ظہیر الدین محمد بابر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ظہیر الدین بابر سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ظہیرالدین بابر اور سیف علی خان عرف سیفو بابا

باپ کانام :عمر شیخ مرزا۔ (حاکم فرغانہ)

ماں کانام: قتلغ نگار خانم۔
مغل شہنشاہ
Emperor babur.jpg
ظہیرالدین بابر
دور حکومت 30 اپریل 1526 (قدیم تقویم) — 26 دسمبر 1530 (قدیم تقویم)
تاجپوشی رسمی تاجپوشی نہیں ہوئی
جانشین ہمایوں
بیویاں
  • عائشہ سلطان بیگم
  • بی‌بی مبارکہ یوسف زئی
  • دلدار بیگم
  • گلنار آغاچہ
  • گل رخ بیگم
  • ماہم بیگم
  • آسیہ رضوی
  • نارگُل آغاچہ
  • سیدہ آفاق
اولاد ہمایوں ، کامران مرزا ، عسکری مرزا ، ہندال مرزا ، گلبدن بیگم ، فخر النساء ، التون بِشِک
چغتائی / فارسی بابر
خاندان خاندانِ تیمور
شاہی خاندان مغل
والد عمر شیخ مرزا ، امیر فرغانہ
والدہ قتلغ نگار خانم
تدفین 1531
باغ بابر, افغانستان
مذہب سنی اسلام

ظہیر الدین محمد بابر (پیدائش: 1483ء - وفات: 1530ء) ہندوستان میں مغل سلطنت کا بانی تھا۔ انہیں ماں پیار سے بابر (شیر) کہتی تھی۔ اس کاباپ عمر شیخ مرزا فرغانہ (ترکستان) کا حاکم تھا۔ باپ کی طرف سے تیمور اور ماں قتلغ نگار خانم کی طرف سے چنگیز خان کی نسل سے تھا۔ اس طرح اس کی رگوں میں دو بڑے فاتحین کا خون تھا۔ بارہ برس کا تھا کہ باپ کا انتقال ہوگیا۔ چچا اور ماموں‌ نے شورش برپا کردی جس کی وجہ سے گیارہ برس تک پریشان رہا۔ کبھی تخت پر قابض ہوتا اور کبھی بھاگ کر جنگلوں میں روپوش ہوجاتا۔ بالآخر 1504ء میں بلخ اور کابل کا حاکم بن گیا۔ یہاں سے اس نے ہندوستان کی طرف اپنے مقبوضات کو پھیلانا شروع کیا۔

شہنشاہ بابر کی ایک پینٹنگ

مغل پٹهان بابر کی چوتھی پشت میں حضرت سیف علی خان عرف سیفو بابا تهے جو سلسلہ عالیہ چشتیہ کے خلیفہ تھے آپ ہر وقت سر سفید لباس میں زیب تن رہتے اور سر پہ بهہ بہت بڑا صافہ باندهتے تهے جس کا کپڑا نو سے بارہ گز لمبا ہوتا تها آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے انتقال کے وقت آپ دہلی میں تهے کہ آپ نے اپنے فرزند ولی محمد سے کہا آج ہمارا آخری چراغ بهی بجه گیا تم جموں کشمیر چلے جاو ولی محمد جموں آئے اور پهر جگالپار چلے آے ان کے بیٹے فقیر محمد کے دو بیٹے تهے ایک سیف علی اور ایک نظام دین تها نظام دین کے دو بیٹے تهے ایک عنایت علی اور ایک برکت علی تهے برکت علی 1941 میں جگالپار سے ہجرت کرکے نلوئی میرپور آزاد کشمیر آئے پهر 1965 میں منگلا ڈیم کی بند کی وجہ سے حکومت نے خرم سنگھ کے علاقے بن خرماں میں جگہ دی اور وہاں ان کے چار بیٹے ہوئے ان میں ایک محمد بشیر ہے جو ماشاءاللہ بقید حیات ہیں اور ان کے آگے چار بیٹے ہیں جن میں ایک عثمان انجم ہے اور یہ سیفو بابا سے اب تک سب مغل پٹهان ہی کہلوانے ہیں

پہلی جنگ پانی پت:21 اپریل 1526ء[ترمیم]

مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر اور سلطان ابراہیم لودھی شاہ دہلی کے درمیان 1526ء میں پانی پت کے میدان میں ہوئی۔ سلطان ابراہیم لودھی کی فوج ایک لاکھ جوانوں پر مشتمل تھی۔ اور بابر کے ساتھ صرف بارہ ہزار آدمی تھے۔ مگر بابر خود ایک تجربہ کار سپہ سالار اور فن حرب سے اچھی طرح واقف تھا۔ سلطان ابراہیم لودھی کی فوج نے زبردست مقابلہ کیا ۔ مگر شکست کھائی۔ سلطان ابراہیم لودھی اپنے امراء اور فوج میں مقبول نہ تھا۔وہ ایک شکی مزاج انسان تھا، لاتعداد امراء اس کے ہاتھوں قتل ہوچکے تھے، یہی وجہ ہے کہ دولت خان لودھی حاکم پنجاب نے بابر کو ہندوستان پر حملہ کررنے کی دعوت دی اور مالی وفوجی مدد کا یقین دلایا۔

بابراور ابراہیم لودھی کا آمناسامنا ہوا تو لودھی فوج بہت جلدتتر بتر ہوگئی۔ سلطان ابراہیم لودھی مارا گیا اور بابر فاتح رہا۔ پانی پت کی جنگ میں فتح پانے کے بعد بابرنے ہندوستان میں مغل سلطنت کی بنیاد رکھی۔ بابر فاتحانہ انداز میں دہلی میں داخل ہوا۔ یہاں اس کا استقبال ابراہیم لودھی کی ماں بوا بیگم نے کیا۔ بابر نے نہایت ادب واحترام سے اسے ماں کا درجہ دیا۔ دہلی کے تخت پر قبضہ کر نے کے بعد سب سے پہلے اندرونی بغاوت کو فرو کیا پھر گوالیار ، حصار ، میوات ، بنگال اور بہار وغیرہ کو فتح کیا۔ اس کی حکومت کابل سے بنگال تک اور ہمالیہ سے گوالیار تک پھیل گئی۔ 26 دسمبر، 1530ء کو آگرہ میں انتقال کیا اور حسب وصیت کابل میں دفن ہوا۔ اس کے پڑپوتے جہانگیر نے اس کی قبر پر ایک شاندار عمارت بنوائی جو بابر باغ کے نام سے مشہور ہے۔ بارہ سال کی عمر سے مرتے دم تک اس بہادر بادشاہ کے ہاتھ سے تلوار نہ چھٹی اور بالآخر اپنی آئندہ نسل کے لیے ہندوستان میں ایک مستقل حکومت کی بنیاد ڈالنے میں کامیاب ہوا۔ تزک بابری اس کی مشہور تصنیف ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ وہ نہ صرف تلوار کا دھنی تھا، بلکہ قلم کا بھی بادشاہ تھا۔ فارسی اور ترکی زبانوں کا شاعر بھی تھا اور موسیقی سے بھی خاصا شغف تھا۔

ظہیر الدین محمد بابر
پیدائش: 14 فروری 1483 وفات: 26 دسمبر 1530
شاہی القاب
پیشرو 
کوئی نہیں
مغل شہنشاہ
1526–1530
جانشین 
نصیرالدین ہمایوں