تحسین فراقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ڈاکٹر تحسین فراقی
پیدائش 17 ستمبر 1950 (1950-09-17)ءپتوکی، ضلع قصور، پاکستان
قلمی نام تحسین فراقی
پیشہ نقاد، معلم، محقق، شاعر
زبان اردو
قومیت پاکستان کا پرچمپاکستانی
نسل پنجابی
تعلیم ایم اے (اردو) ،پی ایچ ڈی
مادر علمی پنجاب یونیورسٹی
صنف تنقید، تحقیق ، شاعری
نمایاں کام اقبال: چند نئے مباحث
شاخ زریاب
نقش اول
غالب ۔فکروفرہنگ
حسن کوزہ گر
اہم اعزازات وزیر اعظم ادبی ایوارڈ

ڈاکٹر تحسین فراقی (پیدائش: 17 ستمبر، 1950ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے بقید حیات اردو کے ممتاز نقاد، شاعر اور محقق ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

پیدائش و تعلیم[ترمیم]

ڈاکٹر تحسین فراقی کی پیدائش 17 ستمبر،1950ء کو پتوکی، ضلع قصور، پاکستان میں ان کے ننھیال کے ہاں ہوئی۔ ان کے والد شیخ محمد اختر بصیر پور میں اسکول ٹیچر تھے، ادب کا نہایت عمدہ ذوق رکھتے تھے۔ فارسی ادب اور اقبال سے ان کو محبت تھی۔تحسین فراقی نے میٹرک تک کے مدارج بصیر پور میں ہی طے کئے۔ اساتذہ میں علامہ ولی محمد اور حافظ بصیر پوری کا ان کی شخصیت پر گہرا اثر ہے بی اے میں انہوں نے گلستان اور بوستان پڑھی۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) کی ڈگری حاصل کی۔[1]

ملازمت[ترمیم]

پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر کے ایم اے او کالج میں لیکچرار تعینات ہو گئے۔ ادھر آٹھ برس رہنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج کے شعبہ اردو سے وابستہ ہوئے، یہاں پروفیسر اور صدر شعبہ رہے۔ 16 ستمبر، 2010ء میں ریٹائر ہوئے تو پنجاب یونیورسٹی نے اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے لیے بطور پروفیسر ان کی خدمات حاصل کرلیں۔[1]

شادی اور اولاد[ترمیم]

ڈاکٹر تحسین فراقی 1975ء میں رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے۔ طیبہ تحسین اور حمیرا تحسین ان کی بیٹیاں ہیں، عثمان نوید بیٹا ہے۔ چند برس قبل انہیں سب سے بڑے بیٹے عمر فاروق جو پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کر چکا تھا، حادثاتی موت کا دکھ برداشت کرنا پڑا۔ اسی کا اظہار انہوں نے شاعری میں کیا ہے جو ان کے شعری مجموعے "شاخ زریاب (2012)" میں شائع ہوچکا ہے ۔[1]

ادبی خدمات[ترمیم]

سرزمین پاکستان میں موجود گنے چنے افراد میں سے وہ ایک ہیں جو اردو، فارسی، عربی اور انگریزی زبان پر دسترس رکھتے ہیں اور انہوں نے ان زبانوں کے ادب کا گہرا مطالعہ بھی کررکھا ہے۔ تدریس، تنقید، تحقیق، شاعری اور ترجمہ نگاری میں ڈاکٹر تحسین فراقی کا کام ان کی شخصیت کے پہلو دار ہونے کا غماز ہے [2]۔ ادبی حلقوں میں ان کی شاعری و تحقیقی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے[1]۔ آپ کی تحریروں میں جو علمیت ہے اس سے ذہن میں، ان کے متبحر عالم ہونے کا جو تاثر ابھرتا ہے وہ اس وقت اور بھی گہرا ہو جاتا ہے جب کوئی ان سے ملتا ہے ۔ جستجو آپ کے تنقیدی مضامین کا پہلا مجموعہ ہے۔ معاصر اردو ادب، افادات بھی ان کے تنقیدی مجموعے ہیں۔ حال ہی میں ن م راشد پر آپ کی کتاب حسن کوزہ گر کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے میدان میں ان کا ایک علمی کارنامہ عبد الماجد دریابادی ۔ احوال و آثار پر ڈاکٹریٹ کا مقالہ ہے جس کو علمی حلقوں میں بہت زیادہ پذیرائی ملی۔ یوسف خاں کمبل پوش کے قدیم ترین سفر نامہعجائبات فرنگ کی تدوین و ترتیب کا جوکھم بھی انہیں نے اٹھایا۔ چند برس قبل فکریات کے نام سے ان کی فکر افروز کتاب سامنے آئی، جس میں انہوں نے دور جدید کی قابل قدرعلمی شخصیات کے اہم ترین مضمون کو اردو کے قالب میں ڈھالا ۔کتاب کا عالمانہ مقدمہ قلمبند کیا اور ہر تحریر کے آغاز میں تعارفی مضمون لکھا۔ اس کتاب میں آپ کی ملاقات جن صاحبان فکر و نظر سے ہوتی ہے ان میں ایڈورڈ سعید، میلان کنڈیرا، این میری شمل، حسین نصر، آرتیگا ای گاست، الفریڈ گیوم، گائی ایٹن، سید علی اشرف اور سید محمد حسینی شامل ہیں۔ [2]۔

