ڈیورنڈ لائن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ڈیورنڈ لائن
Afghanistan-Pakistan border.png
Durand Line border map marked in red.
Characteristics
ممالک Flag of Afghanistan.svg افغانستان Flag of Pakistan.svg پاکستان
لمبائی2,670 کلومیٹر (8,760,000 فٹ)
تاریخ
تاسیس12 نومبر 1893

Signing of the Durand Line Agreement at the end of the first phase of the دوسری انگریز افغان جنگ
موجودہ صورت8 اگست 1919

1919 کا اینگلو افغان معاہدہ ratified at the end of the تیسری اینگلو-افغان جنگ.
TreatiesTreaty of Gandamak, Durand Line Agreement, 1919 کا اینگلو افغان معاہدہ
ڈیورنڈ لائن

14 اگست 1947ء سے پیشتر جب پاک و ہند پر برطانیہ کا قبضہ تھا، برطانیہ کو ہر وقت یہ فکر لاحق رہتی تھی کی شمال مغربی سرحد پر روس کا اقتدار نہ بڑھ جائے یا خود افغانستان کی حکومت شمال مغربی سرحدی صوبہ کے اندر گڑبڑ پیدا نہ کرا دے۔ ان اندیشیوں سے نجات حاصل کرنے کی خاطر وائسرائے ہند نے والی افغانستان امیر عبدالرحمن خان سے مراسلت کی اور ان کی دعوت پر ہندوستان کے وزیر امور خارجہ ما ٹیمر ڈیورنڈ ستمبر 1893ء میں کابل گئے۔ نومبر 1893ء میں دونوں حکومتوں کے مابین مستقل معاہدہ ہوا جس کے نتیجے افغانیوں نے برٹش راج کے خوف سے پیسوں کے بدلے اپنے پشتون بھائیوں کا سودا کیا اور ڈیورنڈ لائن پے انگریزوں سے اپنے آپ کو مستقل طور پے بچا لیا، جبکہ دوسری طرف پشتونوں نے 55 سال تک انگریزوں کی غلامی بگتی ٹیکس ادا کرتے رہے وہی ٹیکس افغانستان کو معاہدے کے طور پے ادا ہوتا رہا، ایک طرف ٹیکس ادا کرنا پڑتا جبکہ دوسری طرف ظالم انگریزوں اور ظالم نوابوں کے ظلم اور بربریت برداشت کرتے رہے، انگریزوں کے ساتھ کیے جنگیں لڑی ہزاروں کے تعداد میں جام شہادت نوش فرمایا جبکہ دوسری طرف افغانی خاموش تماشائی بنے رہے، سرحد کا تعین کر دیا گیا۔ جو ڈیورنڈ لائن (Durand Line) یا خط ڈیورنڈ کے نام سے موسوم ہے۔ اس کے مطابق واخان کافرستان کا کچھ حصہ نورستان، اسمار، موہمند لال پورہ اور وزیرستان کا کچھ علاقہ افغانستان کا حصہ قرار پایا اور افغانستان استانیہ ،چمن، نوچغائی، بقیہ وزیرستان، بلند خیل ،کرم، باجوڑ، سوات، بنیر، دیر، چلاس اور چترال پر اپنے دعوے سے مستقل دستبردار ہو گیا۔

14 اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا، پاکستان کی حکومت نے اپنے آپ کو برطانيہ کا اصلی وارث سمجهتے ہوئے یہ معاہدہ برقرار رکها اور کئی سال تک افغانستان کی حکومت کو مالی معاوضہ ديا جاتا رہا۔ اب جبکہ افغانستان روس اور امریکا کے جنگ کے وجہ سے تباہ ہو چکا ہے، انفراسٹرکچر اور معیشت تباہ و برباد ہے تو دوسری طرف پاکستان ترقی کی راہ پے دن دگنی رات چگنی اگے بڑھ رہا ہے خاص طور پر سی پیک CPAخ کی صورت میں ایک روشن مستقبل کے طرف تیزی سے اگے بڑھ رہا ہے، جس میں خیبر پختونخوا ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے یہاں کا انفراسٹرکچر بھی افغانستان کے نسبت بہت بہتر ہے اور یہی پشتون قوم پاکستان کی سلامتی اور ترقی میں ایک اہم کردار ادا کر رہیں ہیں، تو پاکستان کے دشمن قوتیں افغانیوں کو اکسانے کی بھرپور کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور ایک دفعہ پر ڈیورنڈ لائن کو متنازع بنانے کی کوشش ہو رہی ہے. کابل کی حکومت نے خط ڈیورنڈ کی موجودہ حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور یہ دعوی کیا کہ دریائے اٹک تک کا علاقہ کابل کی فرماں روائی میں ہے۔ کیونکہ بقول اس کے اس علاقے کے لوگ افغانوں کے ہم نسل پشتون تھے اور ہم زبان تھے۔ جب کہ سکھوں کے دور سے پہلے تک یہ علاقہ افغانستان کا علاقہ شمار کیا جاتا تھا۔ جبکہ وہ یہ بھول رہیں ہیں کہ افغانستان بھی پہلے ایران کا حصہ رہ چکا ہے اور پشتون قوم کی خاص خصوصیت بھی کہ وہ دشمن کو تو اپنے ہاں پناہ دے دیتے ہیں لیکن اگر کوئی ان سے غداری کرے تو وہ یہ بات نسلوں تک نہیں بھول پاتے، جو ان کے ساتھ 1893 میں افغانستان نے کیا اور خیبرپختونخواہ کے لوگوں کو انگریزوں کے اگے پھینک ڈالا تھا.

مزید دیکھیے[ترمیم]

میکموہن لائن

حوالہ جات[ترمیم]