گبول بلوچ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گبول بلوچ
کل آبادی
[1] 400,000
گنجان آبادی والے علاقے
زبانیں
بلوچی، سندھی، سرائیکی، کردی
مذہب
اسلام
متعلقہ نسلی گروہ
دیگر بلوچ قبائل

گبول صدیوں سے اِمتیازی شناخت رکھنے والا بلوچ قبیلہ ہے جوکسی دوسرے قبیلے کی شاخ نہیں۔[2] فی زمانہ ٔ میر جلال خان، گبول قبیلہ رند وفاق میں شامل ہوا۔ سردار میر شہک کی سرداری کے آخری ایّام میں بلوچ قبائل رند اور لاشار دو گروہوں میں مُنقسم ہو گئے جو 30 سالہ رند و لاشار جنگ میں بَر سرِ پیکار رہے،جو بلوچ قبائل رند کے طرف دارٹھہرے وہ اُسی نسبت سے رِند کہلائے اورجنھوں نے لاشاریوں کا ساتھ دیا وہ طائفۂ لاشار کہلائے۔ گبول قبیلہ کی اکثریت ڈومبکی رندوں کی حلیف تھی بَہ ایں معنٰی اُن کا مرکزہ رندہے۔[3]

وجہ تسمیہ[ترمیم]

کیر تھرائی گبولوں کے ہاں ملنے والی ایک مشہور بلوچی روایت ’’گبول بچھ دیزک“ کے مطابق لفظ گبول کے معنی قلعہ دار، کمان دار کے ہوتے ہیں۔ گبول چونکہ ایک رزم جو قبیلہ رہا ہے جس کی گذ شتہ تین ہزار سالہ تاریخ سے سیکڑوں مثالیں لی جا سکتی ہیں لہٰذا قرین قیاس ہے کہ مذکورہ بلوچی روایت القابی ہے نہ کہ نسبی۔ اب لفظ گبول کی ابتدا پر اگر غور گریں تو یہ آرامی الاصل ہے۔ اسم گبول در زبانِ آرامی (عبرانی) جنگجو کے معنی رکھتا ہے۔ انجیل (کتابِ پیدائش) کے مطابق گبول الدعا کا بیٹا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا پڑ پوتا ہے۔ گبول کی اولاد سر زمینِ کش میں آباد رہی ۔[4]

قدیم آرامی و کلدانی قبائل[ترمیم]

انجیل سے ’’گبول قبیلہ ‘‘ کا پہلا تذکرہ اندازہً 1600 ق۔ م میں ملتا ہے جو ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام ‘‘ کی تیسری بیوی حضرت قطورہ بنت یقطن کنعانیہ کی نسل سے آپ کا پڑ پوتا ہے۔ کتاب یاشر میں مندرجہ تفصیل کے مطابق حضرت قطورہ کے بطنٍ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایک بیٹا ’’مدیان ‘‘ بھی تھا جس کی متفقہ سند قرآنِ مجید، بائبل اور دیگر تاریخی ذرائع سے ثابت ہے۔[5] مدیان کے پانچ بیٹے عیفا، عفر، حنوک، عبید اع اور الدّعا تھے۔’’ الدّعا ‘‘ کے چار بیٹوں میں سے ایک کا نام ’’گبول‘‘ تھا۔ بائبل میں صراحتاً ’’الدّعا ‘‘ کی اولاد کے متعلق بیان ہوا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں وراثت میں سے حصہ دے کر اپنی دوسری اولاد سے دور مشرق کی جانب واقع سر زمینِ ’’کِش ‘‘کی طرف کوچ کا حکم دیا۔ بائبل کی اِن تحریروں پر مُرتب کیے گئے ایک شجرۂ نسب میںگبول کے ساتھ اُن کے مساکن شام، ایران اور پاکستان اور ’’سلطنتِ میدیا ‘‘ کا جغرافیائی نقشہ بھی دیا گیا ہے۔ بہر کیف اِن شواہد کی مزید مُفصل تحقیق کی ضرورت باقی ہے۔[6]

دوسرا قابل اعتماد ماخذ آشوری آثارِ قدیمہ کی لوحیں ہیں۔ آشوریوں کو تاریخ نویسی سے بہت شغف تھا۔ وہ مٹّی کی لوحیں (تختیاں) بناتے، اُن پر خطِ میخی میں حالات و واقعات ضبطِ تحریر میں لاتے اور آگ میں اُن لوحوں کو پکا لیتے۔ اِس طرح انہوں نے کتب خانے مُرتب کیے۔ یہ لوحیں نینویٰ کی تباہی کے دوران میں مٹی کے نیچے دب گئیں جو بعد میں کھدائی کے دوران میں نکالی گئیں۔ یہ عہدِ قدیم کی تاریخ کا بہت بڑا ماخذ ہیں۔ یہ لوحیں لندن میں ’’برٹش میوزم ‘‘ اور پیرس میں ’’ لوور میوزیم ‘‘ میں موجود ہیں۔ ’’تگلیتھ پلیسرسوم ‘‘ (745-724 ق۔ م) کے دور سے لے کر شہنشاہِ بابل بخت نصر (604 تا 562 ق۔ م) کے دور تک گبول قبیلہ کا تذکرہ مسلسل ملتا ہے۔ برٹش میوزیم میں موجود ان لوحوں کا ایک خاطر خواہ حصہ گبول قبیلہ کے موضوع پر مشتمل ہے۔ اِس سے درکنار کہ آشوری اکثر گبول قبیلہ کی سرکوبی کا دعویٰ کرتے ہیں مگر یہ بھی مسلّمہ حقیقت ہے کہ گبول قبیلہ کبھی آشوریوں کا مُطیع نہ تھا۔ اِس گناہ کی پاداش میں ’’دانا نو ‘‘ والئی ریاست گبولی اور اُس کے بیٹوں کو اربیلا میں قید کر کے عبرت ناک سزائیں دی گئیں۔ آشوری ذرائع گبول قبیلہ کو’’آرامی النسل ‘‘ لکھتے ہیں۔ شام کا دوسرا نام (اَرم :Aram) بھی ہے جو موجودہ مرکزی شام میں دریائے فرات اور دریائے بلخ (بعض کے مطاق دریائے ذاب) کا درمیانی خطہ بتایا جاتاہے، اس خطہ کو ارم نہاریم (دو دریاؤں والا اَرم ) بھی کہا جاتا ہے۔ قوی گمان ہے کہ اِس بِناء پر آشوری اُنہیں ’’آرامی‘‘ کہتے تھے۔ بین النہّرین کی جانب آرامیوں کی دُوسری ہجرت’’کلدانی‘‘ کہلاتی ہے۔ مطلق العنان ریاست گبولی سلطنتِ کلدیہ کی چھ ریاستوں میں سے ایک اہم ترین ریاست اور قلعہ تھی۔ شہنشاہِ کلدیہ ’’مردوخ بالادان ‘‘ کی فوج کا ہَرَاول دستہ گبول قبیلہ پر مشتمل تھا۔ خطِ میخی میں موجود تحریریں شاہد ہیں کہ تگلیتھ پلیسر سوم کے دَور سے لیکر آشور بانی پال کے دَور تک گبول قبیلہ آشوریوں سے نَبرد آزما رہا۔

تیسرا بڑا ماخذ عرب و غیر عرب مسلم مورخین کی تحقیق ہے۔ نامور مؤرخین آشوری ذرائع کی تائید کرتے ہوئے گبول قبیلہ کو آرامی و کلدانی نسل سے بیان کرتے ہیں۔ آشوریوں کے بیان کردہ مقامات بالخصوص ریاست گبولی کے آثارِ قدیمہ 1833ء تک دریائے دجلہ کے کنارے موجود تھے جو دریائے دجلہ میں آنے والی طغیانی سے بتدریج منہدم ہوتے چلے گئے۔ گبول قبیلہ کے تاریخی مساکن کا مفصل بیان عرب سیاحوں اور مؤرخین کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ تینوں ماخذ کے تجزیہ میں جو بات قدرے مشترک معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ گبول قبیلہ آرامی النسل ہے۔

