ابن حزم اندلسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابن حزم اندلسی
(عربی میں: أبو محمد علي بن احمد بن سعيد بن حزم خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش 7 نومبر 994[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
قرطبہ[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 15 اگست 1064 (70 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ویلبا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت خلافت قرطبہ[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
نسل اندلسی
مذہب اسلام[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مذہب (P140) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ فلسفی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں طوق الحمامہ[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
مؤثر داؤد الظاہری
متاثر ابن خلدون، محمد اسد
P islam.svg باب اسلام

ابن حزم کا پورا نام علی بن احمد بن سعید بن حزم، کنیت ابو محمّد ہے اور ابن حزم کے نام سے شہرت پائی۔ آپ اندلس کے شہر قرطبہ میں پیدا ہونے اور عمر کی 72 بھاریں دیکھ کر 452 ہجری میں فوت ہویے۔

ابن حزم تقریباّ چار صد کتب کے مولف کہلاتے ہیں۔ آپ کی وہ کتابیں جنہوں نے فقہ ظاہری کی اشاعت میں شہرت پائی وہ المحلی اور" الاحکام" فی اصول الاحکام ہیں۔ المحلی فقہ ظاہری اور دیگر فقہ میں تقابل کا ایک موسوعہ ہے۔ یہ کئی اجزاء پر مشتمل ایک ضخیم فقہی کتاب ہے جس میں فقہ اور اصول فقہ کے ابواب شامل ہیں۔ المحلی کا اردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ (اور اس کی تین جلدیں کبھی کبھی بازار میں آ جاتی ہیں لیکن اکثر نہیں ملتی) موخرالذکر کتاب کا مو ضو ع اصول فقہ ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر یہ دونوں کتابیں نہ ہوتیں تو اس مسلک کا جاننے والا کوئی نہ ہوتا۔ ظاہری مسلک کے متبعین نہ ہونے کے با وجود یہ مسلک ہم تک جس ذریعہ سے پہنچا ہے، وہ ذریعہ یہ دونوں کتابیں ہی ہیں۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث عنوان : A Mind of His Own
  2. http://www.muslimphilosophy.com/hazm/dove/index.html
  3. آر۔ آرنلڈز، ابن حزم۔ دائرۃ المعارف اسلامیہ، سینکڈ ایڈیشن۔ برل آن لائن، 2013. حوالہ۔ 09 جنوری 2013
  4. اصول فقہ -بک نمبر -22- شریعہ اکیڈمی -فصل مسجد اسلامآباد