ابو سلیمان سجستانی
ظاہری ہیئت
| ابو سلیمان سجستانی | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 912ء [1] بغداد |
| وفات | سنہ 987ء (74–75 سال)[1][2] بغداد [3] |
| عملی زندگی | |
| استاد | یحیی بن عدی [4][2]، متی بن یونس [2] |
| پیشہ | فلسفی ، منطقی |
| شعبۂ عمل | فلسفہ |
| درستی - ترمیم | |
ابو سلیمان سجستانی کو المنطقی بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا نام سیستان یا سجستان (موجودہ ایران) کے نام پر پڑا ہے۔ وہ اپنے دور میں اسلامی انسانیت کے نمایاں فارسی فلسفی بنے۔ ابو سلیمان محمد بن طاہر سجستانی ایک عظیم محدث، فقیہ اور عالم تھے، جن کا اصل نام سلیمان بن اشعث السجستانی تھا اور انھیں عموماً امام ابو داؤد کے نام سے جانا جاتا ہے، جنھوں نے حدیث کی سب سے معتبر کتابوں میں سے ایک، 'سنن ابو داؤد' تصنیف کی. وہ سجستان میں پیدا ہوئے، بغداد اور بصرہ میں علم حاصل کیا اور وہیں درس و تدریس میں مصروف رہے اور وفات پائی.
اہم نکات:
- مکمل نام: سلیمان بن اشعث بن اسحاق بن بشیر بن شداد بن عمر الازدی السجستانی.
- کنیت: ابو داؤد.
- پیدائش: سجستان میں 202ھ میں.
- پیشہ: محدث، فقیہ، معلم (درس و تدریس).
- اہم تصنیف: سنن ابو داؤد (حدیث کی چھ مستند کتابوں میں سے ایک).
- وفات: بصرہ میں.
آپ کا اصل تعلق سجستان سے تھا، جو آج کے ایران اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں واقع ہے.[5]
حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب مصنف: فارابی — صفحہ: 15 — ISBN 978-2-02-048161-8
- ^ ا ب صفحہ: 11 — https://archive.org/details/galerikitabkuningfiles2/book1/mode/2up
- ↑ عنوان : Encyclopedia of Medieval Philosophy — صفحہ: 17 — https://dx.doi.org/10.1007/978-1-4020-9729-4
- ↑ مصنف: فارابی — صفحہ: 16 — ISBN 978-2-02-048161-8
- ↑ Joel L. Kraemer (1986)، Philosophy in the Renaissance of Islam: Abū Sulaymān Al-Sijistānī and His Circle، Brill Publishers، ISBN:90-04-07258-6
| پیش نظر صفحہ فلسفی سے متعلق موضوع پر ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں مزید اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کرسکتے ہیں۔ |