کینجھر جھیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کینجھر جھیل
ڪينجهر ڍنڍ
Keenjhar Lake Thatta.jpg
کینجھر جھیل
محل وقوع ضلع ٹھٹہ، سندھ، پاکستان
جغرافیائی متناسق 24°57′N 68°03′E / 24.950°N 68.050°E / 24.950; 68.050متناسقات: 24°57′N 68°03′E / 24.950°N 68.050°E / 24.950; 68.050
نکاسی طاس ممالک Flag of پاکستان پاکستان
زیادہ سے زیادہ. لمبائی 24 کلومیٹر
زیادہ سے زیادہ. چوڑائی 6 کلومیٹر
رقبہ سطح 13,468 ہیکٹر
پانی کا حجم 0.53 ملین ایکڑ فٹ

کینجھر جھیل جو عام طور پر کلری جھیل کہلاتی ہے کراچی سے ایک سو بائیس کلومیٹر کی مسافت پر ضلع ٹھٹہ، صوبہ سندھ، پاکستان میں واقع ہے۔ یہ پاکستان میں میٹھے پانی کی دوسری بڑی جھیل ہے۔ یہ جھیل ضلع ٹھٹہ اور کراچی میں فراہمی آب کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ جھیل بے شمار پرندوں کا مسکن ہے اور اس کو پرندوں کے لیے محفوظ قرار دے دیا گیا ہے۔ سردیوں میں یہاں سائیبیریا سے بھی مہاجر پرندے سردیاں گزارنے آتے ہیں۔

کینجھر جھیل ایک مشہور اور مقبول سیاحتی مقام بھی ہے۔ تعطیلات کے دنوں میں کراچی کے ہزاروں لوگ تفریح کے لیے یہاں آتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق کینجھر جھیل پر ایک ہفتے میں سترہ ہزار لوگ سیر کرنے آتے ہیں مگر ان کے قیام کے لیے یہاں کوئی معیاری بندوبست نہیں ہے اس لیے وہ جلد ہی چلے جاتے ہیں۔ کیبنجھر جھیل میں موٹر پر چلنے والی چھوٹی کشتیاں ہی سیاحوں کی واحد تفریح ہیں۔

