تیسری جنگ پانی پت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

یہ جنگ موجودہ افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالی اور مراٹھیوں کے سداشو راؤ بھاؤ درمیان 1761ء میں ہوئی۔مرہٹے ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے یہ متعصب ،وحشی اور جنگ جو تھے مسلم دشمنی میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا ۔ان کی سرکوبی کے لئے مغل بادشاہ اورنگ زیب نے ان کی سرکوبی اور تدارک کے لئے 25سال تھ جنگیں لڑیں۔اگرچہ اس نے ان کا زور توڑ دیا مگر ان کا خاتمہ نہ ہوسکا۔مغل شہزادے جانشینی کی جنگیں لڑتے رہے اور مرہٹے اپنی فوجی طاقت بڑھاتے رہے یہاں تک کہ 1755ء میں دہلی تک پہنچ گئے مغل بادشاہ ان کا مقابلہ کرنے سے قاصر تھے ۔1760ء تک مرہٹے پاک و ہند کے بڑے حصے کو فتح کر چکے تھے۔ ان کے سردار رگوناتھ نے مغلوں کو شکست دے کر دہلی پر قبضہ کر لیا۔ پھر لاہور پر قبضہ کرکے اٹک کا علاقہ فتح کر لیا۔انہوں نے لال قلعہ دہلی کی سونے کی چھت اترواکر اپنے لئے سونے کے سکے بنوائے ۔انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی کی شاہی مسجد کے منبر پر رام کی مورتی رکھیں گے جس سے مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔مسلمان سردار نجیب الدولہ نے احمد شاہ ابدالی کو تمام صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے ہندوستان پر حملہ کی دعوت دی اور مالی وعسکری مدد کا یقین دلایا ۔مرہٹہ مقبوضہ علاقہ جات احمد شاہ ابدالی کی ملکیت تھے ان کا حاکم احمد شاہ درانی کا بیٹا تیمور شاہ تھا جسے شکست دے کر مرہٹوں نے افغانستان بھگا دیا اب احمد شاہ درانی نے اپنے مقبوضات واپس لینے کے لیے چوتھی مرتبہ برصغیر پر حملہ کیا۔ 14 جون 1761ء کو پانی پت کے میدان میں گھمسان کا رن پڑا ۔یہ جنگ طلوع آفتاب سے شروع ہوئی جبکہ ظہر کے وقت تک ختم ہوگئی روہیلہ سپاہیوں نے بہادری کی داستان رقم کی۔ابدالی فوج کے سپاہیوں کا رعب مرہٹوں پر چھایارہا ان کے تمام جنگی فنون ناکام ہوگئے۔فریقین میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد سپاہی مارے گئے جن مین زیادہ تعداد مرہٹوں کی تھی مرہٹوں سے نفرت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب مرہٹے شکست کھاکر بھاگے تو ان کا پیچھا کرکے انہیں مارنے والوں میں مقامی افراد کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی شامل تھیں اس جنگ میں مرہٹوں نے عبرت ناک شکست کھائی اس کے بعد وہ دوبارہ کبھی جنگی میدان میں فتح حاصل نہ کرسکے۔ احمد شاہ ابدالی نے دہلی پہنچ کر شہزادہ علی گوہر کو دہلی کے تخت پر بٹھایا اور دو ماہ بعد واپس چلا گیا۔

نتائج:

1: مرہٹوں کا خاتمہ ہوگیا ان کی طاقت مکمل طور پر توڑ دی گئی ۔ہندوستان پر ان کی حکومت کی خواہش اور شاہی مسجد دہلی کے منبر پر رام کی مورتی لگانے کا خواب بکھر گیا۔

2:مرہٹوں کے 27سردار مارے گئے ۔وہ دوبارہ اٹھنے کا قابل نہ رہے مگر مغلوں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ دوبارہ اپنا اقتدار مضبوط کریں۔ ان کی کمزوری سے فائدہ انگریزوں نے اٹھایا انہوں نے باآسانی مرہٹہ سرداروں کو شکست دے کر اپنی حکومت مضبوط کی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]