مغل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مغل اردو،ہندی اور بنگالی زبان میںمنگول کو کہا جاتا ہے۔(فارسی عربی :میں مغول اردو اور ہندی میں مُغل اور باقی زبانوں میں منگول Mongol کہا جاتا ہے۔ لفظ “مغل”یہ منگول ہی کی معرب شکل ہے۔شجریاتی زبان میں اک مغول یا مغل خان کی اولادوں کو مغل ، منگول یا مغول کہا گیا ہے۔ عربی زبان میں چونکہ حرف “گ” نہیں ہےاور یہاں “گ” کا متبادل “ج” یا “غ” استعمال ہوتا ہےلہذا عربوں نے “منگول” کو “مغول” لکھا ہے۔ عرب “جوج یا ماجوج” کہتے ہیں جو درحقیقت “گوگ اور میگوگ”ہے انگریزی زبان میں حرف “غ” کا متبادل GH ہے جبکہ اردو اور فارسی میں ہم انگریزی کے “GH”کو حروف “غ” “گھ” اور “گ” تینوں کے متبادل کے طور پر پڑھتے ہیں۔ غالبًا یہی وجہ ہے کہ ہم لفظ منگول کو کبھی مغول اور کبھی مغل کے تلفظ میں ادا کرتے ہیں۔ کئی لوگ اس غلط فہمی کا بھی شکار ہیں کہ شاید لفظ مغل کی جمع مغول ہے، حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ مغول اور مغل صرف ادائیگی اور لب و لہجے کا فرق ہے۔ البتہ مغول کی جمع مغولان ہے جیسا کہ مورخین نے مغولان چنگیزی اور مغولان تیموری وغیرہ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔سینٹرل ایشیا کے علاوہ بھارت، پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں ان لوگوں کی ایک کافی تعداد موجود ہے جو مغل فاتحین چنگیز خان ، چغتائی خان ،امیرتیمور اور مرزا ظہیرالدین بابر نے مختلف ادوار میں وسط ایشیا سے حملوں کے دوران آباد کیے-

مختصر تاریخ اور نژاد[ترمیم]

تمام وہ لوگ جو مغل نسب کا دعویٰ کرتے ہیں، مختلف وسطی ایشیائی ترک مغل بادشاہوں اور فوجوں کی اولادیں ہیں- چنگیز خان سےامیر تیمور اورامیر تیمور سے مرزا ظہیر الدین بابر تک ایران اور جنوبی ایشیا پر حملے کے نتیجے میں یہ لوگ یہاں مقیم پزیر ہوئے-

لیکن مغل کی اصطلاح ایک وسیع معنی ہو گیا ہے- Bernier، ایک فرانسیسی مسافر جو مغل شہنشاہ اورنگزیب کے دور حکومت کے دوران ہندوستان کا دورہ کیا تھا کے مطابق،

" قرون وسطی کے زمانے میں آل مغل نے مختلف فوجوں کے تحت جنوبی ایشیا فتح کیا تھا- مغل اصطلاح ایران، قزل باشی، ترکی اور تارکین وطن کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا-"

17th صدی میں مغل لفظ مختلف گروہوں کی ایک بڑی تعداد کا احاطہ کرتا ہے- عام طور پر، بھارت کے تمام مرکزی ایشیائی تارکین وطن، ازبک، چغتائی،ایل خانی( ایلخانی)، تاجک، قپچاق، برلاس‎، قازق، ترکمن، کرغزستان، اویغور یا افغانوں اور قفقاز کے تارکین وطن کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا

تقسیم[ترمیم]

ممالک[ترمیم]

یہوشو پراجیکٹ کے مطابق مغل قوم کی تعداد مختلف ممالک میں مندرجہ ذیل ہے؛

بھارتی ریاستوں میں[ترمیم]

پاکستانی صوبوں میں[ترمیم]

معروف مغل شخصیات[ترمیم]

متعلقہ مضامین[ترمیم]