ضلع دادو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ضلع دادو
Dadu District

ضلعو دادو
ضلع
دادو سندھ کے مشرق میں واقع ہے
دادو سندھ کے مشرق میں واقع ہے
ملک پاکستان
صوبہ سندھ
ہیڈکوارٹر دادو
رقبہ
 • کل 7,866 کلو میٹر2 (3,037 مربع میل)
آبادی (2015)
 • کل 2,074,433[1]
منطقۂ وقت پاکستان معیاری وقت (UTC+5)
ٹیلی فون کوڈ 025
تحصیلوں کی تعداد 5

ضلع دادو پاکستان کے صوبہ سندھ کا ایک ضلع ہے، جس کا صدر مقام دادو شہر ہے۔

1931ء میں برطانوی نو آبادیاتی دور میں کراچی کی تحصیلوں کوٹری اور کوہستان اور ضلع لاڑکانہ کی تحصیلوں میہڑ، خیرپور ناتھن شاہ، دادو، جوہی اور تحصیل سیہون کو ملا کر ضلع دادو تشکیل دیا گیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد یہ رقبہ کے اعتبار سے سندھ کا سب سے بڑا ضلع تھا، 2004ء میں ایک حکم نامے کے تحت ضلع دادو کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا اور نیا قائم ہونے والا ضلع جامشورو کہلایا۔

ضلع دادو کے مغرب میں کھیرتھر کا پہاڑی سلسلہ ہے جو اسے بلوچستان سے جدا کرتا ہے۔ شمال میں ضلع لاڑکانہ، مشرق میں ضلع نوشہرو فیروز اور جنوب میں نیا ضلع جامشورو واقع ہے۔ جامشورو کوٹری، سیہون مانجھند اور جامشورو کی تحصیلوں پر مشتمل ہے۔ اس کا ضلعی صدر مقام جامشورو ہے۔ اب ضلع دادو مندرجہ ذیل چار تحصیلوں (تعلقوں) پر مشتمل ہے:

پاکستان کی سب سے بڑی جھیل منچھر جھیل کا کچھ حصہ اسی ضلع میں واقع ہے جو ضلع جامشورو کے شہر سیہون کے مغرب میں ہے۔

آبادیاتی خصوصیات[ترمیم]

1998ء کی قومی مردم شماری کے مطابق ضلع دادو کی کل آبادی 16،88،810 ہے۔ ضلع کی بیشتر آبادی دیہی علاقوں سے تعلق رکھتی ہے، جو کل آبادی کا 79 فیصد ہے جبکہ 21 فیصد آبادی شہروں میں رہتی ہے۔ ضلع 19،070 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور اسے انتظامی طور پر 4 تحصیلوں (تعلقوں) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کثافت آبادی 88.6 فیصد افراد فی مربع کلومیٹر ہے۔ اوسط ایک گھرانہ 5.5 افراد پر مشتمل ہے۔ یہ تناسب شہری علاقوں میں زیادہ (6.3 فیصد) ہے جبکہ دیہی علاقوں میں یہ تناسب 5.5 فیصد ہے۔ ضلع کے 73 فیصد سے زائد گھر ایک کمرے کے حامل ہیں۔

قدامت اور سیاحت[ترمیم]

دادو ضلع میں کئی قدیم آثار ہیں۔این جی مجمدارنے قبل مسیح کے زمانے کے آثار دریافت کیے تھے۔ تفریح اور سیاحت میں 5688 فٹ بلند گورکھ ہل اسٹیشن ہے جو اب سیاحت کا مرکز ہے۔

موسم[ترمیم]

ضلع میں اوسط سالانہ بارش 120 م م ہوتی ہے۔ ضلع کا کل 217،000 ہیکٹرز کا رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے جہاں سے لکڑی حاصل کی جاتی ہے۔

قبائل[ترمیم]

ضلع کی بیشتر آبادی اسلام کی پیرو ہے۔ اہم قبائل میں جتوئی قبیلہ اتیرو مگسی، سومرو، شاہانی، کلہوڑو، ڈاہری، چنہ، پنہور، سولنگی، قاضی، شیخ، میرانی، ملاح، میربحر، چانڈیو، جمالی قبیلہ، کھوسہ، گبول، لوند، بوزدار، لغاری، انڑ کنگرانی، مستوئی، آلکھانی، گنب، خاصخیلی، لاشاری،برہمانی رودنانی وغیرہ ہیں۔ جن میں بوزدار،گنب، لغاری اور شاہانی سب سے زیادہ با اثر قبیلے ہیں۔

اہم شخصیات[ترمیم]

سابق وزیر اعظم پاکستان شوکت عزیز کے دور حکومت میں وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی رہنے والے لیاقت علی جتوئی کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے جو معروف قبائلی سردار عبد الحمید خان جتوئی کے صاحبزادے ہیں۔ لیاقت علی کے صاحبزادے کریم علی خان جتوئی ضلع کے ناظم رہے ہیں۔ ان کے علاوہ سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے پہلے دور میں وفاقی ریلوے وزیر ظفرعلی لغاری، سابقہ صوبائی سینیئر منسٹر تعلیم صوبہ سندھپیر مظہرالحق، ایم این اے سردار رفیق احمد جمالی,ایم پی اے غلام شاہ جیلانی بھی ضلع کی اہم شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔ ادباُ اور شعراُ میں استاد بخاری، تاج صحرائی، عبداللہ مگسی، عزیز کنگرانی اور اکبر جسکانی ذکر لائق ہیں۔

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]