ناصر خسرو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ابومعین حامدالدین ناصر ابن خسروقبادیانی یا ناصر خسرو قبادیانی (1088ء - 1004ء) فارسی کے مشہور شاعر، فلسفی، اسماعیلی دانشور اور سیاح تھے۔ ناصر خسرو قبادیان میں پیدا ہوئے، جو کہ جدید دور کے تاجکستان میں گاؤں باکترا میں واقع تھا۔ آپ کی وفات یاماگان نامی ایک گاؤں میں ہوئی جو کہ افغانستان کے صوبے بدخشاں میں واقع ہے۔
ناصر خسرو کا شمار فارسی ادب میں بہترین شاعروں اور ادیبوں میں کیا جاتا ہے۔ آپ کے سفرنامے فارسی ادب میں آج بھی ممتاز حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

ناصر خسرو 1004ء میں قبادیان میں پیدا ہوئے جو کہ اس وقت کے افغان صوبہ بلخ کا حصہ تھا، اور بعد میں خراسان عظیم میں شامل کر دیا گیا۔ آپ سائنس، طب، حساب، فلکیات اور فلسفہ جبکہ الکندی، ال فارابی اور ابن سینا کی تصانیف بارے ماہر تصور کیے جاتے تھے اور آپ نے قران مجید کی تفسیر کا نہ صرف مطالعہ کیا بلکہ کہا جاتا ہے کہ ایک تفسیر آپ سے منسوب بھی کی جاتی ہے۔آپ زبانوں میں عربی، ترک، یونانی اور ہندوستان کی کئی زبانوں کو سمجھنے، بولنے اور لکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ آپ لاہور اور ملتان بھی تشریف لائے اور غزنوی دور میں یہاں عدالتی فرائض بھی سرانجام دیے۔ بعد ازاں آپ نے مرو میں سکونت اختیار کی اور وہاں گھر اور ایک باغ تعمیر کروایا۔
1046ء تک ناصر خسرو ترک سلطان طغرل بیگ کے دربار میں مالی امور کے سربراہ مقرر رہے اور بعد ازاں یہی خدمات آپ نے مذکورہ سلطان کے بھائی جاگیر بیگ کے دربار میں خراسان میں بھی سرانجام دیں۔ جاگیر بیگ نے 1037ء میں مرو کو فتح کیا تھا جہاں بعد میں ناصر خسرو نے سکونت اختیار کی۔ کہا جاتا ہے کہ اسی دور میں ناصر خسرو نے خواب میں بشارت کے نتیجے پر آسائشِ زندگی کو خیر باد کہہ دیا۔ انھوں نے حج کی نیت باندھی اور مکہ اور مدینہ کی جانب سفر کیا۔ کہا جاتا ہے کہ حج کے دوران اور بعد میں بھی ناصر خسرو مکمل طور پر اپنی ذات سے منسلک روحانی مسائل کے حل کے لیے تگ و دو میں مصروف ہو گئے۔
آپ کے سفر کی داستان آپ کی تحریر کردہ تصویری کتاب “سفرنامہ“ میں ملتی ہے، جو کہ آج بھی سفرناموں میں ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔ چونکہ اس سفرنامے میں زیادہ تر معلومات گیارہویں صدی کے مسلمان دانشوروں اور مصدقہ زرائع سے حاصل کی گئی تھیں، اس لیے اس سفرنامے کی بے پناہ پذیرائی ہوئی۔ یہاں تک کہ یروشلم بارے نقشے اور معلومات آج بھی قابل عمل و تصدیق سمجھے جاتے ہیں۔
19000 کلومیٹر اور سات سالوں پر محیط سفر میں ناصر خسرو نے مکہ میں چار بار حاضری دی اور یہاں حج کی سعادت حاصل کرتے رہے۔ مکہ کے بعد وہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ سے بہت متاثر تھے، جہاں فاطمید خلیفہ امام حماد بن مستنصر باللہ جو کہ شعیہ مسلمانوں کے امام بھی تھے رہائش پذیر تھے۔ جس وقت ناصر خسرو نے یہاں کا سفر کیا، اس وقت فاطمید سلطنت میں شام، حجاز، افریقہ شامل تھے، اور امام حماد بن مستنصر باللہ خلیفہ وقت تھے۔ بعد ازاں بغداد کے عباسی خلیفہ اور طغرل بیگ کی فوجوں کے ساتھ خلافتی جنگ میں امت مسلمہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔
قاہرہ میں ناصر خسرو نے زیادہ تر تعلیم اور علم فاطمید خانقاہوں میں حاصل کی۔ یہاں آپ نے معیدفی الدین الشیرازی کی خانقاہ میں شیعہ اسماعیلی فرقہ بارے تمام علم حاصل کیا اور فاطمید سلطنت میں اس کی ترویج کی۔ چونکہ یہ تعلیمات آپ کی بنیاد اور آبائی وطن سے تعلق رکھتی تھیں، اسی وجہ سے ان کی ترویج آپ کی زندگی کے اس دور کا مقصد بن گیا۔ آپ کو اسی دور میں خانقاہ کے “داعی“ کے عہدے پر ترقی دی گئی اور آپ کو بطور “حجت خراسان“ نامزد کیا گیا، لیکن آپ سیاسی حربوں اور خراسان عظیم میں سنی فرقے کی 1052ء مذہبی ارتقاء کو برداشت نہ کر پائے اور یہاں سے رخصت حاصل کی۔اسی خودساختہ جلاوطنی کے دور میں انھوں نے 1060ء میں یاماگان میں پناہ لی، جو کہ بدخشاں کے پہاڑوں میں واقع ہے۔ یہی آپ نے اپنی زندگی کی آخری دہائیاں گزاریں اور اسی دور میں آپ کی شاعری، ادب، فلسفہ میں تصانیف تاریخ میں ملتی ہیں اور آپ کے کئی پیروکار اسی دور میں تیار ہوئے جو آنے والی نسلوں تک آپ کے علم کو پہنچانے کا سبب بنے۔

