یعقوبی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

احمد ابن ابو یعقوب ابن جعفر ابن وہب ابن ودیع الیعقوبی جنہیں یعقوبی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ایک مسلمان جغرافیہ دان اور غالباً مسلم دنیا کے قرون وسطی کے پہلے مورخ تھے۔ [1]

سوانح حیات[ترمیم]

یعقوبی وديع کا پڑپوتا تھا جو خلیفہ منصور کا معتق تھا۔ 873ء تک وہ آرمینیا اور خراسان میں رہتا تھا

اور ایرانی خاندان آل طاہر کی سرپرستی میں کام کرتا تھا۔ اس کے بعد اس نے بھارت، مصر، اور المغرب کا سفر کیا، اور مصر میں 284ھ میں وفات پائی۔

کام[ترمیم]

  • تاريخ يعقوبي (Tarikh Yaqubi) (عربی: تاريخ اليعقوبي‎) اسے تاریخ ابن وديع بھی کہا جاتا ہے۔
  • كتاب البلدان (Kitab al-Buldan) (عربی: كتاب البلدان)

چین کا راستہ[ترمیم]

نویں صدی عیسوی کا یہ مصنف یعقوبی لکھتا ہے کہ:

"جو بھی چین کو جانا چاہتا ہے اسے سات سمندروں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلا بحیرہ فارس ہے جو سیراف سے نکلنے بعد ملتا ہے اور یہ راس ال جمعہ تک جاتا ہے۔ یہ ایک آبنائے ہے جہاں موتی ملتے ہیں۔ دوسرا سمندر راس ال جمعہ سے شروع ہوتا ہے اور اس کا نام لاروی ہے۔ یہ ایک بڑا سمندر ہے۔ اس میں جزیرہ وقواق اور دیگر جزائر ہیں جو زنج کی ملکیت ہیں۔ ان جزائر کے بادشاہ ہیں۔ اس سمندر میں سفر صرف ستاروں کی مدد سے کیا جا سکتا ہے۔ اس میں بڑی بڑی مچھلیاں اور بہت سے عجائبات ہیں جو وضاحت سے بالا ہیں۔ تیسرا سمندر ھرکند ہے۔ اس میں جزیرہ سراندیپ ہے جس میں قیمتی پتھر اور یاقوت ہیں۔ یہاں کے جزائر کے بادشاہ ہیں، مگر ان کے اوپر بھی ایک بادشاہ ہے۔ اس سمندر کے جزائر میں بانس اور رتن کی پیداوار ہوتی ہے۔ چوتھے سمندر کو کلاح کہا جاتا ہے یہ کم گہرا اور بہت بڑے سانپوں سے بھرا ہوا ہے کبھی کبھی تو یہ ہوا میں تیرتے ہوئے بحری جہاز سے بھی ٹکراتے ہیں۔ ان جزائر پر کافور کے درخت اگتے ہیں۔ پانچویں سمندر کو سلاهط کہا جاتا ہے یہ بہت بڑا اور عجائبات سے بھرا پڑا ہے۔ چھٹے سمندر کو کردنج کہا جاتا ہے جہاں اکثر بارش ہوتی ہے۔ ساتویں سمندر کا نام بحیرہ صنجی ہے جسے کنجلی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ چین کا سمندر ہے۔ جنوبی ہواوں کے زور پر میٹھے پانی کی خلیج تک پہنچا جاتا ہے، جس کے ساتھ ساتھ قلعہ بند مقامات اور شہر ہیں، یہاں تک کہ خانفو آ جائے۔"


حوالہ جات[ترمیم]

  1. Daly، Okasha El (2005). Egyptology : the missing millennium : ancient Egypt in medieval Arabic writings. London: UCL. p.166. ISBN 1844720632.