قطب الدین بختیار کاکی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
قطب الدین بختیار کاکی
مہرؤلی، دہلی میں درگاہ قطب الدین بختیار کاکی
مذہب اسلام، خاص طور پر سلسلہ چشتیہ کے صوفی
نسب نامہ سلسلہ چشتیہ
دیگر اسما ملک المشایخ
ذاتی تفصیل
پیدائش 1173اوش (موجودہ کرغیزستان)
انتقال 1235دہلی
مقام استراحت مہرؤلی، دہلی28°31′09″N 77°10′47″E / 28.519303°N 77.179856°E / 28.519303; 77.179856
مزید معلومات
شہر دہلی
خطاب قطب الاقطاب
دور تیرہویں صدی کا ابتدائی
پیشرو معین الدین چشتی
جانشین بابا فرید الدین گنج شکر

قطب الدین بختیار کاکی دہلوی بّرصغیر کے صوفی بزرگ، سُلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے خلیفہ اور بابا فرید الدین گنج شکر کے پیر و مرشد ہیں۔

ولادت[ترمیم]

آپ نے 1187ء 582ہجری قصبہ اوش میں آنکھ کھولی۔[1]

نام[ترمیم]

آپ کا نام سیدبختیار، لقب قطب الدین اور قطب الاقطاب اور کاکی عرفیت ہے۔ آپ قصبہ اوش ترکستان میں پیدا ہوئے۔ حسینی سادات میں سے تھے۔

نسب[ترمیم]

سید بختیاراوشی بن سید کمال الدین بن سید موسیٰ بن سید احمد اوشی بن سید اسحاق حسن بن سید معروف حسن بن سید احمد حسن بن سید رضی الدین بن سید حسام الدین بن سید رشید الدین بن سید جعفر بن سید امام محمد تقی بن سیدامام علی موسیٰ رضا بن سید امام موسیٰ کاظم بن سید امام جعفر صادق بن سید امام باقر بن سید امام زین العابدین بن سید الشہداء سیدنا امام حسین بن امیر المؤمنین حضرت مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔ [2]

علم باطن[ترمیم]

جب آپ کی عمر پانچ برس کی ہوئی تو ۔ آپ کی والدہ ماجدہ نے اپنے پڑوسی بزرگ سے کہا کہ میرے معصوم بچے کو کسی اچھے معلم کے سپرد کر دیں تاکہ یہ کچھ علم دین حاصل کر لے وہ بزرگ اس بچے کو لے کر چلے ہی تھے کہ راستے میں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی۔بزرگ نے ان سے بچےکے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ایک اچھے خاندان کا بچہ ہے مگر اس کے والد کا انتقال ہو گیا ہے ۔ بیوہ ماں نے مجھے بلا کر کہا کہ اس کو کسی اچھے مکتب میں داخل کر دو۔بزرگ نے یہ سن کر فرمایا کہ تم یہ کام میرے سپرد کر دو۔ میں اس کو ایک ایسے معلم کے حوالے کروں گا جس کے علم کے فیض اور برکت سے یہ بڑا صاحبِ کمال بن جائے گا۔پڑوسی اس بات کو سن کر بہت ہی خوش ہوئے اور بچے کو لے کر ان بزرگ کے ساتھ معلم کے گھر جانے پر راضی ہو گئے۔ یہ دونوں قصبہ اوش کے ایک معلم ابو حفص کے پاس گئے اور بختیار کاکی کو ان کے سپرد کر دیا ۔ ساتھ ہی ان بزرگ نے ابو حفص کو ہدایت کی کہ یہ لڑکا اولیاء اللہ میں شمار ہو گا اس لیے اس پر خاص شفقت فرمائیں۔ جب یہ دونوں حضرات چھوڑ کر چلے گئے تو معلم ابو حفص نے ان سے دریافت کیا کہ وہ کون تھے جو تم کو اس مدرسہ میں لائے تھے؟ بختیارنے کہا کہ میں ان کو بالکل نہیں جانتا میری والدہ نے تو مجھے اپنے پڑوسی کے سپرد کیا تھا۔یہ بزرگ راستے میں مل گئے اور مجھے آپ کی خدمت میں لے آئے۔ معلم ابو حفص نے جب یہ دیکھا کہ بچہ ان بزرگ کو نہیں جانتا تو انہوں نے بتایا کہ یہ بزرگ دراصل خضر تھے۔[2] لڑکپن ہی میں بغداد آگئے اور خواجہ معین الدین چشتی سے بیعت کی۔ سترہ برس کی عمر میں خواجہ صاحب سے خرقہ خلافت پایا۔ کچھ عرصے بعد اپنے پیرو مرشد کی معیت میں ہندوستان تشریف لائے اور دہلی میں قیام فرمایا۔ آپ بابا فرید الدین گنج شکر کے مرشد تھے۔ آپ کی طرف دو کتابیں منسوب کی جاتی ہیں۔ ایک دیوان ہے اور دوسری فوائد السالکین جو تصوف کے موضوع پر ہے۔

وصال[ترمیم]

سماع سے بہت رغبت تھی۔ دہلی میں ایک محفل سماع کے دوران حضرت احمد جام کے شعرمحفل سماع میں ایک شعر

کُشتگانِ خنجرِ تسلیم را
ہر زماں از غیب جانِ دیگر اَست

سن کر وجد طاری ہوا وہ تین روزاسی وجد میں رہے آخر 27 نومبر 1235ء کو انتقال فرماگئے۔ نماز جنازہ التتمش نے پڑھائی۔ آپ کا مزار دہلی کے علاقے مہرولی میں ہے۔

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ مشائخ چشت از محمد زکریا المہاجر المدنی صفحہ 171ناشر مکتبہ الشیخ کراچی
  2. ^ 2.0 2.1 خزینۃ الاصفیاء جلد دوم، غلام سرور لاہوری،صفحہ 77مکتبہ نبویہ لاہور