عبداللہ شاہ غازی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(عبد اللہ شاہ غازی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عبداللہ شاہ غازی
Abdullah Shah Ghazi.png
عبدالله شاہ غازی خطاطی کا نام
مذہب اسلام
سلسلہ علی ابن ابی طالب
دیگر نام ابو محمد
قب العشتر
ذاتی تفصیل
پیدائش 99ھ

مدینہ منورہ، سعودی عرب
وفات 151ھ(شہادت)
آرام گاہ کلفٹن، کراچی، پاکستان
بلند مرتبہ
مقام کراچی
خطاب شہنشاہِ کراچی، غازی بابا
دور خلافت عباسیہ
مرتبہ ولیوں میں سب سے قدیم، تبع تابعین

عبداللہ شاہ غازی (عربی: عبد الله شاه غازى‎) کراچی، سندھ، پاکستان کے نہایت معروف و برگزیدہ ولی اللہ مانے جاتے ہیں۔ آپ کا مزار کلفٹن، کراچی میں واقع ہے۔[1]

حالاتِ زندگی[ترمیم]

عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے اندر کا منظر

ایک مقامی تاریخ دان سہیل ظہیر لاری کے مطابق، عبداللہ شاہ غازی امام محمد نفس الزکیہ کے فرزند تھے اور عبداللہ شاہ غازی اہل بیت میں سے تھے۔[2]

آپRAHMAT.PNG کی مدینہ میں 720ء میں ولادت ہوئی اور آپ سندھ میں تقریباً 760ء میں تشریف لائے اور اپنے ساتھ بہت زیادہ مقدار میں گھوڑے لائے تھے جو اپ نے کوفہ، عراق سے خریدے تھے۔

بعض روایات کے مطابق عبداللہ شاہ غازی کو خارجیوں نے شہید کیا تھا جو جنگل میں چھپے ہوئے تھے۔ اور شہادت کے بعد اپ کی لاش کو اپ کے جانشین کراچی لے آئے تھے اور اپRAHMAT.PNG کو ایک ٹیلا نما پہاڑ موجودہ کلفٹن، کراچی میں دفنا دیا تھا۔اور اپ کے بھائی مصری شاہ جو کے اپ کے ساتھ شہید ہوئے تھے ان کو موجودہ کراچی ڈیفینس میں دفنایا گیا تھا۔[3]

ترکہ[ترمیم]

کراچی کے کچھ شہریوں کا ماننا ہے کہ عبداللہ شاہ غازی کی وجہ سے کراچی سمندری طوفان سے محفوظ ہے۔اور اس پاک ہستی کی وجہ سے بحر ہند سے کبھی کوئی طوفان کراچی سے نہیں ٹکرایا.[4]

سلسلہ نسب[ترمیم]

آپ کا شجرہ سید ابومحمد عبداللہ العشتر بن سید محمد ذوالنفس الزکیہ بن محمد سید عبداللہ بن سید حسن مثنی بن سیدنا امام حسن بن سید نا امیرالمومنین علی بن ابی طالب سے ملتا ہے۔حضرت سید حسن مثنی کی شادی فاطمہ صغری بنت سید امام حسین سے ہوئی اسی وجہ سے آپ حسنی حسینی سید ہیں۔

کرامات[ترمیم]

حضرت عبدللہ شاہ غازی کی سب سے بڑی کرامت سمندر کے قریب مزار کے نیچے میٹھے پانی کا چشمہ ہے جو آپ کی چلہ گاہ میں بھی موجود ہے۔ لوگ دور دور سے آتے ہیں اور یہ پانی پی کر شفا یاب ہوتے ہیں۔ آپ کے مزار پر آنے والے زائرین میں ہر مذہب کے افراد شامل ہوتے ہیں[5]۔ زائرین کا کہنا ہے کہ انہیں یہاں آکر دل کو تقویت ملتی ہے اور مرادیں پوری ہوتی ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

عبداللہ شاہ غازی کی کنیت ابو محمد اور لقب العشتر ہے۔ آپ کی ولادت واقعہ کربلا کے اٹھائیس سال بعد سن اٹھانوے ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی اور یہ بنی امیہ کی حکومت کا آخری دور تھا۔ آپ سن ایک سو اڑتیس ہجری میں سندھ تشریف لائے۔

عباسی دورِ حکومت کے زمانہ جنگ میں عبداللہ شاہ غازی کو سن ایک سواکیاون ہجری میں شہید کردیا گیا آپ کے خادمین اور عقیدت مندوں نے آپ کو یہاں موجود پہاڑی پر دفن کردیا جہاں آج بھی آپ کا مزار موجود ہے۔[6]

مزید دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. پاکستان میں تصوف کی ترویج و اشاعت- بی بی سی
  2. سہیل ظہیر لاری،سندھ کی تاریخ۔Oxford University Press, USA. 1995, np and OUP Pakistan, 1996.
  3. عبداللہ شاہ غازی
  4. پراچہ، ندیم (23 نومبر 2014)۔ "عبداللہ شاہ غازی :نجات دہندہ ولی"۔ ڈان نیوز۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 مارچ 2017۔ 
  5. دیگر مذاہب کی عقیدت۔ڈان نیوز
  6. Sufi Saints of Indus Valley کتاب، سبق۔12، صفحہ 57-58

بیرونی روابط[ترمیم]