ابن باجہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


ابن باجہ
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1080  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سرقسطہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1138 (57–58 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فاس  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن فاس  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش اندلس موجودہ اسپین
شہریت اندلس[2][3]  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مقام_تدریس اندلس
پیشہ فلسفی، ریاضی دان، ماہر فلکیات، مصنف، طبیب، ماہر نباتیات، شاعر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[4]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات، موسیقی، سیاست

فلسفی، طبیب، ریاضی دان، ماہر فلکیات اور موسیقار ابوبکر محمد ابن یحییٰ ابن باجا جنھیں لاطینی میں (Avempace) کہا جاتا ہے، ان کا پورا نام “ابو بکر بن یحیی بن الصائغ الثجیبی” ہے “ابن باجا” کے لقب سے مشہور ہوئے، وہ اندلس میں عرب کے سب سے پہلے مشہور فلسفی تھے، وہ اسپین کے اولین فلسفی شمار کیے جاتے ہیں، انھوں نے طب اور فلسفے میں ارسطو، جالینوس، فارابی اور رازی کے کاموں کی تشریح کی اور بہت قابل قدر کام کیے ۔[5] فلسفہ کے علاوہ وہ سیاست، طبیعیات، علمِ فلک، ریاضی، موسیقی اور طب میں بھی مہارت رکھتے تھے، خاص طور سے علمِ طب میں بہت شہرت پائی۔

کا رہائے نمایاں[ترمیم]

ابنِ باجّہ نے dynamics میں نمایاں علمی خدمات اِنجام دیں۔ اُنہوں نے ارسطو کے نظریۂ رفتار کو ردّ کیا۔[6]

تصانیف[ترمیم]

ابن ابی اصیبعہ تین مختلف زمروں (شروحات ارسطوطالیس، تصانیفِ اشراقیہ، طبی تصانیف) میں 28 تصانیف ابنِ باجا سے منسوب کرتے ہیں، ان کی طبی تصانیف یہ ہیں :

  1. کلام علی شیء من کتاب الادویہ المفردہ لجالینوس۔
  2. کتاب التجربتین علی ادویہ وافد۔
  3. رازی کی کتاب “الحاوی” کی اختصار بعنوان “اختصار الحاوی”۔
  4. کلام فی المزاج بما ہو طبی۔

آخری ایام[ترمیم]

ان کے عہد کے طبیب ان سے حسد کرنے لگے اور ایک سازش کے تحت انہیں زہر دے دیا گیا جس سے وہ فاس (مراکش) میں 529 ہجری کو انتقال کر گئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. وصلة : https://d-nb.info/gnd/118859803  — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اپریل 2014 — اجازت نامہ: CC0
  2. https://muse.jhu.edu/journals/perspectives_on_science/v006/6.3sabra.html
  3. http://www.boston.com/news/local/massachusetts/articles/2006/04/30/science_and_solidarity
  4. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb124381704 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  5. ڈاکٹر مستحسن ناصر (جمعرات 27 دسمبر 2012)۔ "مسلمان اور سائنس' ایک تجزیہ"۔ ایکسپریس۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت); Check date values in: |publication-date= (معاونت)
  6. ڈاکٹرطاہر القادری۔ "اسلام اور جدید سائینس"۔ اردو کی برقی کتابیں۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)