ضلع ٹھٹہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ضلع  ٹھٹہ
ٺٽو
Tomb 1 Thatta.jpg
عمومی معلومات
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
صدر مقام ٹھٹہ
صوبہ سندھ 
رقبہ 17،355 مربع کلومیٹر
آبادی 1،113،194 بمطابق 1998ء
زبانیں سندھی
اردو
پنجابی
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت +5
رمزِ ڈاک 73110
رمزِ بعید تکلم 298
ناظم سید شفقت حسین شاہ شیرازی
نائب ناظم اقبال حسین چانڈیو
تحصیل
گھوڑا باری
جاتی
میرپور بٹھورو
میرپور ساکرو
شاہ بندر
سجاول
ٹھٹہ
کھاروچھان
کیٹی بندر


صوبہ سندھ کے نقشے میں ضلع ٹھٹہ کا محل وقوع

ضلع ٹھٹہ پاکستان کے صوبہ سندھ کا ایک ضلع ہے۔ اردو میں اسے بسا اوقات ٹھٹھہ بھی لکھا جاتا ہے۔ یہ سندھ کے جنوبی ترین علاقے میں واقع ہے جہاں دریائے سندھ دہانا بناتا ہوا بحیرہ عرب میں گرتا ہے۔ ضلع دادو کی تقسیم (اور ضلع جامشورو کے قیام) کے بعد یہ رقبے کے لحاظ سے تھرپارکر کے بعد سندھ کا دوسرا بڑا ضلع بن گیا ہے۔ اس وقت ضلع ٹھٹہ کا رقبہ 17 ہزار 355 مربع کلومیٹر ہے۔

آخری قومی مردم شماری 1998ء کے مطابق ضلع کی کل آبادی 1،113،194 ہے جس میں سے صرف 11.21 فیصد ہی شہری علاقوں میں رہائش پزیر ہے۔ ضلعی صدر مقام ٹھٹہ شہر ہے۔

انتظامی تقسیم[ترمیم]

ضلع انتظامی طور پر 7 تحصیلوں (تعلقوں) میں تقسیم ہے:

حکومت سندھ نے اپنے ایک اعلان میں سجاول کو ٹھٹہ سے الگ ایک ضلع قرار دے دیا ہے۔نئے ضلع میں سجاول - کھاروچھان - میرپور بٹھورو-جاتی اور شاہ بندر شامل ہونگے۔ جبکہ ٹھٹھہ میں ٹھٹہ- میرپور ساکرو -کیٹی بندر اور گھوڑا باری پر مشتمل رہے گا۔[1]

محل وقوع[ترمیم]

ضلع ٹھٹہ سندھ کے انتہائی جنوبی علاقے میں واقع ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا دریا دریائے سندھ یہیں سے گزرتا ہوا بحیرہ عرب میں جا گرتا ہے۔ ضلع ٹھٹہ کے شمال اور شمال مغرب میں ضلع جامشورو واقع ہے جبکہ شمال مشرق میں اس کی سرحدیں حیدرآباد اور ٹنڈو محمد خان کے اضلاع سے ملتی ہیں۔ مشرق میں ضلع بدین اور مغرب میں ضلع کراچی واقع ہے۔ جنوب میں اس کی سرحدیں بحیرہ عرب سے ملتی ہیں۔ کیٹی بندر بحیرہ عرب پر ایک اہم بندرگاہ ہے۔

آبادیاتی خصوصیات[ترمیم]

ضلع کی بیشتر آبادی مسلمان ہے جو یہاں کی کل آبادی کا 96.72 فیصد ہیں جبکہ ہندو سب سے بڑی اقلیت ہیں جو کل آبادی کا 2.89 فیصد ہیں۔ شہری علاقوں میں ہندوؤں کی آبادی زیادہ ہے جہاں ان کا تناسب 7.96 فیصد ہے۔

سندھی سب سے بڑی زبان ہے جو 95.66 فیصد لوگ بولتے ہیں جبکہ اردو 1.20 اور پنجابی 1.07 فیصد کے ساتھ دیگر بڑی زبانیں ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

مغلیہ عہد میں ٹھٹہ ایک ترقی یافتہ اور متحرک شہر تھا لیکن برطانوی راج کے دوران کراچی کی ابھرتی ہوئی حیثیت نے اسے شدید متاثر کیا اور بالآخر کراچی میں بندرگاہوں کے قیام کے بعد یہ اپنی اہمیت مکمل طور پر کھو بیٹھا۔ آج یہاں کی شاہجہانی مسجد اور مکلی کا عظیم قبرستان اسی شاندار ماضی کا نوحہ پڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔

ضلع ٹھٹہ میں کئی جھیلیں واقع ہیں جہاں سے ملحقہ شہروں خصوصا کراچی کی میٹھے پانی کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ ان جھیلوں میں کینجھر اور ہالیجی قومی سطح پر معروف حیثیت رکھتی ہیں۔

’ٹھٹھہ‘۔۔ کراچی سے کچھ ہی فاصلے پر واقع ہے۔ اِس کی وجہٴشہرت یہ ہے کہ ایشیاٴ میں اسلام ٹھٹھہ سے ہی پھیلا تھا۔ ایشیا کی پہلی مسجد بھی یہیں واقع ہے۔ متعدد معروف عالم دین ٹھٹھہ ہی میں پیدا ہوئے۔۔ اور آج بھی بہت سے بزرگان دین یہاں تہہ با خاک ہیں، مثلاً شاہ یقیق، عبد اللہ شاہ اصحاب، شاہ گور گنج، شاہ مراد شاہ شیرازی، محمد ہشام ٹھٹھوی، پیر پاتھو، جمیل شاہ داتار، شیخ حالی، حاجی اللہ ڈنو میندھرو، صوفی شاہ عنایت اور شاہ پریوں ستیوں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Sindh government notifies 'Sujawal' as district