سنائی غزنوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سنائی غزنوی
Sanaei.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1080  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
غزنی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1131 (50–51 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
غزنی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iran.svg ایران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان تاجک زبان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

حکیم سنائی ایک اعلی درجہ کے شاعر اور سب سے پہلے غزل کو حکیم سنائی نے ہی رواج دیا ۔

نام[ترمیم]

حکیم سنائی کا پورا نام ابوالمجد بن آدم اور ان کا تخلص " سنائی تھا۔

ولادت[ترمیم]

سنائی 470ھ میں موجودہ افغانستان کے شہر غزنی میں پیدا ہوئے ۔

درویشانہ زندگی[ترمیم]

حکیم سنائی ایک نہایت سادہ انسان تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی درویشی اور فقیری میں گزاری۔ انہیں سیر و سیاحت کا شوق تھا اور اسلامی حکومت کے زیر اثر مناطق کی سیر کرنے کے لیے نکلے اور اسی دوران انہیں حج کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ حکیم سنائی کو مختلف علوم پر دسترس حاصل تھی جن میں تفسیر، حدیث، فقہ اور ادبی علوم شامل تھے۔ اس کے علاوہ وہ فلسفہ، ہندسہ اور علم طب میں بھی ماہر تھے۔ ایک حد تک وہ خواب کی تعبیر بتانے کا علم بھی جانتے تھے۔ حکیم کو ان کی اعلی علمی قابلیت اور ذہانت کے صلے میں مختلف القاب سے نوازا گیا۔

القابات[ترمیم]

جن القاب سے انہیں نوازا گیا ان میں " حکیم " اور " شیخ " شامل ہیں۔ وہ اپنے زمانے کے معروف اور ہردلعزیز شخص تھے اور شعرا، عرفاء اور علما کی نظر میں انہیں نہایت اعلی مقام حاصل تھا۔ انہوں نے قصائد، غزلیات اور مثنویات پر طبع آزمائی کی۔ آپ کی مثنویوں کو بہت زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔

مثنویات[ترمیم]

ان کی مشہور مثنویوں میں

  • حدیقتہ الحقیقہ
  • طریق التحقیق
  • سیر العباد الی المعاد
  • مثنوی کارنامہ
  • عقل نامہ
  • عشق نامہ بہت معروف ہیں ۔

زہد و تقوی[ترمیم]

سنائی ابو یوسف ہمدانی کے مرید تھے جب سنائی کو احساس ہوا کہ پست اخلاق اور بد اعمال کی مدح نہیں کرنی تو دنیا کی زندگی سے بیزار ہوئے اور زہد و تقوی و سلوک کی طرف مائل ہو گئے۔ یہی وہ دور تھا جب ان کی شاعری نے ایک نیا موڑ لیا ۔ ما در طلب زلف تو چون زلف تو پیچان ما در ہوس چشم تو چون چشم تو بیمار

اصطلاحات تصوف[ترمیم]

حکیم سنائی بہت ہی سادہ، واضح اور صریح انداز میں شاعری کیا کرتے تھے۔ ان کے کلام میں زلف، چشم بیمار، مے و میکدہ، رند و خرابات جیسی اصلاحات کو مضامین تصوّف میں استعمال کیا گیا ہے اور خیال یہ کیا جاتا ہے کہ شاید حکیم سنائی وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے سب سے پہلے ایسی اصطلاحات کا استعمال مضامین تصوّف میں کیا۔ حکیم سنائی کی وجہ شہرت ان کی مثنویاں ہیں۔ ان کی استادانہ مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شیخ عطار اور مولانا روم جیسے عظیم شعرا نے حکیم سنائی کو اپنا پیشوا تسلیم کیا۔ حکیم سنائی اپنے کلام میں صوفیانہ اور قلندرانہ اصطلاحات کا استعمال عام طور پر کیا کرتے تھے۔ وہ اپنے خیال کی تائید میں حکایت یا تمثیل لاتے۔ پندو موعظت کو سادہ اور عام فہم انداز میں پیش کیا کرتے جو لازمی طور پر قاری کو متاثر کر دیتا [1]

وفات[ترمیم]

حکیم سنائی غزنوی کا سال وفات 535ھ ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

<link rel="mw:PageProp/Category" href="./زمرہ:ادب_حکمت" />