غلام حیدر (موسیقار)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
غلام حیدر (موسیقار)
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1908  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حیدرآباد، سندھ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 9 نومبر 1953 (44–45 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ نغمہ ساز، موسیقار  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ماسٹر غلام حید (پیدائش: 1906ء - وفات: 9 نومبر، 1953ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے برصغیر پاک و ہند کے نامور فلمی موسیقار تھے۔ انہوں نے شمشاد بیگم، زینت بیگم، میڈم نورجہاں اور لتا منگیشکر سمیت کئی مشہور و معروف گلوکاراؤں کو فلمی صنعت سے متعارف کروایا۔

حالات زندگی[ترمیم]

ماسٹر غلام حیدر 1906ء کو حیدرآباد، سندھ میں پیدا ہوئے۔ ابتدا ہی سے انہیں ہارمونیم بجانے سے بڑی دلچسپی تھی۔ اسی دلچسپی کے باعث وہ لاہور کے ایک تھیٹر سے وابستہ ہو گئے۔ اس وابستگی کے دوران انہیں ہندوستان کے مختلف شہروں کے سفر اور کئی اہم موسیقاروں سے ملاقات کا موقع ملا۔ 1932ء میں وہ لاہور کی ایک ریکارڈنگ کمپنی جین او فون سے منسلک ہوئے۔ اس ادارے سے استاد جھنڈے خان، پنڈت امرناتھ اور جی اے چشتی بھی منسلک تھے۔ ماسٹر غلام حیدر کچھ عرصہ استاد جھنڈے خان کے معاون بھی رہے۔[1]

1933ء میں اے آر کاردار کی فلم سورگ کی سیڑھی سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا، اس کے بعد انہوں نے فلم مجنوں کی موسیقی ترتیب دی، تاہم ان کی شناخت فلم ساز اور ہدایت کار دل سکھ پنچولی کی فلم گل بکاؤلی بنی جو 1938ء میں نمائش پزیر ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے لاہور میں بننے والی کئی مزید فلموں کی موسیقی ترتیب دی جن میں یملا جٹ، خزانچی، چوہدری اور خاندان کے نام شامل ہیں۔ 1944ء میں وہ ہدایت کار محبوب خان کی دعوت پر بمبئی منتقل ہو گئے۔ بمبئی کے قیام کے دوران ان کی جن فلموں نے کامیابی حاصل کی ان میں ہمایوں، چل چل رے نوجوان، بیرم خان، جگ بیتی، شمع، مہندی، مجبور اور شہید کے نام سرفہرست ہیں۔[1]

تقسیم ہند کے بعد 1948ء میں ماسٹر غلام حیدر واپس لاہور آ گئے۔ یہاں انہوں نے فلم شاہدہ، بے قرار، اکیلی، غلام اور گلنار سمیت 7 فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ ان کی آخری فلم گلنار تھی جو ان کی وفات سے 3 روز قبل ریلیز ہوئی تھی۔[1]

ماسٹر غلام حیدر کا شمار رجحان ساز موسیقاروں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے برصغیر پاک و ہند کی فلمی موسیقی کو ایک نیا رنگ دیا۔ وہ پہلے موسیقار ہیں جنہوں نے پنجاب کی لوک دھنوں کو اپنے گیتوں میں استعمال کیا۔ انہوں نے کئی نامور گلوکاراؤں کو فلمی صنعت سے متعارف کروایا جن میں زینت بیگم، شمشاد بیگم، ملکہ ترنم نور جہاں اور لتا منگیشکر کے نام سرفہرست ہیں۔[1]

فلمی موسیقی[ترمیم]

مشہور نغمات[ترمیم]

  • الوداع پیارے وطن الوداع (شاہدہ)
  • میرے لیے جہاں میں نہ چین ہے نہ قرار ہے (خاندان)
  • ایک کلی نازوں کی پلی (خزانچی)
  • اے چاند تو بتا دے (ہمایوں)
  • آج موہے سجن گھر جانا (منجدھار)

وفات[ترمیم]

ماسٹر غلام حیدر 9 نومبر، 1953ء کو وفات پاگئے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ عقیل عباس جعفری، پاکستان کرونیکل، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء، ص 89