عبد اللہ شاہ غازی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد اللہ شاہ غازی
Abdullah Shah Ghazi.png 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 718  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 4 جنوری 769 (50–51 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر

عبد اللہ شاہ غازی (عربی: عبد الله شاه غازى‎) کراچی، سندھ، پاکستان کے نہایت معروف و برگزیدہ ولی اللہ مانے جاتے ہیں۔ آپ کا مزار کلفٹن، کراچی میں واقع ہے۔[1]

حالاتِ زندگی اور شہادت[ترمیم]

عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے اندر کا منظر

عبد اللہ شاہ غازی امام حسن علیہ السلام کے بیٹے حسن مثنی کے پوتے امام محمد نفس الزکیہ کے فرزند ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب ابومحمد عبد اللہ الاشتر بن محمد نفس زکیہ بن عبد اللہ محض بن حسن مثنی بن امام حسن بن علی بن ابی طالب ہے۔ حضرت حسن مثنی کی شادی فاطمہ کبری بنت امام حسین ابن علی سے ہوئی اسی وجہ سے آپ حسنی حسینی سید ہیں۔

سنہ 720ء میں مدینہ میں ولادت ہوئی اور آپ سندھ میں تقریباً 760ء میں تشریف لائے اور اپنے ساتھ بہت زیادہ مقدار میں گھوڑے لائے تھے جو اپ نے کوفہ، عراق سے خریدے تھے۔

ابن خلدون کے بقول خلیفہ ابو جعفر منصور کے زمانے میں سندھ کا عامل عمر بن حفص تشیع کی جانب میلان رکھتا تھا۔ محمد نفس ذکیہ کے فرزند عبد اللہ اشتر، جن کو عبد اللہ شاہ غازی کے نام سے جانا جاتا ہے، 400 افراد پر مشتمل زیدیوں کی ایک جماعت کے ساتھ اس کے پاس آئے تو اس نے انھیں خاصے احترام سے نوازا۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور دوانیقی کو جب اس کی خبر پہنچی تو اس نے ہشام بن عمر ثعلبی کو ان کا تعاقب کرنے کے لیے سندھ روانہ کیا جہاں ہشام کے بھائی اور ان کے درمیان قتال ہوا جس کے نتیجے میں عبد اللہ شاہ غازی شہید ہوئے اور ان کے ساتھی  اس علاقے میں بکھرگئے[2] ذہبی اور ابو الفرج اصفہانی نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے[3] طبری نے یہ واقعات 768ء (151 ہجری) میں نقل کیے ہیں۔[4]

کرامات[ترمیم]

حضرت عبد للہ شاہ غازی کی سب سے بڑی کرامت سمندر کے قریب مزار کے نیچے میٹھے پانی کا چشمہ ہے جو آپ کی چلہ گاہ میں بھی موجود ہے۔ لوگ دور دور سے آتے ہیں اور یہ پانی پی کر شفا یاب ہوتے ہیں۔ آپ کے مزار پر آنے والے زائرین میں ہر مذہب کے افراد شامل ہوتے ہیں[5]۔ زائرین کا کہنا ہے کہ انہیں یہاں آکر دل کو تقویت ملتی ہے اور مرادیں پوری ہوتی ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. پاکستان میں تصوف کی ترویج و اشاعت- بی بی سی
  2. تاريخ ابن خلدون - ابن خلدون - ج 3 - صص 198، 199۔
  3. ذہبی - تاريخ الإسلام - ج 9 ص 352 - - أبو الفرج الأصفہانی، مقاتل الطالبيين ص 207 - 208
  4. طبری ،تاريخ الطبری - ج 6 - ص 291
  5. دیگر مذاہب کی عقیدت۔ ڈان نیوز

بیرونی روابط[ترمیم]