نورالدین جہانگیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
نورالدین جہانگیر
Indian - Single Leaf of a Portrait of the Emperor Jahangir - Walters W705 - Detail.jpg
چوتھا مغل شہنشاہ جہانگیر
چوتھا مغل شہنشاہ
معیاد عہدہ 15 اکتوبر 1605 – 7 نومبر 1627
پیشرو جلال الدین اکبر
جانشین شہریار (مغل شہزادہ)
شاہجہان
ملکہ معظمہ ملکہ نورجہاں بیگم
بیویاں صالحہ بانو بیگم
خاص محل بیگم
تاج بی بی بلقیس مکانی
ملکہ شکار بیگم
صاحب جمال بیگم
ملکہ جہاں بیگم
نور النساء بیگم
کوکا کماری بیگم
کنول رانی بیگم
کرمناسی بیگم
خاندیشی بیگم
زہرہ بیگم
شاہ بیگم
کابلی بیگم
بلوچی بیگم
انارکلی بیگم
ملکہ نورجہاں
نسل خسرو مرزا
پرویز
شاہجہان
شہریار
جہاندار
شہزادی نتھار بیگم
مکمل نام
مرزا نور الدین بیگ محمد خان سلیم جہانگیر
خاندان خاندان تیمور
شاہی خاندان مغلیہ سلطنت
والد جلال الدین اکبر
والدہ مریم الزمانی
پیدائش سلیم20 ستمبر 1569فتح پور سیکری، مغلیہ سلطنت
وفات 8 نومبر 1627 (عمر 58)راجوری، راجوری ضلع، کشمیر، مغلیہ سلطنت، اب جموں و کشمیر
تدفین مقبرہ جہانگیر, لاہور
مذہب اسلام
تصوف

اکبر اعظم کے تین لڑکےتھے۔ سلیم ، مراد اور دانیال(مغل خاندان)۔ مراد اور دانیال باپ کی زندگی ہی میں شراب نوشی کی وجہ سے مر چکے تھے۔ سلیم اکبر کی وفات(1605ء) پر نورالدین جہانگیر کے لقب سے تخت نشین ہوا۔ 1605ء میں اس نے کئی مفید اصلاحات نافذ کیں۔

(1) کان اور ناک اور ہاتھ وغیرہ کاٹنے کی سزائیں منسوخ کیں۔ (2) شراب اور دیگر نشہ آور اشیا کا استعمال حکماً بند کیا۔ (3) کئی ناجائز محصولات ہٹا دیے۔ (4) خاص خاص دنوں میں جانوروں کا ذبیحہ بند کردیا۔ (5) فریادیوں کی داد رسی کے لیے اپنے محل کی دیوار سے ایک زنجیر لٹکا دی۔ جسے زنجیر عدل کہا جاتا تھا۔

شہزادہ خسرو کی بغاوت: 1606ء میں اس کے سب سے بڑے بیٹے خسرو نے بغاوت کردی۔ اور آگرے سے نکل کر پنجاب تک جا پہنچا۔ جہانگیر نے اسے شکست دی۔ سکھوں کےگورو ارجن دیو بھی جو خسرو کی مدد کر رہے تھے۔ شاہی عتاب میں آگئے۔ شہنشاہ نے گوروارجن دیو کو قید کرکے بھاری جرمانہ عائد کردیاجس کو گورو نے ادا کرنے سے معذرت کی ۔گورو کو شاہی قلعہ لاہور میں قید میں ڈال دیا گیا ایک روز گورو نے فرمائش کی کہ وہ دریائے راوی میں اشنان (غسل) کرنا چاہتے ہیں انہیں اس کی اجازت دے دی گئی غسل کے دوران گورو ارجن دیو نے دریا میں ڈبکی لگائی اور اس کے بعد وہ دکھائی نہ دیئے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے دریائے راوی میں ڈوب کر خودکشی کرلی ۔جس مقام پر گورو نے دریامیں چھلانگ لگائی وہاں سکھوں نے ان کی سمادھی بنادی ہے ۔ اس واقعہ سے مغلوں اور سکھوں کے درمیان نفرت کا آغاز ہواجس کے نتیجہ میں وسیع پیمانے پر مسلمانوں کا قتل عام کیاگیا سکھ مسلم دشمنی آج بھی جاری ہے ۔

