہو، اقبال نے عملی اور جزوی امور میں اس کی مخالفت نہیں کی انہوں نے عقل سے اختلاف اس لیے کیا ہے کہ کلی امور میں یہ فوراً انکار کر دیتی ہے۔

اک دانش ِنورانی ، اک دانش برہانی
ہے دانش ِ برہانی، حیرت کی فراوانی

عشق اور خودی[ترمیم]

اقبال کے تصورِ خودی کو ان کے تصورِ عشق سے علاحدہ نہیں کیا جا سکتا تربیت خودی کے لیے سب سے بڑا وسیلہ اقبال کے نزدیک عشق ہے جس کے بغیر خودی نہ ترقی کر سکتی ہے اور نہ پختہ ہو سکتی ہے۔ صوفیوں کے نزدیک نصب العین تک پہنچنے کے لیے خودی کو مٹانا ضروری ہے۔ ان کے نزدیک عشق کے کمال کی علامت یہ ہے کہ مادی وجود کو خود مٹایا جائے اقبال کے نزدیک خودی کی تربیت ضروری ہے نہ کہ مٹا دینا۔ اقبا ل نے بار بار کہا ہے کہ خودی عشق سے استوار ہوتی ہے۔ اور یہ عشق نہ تو وہ صوفیانہ عشق ہے جو خود کو فنا کرکے کمال حاصل کرتا ہے اور نہ وہ مجازی عشق جو معمولی آرزوں کے لیے تڑپنا ہے۔ اقبال کے نزدیک اس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔

مرد خدا کا عمل ، عشق سے صاحب فروغ
عشق ہے اصل ِ حیات ، موت ہے اس پر حرام
عشق دمِ جبرئیل ، عشق دل ِ مصطفی
عشق خدا کا رسول ، عشق خدا کا کلام
عشق کی تقویم میں، عصرِ رواں کے سوا
اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام

ڈاکٹر سید عبداللہ ”طیف اقبال “ میں لکھتے ہیں۔

” اقبال کے نزدیک عشق اورخودی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں ۔ عشق پا لینے مسخر کرنے کی صلاحیت اور آرزو رکھتا ہے اور خودی کا خاصہ بھی یہی ہے کہ وہ غیر خودی کو مسخر کرنے یا پانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ عشق کا خاصہ ہے۔۔۔۔۔ کہ اس کا یقین اٹل اور محکم ہوتا ہے اور خود ی بھی یقین محکم کے پہیوں پر چلتی ہے۔ عشق پریشانیوں ، رنگا رنگیوں اور بد نظمی میں ترتیب ِحیات کرتا ہے۔ خودی کا بھی یہ وصف ہے کہ تنظیم حیات کرتی ہے۔“

الغرض اقبال کے نزدیک خودی نہ صرف عشق سے استوار ہوئی ہے بلکہ عشق خودی کا دوسرا نام ہے مولانا عبدالسلام ندوی”اقبال ِ کامل “ میں لکھتے ہیں کہ ،

”ڈاکٹر صاحب کے نزدیک عقل و عشق دونوں خودی کا جزو ترکیبی ہیں۔“

عشق کو عقل پر ترجیح دینے کے اسباب[ترمیم]

اقبال اگرچہ عقل کے مقابلے میں عشق کی برتری کے قائل ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ عقل کے مخالف ہیں بلکہ وہ ایک حد تک اس کی اہمیت کے قائل ہیں تاہم یہ درست ہے کہ اقبال عشق کو عقل پر ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک عشق سے ہی حقائق اشیا کا مکمل علمِ بصیرت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے خیال میں زندگی کی ساری رونق عشق سے ہے علم و عقل انسان کو منزل کے قریب تو پہنچا سکتے ہیں لیکن عشق کی مدد کے بغیر منزل کو طے نہیں کر سکتے۔

  عقل گو آستاں سے دور نہیں 

اس کی تقدیر میں حضور نہیں

اگر چہ عام طور پر عقل سے رہنمائی کا کام لیا جاتا ہے لیکن عشق عقل سے زیادہ صاحبِ ادراک ہے

زمانہ عقل کو سمجھا ہوا ہے مشعل راہ
کسے خبر کہ جنوں بھی ہے صاحب ادراک

اقبال کو اپنے ہم مشربوں سے شکایت ہے کہ وہ اس جنوں سے محروم ہیں ، جو عقل کو کارسازی کی راہ و رسم سکھا سکے۔