اِس تحقیق کا دوسرا پہلو بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ بلوچ قوم کی تاریخ میں اکثر یہ کہا گیا ہے کہ وہ آرامی، کلدانی(کشدانی) یا کوشانی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ کُرد اور بلوچ ایک نسل سے تعلق رکھتے ہیں جیساکہ فردوسی اور ابنِ حوقل کا بھی یہی دعویٰ ہے۔ بلوچوں کا پہلا مسکن حلب میں واقع ’’وادی البلوص ‘‘ تھا۔ مولانا عبد الصمد سربازی ( بلوچ و بلوچستان۔ ترجمہ از: محمد سلیم آزاد) وادی البلوص کا وقوع حلب اور الرقہ کا درمیانی علاقہ بتاتے ہیں۔ وادی البلوص کی بیان کردہ حدود میں گبول قبیلہ ’’روستائی گبول‘‘ میں زمانہ قبل مسیح سے موجود ہے۔ شام کے اِس خطے کے گبول ’’بدوی قبائل‘‘ میں شمار ہوتے ہیں۔ جو گروہ بین النہرین اور ترکی کی جانب نکل گئے وہ کُرد قبیلے میں شامل ہیں اور جو ایران کی حدود میں جا پہنچے وہ بلوچ شمار ہوتے ہیں۔ در حقیقت یہ بلوچ قوم کی تشکیل کے مراحل ہیں۔ کرد و بلوچ دراصل عرب کے بادیہ نشین قبائل ہیں جنھیں کبھی آرامی، کلدانی، کوشانی، تو کبھی کرد یا کوچ و بلوچ کہا گیا ہے۔

آثارِ قدیمہ آشوریہ میں ویسے تو چالیس کے قریب آرامی و کلدانی قبائل کا تفصیلی تذکرہ کیا گیا ہے مگر چار قبائل ایسے ہیں جن کا بیان شہنشاہانِ آشوریہ کی دستاویزات میں بھی بکثرت ملتا ہے اور فی زمانہ بھی وہ کردستان ریاست(ترکی، عراق، ایران، شام) میں موجود ہیں۔ وُہ اہم قبائل گبول، بگٹی، کلمتی/ کرمتی اور مری ہیں۔ آشوریوں کے بیان کردہ کم و بیش اُن چالیس آرامی قبائل کی فہرست میں سے اہم ترین اور کثیر التعداد قبائل گبول اور بگٹی(بگوتو/بگاتی) تھے۔ بگٹی قبیلہ کی جائے وقوع ’’ریاست گبولی ‘‘ کی شمالی سرحد سے ملحق تھی۔ دونوں قبائل عراق کے مشہور ’’تکریت ‘‘ کے نواح میں واقع عرفہ میں بھی آباد تھے اور تا حال اِن دونوں طائفوں کے مساکن میں سے ایک کردستان میں دجلہ کے کنارے واقع عرفہ بھی ہے۔ مری قبیلہ جو قبلِ مسیح میں گلہ بانی کے پیشے سے وابستہ بتایا جاتا ہے، شام کے مُتحارب پہاڑی قبائل میں شمار کیا جاتا تھا اور کرمتی قبیلہ کے مساکن دریائے دجلہ کی وادیوں اور شام کے شہر الرقہ میں تھے۔

گبول: عرب مؤرخین کی آراء میں[ترمیم]

عرب و غیر عرب مسلم مؤرخین نے اپنی تصنیفات میں گبول قبیلہ کو تفصیل سے بیان کیا۔ اُن کی تحقیقات مشاہدات پر مبنی ہیں جبکہ مغربی مؤرخین نے آثارِ قدیمہ کی کھدائی سے ملنے والی دستاویزات سے استفادہ کیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ گبول قبیلہ عرب کے بادیہ نشین آرامی و کلدانی گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اُن کا اولین تذکرہ بارہویں صدی قبل از مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ آثارِ قدیمہ سے دستیاب ہونے والی تختیاں ان کی بہادری اور جرا ٔت مندی کی داستان بیان کرتی ہیں۔ روئے زمین پر وہ ایسے نقش چھوڑ گئے جنھیں کوئی تاریخ نگار اگر نظر انداز کرے تو یہ بلوچ تاریخ کے ساتھ نا انصافی ہو گی۔ دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے واقع عراق کی قدیم ’’ریاست گبولی‘‘ اور شام کے شہر حلب کے پاس’’گبول‘‘ نامی خطہ کا تذکرہ قدامہ بن جعفر، سُومر،ابنِ رُستہ،یعقوبی،یاقوت،مقدسی،ابن حوقل،مجید زادہ،ابن عبد المنعم حمیری، الکندی،ابنِ واصل، غزی، صادر وغیرہ کی شہرہ آفاق تصنیفات میں بھی موجود ہے ہیں ۔

تاریخ و روایات[ترمیم]

بلوچوں کی تاریخ درحقیقت زبانی روایات پر مشتمل تھی جس پر سب سے پہلے تجسس مزاج انگریز نے قلم اٹھایا، اس نے جہاں سے کوئی روایت سنی اسے تاریخ کا حصہ بنا لیا اس لیے بہت سی ایسی روایات بلوچی تاریخ میں شامل ہو گئیں جو نہ تو حقیقتِ حال پر مبنی تھیں اور نہ اُنہیں کوئی تاریخی اہمیت حاصل ہوئی۔ ایک زُبان زدِ عام روایت کے مطابق گبول قبیلہ(بشمول دیگر بلوچ قبائل) نَسب کے لحاظ سے حضرت امیر حمزؓہ کی اولاد سے ہے، جبکہ کچھ مؤرخین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذکورہ امیر حمزہ حلبی یا حمصوی تھا نہ کہ حضرت محمد ﷺ کے چچا۔[7]

گبول قبیلہ کے نسلی روابط اولاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک بیٹے ’’ مدیان ‘‘سے ملتے ہیں۔’’بنی مدیان‘‘ کو بادیہ نشین قبائل کا گروہ (League of Nomad Tribes) بھی کہا جاتا ہے۔ اِس گروہ کا آبائی وطن "بادیۃ الشّام(حمص)" تھا۔ اسلامی تواریخ میں اُن کا مسکن ’’ سر زمینِ مدین ‘‘ بھی بتایا جاتا ہے جو شام ہی کا حصہ تھا۔’’آرامی و کلدانی‘‘ قبائل یقیناً اُس گروہ کا حصہ ہیں جنھیں ہم بنی مدیان کے نام سے جانتے ہیں۔ ’’آرامی و کلدانی ‘‘ گروہ سے تین قبائل مید، کرد اور بلوچ اپنی امتیازی شناخت کے ساتھ وجود میں آئے۔مید، کُرد اور بلوچ نسلی اعتبار سے ایک، مگر اُن کی شناخت اَلگ اَلگ ہے۔ مسلّمہ تاريخی شواہد یہی دلالت کرتے ہیں۔ بہ ایں سبب بلوچ قبائل کردوں میں اور کرد بلوچوں میں نہ صرف نظر آتے ہیں بلکہ زبان، ثقافت اور عادات وخصائل کے لحاظ سے ایک دوسرے کی ترجمانی بھی کرتے ہیں اور فردوسی کی مشہور نظم ’’شاہنامہ‘‘ اس نظریہ کی بہ درجہ اُتم عکاس ہے۔

گبول: بلوچ مؤرخین کی آراء میں[ترمیم]

