حیدرآباد، سندھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

زیر نظر مضمون حیدرآباد، سندھ۔ دیگر استعمالات کے لیے حیدرآباد دیکھیے۔ {{ safesubst:#invoke:Unsubst||$N=Hoax |date=__DATE__ |$B=



حیدرآباد
Morning View Clock Tower Hyderabad.jpg
عمومی معلومات
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
صوبہ سندھ
محل وقوع 25.2245 درجے شمال، 68.2206 درجے مشرق
رقبہ 3198 مربع کلومیٹر
بلندی 13 میٹر (43 فٹ) از سطحِ سمندر
آبادی 1447275 بمطابق 2008ء
منطقۂ وقت مُتناسق عالمی وقت +5
رمزِ بعید تکلم 22
موجودہ ناظم کنور نوید جمیل
www.hyderabad.gov.pk
حیدرآباد is located in پاکستان
حیدرآباد
حیدرآباد

پاکستان میں حیدرآباد کا مقام

حیدرآباد پاکستانی صوبۂ سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہ 1935ء تک سندھ کا دارالخلافہ تھا اور اب ایک ضلع کی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنی موجودہ شکل میں اِس شہر کی بُنیاد میان غلام شاہ کلہوڑو نے 1768ء میں رکھی۔ اِس سے قبل، یہ شہر مچھیروں کی ایک بستی تھی جس کا نام نیرون کوٹ تھا۔

تقسیمِ ہند سے قبل، حیدرآباد ایک نہایت خوبصورت شہر تھا اور اِس کی سڑکیں روز گلاب کے عرق سے نہلائی جاتی تھیں۔[حوالہ درکار] بعد از برطانوی راج، یہ اپنی پہچان کھوتا رہا اور اب اِس کی تاریخی عمارات کھنڈرات میں تبدیل ہو گئیں ہیں۔

سیاسی اعتبار سے حیدرآباد کو ایک اہم مقام حاصل ہے کیونکہ یہ شہری اور دیہاتی سندھ کے درمیان ایک دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کئی عالم اور صوفی درویشوں کی پیدائش ہوئی ہے اور اس شہر کی ثقافت اس بات کی وضاحت کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حیدرآباد دنیا کی سب سے بڑی چوڑیوں کی صنعت گاہ ہے۔ یہ شہر پاکستان کے کچھ اہم ترین تاریخی و تہذیبی عناصر کے پاس وقوع ہے۔ تقریباً 110 کلومیٹر کی دوری پر امری ہے جہاں ہڑپہ کی ثقافت سے بھی قبل ایک قدیم تہذیب کی دریافت کی گئی ہے۔ جہاں یہ شہر اپنی تہذیب و تمدن کے لئے جانا جاتا ہے وہاں اسکے میڈیکل اور تعلیمی ادارے بھی بہت جانے مانے ہیں۔ حیدرآباد میں تقسیم ہند کے بعد بنائ گئی سب سے پہلی یونیورسٹی کا قیام ہے۔

تاریخ[ترمیم]

نیرون کوٹ[ترمیم]

موجودہ حیدرآباد شہر کی جگہ پہلے نیرون کوٹ نامی ایک بستی قائم تھی؛ یہ سندھوُ دریا (اب دریائے سندھ) کے کنارے مچھیروں کی ایک چھوٹی بستی تھی۔ اِس کا نام اِس کے سردار نیرون کے نام سے اخذ کیا جاتا تھا۔ دریائے سندھ کے متوازن میں ایک پہاڑی سلسلہ واقع ہے جسے گنجو ٹاکر کہتے ہیں۔ یہ بستی جوں جوں ترقی کرتی گئی ویسے ہی دریائے سندھ اور اِن پہاڑوں کے درمیان بڑھنے لگی۔ چچ نامہ میں ایک سردار کا اکثر ذکر ملتا ہے جس کا نام آغم لوہانہ تھا۔ یہ برہمن آباد شہر کا سردار تھا اور اِس کی ملکیت میں دو علاقے آتے تھے — لوہانہ اور ساما۔ 636ء میں لوہانہ کے جنوب میں ایک بستی کا ذکر ملتا ہے جسے نارائن کوٹ کہا گیا ہے۔ تاریخ نویسوں کا ماننا ہے کہ نارائن کوٹ اور نیرون کوٹ ایک ہی بستی کا نام تھا۔