تصانیف[ترمیم]

  • سفرنامہ

“سفرنامہ“نامی تصنیف جو آپ نے بطور سیاح تحریر کی، آپ کی تمام تصانیف اور تخلیقی کارناموں میں ممتاز شمار ہوتی ہے۔ سات سالہ سفر کے دوران آپ نے بیسیوں شہروں کا دورہ کیا اور ان تمام شہروں میں مدارس، درسگاہوں، خانقاہوں، مساجد، علاقے، آبادی، سائنسدانوں، بادشاہوں، عوام اور دلچسپ واقعات بارے درج کیا۔ 1000 سال گزرنے کے باوجود آج بھی یہ تصنیف جو کہ “سفرنامہ“ کے نام سے موجود ہے فارسی زبان میں پڑھی جا سکتی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کتاب میں استعمال ہونے والی فارسی زبان نہایت سہل ہے۔

  • دیوان

آپ کی دوسری تصانیف میں آپ کی شاعری کا مجموعہ “دیوان“ کے طور پر شائع کیا گیا، جو کہ آپ کے اواخر عمر میں تخلیق ہوا اور اس کے چیدہ موضوعات حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی جرات، ان کے پیشرو (خاص کر امام مستنصر)، خراسان کا حال و حکمران، ہجرت، سفر، یاماگان کا خاموش ماحول، دنیا کی بے ثباتی اور زندگی ہیں۔ آپ کے کلام میں موجود موضوعاتی تنوع میں خاص بات یہ ہے کہ ہر موقع کی مناسبت سے امید اور مایوسی کے عین بیچ سبق آموز گوہر بکھرے ہیں۔ آپ کے کلام میں جا بجا دنیا کی بے ثباتی، کائنات میں پھیلی خوبصورتی، انسانی چالوں، ناانصافی، غداری، جدیدیت اور درباری حالات کا تذکرہ عام ہے۔