  • ڈاکٹر عالم خان راقب اپنی تصنیف: ’’تواریخ بلوچ جلد دوم‘‘ کے حوالے سے رسالہ’’ بلوچی دنیا‘‘ مئی 1966ء کے صفحہ 35 پر’’ گبول‘‘ کے متعلق لکھتے ہیں:

’’قدیم عراق کی ایک ریاست ایلم سے ملحق ایک دلدلی علاقہ جس کوگبولی کہتے تھے۔ یہاں کے رہنے والے ’’گبول‘‘ تھے۔ جن کے نام پر یہ علاقہ معنون تھا۔ یہاں کے باشندے اِس دلدلی علاقہ میں بالکل اِس طرح رہتے تھے جیسے مچھلی دریاؤں میں رہتی ہے۔گبول اپنی جنگ جوئی اور بہادری میں لاجواب تھے۔ اس لیے مرداغ بالادان شاہِ بابل نے اُن کو اپنی فوج کا ہراول دَستہ بنا رکھا تھا۔ گبول اَب بھی بلوچ قوم کی ایک مشہور شاخ ہے۔ کراچی میں اِس قوم کی کئی جلیل القدر ہستیاں تجارت، امارت اور حکومت کی کرسیوں پر جلوہ فگن ہیں۔

اُس زمانے میں جب شہنشاہ آشرہدون ( 681 تا 668 ق۔ م) آسیریا پر حکمران تھا۔ ریاست گبولی پر گبول خاندان کا چشم و چراغ ’’بل باشا‘‘ ابنِ بنانو حکمران تھا۔ جو خود مختار اور مطلق العنان بادشاہ تھا، اس کی سلطنت دشمن کی دسترس سے محفوظ تھی۔ اول اس لیے کہ یہ علاقہ دشوار گزار اور دلدلی تھا، دوم اس لیے کہ یہ لوگ بہادر تھے۔ کسی کو اُن کی جانب آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔ آشرہدون بھی اُن کی طاقت سے ڈرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ایلم پر حملہ کرنے سے گریزاں تھا کیونکہ گبول اَہلِ ایلم کی مدد پر کمر بستہ رہتے تھے۔ چنانچہ اشرہدون نے سیاست سے کام لے کر ایلم کو گبول سے توڑنے کے لیے ایک چال چلی۔ اپنا سفیر مع تحائف گبول کی طرف بھیجا اور دوستی کا طالب ہوا۔ سفیر کو ہدایات دی گئیں کہ وہاں رہ کر ایسے ذرائع اختیار کرے کہ ایلم اور گبول کی دوستی دُشمنی میں بدل جائے اگر اتنا نہ ہو سکے تو گبول اہلِ ایلم کی مدد کرنا چھوڑ دیں، یہ چال نہایت کامیاب رہی، اسیریا کے تعلقات گبول سے دوستانہ ہو گئے۔ والئی گبول بل باشا سانپ کے کاٹنے سے وفات پا گیا تو اس کا لڑکا دانا نو تخت نشین ہوا۔668 قبل مسیح میں اشرہدون وفات پا گیا تو اس کا بیٹا آشور بانی پال تخت نشین ہوا جس نے عنان حکومت سنبھالتے ہی اپنی سرحدوں کی توسیع شروع کر دی۔ 665 ق۔ م کے اواخر میں اس نے ایلم کے بادشاہ تومان پر حملہ کر دیا۔ گبولی کے بادشاہ دانا نو نے اہل ایلم کی مدد کی۔ آشور بانی پال جونہی ایلم پر فتح یاب ہوا اس نے فوراً 664 ق۔ م میں گبولی پر چڑھائی کر دی۔ ایلم کا مال غنیمت اور جنگی قیدی ابھی ساتھ تھے کہ گبولی کا دار الحکومت شپی بل فتح ہو گیا۔ اسیریا کی غضب ناک فوج شہر میں داخل ہو ئی اور قتل عام شروع کر دیا جو قتل سے بچا اسے جنگی قیدی بنا لیا گیا۔

اسیریا کی فاتح فوج ایلم اور گبول کا مال و متاع اور شاہی قیدی لے کر جب واپس ہوئی اور نینوا داخل ہونے لگی تو شاہِ گبول دانا نو کو مجبور کیا گیاکہ وہ اپنے دوست تومان والئی ایلم کا کٹا ہوا سر اپنے گلے میں ڈال کر چلے۔

دانانو والئی گبول کو اَربیلا میں قید کر دیا گیاجہاں قسم قسم کی جانکاہ تکالیف دے کر اُس کو ہلاک کر دیا گیا۔ ’’سام گونو ‘‘ سمیت اُس کے تمام بھائیوں کو قتل کر دیا گیا۔ دوسرے گبول امرا کو قتل کر کے لاشوں کے ٹکڑے کردیے گئے اور یہ ٹکڑے اسیریا کے مختلف مقامات پر نمائش کے لیے بھیج دیے گئے تاکہ دوسری قومیں اور وہاں کے عوام عبرت حاصل کریں۔‘‘

  • محترم نذیرالحق دشتی صاحب مصنف: ’’بلوچ قوم اور اس کی معرکہ آرائیاں‘‘ گبول قبیلہ کو رند بلوچ کی شاخ شمار کرتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ قدیم بلوچی روایات جو تاریخی اہمیت کی حامل ہیں گبول کو رند قبیلہ سے بتاتی ہیں۔گبول، سردار میر چاکر خان رند کی ر عایا میں شامل تھے، اسی لیے رند ولاشار جنگ میں بھی گبول قبیلہ د ستۂ رند میں شامل تھا۔
  • مرزا قلیچ بیگ اپنی تصنیف : ’’قدیم سندھ‘‘ کے صفحہ 27 پر ’’ بلیدی‘‘ قبیلہ کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’ بُلیدی یا بُردی ‘‘بلوچوں کا ایک قبیلہ ہے جو زیندی خان ولد میر عالی خان ولد ہرین خان کی اولاد ہے۔ ہرین تمام بلوچ قبائل کا جد امجد ہے۔ زیندی خان کے دو بیٹے ہوئے: حاجی خان اور سُندر خان۔ حاجی خان کی اولاد سے ’’حاجیجا ‘‘ جبکہ سند رخان کی اولاد مزید بائیس(22) شاخوں میں تقسیم ہوتی ہے جن میں سندرانی، بجارانی، گبول اور جاگیرانی قابلِ ذک رہیں۔

  • عظیم بلوچ محقق ڈاکٹر نبی بخش بلوچ نے مرزا قلیچ بیگ کی تائید کی ہے۔ وہ اپنی تحریر کردہ سندھی لغت میں گبول قبیلہ کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’گبول ایک بلوچ قبیلہ اور بلیدیوں کی شاخ ہے۔‘‘

  • رحیم داد خان مولائی شیدائی اپنی تصنیف: ’’ جنت السندھ‘‘ میں کچھ یوں رقمطراز ہیں:

گبول قبیلہ بلیدیوں کے ساتھ بر سرِ پیکار رہا جس میں بلیدی غالب آ گئے اور گبول قبیلہ پورے سندھ میں بکھر گیا۔ لنڈ، بوذدار، پتافی اور گبول قبائل نے بلوچستان سے ہجرت کے بعد سندھ کے ضلع گھوٹکی کا رُخ کیا۔ وہاں پہلے سے آباد دھاریجوں، مہروں، کلاچیوں اور ڈاہروں سے متعدد لڑائیوں کے بعد اُن کی زمینوں پر قبضہ کر لیا۔

رند و لاشار جنگ[ترمیم]

میررند خان کی اولاد میں جب میر چاکر خان اور اُس کے بھائی لاشار خان کی اولاد میں میر گوہرام پیدا ہوئے تو اُن میں بعض تنازعات کھڑے ہو گئے جنہوں نے بعد میں فریقین کے درمیان جنگ و جدل کی شکل اختیار کرلی اور جملہ بلوچ قبائل طرفین میں سے کسی ایک کے ساتھ ہو گئے اس طرح بلوچوں کے دو واضح گروہ ’’رند و لاشار‘‘ بن گئے ۔

