غلام مصطفیٰ خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان
پیدائش غلام مصطفیٰ

1 جولائی 1912(1912-07-01)ء

جبل پور، برطانوی ہندوستان
وفات 25 ستمبر 2005(2005-09-25)ء
حیدرآباد، پاکستان
پیشہ ماہرِ تعلیم، محقق، مورخ، ماہرِ لسانیات، عالم دین، صوفی
زبان اردو، سندھی، عربی، فارسی، انگریزی
قومیت Flag of پاکستانپاکستانی
نسل پٹھان
تعلیم ایل ایل بی، ایم اے (اردوایم اے (فارسیپی ایچ ڈی، ڈاکٹر آف لٹریچر (ڈی لٹ)
مادر علمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
ناگپور یونیورسٹی، بھارت
موضوع تاریخ، لسانیات، تحقیق، ترجمہ، تنقید، قرآن، فقہ، لغت، اقبالیات، تصوف
نمایاں کام حالی کا ذہنی ارتقا
فارسی پر اردو کا اثر
اقبال اور قرآن
اہم اعزازات صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی
ستارہ امتیاز
نقاش ایوارڈ
اقبال ایوارڈ
نشان سپاس

ڈاکٹرغلام مصطفیٰ خان (انگریزی: Dr. Ghulam Mustafa Khan)، (پیدائش: یکم جولائی، 1912ء - وفات: 25 ستمبر،2005ء) پاکستان کی ممتاز روحانی شخصیت، محقق، ماہر لسانیات، عالم دین، مترجم، ماہرتعلیم اور سندھ یونیورسٹی میں پروفیسر ایمریطس تھے۔ وہ ناگپور یونیورسٹی، بھارت اور سندھ یونیورسٹی کے صدرشعبۂ اردو کے عہدے پر فائز رہے۔

حالات زندگی[ترمیم]

ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان جبل پور، ہندوستان میں یکم جولائی، 1912ء کو پیدا ہوئے۔[1][2]

تعلیم[ترمیم]

ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان نے ابتدائی تعلیم جبل پور، برطانوی ہندوستان سے حاصل کی۔ اس کے بعد مزید تعلیم کے لئے آپ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تشریف لے گئے اور ایل ایل بی، ایم اے (اردوایم اے (فارسی) اور 1947ء میں بارہویں صدی کے مشہور فارسی شاعر سید حسن غزنوی - حیات و ادبی کارنامے کے عنوان سے مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1959ء میں ناگپور یونیورسٹی، ہندوستان سے آپ نے ڈاکٹر آف لٹریچر (ڈی لٹ) کی ڈگری حاصل کی۔

ملازمت[ترمیم]

ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان نے ملازمت کی شروعات کنگ ایڈورڈ کالج امراوتی، ہندوستان سے بحیثیت لیکچرار کی۔ 1936ء سے 1948ء تک وہ ناگپور یونیورسٹی ہندوستان کے شعبہ اردو سے وابستہ رہے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پہلے کراچی میں سکونت اختیار کی اور 1950ء میں بابائے اردو کی درخواست پر اردو کالج کراچی کے صدر شعبۂ اردو کے عہدے پر فائز ہوئے۔ بعدازاں وہ علامہ آئی آئی قاضی اور ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کے اصرار پر سندھ یونیورسٹی سے منسلک ہوگئے جہاں انہیں صدرشعبۂ اردو کی ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔ وہ اس عہدے پر 1976ء تک فائز رہے۔ 1988ء میں سندھ یونیورسٹی میں آپ کی علمی، ادبی اور تحقیقی خدمات کے طور پر آپ کو پروفیسر ایمریطس کے درجے پر فائز کیا[1]۔ آپ کے شاگردوں میں ابن انشا، ڈاکٹر ابواللیث صدیقی، ڈاکٹراسلم فرخی، ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر فرمان فتح پوری، ڈاکٹر معین الدین عقیل، ڈاکٹر ابوالخیر کشفی، ڈاکٹر الیاس عشقی اور قمرعلی عباسی شامل ہیں۔

ادبی خدمات[ترمیم]

ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان اپنی ہمہ جہتی کے جن حوالوں سے جانے جاتے ہیں ان میں معتبر ترین حوالہ آپ کی تحقیق ہے۔ اور اس حوالے سے آپ نے وہ حیرت انگیز کام سرانجام دیے ہیں جو اب تک تشنہ تحقیق تھے۔ لسانیات سے لے کر شخصیات تک آپ کے تحریر کردہ مقالات اور مضامین نے اردو ادب کے لیے فکر کے نئے نئے دریچے وا کیے ہیں۔ ایک اور بات جو ڈاکٹر صاحب کی تحقیقی نثر کو دیگر تمام لوگوں سے منفرد اور ممتاز کرتی ہے وہ اس تحریر کی روانی اور نرم روی ہے۔ موضوع کیسا ہی خشک اور بے روح کیوں نہ ہو۔ آپ کے قلم کی زد میں آتے ہی پانی ہوجاتا ہے۔ اور بحث ایک دریا کی طرح رواں دواں قاری کی نظر سے ہوتی ہوئی اس کے ذہن میں اترتی چلی جاتی ہے[3]۔

آپ نے اردو، عربی، فارسی اور انگریزی میں 100 سے زائد کتب تصنیف و تالیف کیں۔ آپ کی کتاب اقبال اور قرآن پر آپ کو اقبال ایوارڈ دیا گیا۔ اس کے علاوہ ادبی جائزے، فارسی پر اردو کا اثر، علمی نقوش، اردو-سندھی لغت، سندھی-اردو لغت، حالی کا ذہنی ارتقا، تحریر و تقریر، حضرت مجدد الف ثانی، گلشن وحدت، مکتوبات سیفیہ، خزینۃ المعارف، مکتوبات مظہریہ، مکتوبات معصومیہ، اقبال اور قرآن، معارف اقبال، ردو میں قرآن و حدیث کے محاورات، فکر و نظر اور ہمہ قرآن در شان محمدؐ کے نام سرفہرست ہیں[1]۔

