خوشحال خان خٹک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
خوشحال خان خٹک
پیدائش 1613
اکوڑہ خٹک،نوشہرہ ، کابلستان (موجودہ پختونخوا،Flag of Pakistan.svg پاکستان
وفات 25 فروری 1689(1689-02-25) (عمر 75–76)
وادی تیراہ،کابلستان،مغل سلطنت (موجودہ قبائلی علاقہ جات،پاکستان)
مدفن اکوڑہ خٹک،نوشہرہ (موجودہ پختونخوا،Flag of Pakistan.svg پاکستان
شہریت پشتون
وجہِ شہرت پشتو شاعری
کارہائے نمایاں بازنامہ،طب نامہ،فراقنامہ،سوات نامہ ،وغیرہ
خطاب قومی شاعر افغانستان[1]
مذہب اسلام
والدین ملک شہباز خٹک

پشتون جنگجو ہیرو٫ شاعر اور فلسفی خوشحال خان خٹک نور الدین اکبر کے زمانے میں سرائے اکوڑ کے علاقے میں شھباز خان کے گھر میں سال ۱۰۲۲ ء (کے مئی یا جون کے مہینے) میں پیدا ہوئے۔باپ شہباز خان قبیلہ خٹک کا سردار اور مغلوں کی جانب سے علاقے کا جاگیردار(خان) تھا اور یہ خانی ان کو باپ دادا سے میراث میں ملی تھی۔ خوشحال خان تلواروں کے سائے میں پیدا ہوئے اور تلواروں کے سائے میں بڑے ہوئے۔ ان کی قسمت میں ایک بہت بڑا شاعر، ادیب اور عالم بننا لکھا گیا تھا۔ اگرچہ کچھ عرصہ درس و تدریس کی محفل میں بیٹھے تھے لیکن ان کی علم کا زیادہ تر حصہ ذاتی مطالعے، مشاھدے اور تجربے سے حاصل ہوا تھا۔ شکار کے شوق نے انہیں باقاعدہ پڑھائی کرنے کو نہیں چھوڑا مگر علم کے شوق کی وجہ سے انہوں نے اتنی ساری کتابوں کا مطالعہ کرایا کہ بعد میں انہوں نے عربی فقہ کی مشہور اور مثتند کتاب ھدایہ کا پشتو زبان میں ترجمہ کیا اور اسی وجہ سے ان کا شمار علماء میں ہوتا ہے۔ اوائل عمر میں یوسف زئی قبیلے کے اکثر معرکوں میں شریک رہا۔ 1651ء میں باپ کے مرنے پر27 سال کی عمر میں اپنے قبیلے کا سردار بنا۔ شروع سے ہی مغلوں کے وفادار تھے اور ٱپکا لشکر مغل فوج میں ھر اول دستے کی حیثیت رکھتا تھا اور آپ نے مغلوں کی بہت خدمت کی۔ اورنگزیب عالمگیر کے زمانے میں اس کے ایک صوبیدار نے اسکو کسی دشمن کے کہنے پر خوشحال خان سے بد ظن کر دیا حتٰی کہ اسے گرفتار کر لیا گیا اور وہ تین چار برس دہلی اور رنتھمبور کے قلعوں میں قید رہا۔ اپنے خلاف اورنگزیب کی ان شکایتوں اور قید و بند کی صعوبتوں کو خوشحال خان خٹک ایک جگہ اپنی شاعری ميں اسطرح بلاوجہ قرار ديتے ھيں -

”پروردہ کہ دہ مغلو پہ نمک يم،
د اورنگ لہ لاسہ ھم لا غريوہ ڈ ک يم،
بس ناحقہ ئے زندان کڑم يو سو کالہ،
خداۓ خبردے کاپاخپل گناہ زۂ شک يم،
د افغان پہ ننگ م وتڑلہ تورہ،
ننگيالے د زمانے خوشحال خٹک يم-“

”اگرچہ ميں مغلوں کے نمک کاپروردہ ہوں- ليکن اورنگ (زيب) کے ہاتھوں بہت غضبناک ہوں- ناحق چند سال تک مجھے زندان کيا- خدا جانتا ہے کہ ميں نے کوئی گناہ نہيں کيا- ميں نے افغان قوم کی ننگ و ناموس کی خاطر اپنی کمر سے تلوار باندھ لی ہے- میں زمانے بھرکا غيرت مند خوشحال خان خٹک ہوں-“ پھر رہا ہو کر وطن واپس آیا۔ دل میں مغلوں کے خلاف انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی۔ یوسف زئی اور آفريدی قبیلے کے ساتھ مل کر شاہی فوجوں پر کئی حملے کیے اور اکثر معرکوں میں مغل افواج کو زک پہنچائی۔ ويسے تو ساری زندگی جنگ و جدل اور افغان قوم کوايک کرنے کی کوشش ميں گزاری تاھم اس کا آخری زمانہ بڑی مصیبت اور پریشانی میں گزار ۔ اپنی زندگی کے اس پہلوکے بارے ميں ايک جگہ لکتھے ہيں- ”لايو غم لا زنے لاڑ نۂ وی چی بل راشی، لکہ زۂ پہ ورز پيدا د شور و شر يم“ ”ابھی ايک غم سے چٹھکارا نھيں پاتا کہ دوسرا آ موجود ہوتا ہے٫ جيسے کہ ميں بروز شور و شر پيدا ہوا ہوں-“ اس نے تقریباً پنتالیس ہزار اشعار اپنی یادگارميں چھوڑے ہیں۔ 200 سے زائد کتابيں ان سے منسوب ہيں- جن ميں سے زیادہ تر نا پيد ہيں- موجود کتابوں ميں سے قابل ذکر باز نامہ، فضل نامہ، دستار نامہ اور فرح نامہ شامل ھيں-ان کی شاعری ميں تغزل سے بڑھ کر واقعاتی رنگ ہے۔ بیشتر رجزیہ اشعار ہیں۔ وہ بيک وقت صاحب تيغ و قلم، شاعر و فلسفی، افغان قوم کے راہ نما و حکيم، خودی و غيرت کے علمبر دارر و پاسدارتھے-