بلوچستان کے دو زبردست قوت کے مالک بلوچ قبائل کے ما بین حرب و ضرب کی داستان نہایت درد ناک ہے۔ رند و لاشار کے ما بین نفاق کی ابتدا ایک نہایت معمولی واقعہ سے ہوئی۔ معرضِ نزاع معاملہ کچھ یوں تھا کہ میر رامن لاشاری اور میر ریحان رند نے شرط لگا کر گھوڑیاں دوڑائیں۔ کچھ معلوم نہیں کہ ُان دونوں میں سے کس کی گھوڑی آگے نکلی۔ موقع پر موجود لوگوں نے میر ریحان کے حق میں فیصلہ دیا جس سے رامن سخت آزردہ ہوا۔ اُسے لگا کہ رندوں نے اپنے علاقے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اُس کے ساتھ نا انصافی کی ہے۔ وہ خفا ہو کر سبی سے لوٹا اور راستے میں گوہر نامی عورت جو میر چاکر خان رند کی باہوٹ تھی، اُس کے اونٹوں کو زخمی کیا اور کچھ کو مار ڈالا۔ بلوچی غیرت و حمیّت کا تقاضا یہی تھا کہ زیرپناہ عورت کی عزت و ناموس اور مال و اسباب کا خاطر خواہ تحفظ کیا جائے۔ اس روایتی تیس سالہ جنگ سے متعلق ماسوائے شعبئی اساطیر، کوئی دوسرا ماخذ نہیں اور پھر شعبئی اساطیر میں بھی اس قدر اختلاف ہے کہ کسی ایک متن پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا اور نہ مختلف متنوں سے کوئی تاریخ و ترتیب ممکن ہے۔ صرف عام واقعات کا بیان ملتا ہے جس کی بنیاد پر کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ مزید یہ کہ اس جنگ میں کتنی جھڑپیں ہوئیں اور کتنی باربا ضابطہ لشکر کشی ہوئی۔ اگرچہ کچھ مؤرخین جیسے کہ اخوند زادہ محمد صدیق اور مظہر علی خان لاشاری کے مطابق یہ جنگیں 25 بار لڑی گئیں جن میں سے دس لاشاریوں نے جیتیں اور 15 میں رند سردار کو فتح حاصل ہوئی۔

میر گل خان نصیر ایک موقع پر لکھتے ہیں کہ رند اور لاشار کے درمیان طویل خانہ جنگی جو تیس سال تک جاری رہی بظاہر حَسین اور مالدار گوہر جتنی کی رقابت میں شروع ہوئی جو میر گوہرام لاشاری سے ناراض ہو کر میر چاکر خان رند کی پناہ میں آ گئی تھی اور گھوڑ دوڑ کے واقعہ سے مشتعل لاشاری نوجوانوں نے رامین لاشاری کی سرکر دگی میں جس کی اونٹنیوں کے بچوں کو ذبح کر ڈالا تھا، بظاہر یہ واقعہ اس طویل خانہ جنگی کا باعث ہوا، جس میں طرفین کے ہزاروں نوجوان ہلاک اور سیوی کا قلعہ ویران ہو گیا لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو اُس لڑائی کی بنیاد اُسی دن پڑی جس دن میر گوہرام لاشاری نے میر چاکر خان رند کو اپنا سردار ماننے سے انکار کیا۔

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ سے قبل میر شیہک رند، رند و لاشار کا مُتفقّہ سردار تھا، مگر لاشاریوں نے اُس کے بیٹے میر چاکر کو اپنا سردار ماننے سے انکار کیااور میر گوہرام کے سر پر اپنی سرداری کی پگڑی باندھ کر رند کی پھلو (اِتّحاد) سے جدا ہوئے لاشاریوں کی یہ حرکت یقیناً میر چاکر اور اس کے قبیلہ رند کو ناگوار گزری۔ اسی دن سے ان کے درمیان بغض و انتقام کے جذبات پرورش پانا شروع ہوئے تا آنکہ گوہر جتنی اور گھوڑ دوڑ کے واقعات نے اس پر تیل کا کام کیا اور تیس سالہ خانہ جنگی کی آگ بھڑک اُٹھی جس کا نتیجہ فریقین کے نیم جان ہو کر بلوچستان سے ہجرت کرنے کی صورت میں نکلا۔

رند و لاشار قبائل کی آخری فیصلہ کن جنگ 1485ء میں ہوئی۔ اُس جنگ میں میر چاکر خان نے سمہ اور بھٹو قبائل کے متحدہ محاذ کو شکست دے کر لاشار پر کامل فتح حاصل کر لی۔ لاشار کو شکست دینے کے بعد میر چاکر خان نے بھاگ سے چھ میل دُور جنوب کی طرف فتح پور کے نام سے ایک شہر آباد کیا۔ تا حال اُس جگہ بامِ چاکر کا نشان موجود ہے۔ کچھ عرصہ بعد میر چاکر اپنے چچا زاد بھائیوں میر محمد خان اور میر ابراھیم خان سے رنجیدہ ہو کر پانچ دریاؤں کی سر زمیں کو اپنا وطن بنانے کی غرض سے ملتان چلے آئے۔

’’وقت کوچیدن از کچھی یکے نائب خود سیوی دوم در شوران سوم نائب مسمّی مندو دَر قلات مقرر نمودہ رفتہ بود۔‘‘

یعنی میر چاکر خان نے کچھی سے روانہ ہونے سے قبل اپنے مقبوضات کو مندرجہ ذیل تین حصوں میں تقسیم کیا:

1۔ سبی 2۔ شورن 3۔ قلات

ہر ایک میں اپنے نائب مقرر کیے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست قلات پر بروہیوں کا قبضہ میر چاکر خان رندکے پنجاب جانے کے بعد ہوا، قبل اس سے خود میر چاکر تمام بلوچستان کا حاکم تھا۔

المختصر، میر چاکر خان رند کی سبی سے کُوچ کے بعد گبول قبیلہ کے جو گھرانے پیچھے رہ گئے وہ بدستور لہڑی میں میر چاکر رند کے قائم مقام ڈومبکی سردار کے ماتحت رہے اور اب تک وہاں ڈومبکی کی سرداری قائم ہے۔ جبکہ شورن میں گبول قبیلہ رندوں کے زیر کمان تھا اور تا حال رند سردار کے ماتحت ہے۔[8]

گبول بلوچ میر چاکر خان کے لشکر میں[ترمیم]

گبول بلوچ میر چاکر خان رند کے ہراول دستے میں شامل تھے۔ ست گھرہ کے نواح میں اُن کی آبادیوں کے کچھ شواہد بھی ملتے ہیں، چنانچہ اسی حوالے سے ڈاکٹر شاہ محمد مری لکھتے ہیں[9]:

کہتے ہیں کہ یہ قبیلہ رند و لاشار جنگ (1486-1456) میں میر چاکر کی طرف سے خوب لڑا۔ وہ سب قبائل جو چاکر کی طرف سے لڑے رند کہلاتے ہیں۔ چاکر خان کے ساتھ بلوچستان چھوڑ کر پنجاب گیا تھا۔ گبول منٹگمری میں سکھوں کے ساتھ لڑائی کے نتیجے میں پنجاب بھر میں بکھر گئے۔ علاوہ ازیں یہ سندھ تک پھیل گئے۔

سرداری کا پس منظر[ترمیم]