1614ء میں شہزادہ خرم ’’شاہجہان‘‘ نے میواڑ کے رانا امرسنگھ کو شکست دی۔ 1620ء میں کانگڑہ خود جہانگیر نے فتح کیا۔ 1622ء میں قندھار کا علاقہ ہاتھ سے نکل گیا۔ جہانگیر ہی کے زمانے میں انگریز سر ٹامس رو سفیر کے ذریعے ، پہلی بار ہندوستان میں تجارتی حقوق حاصل کرنے کی نیت سے آئے۔ 1623ء میں خرم نے بغاوت کردی ۔ کیونکہ نورجہاں اپنے داماد شہریار کو ولی عہد بنانے کی کوشش کررہی تھی۔ آخر 1625ء میں باپ اور بیٹے میں صلح ہوگئی۔

بادشاہ جہانگیر اپنی تزک جہانگیری مین لکھتے ہیں کہ عطر گلاب میرے عہد حکومت میں نور جہاں بیگم کی والدہ نے ایجاد کیا تھا۔ جہانگیر مصوری اور فنون لطیفہ کا بہت شوقین تھا۔ اس نے اپنے حالات ایک کتاب توزک جہانگیری میں لکھے ہیں۔ اسے شکار سے بھی رغبت تھی۔ شراب نوشی کے باعث آخری دنوں میں بیمار رہتا تھا۔

مہابت خان کی بغاوت:

جہانگیر کی چہیتی بیوی نور جہان امور سلطنت کے امور میں مداخلت کرتی تھی جس کی وجہ سے بہت سے امراء جہانگیری دربار سے بد ظن ہوگئے اور دربار میں کئی امراء کی آمدورفت بندہوگئی ۔منور جہان چاہتی تھی کہ تخت دہلی پر اس کا داماد شہزادہ شہریار رونق افروز ہو مگر دوسری طرف شہزادہ خرم بھی تخت کا طلب گار تھا اس لئے دو فریق بن گئے جس سے مغل امراء میں پھوٹ پڑگئی ۔

مغل افواج کا سپہ سالار مہابت خان تھا جو مغلوں کا وفادار خادم تھا ۔مگر اس کا جھکاؤ شہزادہ خرم کی طرف تھا جس سے نور جہان نے شہنشاہ جہانگیر کو اس کےخلاف کردیا مہابت خان کو دربار میں طلب کرکے اس کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا گیا اس کی بیٹی کا جہیز ضبط کر لیاگیا ۔جہانگیر جب کشمیر جارہاتھا تو راستے میں مہابت خان نے بغاوت کردی مغل فوج اس کے ساتھ تھی اس لئے اس نے باآسانی جہانگیر کو قیدکرلیا ان حالات میں نور جہان اور اس کے بھائی آصف جاہ نے بھی خود کو مہابت خان کے حوالے کردیا مہابت خان ایک بلند پایہ جرنیل تھا مگر سازشوں اور مکارانہ چالوں سے بے بہرہ تھا نور جہان نے چند دنوں میں مغل فوج کے بہت بڑے حصے کو اپنے ساتھ ملالیا جس سے مغل فوج میں پھوٹ پڑگئی مہابت خان تنہا رہ گیا اس نے فرار ہو کر جان بچائی ۔

جہانگیر کا اتنقال:1627ء

مہابت خان کی قید سے رہائی پانے کے بعد جہانگیر زیادہ عرصہ زندہ نہ رہا گرمیوں کے موسم میں اس نے کشمیر میں قیام کیا کچھ عرصہ وہاں مقیم رہنے کے بعد 1627ء میں کشمیر سے واپس آتے وقت راستے ہی میں بھمبر کے مقام پر انتقال کیا۔ اس کی میت کو لاہور لایا گیا جہاں دریائے راوی کے کنارے باغ دلکشا لاہور موجودہ شاہدرہ میں دفن ہوا۔یہ مقام اب مقبرہ جہانگیر کے نام سے مشہور ہے۔

نورالدین جہانگیر
جہانگیر کی قبر

حوالہ جات[ترمیم]

نورالدین جہانگیر
پیدائش: 20 ستمبر 1569 وفات: 8 نومبر 1627
شاہی القاب
پیشتر
جلال الدین اکبر
مغل شہنشاہ
1605–1627
اگلا
شاہجہان