غالب و اقبال بھی ڈاکٹر تحسین فراقی کی تنقید کا اہم حوالہ ہے۔ غالب نے شعر ونثر میں اردو میں جو لکھا ہے، اس پر اردو میں بہت خامہ فرسائی کی گئی ہے، ڈاکٹر تحسین فراقی نے اردو کے نقاد ہونے کے باوجود، غالب کی فارسی تخلیقات پرجم کر لکھا ہے ۔اس موضوع پر ان کے متفرق مضامین کا مجموعہ غالب - فکروفرہنگ کے نام سے غالب انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی سے چھپا ۔ دیوان غالب، نسخہ خواجہ, اصل حقائق آپ کا ایک اور تحقیقی کارنامہ ہے۔اقبال پر ان کے مضامین پر مشتمل کتابیں جہات اقبال اور اقبال ، چند نئے مباحث کے نام سے ہیں۔ علامہ اقبال کی شخصیت و فن پر ان مضامین کوجو علامہ اقبال کی زندگی میں ہی منصۂ شہود پر آئے آپ نقد اقبال، حیات اقبال میں کے نام سے ترتیب دے چکے ہیں۔ ڈاکٹر تحسین فراقی اس بات کے پرزور حامی ہیں کہ ادب میں کسی بھی تخلیق کار کا مطالعہ کلیت میں کیے بغیر درست نتائج تک نہیں پہنچا جاسکتا۔آپ کا موقف ہے کہ غالب اور اقبال کی نگارشات کا معتدبہ حصہ فارسی میں ہے جس سے اعتنا کیے بغیر اقبال اور غالب شناسی کے تقاضے پورے ہی نہیں ہوسکتے۔ مرزا عبدالقادر بیدل بھی آپ کے محبوب شاعر ہیں ۔اقبال کی انگریزی تحریر’’Bedil in the light of Bergson‘‘کا اردو میں یہ مطالعہ بیدل، فکربرگساں کی روشنی میں کے عنوان سے ترجمہ کرچکے ہیں۔ نقش اول کے نام سے بھی آپ کا شعری مجموعہ چھپ چکا ہے۔ دوسرا شعری مجموعہ شاخ زریاب کے نام سے اسی سال (2012ء) میں شائع ہوچکا ہے ۔ ان کی اب تک اکتیس تنقیدی، تحقیقی اور علمی کتب شائع ہو چکی ہیں۔[2]۔

تصانیف[ترمیم]

تنقید[ترمیم]

  • اقبال: چند نئے مباحث
  • جہات اقبال
  • غالب ۔فکروفرہنگ
  • جستجو
  • معاصر اردو ادب
  • افادات
  • حسن کوزہ گر

تحقیق[ترمیم]

  • دیوان غالب، نسخہ خواجہ, اصل حقائق

ادارت[ترمیم]

  • مباحث (ادبی جریدہ)

شاعری[ترمیم]

  • نقش اول
  • شاخ زریاب

تدوین[ترمیم]

  • عجائبات فرنگ

تراجم[ترمیم]

  • مطالعہ بیدل، فکربرگساں کی روشنی میں
  • فکریات

اعزازات[ترمیم]

ڈاکٹر تحسین فراقی کو وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان نے اقبال: چند نئے مباحث پر وزیر اعظم ادبی ایوارڈ برائے سال 1997ء عطا کیا ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]