ابو احمد ابدال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(خواجہ ابو احمد ابدال سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

خواجہ ابو احمد ابدال چشتی

(پیدائش:260ھ
﴿وفات:355ھ)
خواجہ ابو احمد ابدال چشتی حسنی حسینی سادات عظام میں سے تھے والد کا نام سلطان فرسنانہ یا فرغانہ تھا اورابو اسحق شامی کے خلیفۂ اکبر تھے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کا لقب قدوۃ الدین تھا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ جمال ظاہری و باطنی کے پیکر تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ فرمانروائے فرغانہ کے بیٹے تھے آپ رحمۃ اللہ علیہ کا نسب چند واسطوں سے حسن مثنیٰ سے ملتا ہے۔

ولادت[ترمیم]

6 رمضان260ھ میں چشت میں پیدا ہوئے یہ دور خلیفہ معتصم باللہ کا تھا

نسب نامہ[ترمیم]

آپ کا نسب نامہ یوں ہے:
ابو احمد رحمۃ اللہ علیہ ابدال بن سلطان فرغانہ سید ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ بن سید یحییٰ بن سید حسن بن سید مجدالمعالی المعروف بہ ابوالمعالی بن سید ناصر الدین بن سید عبدالسلام بن سید حسن مثنیٰ بن سید اما م حسن مجتبیٰ بن علی ابن ابی طالب۔

سیرت و کردار[ترمیم]

آپ رحمۃ اللہ علیہ بڑے عابد و زاہد تھے۔ پیرو مرشد نے آپ کو بیعت کرنے کے بعد ایک خلوت کدے میں مجاہدے پر لگا دیا تھا۔ چنانچہ آپ سات دن بعد کھانا تناول فرماتے لیکن تین لقموں سے زیادہ کبھی نہ کھاتے اور چالیس دنوں بعد حاجات بشری کے لیے باہر نکلتے۔ آٹھ سال کی محنت شاقہ کے بعد خرقہ خلافت مرحمت ہوا۔

کرامات[ترمیم]

آپ کی کرامات کی شہرت مشرق و مغرب میں پھیلی تو علما کو آپ سے حسد ہونے لگا۔ آپ کی مجلس سماع کے خلاف فتویٰ بازی ہونے لگی اور علماء نے ایک محضر نامہ تیار کرکے حاکم وقت امیر نصیر کو پیش کیا۔ امیر نے ملک بھر کے علماء کی مجلس بلائی جس میں کئی ہزار علماء جمع ہوئے خواجہ ابو احمد ابدال کو بھی اس مجلس میں پیش کیا گیا آپ کے ساتھ ایک خادم محمد خدا بندہ بھی تھا جس کو قرآن حکیم میں سے سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص کے علاوہ کچھ بھی یاد نہ تھا۔ جب آپ اپنے خادم کے ہمراہ امیر نصیر کی بلائی ہوئی مجلس علماء میں پہنچے تو علماء جو پہلے سے یہ طے کیے بیٹھے تھے کہ خواجہ ابو احمد آئیں گے تو علماء میں سے کوئی بھی نہ تو ان کا استقبال کرے گا اور نہ ہی انکی عزت افزائی کی جائے گی، بے ساختہ و بے ارادہ آپ کی تعظیم کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے‘ استقبال کر کے مجلس میں ایک بلند و نمایاں مسند پر بٹھایا اور مسئلہ سماع پر گفتگو شروع کر دی۔ جب علماء اپنا نکتہ نظر بیان کر چکے تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے خادم محمد خدابندہ کو اشارہ فرمایا کہ ان علمائے کرام کے اعتراضات کے جوابات دو وہ خادم ان پڑھ اور جاہل تھا لیکن ایک نگاہ کرم سے اس پر علم کے دروازے کھلتے چلے گئے اور وہ نہایت فصیح و بلیغ انداز میں قرآن و حدیث سے علمائے کرام کے اعتراضات کا جواب دینے لگا اور بزرگان سلف کے طریقہ کو بھی بیان کرنے لگا۔ علمائے کرام اس خادم کے جوابات سن کر دنگ رہ گئے اور بعض تو شرمندگی سے سرجھکائے بیٹھے رہے۔

وفات[ترمیم]

3 جمادی الثانی355ھ کو انتقال فرمایا قصبہ چشت میں دفن ہوئے۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. خزینۃ الاصفیاءجلد دوم:صفحہ39 تا 42 مفتی غلام سرور لاہوری
  2. تاریخ مشائخ چشت از محمد زکریا المہاجر المدنی صفحہ 153 تا155ناشر مکتبہ الشیخ کراچی