گبول قبیلہ کا پہلا با قاعدہ سردارمیرجلال خان بلوچ تھا جو گبول سمیت بلوچوں کے چوالیس(44) پاڑوں کا سردار تھا۔گبول قبیلہ شروع ہی سے رند وفاق میں شامل رہا۔ پوری بلوچ تاریخ میں کوئی ایک واقعہ ایسا نہیں ملتا جس سے گبول قبیلہ کا کوئی لاشاری سردار ثابت ہو، گبول قبیلہ کا صرف ایک چھوٹا سا گروہ گورچانی کے تحتی تمن لاشاری میں ضرور شامل ملتا ہے، مگر اس روایت میں کوئی صداقت نہیں کہ گبول قبیلہ پرلاشار کی سرداری رہی۔ میر چاکر خان رند اور میر گوہرام لاشاری کے مابین پندرہویں صدی کی آخری دہائی میں ہونے والی جنگ کے بعد گبول قبیلہ دو حصوں میں تقسیم ہوا۔ ایک لشکر میر چاکر خان رند کے ساتھ پنجاب کی طرف ہجرت کر گیا، جبکہ دوسرا لشکر میر چاکر خان رند کے پوتے ’’ا میر حمزہ ‘‘کی سربراہی میں سندھ کی جانب کوچ کر گیا اور ’’حمزانی‘‘ پاڑے کے نام سے مشہور ہوا۔ جو افراد پیچھے کچھی میں رہے وہ رندوں کے ساتھ بس گئے دیگر جو لہڑی میں میر چاکر خان رند کے ساتھ آباد تھے بدستور ڈومبکیوں کی ساتھ رہائش پزیر ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ امیر حمزہ خان (حمزانی) کے نام سے گبولوں کا حمزانی پاڑا موسوم ہوا ہے۔ اِس وقت یہ خاندان تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ اِس خاندان میں صرف ایک گھرانہ باقی ہے جو تعلقہ جوہی کوہ کیر تھر میں رہائش پزیر ہے۔ یہ گھرانہ پیر گاجی شاہ کا خلیفہ بھی ہے۔ یہی گھرانہ گبول قبیلہ کا بنیادی پگدار اور موروثی سردار ہے، انگریز دور میں سردار بلندہ خان حمزانی گبول قبیلے کے سردارتھے۔

سردار (کیر تھرائی گبول) عہد
سردار حمزہ خان (حمزانی) 1550–1500
سردار مادان خان گبول (اول) 1600 - 1550
سردار حمزہ خان گبول 1665–1600
سردار صاحب خان گبول 1750–1700
سردار بلندہ خان گبول 1850 -1800
سردار رسول بخش خان گبول 1875 –1850
سردار خیر محمد خان گبول 1900 – 1875
سردار مادان خان گبول (دوم) 1930 – 1900
سردار رسول بخش خان گبول 1965– 1930
سردار آچر خان گبول 2008 – 1965
سردار قادر بخش خان گبول تا حال – 2008

معرکہ آرائیاں[ترمیم]

رند و لاشار جنگ کے بعد جنوبی پنجاب کی جانب ہجرت کرنے والے لشکر میں اگرچہ گبول کافی تعداد میں شامل تھے مگر کوئی سر کردہ راہنما نہ ہونے کی وجہ سے اُن کا زور ٹوٹ گیا۔ جس گروہ کو جو مناسب پڑاؤ ملا وہ وہیں آباد ہو گیا۔ دوسری جانب بڑا جتھہ لسبیلہ سے ہوتا ہوا کیر تھر پہاڑمیں آباد ہو گیا اور بعد میں کیر تھرائی گبول کے نام سے مشہور ہوا۔ اِس گروہ میں با صلاحیت قیادت موجود تھی جس نے تمام قبیلہ کو یکجا رکھا۔ تاریخی شہادتوں کے مطابق کلمتی گبول رند و لاشار جنگ کا حصہ نہ تھے۔ وہ اپنے موجودہ جغرافیائی خطہ میں بہت پہلے سے آباد ہو چکے تھے۔ اس سلسلے میں گل حسن کلمتی صاحب لکھتے ہیں کہ ارغونوں سے پہلے سمہ دور حکومت تک سندھ میں جو قبائل طاقت ور تھے، ارغونوں کے خلاف تھے۔ اُس وقت بلوچوں کو کافی اہمیت حاصل تھی یہاں تک کہ سپہ سالار دریا خان نے فوجی طاقت کو مضبوط کرنے کے لیے جن قبائل کو ٹھٹہ اور اس کے مضافات میں آباد کروایا اُن میں کلمتی، گبول اور لاشاری نامور تھے۔ جام نظام الدین کی فوج میں بھی بلوچوں کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔

مغلیہ دورِ حکومت میں کلمتی گبول حب (بلوچستان)سے لے کر ’’کیٹی بندر‘‘ تک طاقتور تھے۔ جب مغلوں نےرن کچھ کے مقام پر پرتگالی افواج کو شکست دی تو اُن کو کلمتی قبیلے سے خطرہ لاحق ہو گیا۔ اکبر بادشاہ نے کلمتیوں کی طاقت کو توڑنے کے لیے طاقتور علاقائی بلوچ سرداروں سے کلمتیوں کو اپنے ماتحت کرنے کی سازشیں کیں جو نا کام ہوئیں۔ اُس وقت کلمتی گبولوں سمیت کلمتی قبیلے کے پاس 20,000 سے زائد جنگی نفری تھی۔ اکبر بادشاہ نے جب ہر طریقہ آزما کے دیکھ لیا تو اس نے بلوچوں کے ساتھ اپنی روش کو تبدیل کیا۔ 1654ء میں اُنہیں چچکن میں جاگیر عطا کی اور اپنی فوج میں شامل کر کے ساحلی علاقوں پر حفاظت کے لیے مامورکر دیا۔ اِسی طرح اورنگزیب عالمگیر نے اُنہیں میر پور ساکرو والی جاگیر عطا کی جو تا حال کلمتی گبولوں کے پاس ہے۔ اُس دور میں کلمتی قبیلے نے دوسرے بلوچ قبائل کے ساتھ جن میں لاشاری قبیلہ قابل ذکر ہے، شاہ بندر سے حب تک بلوچ اتحاد قائم کیا جو اتنا طاقت ور تھا کہ اُنھوں نے ایک دَورمیں سمندر اور پہاڑوں پر حکومت کی۔ تجارتی قافلے اُس وقت سمندری اور خشکی کے راستے سے ہندوستان تجارت کرتے تھے، کلمتی سردار اِن تجارتی قافلوں کی بحفاظت رسد کے عِوض مغل حکمرانوں سے 9,600 روپے محصول وصول کرتا تھا۔

