بہار بانو بیگم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بہار بانو بیگم
معلومات شخصیت
پیدائش 14 ستمبر 1590  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 8 ستمبر 1653 (63 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آگرہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مقبرہ مریم الزمانی  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Fictional flag of the Mughal Empire.svg مغلیہ سلطنت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد نورالدین جہانگیر  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
خاندان تیموری خاندان  ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

}}

بہار بانو بیگم (پیدائش: 14 ستمبر 1590ء – وفات: 8 ستمبر 1653ء) مغل شاہزادی، مغل شہنشاہ نور الدین جہانگیر کی بیٹی اور مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کی پوتی تھی۔[1]

سوانح[ترمیم]

ابتدائی حالات اور پیدائش[ترمیم]

بہار بانو بیگم کی پیدائش 14 ستمبر 1590ء کو لاہور میں ہوئی۔ بہار بانو بیگم کی والدہ کا نام کرامسی تھا جو راٹھور خاندان سے تعلق رکھنے والے راجا کیشو داس کی بیٹی تھی۔ [2] جس دن بہار بانو بیگم کی پیدائش ہوئی، عین اُسی روز جگت گوسائیں سے نور الدین جہانگیر کی ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام بیگم سلطان بیگم رکھا گیا۔[3] بہار بانو بیگم اپنے والد کی چھٹی اولاد اور چوتھی بیٹی تھی۔ بہار بانو بیگم کا سگا کوئی بہن بھائی نہیں تھا۔

ازدواج[ترمیم]

مغل شہنشاہ نور الدین جہانگیر نے 1625ء میں بہار بانو بیگم کی شادی طہمورث مرزا سے کردی جو دانیال مرزا کا بیٹا تھا۔ علاوہ ازیں طہمورث مرزا کے چھوٹے بھائی ہوشنگ مرزا سے خسرو مرزا کی بیٹی ہوشمند بانو بیگم کی شادی کردی۔[4] 28 اکتوبر 1627ء کو مغل شہنشاہ نور الدین جہانگیر کی وفات کے بعد تخت کے دعویداروں میں شہریار مرزا نے تخت پر قبضہ کر لیا اور خود کو شہنشاہ نامزد کر دیا۔ خسرو مرزا کے ایک بیٹے داور بخش کو بڑی تگ و دَو کے بعد لاہور میں تخت پر بٹھا دیا گیا مگر تخت کا اصل دعویدار مغل شہنشاہ شاہ جہاں تھا جس کے حکم پر تخت کے غاصبوں کو گرفتار کرنے اور موت کی سزا سنانے میں ہوشنگ مرزا، طہمورث مرزا، داور بخش اور گرشاسپ مرزا بھی شامل تھے۔ 23 جنوری 1628ء کو شاہ جہاں کے حکم پر ان چاروں شاہزادوں کو لاہور میں قتل کر دیا گیا۔[5] طہمورث مرزا کے قتل کے بعد بہار بانو بیگم نے زندگی کے باقی 25 سال حالتِ بیوگی میں بسر کیے۔ اِس دوران بہار بانو بیگم کا زیادہ تر قیام آگرہ اور دہلی میں رہا۔

وفات[ترمیم]

بہار بانو بیگم نے 8 ستمبر 1653ء کو 62 سال کی عمر میں آگرہ میں وفات پائی۔بہار بانو بیگم کی تدفین آگرہ میں واقع مقبرہ مریم الزمانی میں کی گئی۔[6][7]

  1. Balabanlilar، Lisa (January 15, 2012). Imperial Identity in Mughal Empire: Memory and Dynastic Politics in Early Modern Central Asia. I.B. Tauras. صفحات X. ISBN 978-1-848-85726-1. 
  2. Beveridge، Henry؛ Rogers، Alexander (1909). The Tūzuk-i-Jahāngīrī, Volume II. صفحات 19 n. 3. 
  3. Beveridge، Henry (1907). اکبر نامہ of Abu'l-Fazl ibn Mubarak - Volume III. Asiatic Society, Calcutta. صفحہ 880. 
  4. Jahangir، Emperor؛ Thackston، Wheeler McIntosh (1999). The Jahangirnama : memoirs of Jahangir, Emperor of India. Washington, D. C.: Freer Gallery of Art, Arthur M. Sackler Gallery, Smithsonian Institution; New York: Oxford University Press. صفحات 436. 
  5. Proceedings of the Asiatic Society of Bengal. The Society. 1869. صفحات 217–8. 
  6. Khan، Inayat؛ Begley، Wayne Edison (1990). The Shah Jahan nama of 'Inayat Khan: an abridged history of the Mughal Emperor Shah Jahan, compiled by his royal librarian : the nineteenth-century manuscript translation of A.R. Fuller (British Library, add. 30,777). Oxford University Press. صفحہ 489. 
  7. Kanbo، Muhammad Saleh. Amal e Saleh al-Mausoom Ba Shahjahan Nama (Persian) - Volume 3. صفحات 132–133.