ترے دشت و در میں مجھ کو وہ جنوں نظر نہ آیا
کہ سکھا سکے خرد کو راہ و رسم کارسازی

بغیر نورِ عشق کے علم و عقل کی مدد سے دین و تمدن کی جو توجیہ کی جائے گی۔ وہ حقیقت پر کبھی بھی حاوی نہیں ہو سکتی ۔ عقل تصورات کا بت کدہ بنا سکتی ہے ۔ لیکن زندگی کی صحیح رہبری نہیں کر سکتی۔

عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشق
عشق نہ ہو تو شرع و دیں بُت کدہ تصورات

اقبال کے نزدیک عقل کی کمزوری یہ ہے کہ اس میں جرات رندانہ کی کمی ہے۔ جب تک عشق اس کی پشت پناہ نہ ہو آگے نہیں بڑھتی ۔ عقل اسباب کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر اصل حقیقت سے دور رہتی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اقبال سراسر عقل کا مخالف نہیں۔ چنانچہ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ وہ تمام امور جن سے قوموں کی زندگی بدل گئی کسی نہ کسی جذبہ کے تحت انجام پاتے ہیں اسی خیال کو اقبال اس طرح ادا کرتے ہیں۔

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لب بام ابھی

زندگی کے جس چاک کو عقل نہیں سی سکتی اس کو عشق اپنی کرامات سے بے سوزن اور بغیر تارِ رفو سی سکتا ہے۔

وہ پرانے چاک جن کو عقل سی سکتی نہیں
عشق سیتا ہے انہیں بے سوزن و تارِ رفو

عقل کی عیاری اور عشق کی سادگی اور اخلاص کو اس طرح ظاہر کیا ہے۔

عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے
عشق بے چارہ نہ مُلا ہے نہ زاہد نہ حکیم

روحانی ترقی ، جسے اقبال حیات ِ انسانی کا اصل مقصود گردانتے ہیں۔ عشق کی رہبری کی محتاج ہے اور اس میں اقبال عقل و علم کو بے دست و پا خیال کرتے ہیں ، خود انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے۔

خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ
سکھائی عشق نے مجھ کو حدیث رندانہ

کبھی کبھی پاسبان ِ عقل کی موجودگی انسان کو تنگ کرنے لگتی ہے خاص طور پر جب وہ تنقید ہی کو مطمح نظر بنا لے ایسے موقعوں پر اقبال اعمال کی بنیاد عقل کے بجائے عشق پر رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ

کبھی کبھی اقبال کے ضمیر میں معرکہ ہونے لگتا ہے۔ اور انہیں احساس ہوتا ہے کہ عشق ہی حق ہے اور عقل اس کے مقابلے میں وہی درجہ رکھتی ہے جو رسول ِ پاک کے مقابلے میں ابولہب کا تھا۔

تازہ میر ے ضمیر پر معرکہ کہن ہوا
عشق تمام مصطفی، عقل تمام بولہب

ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں عقل سے کسی قسم کی رہنمائی کی توقع رکھنا بے جا ہی ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اقبال عشق کو عقل سے برتر و بلند قرار دیتے ہیں ۔ اگر اقبال کے تصور عشق کے بارے میں ایک فقرے میں بات کی جائے تو حضرت علامہ کے شعر کے صرف ایک مصرعے میں ہی بات مکمل کی جاسکتی ہے۔

عشق کی ایک جست نے طے کر دیا قصہ تمام

یہی وجہ ہے کہ اقبال عقل کے بجائے عشق سے کام لینے کا مشورہ دیتے ہیں جس کی ایک جست سے سارا قصہ تمام ہو جاتا ہے جس فاصلے کو انسان بیکراں سمجھتا ہے ، عشق ایک چھلانگ میں اُسے عبور کرا دیتی ہے۔

ان تفصیلات سے اقبال کے تصور عشق کا پتہ چلتا ہے۔ وہ اگر چہ عشق کو عقل پر فوقیت دیتے ہیں ، تاہم عقل کی اہمیت سے انکار نہیں ہے۔ درج بالا تفصیلات سے یہ بھی اندازا کیا جا سکتا ہے کہ اقبال کا تصور عشق اردو فارسی کے دوسرے شعرا سے کتنا مختلف ہے ۔ اقبال کے نزدیک عشق ، محض اضطراری کیفیت ، ہیجان جنسی ہوس باختہ از خود رفتگی ، فنا آمادگی ، یا محدود کو لامحدود میں گم کر دینے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ ان کے یہاں عشق نام ہے ایک عالمگیر قوتِ حیات کا ، جذبہ عمل سے سرشاری کا۔