ریڈیو پاکستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ریڈیو پاکستان پاکستان براڈکاسٹنگ ایکٹ 1972 کے تحت ادارے کی ذمہ داری درج ذیل مقاصد کے حصول پر محیط ہے ۔ اقتصادی ، زرعی ، سماجی ، سیاسی ، مذہبی اور ثقافتی شعبوں میں سماجی موضوعات پر مباحثوں ، ڈراموں ، فیچرز ، دستاویزی پروگرام ، سامعین کی شرکت والے مذاکروں ، عام بات چیت ، موسیقی اور خبروں کے پروگراموں کے ذریعے عوامی خدمات کی سرگرمیاں پیش کرنا ہے۔

آزادی کے بعد ریڈیو پاکستان نے اپنی شناخت پیش کی اور اردو اور بیس علاقائی زبانوں کے رابطے کے ذرائع کے طور پر استعمال سے اور جدید مواصلاتی مہارت کے ذریعے متنوع معلومات کی نشر و اشاعت، پاکستانی قومیت ، اسکے نظام اور ثقافت کے احترام کے جذبات کو فروغ دینے کے قابل ہوا۔

اس وقت ریڈیو پاکستان سے 23 زبانوں میں پروگرام نشر کیے جاتے ہیں ۔

مقاصد[ترمیم]

ریڈیو پاکستان کے پروگرام متنوع نوعیت کے ہیں اور ان کی رسائی پورے ملک تک ہے۔ ریڈیو پاکستان ملک کا سب سے بڑا اور موثر ذریعہ معلومات ہے جس کے باعث اسکیذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو حکومت کی پالیسیوں سے آگاہ کرے۔ انہیں اندرون ملک اور بیرون ملک ہونے والے واقعات سے باخبر رکھنے ، قومی ترقی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کیلئے سخت محنت کرنے پر آمادہ کرے ، انہیں مسلمان اور پاکستانی کی حیثیت سے ان کی شناخت یاددلائے ، انہیں ہر محاذ پر اپنی خوشیوں اور کامیابیوں میں دوسروں کو شریک کرنے کی دعوت دے ، خواہ وہ کامیابی زراعت کے شعبے کے ذریعے اقتصادی ترقی میں ہو، خواہ وہ کھیلوں ، فنون لطیفہ اور ادب کے میدان میں ہوں، انہیں ماضی پر فخر کرنے کا جذبہ پیدا کرے اور انہیں جدوجہد آزادی اور قومی تاریخ کے درخشاں ابواب سے روشناس کرانے کیلئے کام کرے جو انسانی تخیلات اور تہذیب وتمدن سے متعلق مسلمان دانشوروں ، فلسفیوں اور سائنسدانوں کے عظیم کارناموں سے بھری پڑی ہے۔

فرائض[ترمیم]

پی بی سی ایکٹ میں درج کئے گئے اغراض ومقاصد :

  1. اطلاعات ، تعلیم اور تفریح کے شعبوں میں ایسے پروگرام پیش کرنا جن کے موضوعات میں معیار اور اخلاق کے اعلیٰ درجات کے اعتبار سے مناسب توازن قائم ہو۔
  2. ایسے پروگرام نشر کرنا جن سے ملک میں اسلامی نظریے ، قومی اتحاد اور اسلامی تعلیمات کے مطابق جمہوریت ، آزادی ، مساوات ، روادری اور سماجی انصاف کے اصولوں کو فروغ حاصل ہو۔
  3. مختلف واقعات سے متعلق خبریں حتی الامکان حقیقت پر مبنی ، درست اور غیرجانبدارانہ انداز میں اور پروگراموں سے متعلق عمومی پالیسیوں کے تحت وفاقی حکومت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پیش کرنا۔ دوسرے ممالک کیلئے اپنی ایکسٹرنل سروس میں اس نظریے سے پروگرام نشر کرنا کہ ان کے ساتھ دوستانہ تعلقا ت کو فروغ حاصل ہو اور بین الاقوامی امور پر پاکستان کا موقف ان کے درست پس منظر میں اجاگر ہو۔

