اخوان الصفا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اخوان الصفا دسویں صدی عیسوی میں مسلمان فلاسفہ کی ایک خفیہ جماعت جن کے افکار و نطریات کی بنیادی طور پر نوفلاطونیت پر مبنی ہیں۔ یہ جماعت خفیہ اس لیے تھی کہ اس زمانے میں بعض سیاسی مصلحتوں کی بنا پر فلسفیوں اور سائنسدانوں کو شبہے کی نظر سے دیکھا جاتا تھا. خیال کیا جاتا تھا کہ علومِ عقلیہ یعنی فلسفہ ، سائنس ، ریاضی وغیرہ کا فروغ ملک و قوم کے لیے خطرے کا باعث ہو گا. چنانچہ فلسفی اور سائنسدان اپنے علمی مشاغل خفیہ طور پر جاری رکھنے پر مجبور ہوئے.

اخوان الصفا کا پورا نام اخوان الصفاء و خلان الوفاء و اھل عدل و ابناء الحمد تھا. اس جماعت نے دارلخلافہ بغداد سے دور بصرے کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا[1]. اس جماعت کے ارکان کی مکمل فہرست کہیں نہیں ملتی. ارکان کے نام پوشیدہ رکھے جاتے. حیان التوحیدی نے 973ء میں ان میں سے چند کے نام ظاہر کر دیے. حیان اس دور کا ایک ممتاز فاضل تھا اور اخوان الصفا کے بعض ارکان کا دوست تھا. حیان نے جو نام بتائے ان میں المقدسی ، ابو الحسن علی بن ہارون اور زید بن رفاعہ شامل ہیں.

اخوان اصفا اہل علم کی جماعت تھی جس کا مقصد زیادہ تر عقلی علوم کا فروغ تھا. جماعت عمر کے لحاظ سے چار طبقات پر مشتمل تھی. پہلا طبقہ پندرہ سے تیس سال کے درمیان عمر کے نوجوانوں پر مشتمل تھا. دوسرے طبقے میں تیس سے چالیس سال کی عمر کے لوگ شامل تھے. چالیس سے پچاس کے افراد تیسرے طبقے میں اور پچاس سے زائد عمر کے اہل علم چوتھے طبقے میں شمار کیے جاتے تھے. اخوان کی مجلسیں عموما بارہ روز بعد منعقد ہوتی تھیں. علمی مذاکرے ہوتے اور مختلف طبقوں کے افراد کو ان کی عمر اور استعداد کے لحاظ سے مطالعے اور تحقیق کا کام تفویض کیا جاتا تھا. اخوان الصفا کی خواہش تھی کہ مسلمان علوم عقلیہ کی طرف متوجہ ہوں اور عقلی علوم کی اس روایت سے روگردانی نہ کریں جسے قران نے قائم کیا تھا اور جسے الکندی ، فارابی اور ابن سینا نے پروان چڑھایا تھا.

اخوان الصفا کی مفصل تعلمیات ان 52رسائل میں محفوظ ہیں جو ابوسلیمان محمد اور ابوالحسن علی بن ہارون وغیرہ نے تحریر کیے تھے۔ ان رسائل کو دنیا کی سب سے پہلی انسائیکلو پیڈیا ہونے کا شرف حاصل ہے. ان رسائل میں اس دور کے بیشتر علوم اور ان کے اہم نظریات کا ذکر ہے. عوام کی سہولت کے لیے ارکانِ اخوان الصفا نے ان کا خلاصہ ایک جلد میں کیا اور اس کا نام الجامعہ رکھا. پھر اس جلد کا مزید خلاصہ ایک مختصر رسالے کی شکل میں کیا اور اس کا نام الجامعۃ الجامعہ رکھا. انسائیکلو پیڈیا کے زسائل میں اس دور تک کے تقریباً تمام علوم اور ان کے اہم نظریات کا ذکر ہے اور بعض مقامات پر طویل بحثیں ہیں۔ جن علوم اور موضوعات پر رسائلِ اخوان الصفا میں اہم معلومات اور مباحثے پیش کیے گئے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں: ریاضی (علم الاعداد)، جیومیٹری، فلکیات، جغرافیہ، موسیقی، نظری اور عملی فنون، اخلاقیات، طبیعیات، حقیقتِ مادہ، شکل، حرکت، زمان و مکان، آسمان، معدنیات، حقیقتِ فطرت، نباتات، حیوانات، جسمِ انسانی، حواس، زندگی اور موت، لذت اور اذیت، لسانیات، مابعدالطبیعات، نفسیاتی عقلیت، دینیات، نفس، محبت، حیات بعد ممات، علت و معلول، ایمان، قانونِ ایزدی، نبوت، تشکیلِ کائنات اور جادو وغیرہ۔

رسائلِ اخوان الصفا کی تو سے علم کی تین قسمیں ہیں۔ ایک وہ علم ہے جو حواسِ خمسہ سے حاصل ہوتاہے۔ یہ علم ضروری ہے کیونکہ ہمیں اپنے گردوپیش کا علم اسی ذریعے سے حاصل ہوتا ہے۔ دوسرا علم وہ ہے جو عقل اور غور و فکر سے حاصل ہوتا ہے، لیکن اس کے لئے بھی ہمیں حواسِ خمسہ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ تیسرا وہ علم ہے جو کسی عالم، بزرگ یا امام سے حاصل ہوتا ہے۔

اخوان الصفا نے حیاتیاتی ارتقا کا نظریہ بھی پیش کیا۔ یعنی یہ کہ جمادات، نباتات، حیوانات اور انسان ارتقا کے تدریجی منازل ہیں۔ یہ نظریہ نیا نہیں تھا لیکن اخوان الصفا کے اس نظریے کی ایک جہت حیرت انگیز حد تک جدید ہے۔ وہ یہ کہ انہوں نے لکھا کہ ارتقا میں حیوانات کی آخری منزل اور انسان کی پہلی منزل ’’قرد‘‘ یعنی بندر ہے جو صورت اور عمل کے اعتبار سے انسان سے بہت مشابہت رکھتا ہے۔ اخوان الصفا کے زمانے میں اور اس سے قبل عام طور پر یہی تصور تھا کہ جسمِ انسانی کا سب سے اہم حصہ دل ہے، لیکن اخوان الصفا نے نظریہ پیش کیا کہ سب سے اہم حصہ دماغ ہے کیونکہ احساسات، خیالات اور جذبات اور دیگر عوامل دراصل دماغ ہی سے ظہور میں آتے ہیں۔

ان کا عقیدہ تھا کہ کائنات کا مبدا ذات باری تعالٰی ہے۔ بعینٰہ تجلی "روشنی" کا مبدا سورج ہے۔ ذات باری کے بعد عقل ، پھر روح اور روح کے بعد مادہ وجود میں آیا۔ جس سے کائنات ، معدنیات ، حیوانات اور انسان نے جنم لیا۔ اور اس طرح یہ عالم کون و مکاں ارتقائی عمل سے گزرا۔

  1. Al-Fārūq?, I. R. (1960), "On the Ethics of the Brethren of Purity", The Muslim World, 50: 109–121.