اقبال بانو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اقبال بانو
معلومات شخصیت
پیدائش 27 اگست 1935[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 21 اپریل 2009 (74 سال)[2][1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (27 اگست 1935–14 اگست 1947)
Flag of Pakistan.svg پاکستان (1952–21 اپریل 2009)
Flag of India.svg بھارت (15 اگست 1947–1952)
Flag of India.svg ڈومنین بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فنی زندگی
آلات موسیقی صوت  ویکی ڈیٹا پر (P1303) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ گلو کارہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ[3]  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

کلاسیکی موسیقی خصوصا غزل کی بہترین گلوکارہ۔ دہلی میں پیدا ہوئیں۔ پاکستان بننے کے بعد لاہور آئیں اور بعد میں ملتان آکر مستقل سکونت اختیار کی۔

گلوکاری[ترمیم]

اقبال بانو کے فن نے برسوں پہلے آل انڈیا ریڈیو کے دہلی سٹیشن میں پہلا اظہار پایا۔ 1952 میں اس نو عمر گلوکارہ نے ایک پاکستانی زمیندار سے شادی کر لی لیکن فن سے اپنا رابطہ ختم نہ کیا۔

فلم[ترمیم]

فلموں کے لیے شہر آفاق نغمے گائے جس میں خصوصی طور پر یہ دو نغمے بہت زیادہ مشہور ہوئے

تُو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے
پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے

اور پھر:

الفت کی نئی منزل کو چلا تو باہیں ڈال کے باہوں میں
دِل توڑنے والے دیکھ کے چل ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں

نیم کلاسیکی[ترمیم]

سن پچاس کے عشرے میں اقبال بانو نے پاکستان کی نو زائیدہ فلم انڈسٹری میں ایک پلے بیک سنگر کے طور پر اپنی جگہ بنالی تھی لیکن اُن کا طبعی رجحان ہلکی پھلکی موسیقی کی بجائے نیم کلاسیکی گلوکاری کی طرف رہا۔ ٹھمری اور دادرے کے ساتھ ساتھ انھوں نے غزل کو بھی اپنے مخصوص نیم کلاسیکی انداز میں گایا۔

فیض[ترمیم]

دورِ ضیاالحق کے آخری دِنوں میں فیض کی نظم ’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے ‘ ان کا ٹریڈ مارک بن چکی تھی اور ہر محفل میں اس کی فرمائش کی جاتی تھی۔ یہ سلسلہ ان کی وفات سے چند برس پہلے تک جاری رہا۔ فیض میلے کے موقع پر لاہور میں ایک بڑے اجتماع کے سامنے انھوں نے یہ نظم گائی توعوام کے پُر شور نعرے بھی اس نغمے کا ایک ابدی حصّہ بن گئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ڈسکوجس آرٹسٹ آئی ڈی: https://www.discogs.com/artist/2838049 — بنام: Iqbal Bano — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. http://www.hindustantimes.com/StoryPage/StoryPage.aspx?sectionName=HomePage&id=cb8c5b2a-0040-46b3-b6ae-3578655c9935&Headline=India-born+ghazal+queen+Iqbal+Bano+dies+in+Pakistan
  3. ربط : آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی  — اخذ شدہ بتاریخ: 2 اگست 2019