دریائے راوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دریائے راوی
Ravi River
RaviRiver-Chamba.JPG
دریائے راوی
ملک بھارت، پاکستان
طبعی خصوصیات
بنیادی ماخذ چمبا ضلع، ہماچل پردیش، بھارت
دریا کا دھانہ دریائے چناب
لمبائی 720 کلومیٹر (450 میل)
نکاس
  • اوسط شرح:
    267.5 میٹر3/سیکنڈ (9,450 فٹ مکعب/سیکنڈ) (near Mukesar[1])
طاس خصوصیات
دریا نظام دریائے سندھ نظام
طاس سائز بھارت اور پاکستان
معاون
  • دائیں:
    Siul

متناسقات: 30°35′N 71°49′E / 30.583°N 71.817°E / 30.583; 71.817

صوبہ پنجاب میں دریائے سندھ اوراس کے معان دریائے جہلم، دریائے چناب، دریائے راوی اور دریائے ستلج بہتے ہیں۔ دریائے راوی ضلع کانگڑامیں درہ روتنگ سے نکلتا ہے اور ساڑھے چار سو میل لمبا (720 کلومیٹر)ہے۔ پاکستانی پنجاب کا درالحکومت لاہور اسی دریا کے کنارے واقع ہے۔ دریائے راوی اور دریائے چناب کا درمیانہ علاقہ دوآبہ رچنا کہلاتا ہے۔ (دریائے راوی پہلے ایراوتی کہلاتا تھا۔)

نہریں[ترمیم]

دریائے راوی کی بڑی بڑی نہریں یہ ہیں۔ اپر باری دواب مادھو پور بھارت سے نکلتی ہے۔ اس کی قصور برانچ پاکستان کو سیراب کرتی ہے۔ نہر لوئر باری دوآب کے ہیڈورکس بلوکی میں ہیں۔ یہ نہر اضلاع ملتان اور منٹگمری کو سیراب کرتی ہے۔ انہار ثلاثہ ان میں دریائے راوی، چناب اور جہلم کی تین نہریں اپر جہلم، اپر چناب اور لوئر باری دواب شامل ہیں۔ گنجی یار منٹگمری اور ملتان کو سیراب کرنے کے لیے راونی کا پانی کافی نہ تھا۔ چنانچہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے چناب کا پانی بلوکی کے مقام پر بذریعہ نہر اپرچناب دریائے راوی میں ڈالا گیا۔ اس سے نہر لوئر چناب کا پانی کم ہو گیا۔ اور گوجرانولہ شیخوپورہ، لائلپور(موجودہ نام فیصل آباد) اور جھنگ کے اضلاع کے لیے پانی ناکافی ثابت ہونے لگا۔ چنانچہ منگلا کو نہر اپر جہلم کا پانی خانکی کے مقام پر دریائے چناب میں ڈال دیاگیا۔ اضلاع لائل پور، گوجرانولہ، ساہیوال اور ملتان کی نہری آبادیاں انہار ثلاثہ کی بدولت ہی سیراب ہوتی ہیں ان میں اعلیٰ قسم کی گندم اور امریکن کپاس پیدا ہوتی ہے۔ دریائے راوی کے پرانے حصے کو بڈھا راوی بھی کہا جاتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Gauging Station – Data Summary"۔ ORNL۔ اخذ کردہ بتاریخ 2013-10-01۔