کراچی کے قدیم قبرستانوں میں گبول قبیلے کے لوگ کئی صدیوں سے دفن ہیں جن کا کراچی کی تاریخ سے نہ صرف گہرا تعلق ہے بلکہ اُن کی کراچی کے ساتھ وفاداری اور بہادری کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔ تالپور حکمرانوں نے بھی اپنے دور ِحکومت میں کلمتی گبول قبیلہ کو کراچی بندر گاہ کی حفاظت پر مامورکیا جس کا حوالہ اُتمیوں والی جنگ سے ملتا ہے۔ کراچی بندر گاہ پر حملہ آور بحری قزاقوں سے مقابلہ کر کے گبول قبیلہ نے اپنی سر زمین کی حفاظت کے لیے سَر نچھاور کیے۔ کراچی کے مضافات میں گبولوں کا تذکرہ دسویں صدی عیسوی میں بھی ملتا ہے۔ سندھ کے سمہ خاندان کے دورِ حکومت میں، جو 1339ء میں بر سر اقتدار آیا، کلمتی اور نگامڑا قبیلے کی جنگ کا احوال ملتا ہے جبکہ کلمتی گبول ہر جنگ میں کلمتی بلوچوں کے حلیف نظر آتے ہیں۔ 1461ء تک سمہ حکمرانوں نے سندھ پر اپنی گرفت بہت پختہ کر لی اور اپنا پایۂ تخت ٹھٹہ اور مکلی کے پہاڑوں تک وسیع کر لیا۔ ٹھٹہ چونکہ ایک ساحلی علاقہ تھا لہٰذا سمہ حکمران اَرغون اور ترُخان حملہ آوروں کے آگے نبرد آزما نہ ہو سکے۔ اُن حملہ آوروں نے سمہ حکمرانوں اور اُن کے حلیفوں سے جنگیں کیں، گبول قبیلہ اُس وقت ملیر سے میر پور ساکرو تک آباد تھا۔ 1519ء میں ارغون اور ترُکھان منگول برَ سرِ اِقتدارآئے جن کے خلاف ’’ کلمتی گبولوں‘‘ کی ہونے والی جنگیں بلوچ رزمیہ تاریخ کا حصہ بن گئیں۔ 1524ء میں سندھ کے بلوچ امیروں نے مغلوں کے ساتھ مل کر اَرغون اور تُرخان منگول حکمرانوں کو شکست دی۔ اُس دَور میں گبول، کلمتی، جوکھیا اور بُرفت قبائل طاقت ور تھے جو لسبیلہ، کوہستان، منگھو پیر، کراچی، ملیر، میر پور ساکرو اور حَب میں آباد تھے۔ یہ قبائل مغلوں کے خلاف بھی معرکہ آرا رہے جس کے نتیجے میں اُن کی جاگیرات کو ضبط کر لیا گیا۔ بعد میں مغلوں نے بلوچوں کی جوابی حکمتِ عملی سے تنگ آ کر جاگیروں کو نہ صرف بحال کیا بلکہ زیادہ مراعات سے نوازا اوراُنہی کو سرحدوں کی حفاظت سونپ دی۔[10]

ڈاکٹر نبی بخش بلوچ نے اپنی تصنیف جنگ نامہ میں گبول قبیلہ کی مندرجہ ذیل جنگوں کا تفصیلی احوال بیان کیا ہے [11]:

  1. گندبہ مندانی کے برفتوں پر حملے۔
  2. کلمتی گبولوں اور کلہوڑوں کی جنگ۔
  3. بھنبھور والی جنگ
  4. مکلی والی پہلی جنگ
  5. مکلی والی دوسری جنگ
  6. گھگھی والی جنگ
  7. رندوں اور مگسیوں کی جنگ
  8. کلمتی گبولوں اور جوکھیوں کی جنگ
  9. قدموں والی جنگ
  10. چھورڑے والی جنگ
  11. کراچی بندر پر اُتمیوں کا حملہ
  12. گبولوں اور بروں کی جنگ
  13. گبولوں اور گڈروں کی جنگ
  14. سکھن ندی کے پاس لٹھ بازی والی جنگ
  15. چھورڑے والی دوسری جنگ
  16. جاموٹ قبیلے کے ساتھ جنگ
  17. گبول اور مَہر قبیلہ کی جنگیں
  18. بنگلانی اور گبول قبائلی تصادم
  19. رندوں اور ھدیھہ قبیلے کی جنگ
  20. گبول بوذدار قبائلی تصادم وغیرہ

آبادیوں کی تفصیلات[ترمیم]