پشتو ادب میں خوشحال خان خٹک سب سے زیادہ ہمہ گیر شخصیت ہیں۔ خوشحال خان شاعر بھی تھے، ادیب بھی تھے، امیر بھی تھے اور فقیر بھی، انہیں تلوار اور ڈھال سے بھی عشق تھا اور سر و ساز کے ساتھ بھی لگاؤ تھا۔ وہ کتابوں کے صفحات پر بھی خطاطی کرتے تھے اور شکار کے میدان میں بھی ثانی نہیں رکھتے تھے۔ غرض زندگی کا کوئی ایسا رخ نہیں ہے جس میں انہوں نے طبع آزمائی نہیں کی ہو اور ادب کی کوئی ایسی شاخ نہیں ہے جس میں انہوں نے پشتو زبان کو دوسری زبانوں کے ساتھ ہم پلہ کھڑا نہیں کیا ہو بلکہ سچ تو یہ ہے کہ پشتو زبان پر خوشحال بابا کا جتنا احسان ہے اتنا کسی دوسرے شخص کا نہیں ہے۔[2]

اشعار[ترمیم]

شعر و شاعری میں بھی آپ ایک نمایاں شخصیت تھے۔آج بھی آپ کی شاعری کو ایک اونچا مقام حاصل ہے۔آپ کے چند اشعار یہ ہیں:

وایی آسمان ته لار د ختو نشته
زہ بہ لار جوړوم په خپل هنر

یعنی ’’کہا جاتا ہے کہ آسمان کا راستہ نہیں ہے،مگر میں (آسمان جانے کا )راستہ بناوں گا اپنے ہنر کے ذریعے‘‘۔اس شعر کا مفہوم یہ ہے بھلا انسان جسم اور طاقت کے لحاظ سے تو کمزور ہے لیکن اگر انسان میں ہنر ہے اور وہ کوشش کرتا ہے تو سورج،چاند اور آسمان میں موجود دیگر اشیاء تک پہنچ جاتا ہے۔

د منت دارو که مرم پکار می نه دی
که علاج لرہ می راشی مسیحا ھم

یعنی کہ اگر مجھے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑے تو مجھے بھیک مانگنے سے موت عزیز ہوگی-

حسن کہ غرور لری وقار د مینی ھم شتہ
ستا گونجی پہ تندی کی زما گونجی پہ شملہ کی

خوشحال خان محبت میں بھی پشتون واقع ہوئے ہیں، وہ اپنے محبوب سے کہتے ہیں کہ اگر تم حسن پر غرور کرتے ہو تو مجھے بھی اپنی محبت پر ناز ہے اگر تمھارے ماتھے میں غرور کی وجہ سے شکن پڑ جاتا ہے تو میری پگڑی میں بھی شکن ہے۔

انکی شاعری سے پٹھانوں کی روایتی بہادری بھی جھلکتی ہے، ایک جگہ لکھتے ہیں،

د خوشحال د زڑہ خوخی پہ ھغہ وخت شی
چی بریخنا د سپینو تورو شی پہ زغرو

یعنی ُخوشحال کا دل اس وقت پُرمسرت ہوتا ہے جب سفید تلواروں کی چمک زروں پر پڑتی ہےٗ

وفات[ترمیم]

یہ عظیم پشتون ۱۳ سال کی عمر سے لے کر آخر عمر تک جنگوں میں مصروف رہے۔ اور آخر کاریہ صاحب تلوار اور قلم خیبر پختونخواہ کے قبائیلی علاقے تیراہ میں ڈمبری کے مقام پر ۲۰ فروری سال ۱۶۸۹ ء (بمطابق ۲۸ ربیع الثانی ۱۱۰۰ ھجری) کو جمعے کے دن مسافری کی حالت میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔[3]

  1. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام Morgenstierne کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  2. ^ پشتو ادب، ’پوھنہ‘، مصنف: سحر کتوزئی، یونیورسٹی پبلشرز
  3. ^ پوھنہ، مصنف، سحرگل کتوزئی