سنائی غزنوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سنائی
Sanaei.jpg
پیدائش 1080

غزنی، افغانستان
وفات 1131/1141[1]
پیشہ فارسی ادب
اصناف عارفانہ کلام، حکمت ادب
نمایاں کام حدیقہ الحقیقہ

حکیم سنائی ایک اعلی درجہ کے شاعر اور سب سے پہلے غزل کو حکیم سنائی نے ہی رواج دیا ۔

نام[ترمیم]

حکیم سنائی کا پورا نام ابوالمجد بن آدم اور ان کا تخلص " سنائی تھا ۔

ولادت[ترمیم]

سنائی 470ھ میں موجودہ افغانستان کے شہر غزنی میں پیدا ہوۓ ۔

درویشانہ زندگی[ترمیم]

حکیم سنائی ایک نہایت سادہ انسان تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی درویشی اور فقیری میں گزاری۔ انہیں سیر و سیاحت کا شوق تھا اور اسلامی حکومت کے زیر اثر مناطق کی سیر کرنے کے لئے نکلے اور اسی دوران انہیں حج کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ۔ حکیم سنائی کو مختلف علوم پر دسترس حاصل تھی جن میں تفسیر ، حدیث ، فقہ اور ادبی علوم شامل تھے ۔ اس کے علاوہ وہ فلسفہ ، ہندسہ اور علم طب میں بھی ماہر تھے ۔ ایک حد تک وہ خواب کی تعبیر بتانے کا علم بھی جانتے تھے ۔ حکیم کو ان کی اعلی علمی قابلیت اور ذہانت کے صلے میں مختلف القاب سے نوازا گیا ۔

القابات[ترمیم]

جن القاب سے انہیں نوازا گیا ان میں " حکیم " اور " شیخ " شامل ہیں ۔ وہ اپنے زمانے کے معروف اور ہردلعزیز شخص تھے اور شعراء ، عرفاء اور علماء کی نظر میں انہیں نہایت اعلی مقام حاصل تھا ۔ انہوں نے قصائد ، غزلیات اور مثنویات پر طبع آزمائی کی ۔ آپ کی مثنویوں کو بہت زیادہ شہرت حاصل ہوئی ۔

مثنویات[ترمیم]

ان کی مشہور مثنویوں میں

  • حدیقتہ الحقیقہ
  • طریق التحقیق
  • سیر العباد الی المعاد
  • مثنوی کارنامہ
  • عقل نامہ
  • عشق نامہ بہت معروف ہیں ۔

زہد و تقوی[ترمیم]

سنائی ابو یوسف ہمدانی کے مرید تھےجب سنائی کو احساس ہوا کہ پست اخلاق اور بد اعمال کی مدح نہیں کرنی تو دنیا کی زندگی سے بیزار ہوۓ اور زہد و تقوی و سلوک کی طرف مائل ہو گۓ ۔ یہی وہ دور تھا جب ان کی شاعری نے ایک نیا موڑ لیا ۔ ما در طلب زلف تو چون زلف تو پیچان ما در ہوس چشم تو چون چشم تو بیمار

اصطلاحات تصوف[ترمیم]

حکیم سنائی بہت ہی سادہ ، واضح اور صریح انداز میں شاعری کیا کرتے تھے ۔ ان کے کلام میں زلف ، چشم بیمار، مے و میکدہ ، رند و خرابات جیسی اصلاحات کو مضامین تصوّف میں استعمال کیا گیا ہے اور خیال یہ کیا جاتا ہے کہ شاید حکیم سنائی وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے سب سے پہلے ایسی اصطلاحات کا استعمال مضامین تصوّف میں کیا ۔ حکیم سنائی کی وجہ شہرت ان کی مثنویاں ہیں ۔ ان کی استادانہ مہارت کا اندازا اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شیخ عطار اور مولانا روم جیسے عظیم شعراء نے حکیم سنائی کو اپنا پیشوا تسلیم کیا ۔ حکیم سنائی اپنے کلام میں صوفیانہ اور قلندرانہ اصطلاحات کا استعمال عام طور پر کیا کرتے تھے ۔ وہ اپنے خیال کی تائید میں حکایت یا تمثیل لاتے ۔ پندو موعظت کو سادہ اور عام فہم انداز میں پیش کیا کرتے جو لازمی طور پر قاری کو متاثر کر دیتا [2]

وفات[ترمیم]

حکیم سنائی غزنوی کا سال وفات 535ھ ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. C.E. Bosworth, The Later Ghaznavids, (Columbia University Press, 1977), 108.
  2. www.tebyan.net/QuranIndex.aspx?pid=150159