مملکت صوبہ ضلع/اضلاع آبادی پاڑہ (شاخ) زبان
پاکستان بلوچستان سبی(بختیار آباد ڈومبکی، لہڑی)، کچھی(شورن)، کوہلو، جعفر آباد(جھٹ، پٹ،جعفرآبادخاص کوہلو، جعفر آباد(جھٹ، پٹ،جعفرآبادخاص) سبی (250 گھرانے)،جعفر آباد (217 گھرانے)، لسبیلہ (159 گھرانے)، کچھی(60 گھرانے)، کوہلو (150 گھرانے) یارانی، مُرادانی، مرزانی، کچھیلا، نورانی، میہانی بلوچی (سلیمانی)
پاکستان سندھ کراچی (ضلع ملیر، ضلع شرقی، ضلع غربی بہ مقام لیاری،ملیرخاص،گزری، گڈاپ، لانڈھی،صفورا گوٹھ، سہراب گبول گوٹھ، گلشن اقبال، گلشن معمار، گبول ٹاؤن، زیرو پوائنٹ، سپر ہائی وے، پرانا گولیمار، سولجر بازار)، ضلع ٹھٹہ(تعلقہ میرپور ساکرو، کیٹی بندر، گھوڑا باری، جاتی، سجاول)،بدین(تعلقہ ماتلی، گبول جگسی گوٹھ)،حیدرآباد،جامشورو(تھانہ بولا خان، مانجھنڈ، سہون شریف، جامشورو خاص)،دادو(کڑچاٹ، پوکھن، کیجئی، واہی پاندھی، نیغ، ڈلھ، ٹکو باران،ملیرڑی، ونگ، دزان، بوڑ بنگ، کلری، بوسی، کاندھی، چھور، بلھڑی، روہڑی جہانگار، موہن، ڈاپھڑو، لکی در صدر، آمرھی، جوہی)،مٹیاری(پرانا ہالہ)،نواب شاہ(قاضی احمد، دوڑ، سکرنڈ، نواب شاہ خاص)،نوشہرو فیروز(نیو جتوئی، دریا خان مری، نو شہرو فیروز خاص)،سانگھڑ(سنجورو، ٹنڈوآدم)،شکار پور(پیر علی)، سکھر(تعلقہ روہڑی، گمبٹ)، میرپور خاص، کنڈیارو، خیرپور میرس، گھوٹکی(تعلقہ میرپور ماتھیلو، خان گڑھ، ڈھرکی، گھوٹکی خاص)، لاڑکانہ، جیکب آباد(تعلقہ ٹھل، جیکب آباد خاص)، کندھ کوٹ(تعلقہ تنگوانی، کندھ کوٹ خاص، بخشا پور)، کشمور ضلع گھوٹکی (4000 سے زائد گھرانے، 25000 سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز، ضلع دادو (3500 سے زائد گھرانے)، کراچی (7000 سے زائد گھرانے)، ضلع ٹھٹہ (510 گھرانے)، ضلع سکھر(200 گھرانے)، ضلع خیر پور میرس (200 گھرانے)، ضلع سانگھڑ (130 گھرانے)، ضلع نواب شاہ (550 گھرانے)، نوشہرو فیروز (160 گھرانے)، ضلع جامشورو (1250 گھرانے)، ضلع مٹیاری (150 گھرانے)، ضلع کنڈیارو (40 گھرانے)، ضلع میر پور خاص (70 گھرانے)، ضلع جیکب آباد (270 گھرانے)، ضلع شکارپور (60 گھرانے)، ضلع لاڑکانہ (40 گھرانے)، ضلع کندھ کوٹ (300 گھرانے)، ضلع کشمور (10 گھرانے)، ضلع ٹنڈو محمد خان (250 گھرانے)، ضلع بدین (60 گھرانے)، ضلع ٹنڈو اللہ یار (250 گھرانے) ۔ جمالانی (موجودہ پگ دارضلع گھوٹکی)، نتھانی، سہتانی، بجرانی، مرادانی، جت، ڈبائی، احمدانی،کچھیلا (بہادرانی، قلاتانی، یارانی)، سوبھانی، مسوانی، سوزلانی، سیفلانی، مانکانی، بخشوانی، لیشاری، سہجانی، لعلانی، شیرلانی، ساکھرو، پنجانی، لونگانی، زنگانی، خمیسانی، درانی، مورانی، آکھوانی (چیف سردار گبول قبیلہ)، حمزانی (پگ دارکیر تھرائی گبول، ضلع دادو)، بجارانی، جنگوانی، کرارانی، لاشارانی، نورنگانی، ممدانی، گنھورانی، احمدانی، باولانی، ولیانی، جلالانی، ممتھانی، چھلگری، حیروانی، دیر کھانی، جاڑوآنی، چھالاکانی، آزادانی، بنگلانی، آلوانی، حسنانی، باغلانی، گوریزغ، ملگانی، زہدانی، شہوانی، میہانی، شاہوانی، بہثیانی، قیصرانی، حسنی، مندھرا،لالہانی، شیرانی،قسمانی،ٹھل بند، ہوتانی، بلندانی، پھیرانی، سنگھرانی، عمرانی، سونانی، ہسوانی، ٹھالانی،چھالکانی، درانی، کرملانی، لاڑیچی، جت، بڈانی، ساکھرو، میر دوستانی، مٹھوانی، لاکھانی (پگ دار کلمتی گبول)، نوتانی، صفرانی، مبارکانی، سوجانی، مندانی، ٹنڈانی، رادھانی، عیسبانی، جوگیانی، امید علیانی، ملوکانی، کیر وانی، ٹیانی، بنبھانی، مالمانی، قادرانی وغیرہ۔ بلوچی، سندھی، سرائیکی
پاکستان پنجاب مظفر گڑھ ( علی پور، مظفر گڑھ خاص، کوٹ ادو)، ڈیرہ غازی خان (ڈیرہ غازی خان خاص، ٹرائیبل ایریا/علاقہ غیر، کوٹ چھٹہ)، راجن پور (راجن پور خاص، فاضل پور)، رحیم یار خان (صادق آباد، لیاقت پور، ترنڈہ محمد پناہ)، بہاولپور( اُچ شریف، احمد پور شرقیہ)، ضلع بھکر، ضلع خوشاب ضلع مظفر گڑھ (علی پور: کم و بیش چار ہزار(4000) گھرانے، 30000 کمپیوٹرائزڈ رجسٹرڈ ووٹرز، کوٹ ادو: 50 گھرانے، مظفر گڑھ خاص 70 گھرانے، جتوئی: 300 گھرانے )، بہاولپور(اُچ شریف: 253 گھرانے، احمد پور شرقیہ: 18 گھر)، رحیم یار خان (لیاقت پور: 415 گھر، صادق آباد : 70 گھر، رحیم یار خان خاص: 75 گھر)، ڈیرہ غازی خان ( کوٹ چھٹہ،چوٹی زیریں موضع ٹھٹہ گبولاں: 200 گھر، پائیگاں: 500 گھر، ٹرائیبل ایریا، کوہ سلیمان بمقام رونگھن (در حدود تمن لیغاری):50 گھر، بمقام سمینہ نزد نوتک: 60 گھر، غازی گھاٹ نزد رند اڈا: 60 گھر، ٹرائیبل ایریا: فاضلہ کچھ (در حدود تمن بوذدار):30 گھر)، ضلع راجن پور ( راجن پور خاص: بمقام جاگیر گبول، بنگلہ گبول، دھندی، چک گھرانی، چک گبول، چک بنہ گبول، کوٹلہ جندہ، چک صادق آباد، چک برانڈہ، چک تلوک، جلوہڑ، چٹول : 450 گھر، بمقام حاجی پور : 30 گھر)، ضلع بھکر: 70 گھر، ضلع خوشاب : 30 گھر۔ قابل خانی، جنگی، ڈکرے، مندوانی، میرالی، باڈے، رگڑ، دولی، بڈھیلا، چُھٹیلا، لعلانی، داسے، تنکی، پونی، رمدانی، مزاری، دالی، مری، جھوری، بہاری، کشالے، کڑالی، لشکری، حقانی، منڈانی، شھدانی، باجھانی، گھرانی، للانی، عظمتانی، چٹولی، تگیانی، پیریانی، چاکرانی سرائیکی، بلوچی
پاکستان خیبر پختونخوا ڈیرہ امٰعیل خان(کلاچی)، بنوں نا معلوم گبول بلوچ سرائیکی، پشتو
انڈیا گجرات ضلع جونا گڑھ، ویراول، راجکوٹ، کیشود، منگرول، بھاونگر بُدھانہ ضلع بھاونگر، کنڈھاڈا ضلع جُوناگڑھ، پاسبا اور کیرودھ ضلع رادھن پور(300 گھر) گبول بلوچ سندھی، گجراتی
ایران سیستان و بلوچستان، خراسان، کرمان، کردستان شہرستان کنارک، ناحیۂ گبولاں، گبول دِہ، گبولانی، چابہار، لاشار، فنوج، الھوت 250 گھر گبول بلوچ بلوچی (ایرانی)، کردی، فارسی
عراق (کردستان) کردستان(ایربل، سلیمانیہ،تکریت) شہرِ جبول (مابین مدینة الکوت و العمّارہ)، عَرفہ، دِیالہ، سُلیمانیہ نا معلوم گبول (کرد طائفہ) کردی
شام (کردستان) محافظۃِ حلب ضلع الباب: گبول رُوستا نزد منطقہ سبخۃ الگبول نا معلوم گبول (بادیہ نشین کرد) کردی، عربی
ترکی کردستان دیار باقر، بتلیس، موتکان، خارزان نا معلوم گبول (بابان کرد طائفہ) کردی

گبول قبیلہ کی شاخیں[ترمیم]

باڈے گبول:

گبول قبیلہ کا یہ جتھہ ماموری (ضلع ڈیرہ غازی خان) سے نکلا اور تحصیل جتوئی کے قریب کسی جنگلی علاقے کو اپنی پناہ گاہ بنایا۔ روایت کے مطابق ولیے خان وہ شخص تھا جو ماموری سے کسی تنازع کے سبب اپنے خاندان کے ہمراہ نکلا اور جتوئی کے قرب و جوار میں کچھ عرصہ کے لیے پڑاؤ ڈالا۔ پھر بعد میں یہاں سے اُچ(سانولے والا ) کی طرف ہجرت کی اور اُسی جگہ مستقل سکونت اختیار کی۔

ولیے خان کے دو بیٹے ہوئے:

1۔ اللہ بخش خان 2۔ پاندھی خان

اللہ بخش خان کی اولاد باڈے مشہور ہوئے جبکہ پاندھی خان کی اولاد ’’کشالے گبول‘‘ کہلاتے ہیں۔ اللہ بخش خان کی اولاد بعد میں اچ سے دریا ئے چناب کے غربی کنارے علی پور آ کر آباد ہوئی۔ دریا کے مسلسل کٹاؤ کی وجہ سے بستیاں کافی دور تک پھیل گئیں۔ پاندھی خان نے سانولے والا کو اپنی مستقل رہائش گاہ بنا لیا اور اس کی اولاد دریا کے مشرقی کنارے پھیل گئی۔ جن میں نبی پور،فیض واہ اور سانولے والا شامل ہیں۔ باڈا دراصل بلوچی زبان میں تندرست کو کہتے ہیں۔ عظمت پور کے گبول اچھے پہلوان تھے، علاقائی روایت کے مطابق گبول اور ہندووں کے درمیان کشتی ہوئی۔ جس میں گبول ہار گئے۔ ہندوؤں کی طرف سے جیت کا جشن منایا جا رہا تھا کہ گبول اُن پر ٹوٹ پڑے۔ ایک ہی شخص نے کافی لوگوں کا اکیلے مقابلہ کیا۔ یہاں تک کہ جس کو پکڑتا بے ہوش کر کے چھوڑتا۔ سو لوگوں نے باڈا مشہور کر دیا۔ باڈے گبول اس وقت بیٹ عظمت پور میں ہی آباد ہیں۔

دولی گبول:

گبول قبیلے کا یہ خاندان دریائے چناب کے مغربی کنارے علی پور میں آباد ہے۔ وجہ تسمیہ ِاس خاندان کی ’’دولے خان گبول‘‘کے نام سے دولی مشہور ہوئی۔ دولی گبول کی ہمت اور بہادری کی داستانیں محتاجِ بیان نہیں بلکہ تاریخ اُن کی شاہد ہے۔