  • گشایش و رہائش

ناصر خسرو کی ایک اور تصنیف جو کہ خالصتاً فارسی زبان میں فلسفے کا بیان ہے، گشایش و رہایش کے نام سے تخلیق ہوئی۔ اس تصنیف کا انگریزی ترجمہ ایف۔ ایم۔ ہنزائی نے کیا جس کا عنوان "Knowledge and Liberation" ہے۔ اس تصنیف کے موضوعات میں روح، روحانی منازل، اسلامی اور اسماعیلی فرقوں کی تشکیل بارے بیانات ہیں۔ لسانی اعتبار سے آپ کی یہ تصنیف اوائل دور میں فارسی زبان کی بہترین اور سہل ادب میں شامل کی جا سکتی ہے۔
آپ نے اسی دور میں شاعری پر بھی کام کیا جو کہ دو مثنوی مجموعات شائع ہوئے، جو کہ شش فاسی اور روشنایی نامہ کے نام سے دستیاب ہیں۔
.

  • حساب پر کتاب

ناصر خسرو نے حساب کے موضوع پر بھی ایک کتاب تحریر کی جو کہ اب دستیاب نہیں ہے۔ ناصر خسرو کے مطابق انھیں تمام خراسان اور مشرق میں کوئی ایک بھی ایسا عالم (بشمول ان کے) نہیں ملا جو کہ کہ حساب کے پیچیدہ سوالات کے جوابات دے سکتا ہو۔ لیکن انھوں نے اپنے آنے والی نسلوں کی آسانی کے لیے بنیادی باتیں قلمبند کرنا اپنی ذمہ داری سمجھ کر یہ کتاب تحریر کی۔

شاعری[ترمیم]

ناصر خسرو کی شاعری نصیحت اور عقل سے بھرپور ہے۔ چونکہ آپ خراسان کے فاطمید اماموں کےنمائندہ تھے، اپنے نظریات بارے پیروکاروں کو تعلیم بھی دی۔ ناصر کی فارسی شاعری آج بھی عام فارسی سمجھنے اور بولنے والا پڑھ اور سمجھ سکتا ہے اور یہ اب بھی ایران کے سکولوں میں پڑھائی جاتی ہے۔

Have you heard? A squash vine grew beneath a towering tree.
In only twenty days it grew and spread and put forth fruit.
Of the tree it asked: "How old are you? How many years?"
Replied the tree: "Two hundred it would be, and surely more."
The squash laughed and said: "Look, in twenty days, I've done
More than you; tell me, why are you so slow?"
The tree responded: "O little Squash, today is not the day
of reckoning between the two of us.
"Tomorrow, when winds of autumn howl down on you and me,
then shall it be known for sure which one of us is the most resilient!"
نشنیده‌ای که زیر چناری کدو بنی بر رست و بردوید برو بر به روز بیست؟

پرسید از آن چنار که تو چند ساله‌ای؟ --- گفتا دویست باشد و اکنون زیادتی است

خندید ازو کدو که من از تو به بیست روز --- بر تر شدم بگو تو که این کاهلی ز چیست

او را چنار گفت که امروز ای کدو --- با تو مرا هنوز نه هنگام داوری است

فردا که بر من و تو وزد باد مهرگان --- آنگه شود پدید که از ما دو مرد کیست

حوالہ جات[ترمیم]

  • جان ریپکا (1899ء). ایرانی ادب کی تاریخ. سپرنگر. ISBN 90-277-0143-1. 

مزید پڑھیے[ترمیم]

  • ایلس ہینگسبرکر (2003). ناصر خسرو، خراسان کا یاقوت. آئی۔ بی۔ ٹارس. ISBN 1850439265. 
  • اینی ماری شمائل (2001). ذہانت کی ڈھال: ناصر خسرو کے دیوان سے انتخاب. آئی۔ بی۔ ٹارس. ISBN 1860647251. 

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]