اعزازات[ترمیم]

ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان کی ادبی و تعلیمی خدمات کے صلہ میں حکومت پاکستان نے صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے نوازا[1]۔ اس کے علاوہ نقوش ایوارڈ، اقبال ایوارڈ اور انجمن ترقی اردو کی طرف سے نشان سپاس کے اعزازات بھی دیئے گئے۔

تصانیف[ترمیم]

  • ادبی جائزے
  • فارسی پر اردو کا اثر
  • فارسی کے قدیم شعرا
  • علمی نقوش
  • اردو-سندھی لغت
  • سندھی-اردو لغت
  • حالی کا ذہنی ارتقا
  • تحریر و تقریر
  • حضرت مجدد الف ثانی
  • تحقیقی جائزے
  • تاریخِ بہرام شاہ غزنوی (انگریزی زبان میں یہ مقالہ بہرام شاہ غزنوی کی 41 سالہ دورِ حکومت کا جائزہ ہے)
  • تاریخِ اسلاف
  • گلشن وحدت
  • مکتوبات سیفیہ
  • ارشادِ رحیمیہ از حضرت شاہ عبدالرحیم محدث دہلوی (اردو ترجمہ)
  • لوایح خانقاه مظهریه، فارسی (ترتیب)
  • خزینۃ المعارف
  • زبدة المقامات (اردو ترجمہ)
  • مکتوبات مظہریہ
  • مکتوبات معصومیہ
  • تفسیرِ شیخ الہند (انگریزی)
  • حضرات القدس (انگریزی)
  • اقبال اور قرآن
  • مطالب القرآن
  • معارف اقبال
  • ضیاء القران
  • اردو میں قرآن و حدیث کے محاورات
  • فکر و نظر
  • ہمہ قرآن در شان محمدؐ
  • ہدایۃ الطالبین از حضرت شاہ ابو سعید مجددی نقشبندی (نقشبندیہ سلوک سے متعلق رسالہ کا اردو ترجمہ)
  • باقیاتِ باقی (حضرت خواجہ محمد الباقی باللہ دہلوی نقشبندی کی حیات طیبہ پر ایک علمی مقالہ)
  • مولانا عبیداللہ سندھی کی سرگزشتِ کابل
  • بھولی ہوئی کہانیاں
  • وقائع تاریخی (1408 ہجری)
  • چند منسوبات

دیوانِ مرزا مظہر و خریطہ جواہر

  • تحفۂ زواریہ (حضرت شاہ احمد سعید دہلوی متوفی:1277ھ کے نایاب فارسی مکتوبات کا مجموعہ)
  • رسائل مشاہیر نقشبندیہ
  • ہمارا علم و ادب
  • قرآنی عربی
  • تفسیر مولانا عبید اللہ سندھی
  • جامعہ القواعد
  • اوراقِ گم گشتہ
  • سید حسن غزنوی - حیات و ادبی کارنامے (فارسی کے بزرگ شاعر سید حسن غزنوی کی حیات اور فکر و فن پر محققانہ جائزہ)
  • ندائے سحر
  • سراج منیر
  • لہم مغفرہ
  • میرا علی گڑھ
  • متفرقات
  • Personal Hygiene in Islam
  • Studies in Literature

ناقدین کی رائے[ترمیم]

مصنف مظہر شیرانی ڈاکٹر غلام مصطفی خان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ :

ڈاکٹر غلام مصطفی خان قبلہ کی نظر صحیح معنوں میں کیمیا اثر تھی۔ ان کے تصر ف کا ایک واقعہ ڈاکٹر اسلم فرخی کے حوالے سے یہاں درج کرتا ہوں۔ 1988ء میں جب ڈاکٹر صاحب کو انجمن ترقی اردو کی طرف سے "نشان سپاس" پیش کیا جانا تھا، ان دنوں انجمن کے صدر نور الحسن جعفری تھے۔ وہ حکومت پاکستان کے معتمد مالیات کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے اور 'صاحب' آدمی تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے اعزاز میں جلسے کی اجازت تو دے دی لیکن خود اس میں شرکت سے معذرت کرلی۔ بہرحال انجمن کے دوسرے کار پردازان کے اصرار پر نور الحسن جعفری جلسے کی صدارت پر آمادہ ہوگئے۔ مختلف تقاریر کے بعد آخر میں جعفری صاحب صدارتی کلمات کہنے کے لیے مائیک پر آئے تو بجائے کچھ کہنے کے زار و قطار رونے لگے ۔پھر ہاتھ جوڑ کر بولے حضرت ڈاکٹر غلام مصطفی خان صاحب، مجھے معاف کردیجیے۔ میں آپ کے مقامات ظاہری اور مراتب باطنی سے بالکل بے خبر تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اٹھ کر انہیں سینے سے لگایا اور تسلی دی تب کہیں جا کر ان کو قرار آیا[4]۔

وفات[ترمیم]

ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان 25 ستمبر 2005ء کو حیدرآباد پاکستان میں انتقال کرگئے۔وہ احاطہ مسجد غفور یہ نزد ٹول پلازہ سپر ہائی وے بائی پاس حیدرآباد میں آسودۂ خاک ہیں۔[2][5]۔

حوالہ جات[ترمیم]