ذمہ داری[ترمیم]

ریڈیو پاکستان کی بنیادی پالیسی قومی اور بین الاقوامی خبروں اور دوسری عام نشریات کے انتخاب میں ریڈیو کے فنی ماہرین کی رہنمائی کرتی ہے ۔ اس بنیادی مقصد پر مبنی ہے کہ نشر ہونے والا پروگرام حقیقت اور مصدقہ ذرائع پر بنیاد رکھتا ہو، عوام میں اشتعال ، ناراضگی یا باہمی منافرت پیدا کرنے والا نہ ہو، صحافتی اخلاق کے اعلیٰ معیار کے مطابق ہو اور ادارے کیلئے غیرضروری پیچیدگیاں پیدا کرنے کا سبب نہ بنے۔

[1]

پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن۔۔ تاریخ کے آئینے میں ۔[ترمیم]

  • مارچ 1926

انڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن ایک نجی کمپنی کی شکل میں قائم ہوئی۔

  • 23 جولائی1927

انڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے بمبئی میں اپنا سٹیشن قائم کیا اور برصغیر پاک وہند میں ایک نشریاتی ادارے کی حیثیت سے کام کا آغاز کیا۔

  • 1928

لاہور میں ایک چھوٹا ٹرانسمیٹنگ سٹیشن قائم ہوا۔

  • اپریل 1930

ادارے کو انڈین سٹیٹ براڈکاسٹنگ سروس کا نام دیا گیا اور اسے حکومت کے براہ راست کنٹرول میں دیدیا گیا۔

  • جنوری1934

ادارے پر انڈین وائرلیس ٹیلی گرافی ایکٹ 1933 لاگو کیا گیا۔

  • جنوری 1935

صوبہ سرحد کی حکومت نے پشاور میں 250 کلوواٹ کا ٹرانسمیٹنگ سٹیشن قائم کیا

  • مارچ 1935

صنعتوں اور محنت کے سرکاری محکمے کے ماتحت آفس آف کنٹرولر آفبراڈکاسٹنگ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا۔

  • اگست1935

مسٹر لیونل فیلڈن پہلے کنٹرولر آف براڈکاسٹنگ کی حثیت سے تعینات ہوئے۔

  • جنوری 1936

دہلی ریڈیو سٹیشن قائم ہوا۔

  • 9 جولائی1936

سٹیشن ڈائریکٹر دہلی مسٹر اے ایس بخاری کا ڈپٹی کنٹرولر براڈکاسٹنگ کی حیثیت سے تقرر ہوا۔

  • 8 جون 1936

انڈین سٹیٹ براڈکاسٹنگ سروس کا نام تبدیل کر کے آل انڈیا ریڈیو رکھا گیا۔

  • 16 جولائی 1936

پشاور میں ایک سٹیشن کا افتتاح ہوا اور اسے یکم اپریل 1937 کو حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیا۔

  • دسمبر1937

لاہور سٹیشن کا آغاز ہوا۔

  • مارچ 1939

پشاور مرکز ریلے سٹیشن میں تبدیل ہوا۔۔ ستمبر1939 مرکزی طور پر دہلی سے تمام زبانوں میں خبرناموں کی نشریات کا آغاز ہوا ، اسی سال ڈھاکہ میں بھی ایک اسٹیشن قائم ہوا۔

  • 12 نومبر1939

بمبئی ریڈیو سٹیشن سے عید کے دن قائداعظم کی پہلا ریڈیو خطاب نشر ہوا۔

  • 24 اکتوبر1941

اطلاعات ونشریات کا محکمہ قائم ہوا۔

  • جولائی 1942

پشاور ریڈیو سٹیشن باقاعدہ نشریاتی ادارے میں تبدیل ہوا۔

  • 16 جولائی 1942

ریڈیو سٹیشن پشاور کا باضابطہ افتتاح ہوا۔

  • فروری1943

کنٹرولر براڈکاسٹنگ کے عہدے کا نام تبدیل کر کے ڈائریکٹر جنرل رکھا گیا۔

  • 3 جون1947

قائداعظم محمد علی جناح نے آل انڈیا ریڈیو سے اپنا تاریخی خطاب کیا اور برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک نئی خودمختار مملکت پاکستان کے معرض وجود میںآنے کا اعلان کیا۔