اکثر یہ دیکھا گیاہے کہ وہ قبائل جو سرقتِ حیوانات کے عادی تھے ان کا مسکن دریاؤں کی پٹی رہی۔ وہ دریاؤں کا رخ تبدیل ہونے کے ساتھ اپنی پناہ گاہیں بھی تبدیل کرتے رہے۔ اُن کا ناتا بھی ہمیشہ ہمانند لوگوں سے رہا، جس کی بدولت ایک علاقے سے مسروقہ مویشی دوسرے علاقے میں پہنچا دیے جاتے تھے اور بہ امر مجبوری اگر کسی سیاسی اثرورسوخ کی وجہ سے مویشی واپس بھی کیے جاتے تو اس مویشی کا ’’بھوں گا ‘‘ لازمی ادا کرنا پڑتا۔ سنجرانی قبیلہ کے ساٹھ سے زائد افراد سے چار بھائیوں نے جوان مردی سے مقابلہ کیا اور اپنے علاقے کے تحفّظ کے لیے موت کو گلے لگا لیا۔ اِس واقعہ کے چشم دید گواہ کچھ عرصہ قبل تک زندہ تھے۔

دولی اور سنجرانی تنازع:

سنجرانیوں کا علاقہ ہیڈ پنجند کے پار ہے۔ جبکہ دولی گبول دریا کے مغربی کنارے علی پور کی طرف آباد ہیں۔ وہ بہت عرصے سے مسروقہ مویشی ایک دوسرے کو دیتے اور لیتے تھے۔ ایک بار دونوں کا اِسی لین دین پہ تنازع ہوا ۔

جھگڑے کی ابتدا اُس وقت ہوئی جب سنجرانیوں نے کسی تنازع کے بدلے میں دولیوں کے علاقے میں آ کر ان کی بھینسیں چوری کر لیں۔ صبح ہوئی تو دولیوں کو کہیں سے خبر ملی کہ چوری سنجرانیوں نے ہی کی ہے۔ بالآخر دولی اُن کے پاس گئے اور کہا کہ اُن کے مویشی واپس کیے جائیں لیکن سنجرانیوں نے صاف اِنکار کیا اور یہ مؤقف اِختیار کیا کہ بھینسیں اُن کے پاس نہیں ہیں۔ دولیوں کو یہ بات سخت ناگوار گزری چنانچہ چھ سات دن بعدوہ سنجرانیوں کے علاقے میں جا گھسے۔ اُن کی چھ بھینسیں چوری کرکے ان کے نوکر کو باندھ دیا۔ ا ُس زمانے میں خاص طور پر سرقتِ حیوانات کے عادی قبائل کے ’’ بھانے‘‘ گھر سے کافی فاصلے پہ ہوتے تھے۔ تا کہ گھر آیا ہوا مہمان کہیں مدعی نہ بن جائے۔ اُن دنوں سنجرانیوں کی کوئی شادی بھی تھی۔ صبح جب سنجرانیوں کے مویشی دن چڑھے اپنے بھانوں سے نہ نکلے تو اُنھوں نے جا کے دیکھا تو چھ بھینسیں بھی غائب تھیں اور اُن کا نوکر بھی بندھا ہواتھا۔ انھیں پُختہ یقین ہو گیا کہ یہ کام دولی ہی کر سکتے ہیں۔ ان کی شادیوں کی کانڈھ(مدعو افراد) بھی زیادہ تر ہمانند لوگ ہوتے تھے۔ جوابی کارروائی کے لیے سنجرانیوں کی وَاہر روانہ ہوئی۔ جس میں شکرانی، بلہوڑے(گوپانگ) اور اوبھیچڑ قوم سمیت 60سے زائد افراد شامل تھے۔ لشکر جب ہیڈ پنجند پہنچا تو وہاں عبد الواحد ولد ڈتہ خان سے ( جو جیتر والے گبولوں میں سے تھا) سامنا ہوا۔ اُس کے اِستفسار پرمعلوم ہوا کہ لشکر دولیوں کے علاقے میں جا رہا ہے۔ عبد الواحد نے عیسیٰ خان گبول سے گھوڑی لی تاکہ آگے جا کے غلام محمد خان دولی کو لشکر کی اطلاع دے۔ غلام محمد خان لشکر کا سن کے اکیلا مقابلے کے لیے نکل پڑا اور کہا کہ غلام فرید، جلب اور دولت خان جب آئیں تو اُن کو بھیج دینا۔ میں نہیں چاہتا کہ دشمن ہمارے گھروں میں گھس آئے۔ غلام محمد خان نے اکیلے جا کر لشکر کو روکا۔ لڑائی شروع ہو گئی، اسی اثنا میں غلام فرید، جلب اور دولت خان بھی آ گئے۔

اُن چشم دید گواہوں کا بیان ہے، جو سنجرانیوں کے لشکر کا حصہ تھے( جن میں احمد حقانی ولد غلام حسین حقانی اور واحد بخش شکرانی شامل ہیں) ،کہ جب غلام محمد خان، جلب اور دولت خان شدید زخمی ہو کر گر گئے تو غلام فرید نے حملہ کیا اور چار ایکڑ تک اکیلا اُس لشکر کو دھکیلتا چلا گیا۔ آخر کار غلام فرید اپنے بھائیوں کی لاشوں پہ واپس آیا۔ اُس دوران سنجرانیوں نے سوچا کہ اگر اِس کو زندہ چھوڑا تو یہ ضرور بدلہ لے گا اس طرح غلام فرید کو بھی مار دیا گیا۔ چاروں بھائی بہادری سے لڑتے مارے گئے مگر دُشمن کو اپنے علاقے میں قدم نہ رکھنے دیا۔ چاروں بھائیوں کی قبریں کُل کنول کے قبرستان میں ایک ساتھ ہیں۔

دیگر معروف اور اہم شاخیں حسب ذیل ہیں:

نامور شخصیات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. گبول، محمد عرفان آبادیوں کی تفصیلات صفحہ 191، ناشر: ادارہ تحقیق و تاریخ، علی پور۔
  2. بلوچ، ڈاکٹر نبی بخش خان ٻيلاين جا ٻول ناشر: ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن، سندھ یونیورسٹی، حیدرآباد (1970) http://www.sindhiadabiboard.org/catalogue/poetry/Book29/Book_page7.html
  3. https://www.facebook.com/Gabolqabeela
  4. گبول، محمد عرفان گبول قبیلہ: عہدِ قدیم سے عصرِ حاضر تک ناشر: ادارہ تحقیق و تاریخ، علی پور۔
  5. حضرت شعیب (علیه السلام) کی سرزمین۔ مدین
  6. Gabol
  7. ابسٹن، ڈینزل پنجاب کی ذاتیں ترجمہ: یاسر جواد ناشر: بک ہوم 26-مزنگ روڈ لاہور۔
  8. قاسمی، غلام مصطفی رند ۽ مگسيءَ جي ”جنگ بنگاهه“ ناشر: نفیس پرنٹنگ پریس حیدرآباد، سندھ۔http://www.sindhiadabiboard.org/catalogue/Articles/Book7/Book_page27.html
  9. مری،ڈاکٹر شاہ محمد بلوچ قوم-2 ناشر: گوشہ ادب، جناح روڈ کوئٹہ (2014).
  10. کلمتی، گل حسن ڪراچي سنڌ جي مارئي ناشر: سندھی ادبی بورڈ، جامشورو سندھ۔ (1925)۔
  11. بلوچ، ڈاکٹر نبی بخش خان جنگ نامہ (گبول قبیلہ کی تاریخی جنگیں) ناشر: سندھی ادبی بورڈ جامشورو، سندھ۔http://www.sindhiadabiboard.org/catalogue/Folk_Litrature/Book15/Book_page49.html

بیرونی روابط[ترمیم]