تھوڑے ہی عرصے میں اِس پہاڑی سلسلے پر کُچھ بدھمت پجاری آ بسے۔ شہر میں اچھی تجارت کے خواہشمند لوگ اِن پجاریوں کے پاس اپنی التجائیں لے کر آتے تھے۔ یہ بستی ایک تجارتی مرکز تو بن ہی گئی لیکن اِس کے ساتھ ساتھ دوسری اقوام کی نظریں اِس کی اِس بڑھتی مقبولیت کو دیکھے نہ رہ سکیں۔ نیرون کوٹ کے لوگوں کے پاس ہتھیار تو تھے نہیں، بس فصلیں کاشت کرنے کے کُچھ اوزار تھے۔ چنانچہ، جب 711ء میں مسلمان عربی افواج نے اِس بستی پر دھاوا بولا تو یہ لوگ اپنا دفاع نہ کر سکے اور یہ بستی تقریباً فنا ہو گئی: یہاں بس ایک قلعہ اور اِس کے مکین باقی رہ گئے تھے۔بمطابق چچ نامہ، اِس قلعہ کو نیرون قلعہ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ محمّد بن قاسم اپنے لشکر سمیت اِس قلعہ کے باہر آ کھڑا ہوا اور راجہ داہر کو اپنی آمد کی اطلاع بھجوائی۔[1] بعد از، محمّد بن قاسم نے قلعہ کو بغیر جنگ و جتن ہی فتح کر لیا۔[1]

شہر کے لوگ[ترمیم]

حیدرآباد میں زیادہ تر لوگ سندھی ہیں، کیونکہ اکثر اشخاص جو اس شہر میں آتے ہیں وہ اندرون سندھ کی جانب سے آتے ہیں۔ یہ یہاں پاکستان کے نامور ادارے سندھ یونیورسٹی میں پڑھنے آتے ہیں جو حیدرآباد سے 33 کلومیٹر کی دوری پر جام شورو میں وقوع ہے۔ حیدرآباد میں اس کے علاوہ اردو، پشتو اور پنجابی بولنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔ حیدرآباد شہر، قبل تقسیم، مقام پذیر سندھیوں کا رہائشی علاقہ تھا لیکن حب 1947 کے بعد ہندوستان سے مہاجر ہجرت کر کے شہر میں داخل ہوئے تو سندھیوں اور مہاجرین میں فسادات چھڑ گئے۔ موجودہ حالات بہتر ہیں اور دونوں اقوام باہم خوش ہیں مگر اکثر واقعات ان علامات کا اظہار کرتے ہیں۔ مذاہب کے اعتبار سے حیدرآباد کے لوگ زیادہ تر مسلمان ہیں جبکہ ایک خاثر مقدار میں سندھی ہندو بھی یہاں رہایش پذیر ہیں۔ تقریباً 2 فیصد آبادی مقامی عیسائیوں کی ہے۔

موسم[ترمیم]

بہار

تعلیم[ترمیم]

تقسیم سے قبل، حیدرآباد کے باشندوں کیلئے تعلیم کا جو نظام تھا وہ اس قابل نہ تھا کہ ہندوستان کے نامور اداروں میں اسکا شمار ہوتا۔ اب کیونکہ یہ شہر اندرون سندھ کو شہری آبادی سے جا ملاتا تھا، یہاں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی اشد ضرورت آ نکلی اور ایسے اداروں کا ہونا لازم ہو گیا۔

صنعت اور تجارت[ترمیم]

حیدرآباد صنعت اور تجارت کے لحاظ سے پاکستان کے اہم شہروں میں شمار ہوتا ہے ۔ یہاں کی اہم صنعتوں میں چوڑی، چمڑا، کپڑا اور دیگر صنعتیں شامل ہیں ۔حیدرآباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری یہاں کے تاجروں اور صنعت کاروں کی نماءندہ تنظیم ہے ۔

زراعت[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

کھیل[ترمیم]

حیدرآباد میں ایک عدد کرکٹ اسٹیڈیم ہے جس کا نام نیاز اسٹیڈیم ہے۔ اس میں 25،000 لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور یہاں دنیا کی سب سے پہلی ہیٹ ٹرک سن 1982ء میں بنائ گئی تھی۔ حیدرآباد میں ایک ہاکی اسٹیڈیم بھی ہے۔

ریل[ترمیم]

حیدرآباد میں ریل کی تاریخ میں ایک پختہ پہچان ہے۔ یہ شروع میں Scinde Railway کا حصہ تھی اور انگریزوں نے اسے خرید کر شمالی-مغربی ریل کا احتمام کیا جو کہ اب پاکستان ریلوے ہے۔ حیدرآباد ایک بڑے ریل جنکشن کی حیثیت رکھتا ہے۔

Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

سانچہ:سانجہ:تاریخ سندھ

  1. ^ 1.0 1.1 نبی بخش خان بلوچ (2008ء)، "فتح نامہ عرف چچ نامہ"۔ سندھی ادبی بورڈ۔ ص: 147–148۔ اخذ کردہ بتاریخ 30 نومبر 2015ء۔