ارمغان حجاز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ارمغان حجاز فارسی زبان میں شاعری کی ایک کتاب ہے جو عظیم شاعر، فلسفی اور نظریۂ پاکستان کے بانی علامہ اقبال کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1938ء میں شائع ہوئی۔ ارمغان حجاز کا مطلب ہے حجاز کا تحفہ۔

تعارف[ترمیم]

یہ کتاب علامہ اقبال کی وفات کے چند مہینے بعد شائع ہوئی۔ یہ کتاب اردو اور فارسی دونوں زبانوں کے کلام کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب علامہ اقبال کی نا مکمل کتابوں میں سے ہے جسے وہ حج کا فرض ادا کرنے اور دربارِ حضور ﷺ کی حاضری کے بعد مکمل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے ان کا ارادہ تھا کہ وہ ارمغان حجاز لکھ کر حجاز مقدس میں اپنے ساتھ لے جائیں گے لیکن بیماری نے انہیں مہلت نہ دی اور وہ وفات پا گئے اور ان کی وفات کے کے بعد یہ کتاب شائع ہو سکی۔

غرض و غایت[ترمیم]

شاہکارتصنیف ارمغان حجاز فراق حجاز کی پر فضا نغموں سے معمور ہے یہ وہ دور ہے جب علامہ علالت و پریشان حالی کے دور سے گذر رہے تھے، اس لیے ارمغان حجاز کے کلام میں جوش کے ساتھ سوز و گداز بھی پایا جاتا ہے، کشمیر کے حالات نے خاص طور سے متاثر کیا اور اس دور میں کشمیری جن حالات کے شکار تھے ان کا ذکر اشارہ و کنایہ کے ساتھ اور کس قدر بلند آہنگی کے ساتھ پایا جاتا ہے۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے عبد السلام ندوی لکھتے ہیں۔

’’صرف کشمیر ہے کی خصوصیت نہیں بلکہ ارمغان حجاز کے اس حصے میں جتنی نظمیں ہیں سب بلند پر جوش ولولہ خیز اور شاعرانہ ہیں بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے دور اخیر کی شاعری کا رنگ و اعظانہ ہے لیکن ارمغان حجاز کی ان نظموں پر یہ کلیہ صادق نہیں آتا۔ چراغ جب بجھنے لگتا ہے تو اس کی لو اور زیادہ تیز ہوجاتی ہے یا صوفیا کے نظر یہ کے مطابق جسم جب ضعیف ہوتا ہے تو روح قوی ہو جاتی ہے۔‘‘

حیات با سعادت کا یہ آخری دوراس روحانی اضطراب اور پیمانہ سے بھی لبریز ہے ۔ جہاں وہ حضور رسالت مآبﷺ کے در دولت پر حاضر ہو کر شرابِ دیدار کی لذتِ شوق کے آرزو مند ہیں1937؁ء سے سفر حجاز کا مصمم ارادہ اور تیاریاں برابری جاری تھیں (اگر چہ سفر حجاز کی ذہنی تیاری تو اور پہلے سے تھی) ارمغان حجاز کی متعدد نظمیں اسی جوش عقیدت اور عشقِ رسولﷺ کا اظہار ہیں۔ جو انہوں نے بارگاہِ رسالت میں ساٹھ سال سے زائدعمر عزیز کے اس نحیف و نزارِ جسم و جان میں عزم سفر و حجاز ، اقبال کے جوش عقیدت اور فرت ا شتیاق کا آئینہ دار ہے جہاں ان کا شیشۂ دل مدینہ کا نام آتے ہی لبریز اور آنکھیں اشک ریز ہو جاتی ہیں۔ حجاز مقدس کا یہ تصوراتی سفر ارمغان حجاز کے نغمہ حرف وصوت میں ڈھل جاتا ہے اور یہ اشعار نازل ہوتے ہیں۔

بہ ایں پیری رہ یثرب گر فتم نواخواں از سرِود عاشقانہ

چوں آں مرغے کہ در صحرسرِ شام کشا ید پر بہ فکر آشیانہ

حجاز مقدس کے اس تصوراتی سفر میں ان کا طائر فکر بلند حضورِ رسالت مآبﷺ میں عالم اسلام کی زبوں حالی اور مغرب کی فکر لا دینی پر نوحہ خوانی کرتانظر آتا ہے وہ حیات و کائینات کی فتح و کامرانی کے لیے اسلامی زہدو محبت اور مثالی زندگی کی آرزو کرتے ہیں۔

راہِ حق کے اس مسافر اور عاشق رسولﷺ کو جب غیبی اشارات سے معلوم پڑ گیا کہ شاید ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرنے والی ہے تو ان کی زبان سے یہ آخری قطعہ جو ان کی زندگی کا ترجمان بھی ہے اور ارمغان حجاز کی زینت بھی ہے۔

سرودِ رفتہ باز آید کہ ناید
نسیمے از حجاز آید کہ نا ید
سر آمد روز گا ر ایں فقیر ے
دگر دانائے راز آید کہ نا ید 4؁

ارمغان حجاز اصل میں اقبال کا آخری ارمغان ملک و ملت ہے جس میں ان کے فکرو فلسفہ اور دعوت و پیام کے متنوع اور کثیر الجہات نقوش کی بو قلمونی ہے۔ عالم تصورات کا یہ سفرحجاز اقبال کے آخری تارِ نفس تک جاری رہا اور بالا آخر 20 آخر اپریل 1938؁ء کو ان کی نوائے حیات کا رساز بھی خاموش ہو گیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]