میانوالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
میانوالی
Thal Canal.JPG 

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر ملک (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]
دارالحکومت برائے
تقسیم اعلیٰ ضلع میانوالی  ویکی ڈیٹا پر انتظامی تقسیم میں مقام (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 32°35′N 71°32′E / 32.58°N 71.54°E / 32.58; 71.54  ویکی ڈیٹا پر متناسقاتی مقام (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلندی 210 میٹر  ویکی ڈیٹا پر سطح سمندر سے بلندی (P2044) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی
کل آبادی 95007   ویکی ڈیٹا پر آبادی (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جیو رمز {{#اگرخطا:1170425  ویکی ڈیٹا پر جیونیمز شناخت (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں|}}
نحوی غلطی

میانوالی، صوبہ پنجاب کا ایک اہم شہر ہے۔ یہاں کے زیادہ تر لوگ پنجابی زبان بولتے ہیں۔ یہاں پاک فوج کا فوجی ہوائی اڈا بھی ہے۔ یہاں کے بہادر لوگوں کی کثیر تعداد پاکستان فوج میں شمولیت اختیار کرتی ہے۔ میانوالی ضلع 5840 مربع کلومیٹر رقبہ پر پھیلا ہوا ہے۔

میانوالی کی زبان اور معاشرت

معاشرتی لحاظ سے میانوالی ضلع کیونکہ بنو کا حصہ رہا ہے تو یہاں کے لوگ قبائل میں تقسیم صدیوں سے چلے آ رہے ہی یہاں کی سب سے قدیم زبان سرائیکی ہے جو یہاں کے قدیم باشندوں کی زبان چلی آ رہی ہے 17 اور 18 صدی میں یہاں پشتو زبان کے افراد آباد ہوئے تو ان پر مقامی زبان نے چھاپ لگا دی تاہم اب بھی کچھ علاقے پشتو زبان پر مشتمل ہیں میانوالی میں تین لہجوں میں سرائیکی زبان بولی جاتی ہے

  • لمے وال
  • اوبھے وال
  • وسطی

تاریخی پس منظر اور قبائل

ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی کی کتاب تاریح میانوالی میں محمد سلیم احسن لکھتے ہیں، میانوالی کے کئی نام ہیں۔ تاریحی طور پر اس کا نام دھنوان تھا جو معرب ہو کر شبوان بنا۔ اسے رام نگر اور ستنام کا نام بھی ملا ہے۔مصنف تاریخ نیازی قبائل محمد اقبال خان تاجہ خیل نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ میانوالی کا ایک نام یونانی دور میں "سینگون" بھی تھا۔ان کا کہنا تھا کہ میانوالی کسی دور میں یونانی قبضہ میں رہا اور اسکندر اعظم کی قلمرو میں راجدھانی تھا۔دریائے سندھ کے کنارے آباد ہونے کی وجہ سے کچھی بھی کہلایا۔1861ء میں جب بنو ضلع بنا تو کچھی کا دفتر بلوخیل میں تھا۔ سردار محمد خیات خان کٹھٹر اپنی کتاب خیات افغان 1865ء میں لکھتے ہیں کہ یہ علاقہ دریاہ کے کنارے پر ہونے کی وجہ سے کچھی بھی کہلایا اورہنوز اسی یعنی کچھی کے نام سے معروف ہے گریر سن دریائی مٹی سے بنی ہوئی زمیں (Aluvial Land) کو بھی لکھتے ہیں دراصل لچھی دریا کی دست برد کا علاقہ ہے۔ دریائے سندھ کا مشرقی کنارا تاریخی طور پر سیلابوں کی آما جگاہ بنا رہا۔ اس اعتبار سے کچھی کا علاقہ دریائے سندھ کی زرخیز مٹی کی وجہ سے بہت سر سبز اور آباد تھا ایک روایت کے مطابق مغل شہنشاہ اکبر کے دور میں 1584ء میں شیخ جلال الدین اپنے بیٹے میاں علی کے ہمرا تبلیغ و اشاعت دین کی خاطر بغداد سے ہندوستان آئے۔

باب اسلام

تاریخ میانوالی میں پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم ملک اپنے مضمون میں لکھتے ہیں۔ کہ , سندھ 91/90 ہجری (712/711 عیسوی) میں فتح ہو کر شامل ہو کر اسلامی سلطنت میں شامل ہوا۔ ایک صدیوں تک اسلامی سلطنت کا حصہ رہا۔ یہیں سے ہندستان کے دوسرے علاقوں کو فتح کرنے کی کوشیش کی گئیں۔ گو کوئی قابل ذکر علاقھ فتح ہو کر اسلامی سندھ میں داخل نہیں ہوا۔

