فردوس جمال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فردوس جمال
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1954 (عمر 64–65 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
پشاور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ اداکار،  ٹیلی ویژن اداکار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

فردوس جمال (انگریزی: Firdous Jamal) (پیدائش: 9 جون، 1954ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے بقید حیات نامور ریڈیو، ٹیلی وژن، تھیٹر اور فلم کے اداکار ہیں۔[1][2][3][4][5]

حالات زندگی[ترمیم]

فردوس جمال 9 جون، 1954ء کولاہور، پاکستان میں باز محمد خان کے گھر پیدا ہوئے۔ انہوں نے اسلامیہ کالج پشاور سے انٹر کا امتحان پاس کیا۔[6]

فردوس جمال 17سال کی عمر میں بطور اداکار منظر عام پر آئے اورسب سے پہلے پی ٹی وی پشاور سنٹر کی ایک ہندکو سیریل میں کام کیا۔ اس وقت سے لے کر آج تک ٹی وی سکرین پر چھائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک طویل عرصہ تک ریڈیو پاکستان، پاکستان ٹیلی ویژن اور فلموں میں کام کیا۔ آج بھی وہ ڈائریکٹر، پروڈیوسر، اینکر، انائونسر اور اداکار کی حیثیت سے مختلف ٹی وی چینلز کے لیے کام کر رہے ہیں۔[6]

فردوس جمال کو چار مرتبہ پی ٹی وی کے بہترین اداکار، پانچ مرتبہ ریڈیو پاکستان کے بہترین صداکار اور چھ مرتبہ بہترین تھیٹر اداکار کی حیثیت سے ایوارڈز ملے۔ اس کے علاوہ صدر پاکستان کی طرف سے 1986ء میں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی دیا گیا اور 2001ء میں وائس آف ملینیم کا ایوارڈ دیا گیا۔[6]

فردوس جمال اپنے فنی کیرئیر میں 300 سے زائد ٹی وی ڈراموں، 150 سٹیج ڈراموں اور تقریباً 50 فلموں میں کام کیا۔ اُن کے بہترین ڈراموں میں وارث، خلش، انجمن، صاحبہ، یہ کیسے ہوا، من چلے کا سودا، سائبان شیشے کا، محبوب، پاگل احمق بیوقوف، ساحل، دھوپ دیوار، رسوائیاں، نرگس، سنگین، ابھی تو آئے ہو، مہندی والے ہاتھ وغیرہ شامل ہیں۔[6]

اعزازات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Tahir نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  2. "Legendary Pakistani TV Actor-Firdous Jamal"۔ Pakistan 360 degrees۔ 2 دسمبر 2012۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2015۔
  3. Bisma Ahmad (13 مارچ 2015)۔ "Old but not forgotten: Top 10 Pakistani dramas to re-watch now"۔ Dawn۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2015۔
  4. Adnan Lodhi (13 اگست 2015)۔ "Sad but true: Roohi Bano's lonely 55th birthday"۔ دی ایکسپریس ٹریبیون۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2015۔
  5. Omair Alavi (22 نومبر 2015)۔ ""I refused to act in Bhaag Milkha Bhaag": Jamal Shah"۔ TNS۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2015۔
  6. ^ ا ب پ ت فردوس جمال، پاکستانی کنیکشنز،برمنگھم برطانیہ