یعقوبی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یعقوبی
معلومات شخصیت
پیدائش صدی 9[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عراق  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 897 (95–96 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ جغرافیہ دان، ریاضی دان، مؤرخ ریاضی، مؤرخ  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[1]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں تاریخ یعقوبی  ویکی ڈیٹا پر کارہائے نمایاں (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

احمد ابن ابو یعقوب ابن جعفر ابن وہب ابن ودیع الیعقوبی جنہیں یعقوبی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ایک مسلمان جغرافیہ دان اور غالباً مسلم دنیا کے قرون وسطی کے پہلے مورخ تھے۔[2]

سوانح حیات[ترمیم]

یعقوبی وديع کا پڑپوتا تھا جو خلیفہ منصور کا معتق تھا۔ 873ء تک وہ آرمینیا اور خراسان میں رہتا تھا

اور ایرانی خاندان آل طاہر کی سرپرستی میں کام کرتا تھا۔ اس کے بعد اس نے بھارت، مصر اور المغرب کا سفر کیا اور مصر میں 284ھ میں وفات پائی۔

کام[ترمیم]

  • کتاب التاریخ معروف تاريخ يعقوبي (Tarikh Yaqubi) (عربی: تاريخ اليعقوبي‎) اسے تاریخ ابن وديع بھی کہا جاتا ہے۔
  • كتاب البلدان (Kitab al-Buldan) (عربی: كتاب البلدان)
  • اخبار الامم

کتاب البلدان[ترمیم]

کتاب البلدان یعقوبی کے آخری زمانے کی تصنیف ہے اور اس کی شہرت مفصل جغرافیہ کی رہی ہے۔ کتاب البلدان میں مختلف ممالک کا ذکر کرتے ہوئے ان کے طبعی حالات بڑی شرح و تفصیل سے بیان کیے ہیں۔

کتاب التاریخ[ترمیم]

اس کتاب کو تاریخ یعقوبی بھی کہا جاتا ہے۔ پہلی جلد میں اسلام سے پہلے کے حالات درج ہیں ، حضرت آدم سے عیسی تک پیغمبروں اور دینی راہنماؤں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد بابلی اور ہندی بادشاہوں کی تفصیل، بازنطینی اور فارس کی سلطنتوں کا تذکرہ، یونان کے فلسفیوں ، مصری حکمرانوں اور سکندر اعظم کے عہد کا ذکر ہے۔ سوڈان، حبشہ، شام، یمن اور عرب ممالک کے حالات اور عرب کی مشہور منڈیوں کا ذکر ہے۔ دوسری جلد میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت، خلفائے راشدین، بنو امیہ اور بنی عباس کے حالات درج ہیں۔

چین کا راستہ[ترمیم]

نویں صدی عیسوی کا یہ مصنف یعقوبی لکھتا ہے کہ:

"جو بھی چین کو جانا چاہتا ہے اسے سات سمندروں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلا بحیرہ فارس ہے جو سیراف سے نکلنے بعد ملتا ہے اور یہ راس ال جمعہ تک جاتا ہے۔ یہ ایک آبنائے ہے جہاں موتی ملتے ہیں۔ دوسرا سمندر راس ال جمعہ سے شروع ہوتا ہے اور اس کا نام لاروی ہے۔ یہ ایک بڑا سمندر ہے۔ اس میں جزیرہ وقواق اور دیگر جزائر ہیں جو زنج کی ملکیت ہیں۔ ان جزائر کے بادشاہ ہیں۔ اس سمندر میں سفر صرف ستاروں کی مدد سے کیا جا سکتا ہے۔ اس میں بڑی بڑی مچھلیاں اور بہت سے عجائبات ہیں جو وضاحت سے بالا ہیں۔ تیسرا سمندر ھرکند ہے۔ اس میں جزیرہ سراندیپ ہے جس میں قیمتی پتھر اور یاقوت ہیں۔ یہاں کے جزائر کے بادشاہ ہیں، مگر ان کے اوپر بھی ایک بادشاہ ہے۔ اس سمندر کے جزائر میں بانس اور رتن کی پیداوار ہوتی ہے۔ چوتھے سمندر کو کلاح کہا جاتا ہے یہ کم گہرا اور بہت بڑے سانپوں سے بھرا ہوا ہے کبھی کبھی تو یہ ہوا میں تیرتے ہوئے بحری جہاز سے بھی ٹکراتے ہیں۔ ان جزائر پر کافور کے درخت اگتے ہیں۔ پانچویں سمندر کو سلاهط کہا جاتا ہے یہ بہت بڑا اور عجائبات سے بھرا پڑا ہے۔ چھٹے سمندر کو کردنج کہا جاتا ہے جہاں اکثر بارش ہوتی ہے۔ ساتویں سمندر کا نام بحیرہ صنجی ہے جسے کنجلی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ چین کا سمندر ہے۔ جنوبی ہواوں کے زور پر میٹھے پانی کی خلیج تک پہنچا جاتا ہے، جس کے ساتھ ساتھ قلعہ بند مقامات اور شہر ہیں، یہاں تک کہ خانفو آ جائے۔"

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb146161956 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. Okasha El Daly۔ Egyptology : the missing millennium : ancient Egypt in medieval Arabic writings۔ London: UCL۔ صفحہ 166۔ آئی ایس بی این 1-84472-063-2۔