تاریح سادات

میانوالی میں آباد دیگرقبائل

نیازی قبائل

نیازی قبیلے کا تعلق لودی(لودھی) (مگر یہ لودھی پنجاب کی لودھی خاندان جوکے راجپوت نسل سے ہیں، لودھی کھھلواتے ہیں، ان سے الگ ہیں ) پشتون خاندان سے ہے یہ کویی ١٥ عیسوی میں یہاں قیام پزیر ہوئے یہ پہلے پشتون قبیلے ٹی جو اس علاقے میں وارد ہووے اور جاٹوں اور سکھوں کو نکال باہر کیا۔ اس قبیلے کے اثرات و کھنڈر آج بھی دلھی کے گرد و نواح میں موجود ہیں جن میں خاص کر عیسا خان نیازی کا مقبرہ ہے جو آج بھی ہمایوں کے مقبرے کے ساتھ موجود ہے اس قوم کے پہلی سکونت دلھی میں تھی اور پشتونو کی پہلی اور شروع کے دور حکومت میں وہاں قیام پزیر تھے مگر مغلوں کے ہاتوں شکست خانے کے بعد یہ اس علاقے میں دیگر افغان قوموں کے ساتھ دریائے سندھ کے کنارے آباد ہوگے اور وقت با وقت اور نیازی قبائل افغانستان سے آکر آباد ہوتے گئے آج بھی کچھ نیازی قبیلے پشتو بولتے ہیں جن میں بخیرے خیل سلطان خیل اور بوری خیل سرے فہرست ہیں۔ نیازی قبیلے کے مشہور لوگوں میں سے کچھ یہ ہیں عیسا خان نیازی مشیر شیر شاہ سوری، ہیبت خان نیازی گوورنر پنجاب و جرنیل۔ عمران خان نیازی۔

  • عیسا خیل،, نیازیوں کا سب سے بڑا قبیلہ ہے، اس قبیلے نے تمام نیازیوں کی نمایندگی کرتے ہووے نادر شاہ کے ساتھ مل کر جنگ کی اور نواب کا خطاب پایا
  • بلوخیل
  • بخیرے خیل
  • سلطان خیل
  • بوری خیل
  • موسیٰ خیل
  • سہراب خیل
  • بہرام خیل
  • زادے خیل
  • خنکی خیل
  • پنو خیل
  • شہباز خیل
  • شیرمان خیل
  • سيمان خیل
  • زمان خیل
  • عالم خیل
  • تاجے خیل
  • روکھڑی خیل
  • وتری خیل
     ::::::تلوکر جٹ::::::

میانوالی کی تحصیل پپلاں کی اکثریتی آبادی تلوکر جٹ قبائل کا موجودہ مسکن یونین کونسل کھولہ،بھکڑا اور خطہ اتلس، کچہ گجرات ہے۔جس کا تعلق ماضی کی وسعی جنگجو تاریخ رکھنے والی قوم راجپوت قبیلے سے ہے اس کے علاوہ ضلع کے مختلف جگہوں پر رہائش پزیر یہ قبیلہ صدیوں سے موجودہ میانوالی میں آباد چلے آ رہے ہیں اس قبیلے کی اکثریت پاکستان آرمی اور سرکاری محکموں سے جڑی ہوئی ہے۔ضلع میں تین مختلف تلوکر ہارس رائزنگ کلب ابھی بھی ماضی کی تاریخ سے جوڑے ہوئے ہے۔ ادب کی دنیا کی نامور شخصیات تلوک چند محروم ،جوگن ناتھ آزاد ہندو تلوکر اور خواجہ خان محمد نقشبندی عالمی تحریک ختم نبوت کا تعلق مسلم تلوکر قبیلے سے تھا اس قبیلے نے ملک پاکستان کے دو بڑے منصوبوں کےلیے دو بار اپنی جاگیروں اور آبادیوں کی قربانی دی۔اس کے علاوہ تلوکر قبائل خوشاب،ہری پور،بھکر نور پور تھل،لیہ،ڈی جی خان وغیرہ میں کافی تعداد میں آباد ہیں اس کی درجہ ذیل جاگیردار خیلیاں ہیں۔

  • جمال خیل
  • نیازی خیل
  • جلال خیل
  • لٹو خیل
  • کیمے خیل
  • حسین خیل
  • مرزے خیل
  • لال خیل
  • حسین خیل
  • علو خیل
  • شہباز خیل
  • زمان خیل
  • بخشے خیل
  • ہستی خیل
  • مستی خیل
  • رمتے خیل
  • شادو خیل

سلطان خیل

ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی کی کتاب تاریح میانوالی میں پروفیسر رئیس احمد عرشی لکھتے ہیں کہ، نیازیوں(خلجی لودھی ) کی آمد کا سلسلہ ہندوستان پر محمود غزنوی داتک کے آغاز اے ہوتا ہے۔(2 )

تہزیب و ثقاافت

ماحولیات

بیرونی روابط

ب* (1تاریح میانوالی از ڈاکٹر لیاقت علی نیازی , سنگ میں پبلی کیشنز لاہور۔

  • (2 )تاریح میانوالی از ڈاکٹر لیاقت علی نیازی , سنگ میں پبلی کیشنز لاہور۔
Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔
  1.   ویکی ڈیٹا پر جیونیمز شناخت (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں"صفحہ میانوالی في GeoNames ID"۔ GeoNames ID۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 نومبر 2019۔