کامران کی بارہ دری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کامران کی بارہ دری
Baradari of kamran mirza- Ravi.jpg
بنیادی معلومات
مقاملاہور، پاکستان
مذہبی انتساباسلام
صوبہپنجاب
مذہبی یا تنظیمی حالتبارہ دری
سربراہیکامران مرزا
تعمیراتی تفصیلات
نوعیتِ تعمیربارہ دری
طرز تعمیراسلامی، مغل
سنہ تکمیل1540
تفصیلات
موادRed sandstone

کامران کی بارہ دری (Kamran's Baradari) لاہور میں موسم گرما کے لیے بنائی جانے والی ایک بارہ دری ہے۔ اسے مغل شہنشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے بڑے بیٹے کامران مرزا نے بنوایا۔ بابر کے بعد مغلیہ سلطنت کا وارث کامران مرزا کا بھائی نصیر الدین محمد ہمایوں بنا۔ ہمایوں نے فراخ دلی سے یہ علاقہ اپنے بھائی کامران مرزاکو دے دیا مگر یہ بھائی ہمیشہ اس کا دشمن بنا رہا۔

تاریخ[ترمیم]

بابر کی وفات کے بعد لاہور پر کامران مرزا کا قبضہ ہو گیا 1530ء میں اس نے شہر میں اپنا باغ تعمیر کروایا۔ اسی باغ میں اس نے 1540ء میں یہ بارہ دری تعمیر کروائی، جو لاہور میں تعمیر کی جانے والی پہلی مغلیہ عمارت ہے۔[1] موجودہ وقت میں بارہ دری دریائے راوی میں ایک جزیرے پر واقع ہے، لیکن اس کی تعمیر کے وقت دریائے راوی باغ سے "کئی سو میٹر دور" تھا۔[2]


اسی بارہ دری میں شہنشاہ جہانگیر کے پاس بغاوت کرنے والے اْن کے بیٹے خسرو اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرکے لایا گیا تھا۔زنجیروں میں جکڑے بیٹے اور دیگر باغیوں کو جب جہانگیر کے سامنے پیش کیا گیا تو اْس نے باغیوں کو سزائے موت کا حکم سْنایا اور اپنے بیٹے خسرو کی آنکھیں نکالنے کا حکم صادر کیا اور ساتھ ہی یہ تاریخی جملہ کہا کہ بادشاہ کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا۔ اس کے بعد کامران بارہ دری سے قلعہ لاہور تک کے راستے میں تین سو کے قریب خسرو کے ساتھیوں کو پھانسی پر لٹکایا گیا اور اْن کے درمیان سے گھسیٹ کر خسرو کو قلعہ لاہور لے جایا گیا اور نابینا کردیا گیا۔بعد ازاں قلعہ لاہور ہی میں خسرو کی موت واقع ہوئی

اس بارہ دری کا ذکر ایک انگریز آفیسر تھامس تھارن ٹن کے خطوط میں ملتا ہے۔ یہ خطوط 1860ء میں لکھے گئے تھے ۔ سکھ دور حکومت میں 1849ء تک اس بارہ دری کو دریائے راوی کو پار کرنے والے مسافروں سے واجبات کی وصولی کے لیے مخصوص کیا گیا تھا اس کی حالت خستہ تھی۔ اس کی مرمت اور بحالی کاکام 1989ء میں کیا گیا جس پر تقریباََ ایک ملین ڈالر خرچ کیے گئے۔ موجودہ دور میں ایک سیر گاہ بنی ہوئی ہے عوام کشتیوں کے ذریعے دریا ئے راوی پار کرکے یہاں آتے ہیں اور باغ کا لطف اٹھاتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Khursheed Kamal Aziz. The Meaning of Islamic Art: Explorations in Religious Symbolism ..., Volume 1. Adam Publishers. صفحہ 608. ISBN 9788174353979. 
  2. Sarina Singh. Pakistan and the Karakoram Highway. Lonely Planet. صفحہ 109. ISBN 9781741045420.