  • 14 اگست1947

پاکستان کے وجود میں آنے کا اعلان نئے ادارے پاکستان براڈکاسٹنگ سروس نے کیا جس کا نام بعد میں تبدیل کر کے ریڈیو پاکستان رکھا گیا اور نشریاتی مراکز اور ٹرانسمیٹرز قائم کئے گئے۔

  • 1948

راولپنڈی میں 500 واٹ شارٹ ویو ٹرانسمیٹرکے ریڈیو سٹیشن اور کراچی میں 100 واٹ شارٹ ویو ٹرانسمیٹر کے ساتھ ریڈیو سٹیشنوں کا افتتاح ہوا۔

  • 1949

راولپنڈی میں 100 واٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کے ریڈیو سٹیشن کا افتتاح ہوا۔

  • 1950

کراچی میں نئے براڈکاسٹنگ ہاوس کا افتتاح ہوا۔

  • 1951

حیدرآباد میں ایک کلوواٹ میڈیم ویوٹرانسمیٹر کے ریڈیو سٹیشن کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔

  • 17 اکتوبر 1956

کوئٹہ میں ایک کلوواٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کے ریڈیو سٹیشن کا افتتاح ہوا۔

  • 15 اکتوبر1960

ایک کلوواٹ شارٹ ویو ٹرانسمیٹر کے ساتھ راولپنڈی ۔2 سٹیشن اور پشاور میں ریسیونگ سینٹر کا افتتاح ہوا۔۔

  • 1970

اسلام آباد میں سٹاف ٹریننگ سکول اور ٹیکنیکل ٹریننگ سکول اور ملتان میں 120 کلوواٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کے ساتھ ریڈیو سٹیشن کا افتتاح ہوا۔

  • 1972

سابق صدر پاکستان :۔جناب ذوالفقارعلی بھٹو نے 1972ءمیں ریڈیو پاکستان کو ایک آرڈیننس کے تحت کارپوریشن بنایا۔ پی بی سی ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کی بلڈنگ کا سنگ بنیاد سابق صدر جناب ذوالفقارعلی بھٹو نے27اپریل 1972ءکورکھا ۔

  • 21 اپریل 1973

نئے آئین کی تشکیل اور 1973ءمیں نفاذ کے بعد پارلیمنٹ نے پی بی سی ایکٹ 1973ءمنظور کرلیا سمندر پار پاکستانیوں کیلئے عالمی سروس کا افتتاح ہوا۔

  • 1974

خیرپور میں ایک سوکلوواٹ ٹرانسمیٹر کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔

  • 18 اگست 1975

بہاولپور میں 10 کلوواٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کے ریڈیو سٹیشن کا افتتاح ہوا۔

  • 1977

پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مرکزی نشریاتی یونٹ اسلام آباد کیلئے ایک ہزار کلوواٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کے ساتھ نئے تعمیر شدہ نیشنل براڈکاسٹنگ ہاوس اسلام آباد میں افتتاح ہوا۔

  • 1977

گلگت میں 250 واٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کے ساتھ ریڈیو سٹیشن کا افتتاح ہوا۔ سکردو میں 250 واٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کے ساتھ ریڈیو سٹیشن کا افتتاح ہوا۔

  • 1981

تربت میں 250 واٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کے ساتھ، ڈیرہ اسماعیل خان میں 10 کلوواٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کے ساتھ ، اور خضدار میں 250 واٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کے ریڈیو سٹیشنوں کا افتتاح ہوا۔