فطری حسن اور وسائل کی ملکہ کینجھر جھیل کینجھر پاکستان کی سب سے بڑی مصنوعی جھیل سمجھی جاتی ہے، جو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کو پینے اور صعنتی استعمال کے پانی کی فراہمی کا بڑا ذریعہ ہے۔ کینجھر جھیل، پاکستان کے معاشی اور صنعتی مرکز کراچی اور ٹھٹھہ شہر کو پانی کی فراہمی کا بڑا ذریعہ ہے۔ کراچی سے تقریباً 122 کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع ٹھٹھہ میں واقع کینجھر جھیل جسے کلری جھیل بھی کہا جاتا ہے، اپنے فطری حسن کے باعث فطرت کو چاہنے والوں کے لیے نہ صرف مخصوص کشش رکھتی ہے بلکہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باعث ہزاروں خاندانوں کے روزگار کا وسیلہ بھی ہے۔ تقریباً 24 کلومیٹر طویل، چھ کلومیٹر چوڑی اور 15 میٹر گہری یہ جھیل دراصل دو جھلیوں، سونیہری اور کینجھر جھیلوں کو آپس میں جوڑ کر بنائی گئی تھی۔ کینجھر پاکستان کی سب سے بڑی مصنوعی جھیل سمجھی جاتی ہے۔ کینجھر جھیل کو کوٹری بیراج جامشورو سے’کلری بگھار یا کی بی فیڈر‘ نامے کینال کے ذریعے دریائے سندھ کا پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ جھیل پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کو پینے اور صعنتی استعمال کے پانی کی فراہمی کا بڑا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ ٹھٹھہ شہر کو بھی اسی جھیل سے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ کینجھر جھیل کو رامسر کنونشن کے تحت ’رامسر سائٹ‘ قرار دے کر عالمی طور پر تحفظ دیا گیا ہے۔ ایران کے شہر رامسر میں کنونشن آن ویٹ لینڈ یعنی آب گاہوں کے تحفظ کا یہ عالمی معاہدہ 2 فروری 1971 کو طے کیا گیا تھا جو 1975 میں نافذ ہوا۔ اس معاہدے کے تحت ایسی آب گاہیں جہاں کثیر تعداد میں پودوں، پرندوں اور مچھلیوں کی درجنوں اقسام پرورش پاتی ہیں اور یہ آب گاہیں ملک کی معیشت میں بھی کردار ادا کرتی ہوں اور لاکھوں افراد کا روزگار بھی ان سے وابستہ ہو تو انہیں رامسر سائٹ قرار دیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کی 19 آب گاہوں کو رامسر سائٹ کا درجہ حاصل ہے، جن میں سے سندھ کی نو آب گاہیں کینجھر جھیل، ہالیجی جھیل، انڈس ڈیلٹا، انڈس ڈولفن ریزرو، دیہہ اکڑو، ڈرگ جھیل، جبو لگون، نرڑی لگون اور رن آف کچھ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب کی 3، بلوچستان کی 5 اور خیبر پختونخوا کی 2 آب گاہوں کو بھی رامسر سائٹ قرار دیا گیا ہے۔ رامسر سائٹ معاہدے کے تحت محفوظ قرار دینے کے باجود کوٹری اور نوری آباد کے صعنتی علاقوں کے فضلے کا اخراج اس جھیل میں کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ جنگلی حیات سندھ کے قوانین کے تحت کینجھر جھیل کو جنگلی حیات کی مکمل پناہ گاہ یعنی وائلڈ لائف سینکچوری کا درجہ بھی حاصل ہے۔ سندھ میں کُل 33 آب گاہوں کو وائلڈ لائف سینکچوری کا درجہ حاصل ہے۔ محکمہ جنگلی حیات سندھ کے کنزرویٹر جاوید احمد مہر کے مطابق وائلڈ لائف سینکچوری قرار دینے کے بعد کوئی بھی فرد آب گاہ کے گرد رہائش اختیار نہیں کرسکتا جبکہ گھاس پھوس اور پودوں کو نقصان پہچانا، جھیل سے تین میل تک فائر کرنا اور پانی کو گندا کرنا قانوناً جرم سمجھا جاتا ہے۔ کینجھر جھیل موسم سرما میں سائیبریا اور روس سے ہجرت کرنے والے مہمان پرندوں کی پسندیدہ آماجگاہ بھی ہے۔ محکمہ جنگلی حیات سندھ کے مطابق موسم سرما میں ہجرت کرنے والے مہمان پرندوں میں بطخ، ہنس، فلیمینگو، قوق، ماہی خور آبی پرندے، لم ٹنگے، بگلے، سفید بگلے، لق لق، بحری ابابیل اور مرغابیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ کی رومانوی داستان 'نوری جام تماچی' کی کہانی بھی کینجھر جھیل سے منسوب ہے، جب سمہ دور حکومت کے بادشاہ جام تماچی نے کینجھر کے ایک مچھیرے خاندان کی نوجوان خاتون نوری پر عاشق ہو کر اس سے شادی کی۔ ان دونوں کی قبریں کینجھر جھیل کے وسط میں واقع ہیں۔ نوری جام تماچی کی داستان کو حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنی شاعری میں بھی گایا ہے۔ جھیل کے فطری حسن سے لطف اندوز ہونے سندھ بھر سے لوگ آتے ہیں مگر کراچی، ٹھٹھہ اور حیدرآباد کے گرمی کے ستائے لوگ ہر ہفتے جھیل پر آتے ہیں۔ جہاں صوبائی محکمہ سیاحت سندھ کے ذیلی ادارے، سندھ ٹورزم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن (ایس ٹی ڈی سی) کی جانب سے کچھ رہائشی کمرے اور ریسٹورنٹ بھی بنایا گیا ہے مگر سیاحت کے لیے وافر سہولیات نظر نہیں آتیں۔ جھیل کے قرب و جوار میں رہنے والے ہزاروں مچھیروں کے روزگار کا واحد ذریعہ کینجھر جھیل ہے جو مچھلیاں پکڑ کر روزگار کماتے ہیں۔ اس کے علاوہ جھیل میں اگنے والے سرکنڈوں کو کاٹ کر اس کی چٹائی اور جھونپڑیوں کی چھتیں بنانے والے ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی کا ذریعہ بھی کینجھر جھیل ہی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

کینجھر جھیل میں تیرتا ہوا شکار