اجمل خٹک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اجمل خٹک
Ajmal Khattak Baba.jpg
صدر عوامی نیشنل پارٹی
عہدہ سنبھالا
1991ء – 1999ء
پیشرو ولی خان
پیشرو اسفند یار ولی خان
ذاتی تفصیلات
پیدائش 15 ستمبر 1925ء
اکوڑہ خٹک، خیبر پختونخوا، India
وفات 7 فروری 2010ء
پشاور، خیبر پختونخوا، پاکستان
سیاسی جماعت National Awami Party، عوامی نیشنل پارٹی
رہائش اکوڑہ خٹک، نوشہرہ، خیبر پختونخوا
پیشہ شاعر، سیاست دان، مصنف
مذہب اسلام

پاکستانی سیاست دان،شاعر، ادیب اورقوم پرست لیڈر۔ 1924ء میں اکوڑہ خٹک کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والد حکمت خان بھی قومی کاموں میں پیش پیش رہتے تھے۔ مڈل پاس کرنے کے بعد معلمی کاپیشہ اختیار کیا، لیکن ملازمت کے ساتھ ساتھ علمی استعداد بھی بڑھاتے رہے ۔ منشی فاضل ، ایف اے اور بی اے کے امتحانات پاس کیے۔ ریڈیو پاکستان پشاور سے بطور سکرپٹ رائٹر وابستہ رہے۔ کافی عرصہ روزنامہ انجام پشاور کے ایڈیٹررہے۔ سیاست میں اجمل خٹک ابتداء ہی سے قوم پرستانہ خیالات کے مالک رہے۔ شروع شروع میں زیادہ سے زیادہ صوبائی خود مختاری کے حق میں رہے ۔ پھر رفتہ رفتہ خان عبدالغفار خان کے زیر اثر پختونستان کی بھی حمایت کی ۔ اسی وجہ سے کئی مرتبہ قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار ہوئے ۔ خان عبدالولی خان کی صدارت میں نیشنل عوامی پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنے۔ جب 1973ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے نیپ کو غیر قانونی جماعت قرار دیا اور حکومت نے پارٹی کے دوسرے سرکردہ رہنماؤں کے ساتھ ان کو بھی گرفتار کرنا چاہا لیکن اجمل خٹک روپوش ہوکر افغانستان چلے گئے وہاں جلا وطنی کی زندگی بسر کرنے لگے ۔ جب افغانستان میں کمیونسٹ حکومت قائم ہوئی تو ان کی عملی مدد کی اور افغانستان اور پاکستان کے پختون لیڈروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا لیکن سویت یونین کی تحلیل اور افغانستان میں اس کی شکست کے بعد اپریل 1989ء میں بے نظیر بھٹو کے عہد میں واپس پاکستان آئے اور یہاں کی سیاست میں حصہ لینے لگے۔ 1990 تا 1993ء قومی اسمبلی کے رکن رہے۔ مارچ 1994ء میں چھ سال کے لیے صوبہ سرحد کی جانب سے سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے ۔ آخری دونوں میں عمر کی زیادتی کی وجہ سے عملی سیاست سے کنارہ کش رہے۔

بطور شاعر و ادیب اجمل خٹک ترقی پسند تحریک سے متاثر رہے۔ پشتو اور اردو دونوں زبانوں میں شعر کہتے ہیں ۔دونوں زبانوں کے مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں۔ جلاوطن کی شاعری بھی ان کا مجموعہ کلام ہے۔ جس میں افغانستان کے دوران جلا وطنی کے احساسات و جذبات کی عکاسی کی گئی ہے۔

وفات[ترمیم]

اجمل خٹک، جو کہ کافی عرصہ سے علیل تھے، 7 فروری، 2010ء کو پشاور کی ایک مقامی ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ کافی عرصہ وہ سیاست سے کنارہ کش رہے اور آخری ایام انھوں نے اپنے آبائی گاؤںاکوڑہ خٹک میں گذارے۔ اکوڑہ خٹک میں ہی انھیں سپردخاک کر دیا گیا۔ انتقال کے وقت ان کی عمر پچاسی برس تھی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/02/100207_ajmal_khatak_sen.shtml ممتاز سیاستدان اجمل خٹک چل بسے: بی بی سی