  • 15 ستمبر1982

فیصل آباد میں 250 واٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کا ریڈیو سٹیشن قائم ہوا۔

  • 7 مئی1986

خیرپور میں نئے براڈکاسٹنگ ہاوس کا افتتاح ہوا۔

  • 1989

سبی میں 250 واٹ ٹرانسمیٹر کے ریلے سٹیشن کا افتتاح ہوا۔ ایبٹ آباد میں 250 واٹ ٹرانسمیٹر کے ریلے سٹیشن کا افتتاح ہوا۔

  • اگست1993

چترال میں ایک کلوواٹ ایف ایم ٹرانسمیٹر کے ریڈیو سٹیشن کا افتتاح ہوا۔

  • 1996

لورالائی میں 10 کلوواٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کے ریڈیو سٹیشن کا سنگ بنیاد رکھا گیا ژوب میں 10 کلوواٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کے ریڈیو سٹیشن کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔۔

  • 1997

وفاقی وزیر اطلاعات مشاہد حسین سید نے پی بی سی کی خبروں کی کمپیوٹرائزیشن اور خبروں کے بلیٹنز کی متن اور آواز کے ساتھ انٹرنیٹ پر دستیابی کے نظام کو افتتاح کیا۔

  • اکتوبر1998

ریڈیو پاکستان کے ایف ایم کی نشریات کا آغاز ہوا۔

  • 2002

صدر جنرل پرویز مشرف نے پی بی سی اسلام آباد میں ایف ایم 101 اسٹیشن کا افتتاح کیا۔

  • 2005

گوادر ، میانوالی ، سرگودھا ، کوہاٹ ، بنوں اور مٹھی میں ایف ایم اسٹیشن قائم ہوئے۔

  • 18اگست 2008

نیشنل براڈکاسٹنگ سروس کاافتتاح سابق وزیراطلاعات ونشریات شیری رحمان نے 18اگست ء2008کوکیا

تاریخی ورثہ[ترمیم]

ریڈیوپاکستان کے پاس 'اپنے آواز خزانے' میں ایک مجموعہ موجودہے۔ جو پاکستان کے 14اگست 1947سے ایک آزاد قوم کے طور پر ابھرنے کے آغاز سے لے کراب تک کی کثیرالجہتی تاریخ اور ورثے کی نمائندگی کرتا ہے ۔

اس قومی آواز خزانے میں قائداعظم محمد علی جناح ،قائد ملت لیاقت علی خان،مادر ملت فاطمہ جناح،اور دوسرے قومی رہنماﺅں کی تقاریر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان دوست ممالک کے سربراہوں کی تقاریر بھی موجود ہیں جو گزشتہ 6 دہائیوں کے دوران اکثر پاکستان آتے جاتے رہے ہیں۔ یہ ثقافتی مجموعہ پاکستانی موسیقی کی گلگت بلتستان ،آزادجموں کشمیر،خیبرپختونخوا،پنجاب ،سندھ اور بلوچستان اور ملک کے مختلف حصوں میں بولی جانے والی زبانوں سے حاصل ہونے والے نادر نمونوں پر مشتمل ہے ۔ ہزاروں ادبی پروگرام ،مشاعرے ،ڈرامے اور دستاویزات بھی محفوظ ہیں ۔

ریڈیو پاکستان اپنے اس مجموعے کو یو ٹیوب چینل جس کانام ‚‚ریڈیو پاکستان آن لائن ،،ہے ، کے ذریعے عوام تک رسائی دیتا ہے ۔ اس چینل کامقصد پاکستان اور اس کے عوام کے بارے میں اصل حقیقت سے روشناس کرانا ہے ،جووادی سندھ ،گندھارا تہذیب اور اسلام کے بردبار اور پرامن ورثے کے نگہبان ہیں

  1. ^ "ریڈیو پاکستان سرکاری ویب سائٹ" (اردو میں). ریڈیو. http://www.radio.gov.pk/Urdu/20. Retrieved 5 مارچ 2013.